05/07/2026
آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال: ذمہ دار کون؟
آزاد کشمیر آج جن مسائل سے دوچار ہے، ان کا ذمہ دار صرف ایک فرد، ایک ادارہ یا ایک طبقہ نہیں بلکہ مجموعی طور پر ہمارا پورا نظام اور ہمارا اجتماعی رویہ ہے۔ اگر ہم دیانت داری سے اپنا احتساب کریں تو عوام، سیاست دان، تاجر، بیوروکریسی اور خود ہمارا معاشرتی رویہ، سب اس صورتحال کے کسی نہ کسی درجے میں ذمہ دار ہیں۔
سب سے پہلے عوام کی بات کریں تو جمہوریت میں اصل طاقت عوام کے پاس ہوتی ہے۔ اگر ووٹ برادری، ذاتی تعلقات، وقتی مفادات یا جذبات کی بنیاد پر دیا جائے اور منتخب نمائندوں سے پانچ سال تک کوئی سوال نہ پوچھا جائے، تو پھر بہتر حکمرانی کی توقع بھی نہیں رکھی جا سکتی۔ باشعور عوام ہی مضبوط ریاستوں کی بنیاد ہوتے ہیں۔
تاہم سب سے زیادہ ذمہ داری سیاست دانوں پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ عوام انہیں ریاست کے مسائل حل کرنے، قانون سازی کرنے اور عوام کی خدمت کے لیے منتخب کرتے ہیں۔ جب سیاست عوامی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات، اقتدار کی کشمکش، برادری ازم اور الزام تراشی تک محدود ہو جائے تو ترقی کا سفر رک جاتا ہے اور عوام مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
تاجر برادری بھی معاشرے کا ایک اہم ستون ہے۔ دیانت داری، انصاف اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنا ان کی ذمہ داری ہے۔ لیکن جب ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو کاروباری حکمت عملی بنا لیا جائے تو اس کا سب سے بڑا نقصان عام آدمی کو اٹھانا پڑتا ہے۔
اسی طرح بیوروکریسی ریاستی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ اگر فیصلے میرٹ، قانون اور شفافیت کے مطابق ہوں تو ادارے مضبوط ہوتے ہیں، لیکن اگر سستی، بدانتظامی، سفارش اور غیر ضروری تاخیر معمول بن جائے تو عوام کا اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے اور ریاستی نظام متاثر ہوتا ہے۔
اس تمام صورتحال میں ایک اور نہایت اہم پہلو شعور کا ہے۔ بدقسمتی سے آج بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف سوشل میڈیا استعمال کرنا یا روزانہ سیاسی پوسٹیں شیئر کرنا ہی شعور کی علامت ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ شعور صرف سوشل میڈیا پر آنے سے نہیں آتا بلکہ اس کے لیے تعلیم، مطالعہ، تحقیق، برداشت، اخلاق اور انسانیت کو سیکھنا پڑتا ہے۔
آج سوشل میڈیا پر جس طرح بدتمیزی، گالم گلوچ، کردار کشی اور نفرت انگیز زبان عام ہو چکی ہے، وہ ہمارے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ اختلافِ رائے ہر انسان کا حق ہے، مگر اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا کسی مہذب معاشرے کی نشانی نہیں۔ دلیل کے بجائے گالی، برداشت کے بجائے نفرت اور اخلاق کے بجائے تضحیک کا کلچر ہمارے اجتماعی زوال کی علامت ہے۔
آج کا سب سے بڑا المیہ شاید یہی ہے کہ بہت سے لوگوں نے تعلیم تو حاصل کر لی، مگر انسانیت سیکھنے کا موقع نہ ملا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ڈگریاں دینے والے ادارے تو موجود تھے، مگر انسان بننے کی تعلیم دینے والا کوئی سکول نہ تھا۔ حالانکہ تعلیم کا اصل مقصد صرف روزگار حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک باکردار، بااخلاق، باوقار اور ذمہ دار انسان تیار کرنا بھی ہے۔
اگر ہم واقعی آزاد کشمیر کو ایک مضبوط، ترقی یافتہ اور خوشحال ریاست دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف حکمران بدلنے کی نہیں بلکہ اپنی سوچ، اپنے رویوں اور اپنی ترجیحات بدلنے کی ضرورت ہے۔ عوام کو باشعور اور ذمہ دار بننا ہوگا، سیاست دانوں کو خدمت کو سیاست پر ترجیح دینا ہوگی، تاجروں کو دیانت داری اپنانی ہوگی، بیوروکریسی کو میرٹ اور قانون کی پاسداری کرنا ہوگی، اور سب سے بڑھ کر ہمیں اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرنا سیکھنا ہوگا۔
ریاستیں صرف نعروں، جلسوں اور سوشل میڈیا کی بحثوں سے نہیں بنتیں بلکہ علم، کردار، انصاف، انسانیت اور اجتماعی ذمہ داری سے مضبوط ہوتی ہیں۔ جب ہر فرد اپنی ذمہ داری کو اپنا فرض سمجھ کر ادا کرے گا، تبھی آزاد کشمیر حقیقی معنوں میں ترقی، استحکام اور خوشحالی کی منزل کی طرف بڑھ سکے گا۔