K/24 News

K/24 News تازہ ترین خبروں کے لیے پیج فالو کریں.. خبروں اور اشتہارات کے لیے رابطہ کریں..

28/07/2026

نکیال۔۔ڈبسی کھران ۔۔مختار یونس کی نماز جنازہ کے موقع پر جاوید بڈھانوی کا درد بھرا خطاب ۔۔

27/07/2026

جینا مرنا پیپلز پارٹی اور جاوید بڈھانوی کے ساتھ ہے ۔۔مخالفین بے بنیاد خبریں پھیلا رہے ہیں ان کا شور بتا رہا کہ جاوید بڈھانوی دوبارہ آ رہا ہے ۔۔ندیم جہانگیر کی دھواں دار پریس کانفرنس ۔۔

کون بنے گا نکیال کا سلطان ۔۔۔فیصلہ عوام کا ۔۔
26/07/2026

کون بنے گا نکیال کا سلطان ۔۔۔فیصلہ عوام کا ۔۔

24/07/2026

نکیال جندروٹ۔۔سنھارہ ۔۔پیپلز پارٹی کی کارنر میٹنگ میں ڈاکٹر محمد بشارت اظہار خیال کرتے ہوئے ۔۔۔

آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال: ذمہ دار کون؟آزاد کشمیر آج جن مسائل سے دوچار ہے، ان کا ذمہ دار صرف ایک فرد، ایک ادارہ یا ای...
05/07/2026

آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال: ذمہ دار کون؟

آزاد کشمیر آج جن مسائل سے دوچار ہے، ان کا ذمہ دار صرف ایک فرد، ایک ادارہ یا ایک طبقہ نہیں بلکہ مجموعی طور پر ہمارا پورا نظام اور ہمارا اجتماعی رویہ ہے۔ اگر ہم دیانت داری سے اپنا احتساب کریں تو عوام، سیاست دان، تاجر، بیوروکریسی اور خود ہمارا معاشرتی رویہ، سب اس صورتحال کے کسی نہ کسی درجے میں ذمہ دار ہیں۔

سب سے پہلے عوام کی بات کریں تو جمہوریت میں اصل طاقت عوام کے پاس ہوتی ہے۔ اگر ووٹ برادری، ذاتی تعلقات، وقتی مفادات یا جذبات کی بنیاد پر دیا جائے اور منتخب نمائندوں سے پانچ سال تک کوئی سوال نہ پوچھا جائے، تو پھر بہتر حکمرانی کی توقع بھی نہیں رکھی جا سکتی۔ باشعور عوام ہی مضبوط ریاستوں کی بنیاد ہوتے ہیں۔

تاہم سب سے زیادہ ذمہ داری سیاست دانوں پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ عوام انہیں ریاست کے مسائل حل کرنے، قانون سازی کرنے اور عوام کی خدمت کے لیے منتخب کرتے ہیں۔ جب سیاست عوامی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات، اقتدار کی کشمکش، برادری ازم اور الزام تراشی تک محدود ہو جائے تو ترقی کا سفر رک جاتا ہے اور عوام مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

تاجر برادری بھی معاشرے کا ایک اہم ستون ہے۔ دیانت داری، انصاف اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنا ان کی ذمہ داری ہے۔ لیکن جب ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو کاروباری حکمت عملی بنا لیا جائے تو اس کا سب سے بڑا نقصان عام آدمی کو اٹھانا پڑتا ہے۔

اسی طرح بیوروکریسی ریاستی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ اگر فیصلے میرٹ، قانون اور شفافیت کے مطابق ہوں تو ادارے مضبوط ہوتے ہیں، لیکن اگر سستی، بدانتظامی، سفارش اور غیر ضروری تاخیر معمول بن جائے تو عوام کا اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے اور ریاستی نظام متاثر ہوتا ہے۔

اس تمام صورتحال میں ایک اور نہایت اہم پہلو شعور کا ہے۔ بدقسمتی سے آج بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف سوشل میڈیا استعمال کرنا یا روزانہ سیاسی پوسٹیں شیئر کرنا ہی شعور کی علامت ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ شعور صرف سوشل میڈیا پر آنے سے نہیں آتا بلکہ اس کے لیے تعلیم، مطالعہ، تحقیق، برداشت، اخلاق اور انسانیت کو سیکھنا پڑتا ہے۔

آج سوشل میڈیا پر جس طرح بدتمیزی، گالم گلوچ، کردار کشی اور نفرت انگیز زبان عام ہو چکی ہے، وہ ہمارے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ اختلافِ رائے ہر انسان کا حق ہے، مگر اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا کسی مہذب معاشرے کی نشانی نہیں۔ دلیل کے بجائے گالی، برداشت کے بجائے نفرت اور اخلاق کے بجائے تضحیک کا کلچر ہمارے اجتماعی زوال کی علامت ہے۔

آج کا سب سے بڑا المیہ شاید یہی ہے کہ بہت سے لوگوں نے تعلیم تو حاصل کر لی، مگر انسانیت سیکھنے کا موقع نہ ملا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ڈگریاں دینے والے ادارے تو موجود تھے، مگر انسان بننے کی تعلیم دینے والا کوئی سکول نہ تھا۔ حالانکہ تعلیم کا اصل مقصد صرف روزگار حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک باکردار، بااخلاق، باوقار اور ذمہ دار انسان تیار کرنا بھی ہے۔

اگر ہم واقعی آزاد کشمیر کو ایک مضبوط، ترقی یافتہ اور خوشحال ریاست دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف حکمران بدلنے کی نہیں بلکہ اپنی سوچ، اپنے رویوں اور اپنی ترجیحات بدلنے کی ضرورت ہے۔ عوام کو باشعور اور ذمہ دار بننا ہوگا، سیاست دانوں کو خدمت کو سیاست پر ترجیح دینا ہوگی، تاجروں کو دیانت داری اپنانی ہوگی، بیوروکریسی کو میرٹ اور قانون کی پاسداری کرنا ہوگی، اور سب سے بڑھ کر ہمیں اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرنا سیکھنا ہوگا۔

ریاستیں صرف نعروں، جلسوں اور سوشل میڈیا کی بحثوں سے نہیں بنتیں بلکہ علم، کردار، انصاف، انسانیت اور اجتماعی ذمہ داری سے مضبوط ہوتی ہیں۔ جب ہر فرد اپنی ذمہ داری کو اپنا فرض سمجھ کر ادا کرے گا، تبھی آزاد کشمیر حقیقی معنوں میں ترقی، استحکام اور خوشحالی کی منزل کی طرف بڑھ سکے گا۔

آزاد کشمیر میں انتخابی سرگرمیوں کے آغاز کے ساتھ سیاسی درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مختلف حلقوں میں جلسے، ملاقاتیں، راب...
03/06/2026

آزاد کشمیر میں انتخابی سرگرمیوں کے آغاز کے ساتھ سیاسی درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مختلف حلقوں میں جلسے، ملاقاتیں، رابطہ مہمات اور سیاسی صف بندیاں عروج پر ہیں۔ اس تمام منظرنامے میں دو مختلف سیاسی رویے واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف وہ عناصر ہیں جو برادریوں کو متحرک کرنے، خاندانی اور قبائلی وابستگیوں کو منظم کرنے اور روایتی انتخابی فارمولوں کے ذریعے سیاسی برتری حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب کچھ حلقے خاموشی سے حالات کا جائزہ لے رہے ہیں، سیاسی تبدیلیوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور وقت کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔

بظاہر سیاسی سرگرمیوں کا شور بہت زیادہ ہے، لیکن اس شور کے پیچھے ایک بنیادی سوال مسلسل موجود ہے: کیا ہماری سیاست واقعی عوامی مسائل کے گرد گھوم رہی ہے یا اب بھی برادریوں، دھڑوں اور روایتی وفاداریوں کے حصار میں قید ہے؟

بدقسمتی سے آزاد کشمیر کی سیاست کا ایک بڑا حصہ آج بھی عوامی پالیسی، بہتر حکمرانی، اقتصادی ترقی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے بجائے برادری پر مبنی سیاسی مساوات کے زیرِ اثر نظر آتا ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ برادری ازم بعض اوقات غیر متوقع انتخابی نتائج پیدا کر دیتا ہے اور کئی مرتبہ مضبوط سیاسی امیدواروں کو بھی شکست سے دوچار کر دیتا ہے، لیکن اس کے سماجی اثرات اکثر نہایت منفی ہوتے ہیں۔

برادری کی بنیاد پر چلائی جانے والی سیاست وقتی طور پر ووٹ تو حاصل کر سکتی ہے، مگر یہ معاشرے کے اندر تقسیم، بداعتمادی اور نفرت کے بیج بھی بو دیتی ہے۔ انتخابات گزر جاتے ہیں لیکن ان کے چھوڑے ہوئے سماجی زخم طویل عرصے تک موجود رہتے ہیں۔ سیاسی کامیابی کی قیمت اگر معاشرتی ہم آہنگی کی صورت میں ادا کی جائے تو یہ کسی بھی مہذب سیاسی معاشرے کے لیے نقصان دہ سودا ہے۔

کشمیر کی حالیہ سیاسی تاریخ ہمیں ایک اہم سبق بھی دیتی ہے۔ چند برس قبل عوامی مسائل، مہنگائی، گورننس کے بحران اور روایتی سیاسی جماعتوں سے مایوسی نے ایسے حالات پیدا کیے کہ ایکشن کمیٹیاں اور عوامی تحریکیں مرکزی سیاسی بحث کا محور بن گئیں۔ ایک مرحلے پر ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ روایتی سیاسی جماعتیں عوامی جذبات کی ترجمانی سے محروم ہو چکی ہیں اور سیاسی بیانیے پر ان کا اثر کمزور پڑ رہا ہے۔

یہ صورتحال اچانک پیدا نہیں ہوئی تھی۔ اس کے پیچھے عوامی مسائل کا انبار، ناقص طرزِ حکمرانی اور عوامی توقعات سے بڑھتا ہوا فاصلہ موجود تھا۔ آج سوال یہ ہے کہ کیا وہ بنیادی مسائل حل ہو چکے ہیں جنہوں نے اس سیاسی ردِعمل کو جنم دیا تھا؟

اگر دیانت داری سے جائزہ لیا جائے تو جواب زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ روزگار، صحت، تعلیم، بنیادی انفراسٹرکچر، شفاف حکمرانی، احتساب اور عوامی خدمات کے معیار جیسے متعدد شعبے آج بھی توجہ کے منتظر ہیں۔ جب بنیادی مسائل برقرار رہیں اور سیاسی مباحث صرف برادریوں کے گرد گھومتے رہیں تو سیاسی خلا پیدا ہونا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ تاریخ کا اصول ہے کہ سیاسی خلا کبھی خالی نہیں رہتا؛ اسے بالآخر کوئی نہ کوئی نئی قوت، نیا پلیٹ فارم یا نئی تحریک پُر کر دیتی ہے۔

اسی تناظر میں یہ خدشہ بے بنیاد نہیں کہ اگر سیاسی جماعتیں اور امیدوار عوامی مسائل کے بجائے برادری ازم کو اپنی بنیادی حکمت عملی بناتے رہے تو ہم ایک مرتبہ پھر کسی نئے سیاسی طوفان کے لیے ماحول سازگار بنا رہے ہوں گے۔ ایسی صورتحال میں نقصان صرف سیاسی جماعتوں کا نہیں بلکہ پورے سیاسی نظام کا ہوتا ہے۔

اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی جماعتیں، رائے ساز حلقے اور فیصلہ ساز افراد امیدواروں کا جائزہ محض ان کی انتخابی طاقت یا برادری پر اثرورسوخ کی بنیاد پر نہ لیں۔ اصل معیار ان کی کارکردگی، اہلیت، دیانت داری، عوامی خدمت اور مسائل کے حل کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ اسمبلیوں میں ایسے افراد کی ضرورت ہے جو تنازعات پیدا کرنے کے بجائے اتفاقِ رائے پیدا کریں، تقسیم کے بجائے اتحاد کو فروغ دیں اور ذاتی یا گروہی مفادات کے بجائے قومی اور عوامی مفاد کو ترجیح دیں۔

کسی بھی معاشرے کی ترقی اس بات سے مشروط ہوتی ہے کہ وہاں قیادت کا انتخاب کن بنیادوں پر کیا جاتا ہے۔ اگر معیار برادری، رشتہ داری اور جذباتی وابستگیاں ہوں تو نتائج بھی محدود اور عارضی ہوتے ہیں، لیکن اگر معیار صلاحیت، وژن، کردار اور کارکردگی ہو تو سیاسی نظام مضبوط ہوتا ہے، ادارے مستحکم ہوتے ہیں اور عوام کا اعتماد بحال ہوتا ہے۔

آزاد کشمیر اس وقت ایک اہم سیاسی موڑ پر کھڑا ہے۔ آنے والے انتخابات صرف نمائندوں کے انتخاب کا مرحلہ نہیں بلکہ یہ اس بات کا فیصلہ بھی ہوں گے کہ ہم مستقبل کی سیاست کو کس سمت میں لے جانا چاہتے ہیں؛ برادریوں کی سیاست کی طرف یا مسائل کے حل کی سیاست کی طرف۔

بالآخر تاریخ میں وہی رہنما اور سیاسی قوتیں جگہ بناتی ہیں جو لوگوں کو تقسیم نہیں بلکہ متحد کرتی ہیں، جو نفرت نہیں بلکہ اعتماد پیدا کرتی ہیں، اور جو اقتدار کو مقصد نہیں بلکہ عوامی خدمت کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔ کشمیر کو آج ایسی سیاست، ایسی قیادت اور ایسے سیاسی شعور کی ضرورت ہے جو برادریوں کی دیواروں سے بلند ہو کر عوامی مفاد، بہتر حکمرانی اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھ سکے۔

تحریر: چوہدری ہمایوں بانیاں۔

K24 نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے محمود گجر دوٹیھلوی کا جاوید اقبال بڈھانوی کی حمایت کا اعلانK24 نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے...
03/06/2026

K24 نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے محمود گجر دوٹیھلوی کا جاوید اقبال بڈھانوی کی حمایت کا اعلان

K24 نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے محمود گجر دوٹیھلوی نے کہا ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں چوہدری جاوید اقبال بڈھانوی کی بھرپور انتخابی مہم چلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حلقہ نکیال میں جاوید اقبال بڈھانوی کی پوزیشن انتہائی مضبوط ہے اور عوام ان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔

محمود گجر دوٹیھلوی کا کہنا تھا کہ چوہدری جاوید اقبال بڈھانوی نے ہمیشہ غریب، محروم اور پسے ہوئے طبقات کے مسائل کو ترجیح دی اور عوامی خدمت کو اپنی سیاست کا محور بنایا۔ ان کی کاوشوں سے حلقے میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھا اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کے ساتھی پوری قوت اور جذبے کے ساتھ انتخابی مہم میں حصہ لیں گے تاکہ چوہدری جاوید اقبال بڈھانوی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی محبت اور اعتماد جاوید اقبال بڈھانوی کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔

محمود گجر دوٹیھلوی نے مزید کہا کہ انشاءاللہ چوہدری جاوید اقبال بڈھانوی دوبارہ وزیر منتخب ہوں گے اور حلقہ نکیال کے عوام کی خدمت، ترقی اور خوشحالی کے لیے پہلے سے زیادہ مؤثر انداز میں کام جاری رکھیں گے۔

محمود گجر دوٹیھلوی اینڈ برادرز
نکیال، آزاد کشمیر

نکیال میں پیپلز پارٹی کی عوامی مقبولیت عروج پر، جاوید اقبال بڈھانوی کی قیادت پر عوام کا بھرپور اعتماد: محمد شفیق ناون بھ...
02/06/2026

نکیال میں پیپلز پارٹی کی عوامی مقبولیت عروج پر، جاوید اقبال بڈھانوی کی قیادت پر عوام کا بھرپور اعتماد: محمد شفیق ناون بھوہل

K24 نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے محمد شفیق ناون بھوہل نے کہا ہے کہ حلقہ نکیال میں پیپلز پارٹی کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور عوام کی بڑی تعداد چوہدری جاوید اقبال بڈھانوی کی قیادت اور کارکردگی پر مکمل اعتماد کا اظہار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام اب وعدوں اور دعوؤں کے بجائے عملی خدمت اور ترقیاتی کاموں کو اہمیت دے رہے ہیں۔

محمد شفیق ناون بھوہل نے کہا کہ جاوید اقبال بڈھانوی نے مختصر عرصے میں حلقہ نکیال کے اندر ریکارڈ ترقیاتی کام کروائے ہیں۔ سڑکوں کی تعمیر، تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اٹھائے گئے اقدامات نے عوام کے دل جیت لیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جاوید اقبال بڈھانوی ایک ایسے عوامی رہنما ہیں جو ہر وقت عوام کے درمیان موجود رہتے ہیں اور لوگوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حلقے کے مختلف علاقوں سے لوگ جوق در جوق پیپلز پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔

محمد شفیق ناون بھوہل نے مزید کہا کہ نکیال میں جاری ترقیاتی منصوبے اور عوامی اعتماد اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پیپلز پارٹی آئندہ انتخابات میں بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ عوام خدمت، ترقی اور کارکردگی کی سیاست کو پسند کرتے ہیں اور یہی پیپلز پارٹی کی اصل طاقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ انشاءاللہ نکیال کے عوام ترقی اور خوشحالی کے اس سفر کو جاری رکھتے ہوئے پیپلز پارٹی کا بھرپور ساتھ دیں گے اور آنے والا وقت پیپلز پارٹی کا ہوگا۔

نکیال میں پیپلز پارٹی کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ، جاوید اقبال بڈھانوی کی عوامی خدمات رنگ لانے لگیں: عزیر انجم چوہدریK24 ...
02/06/2026

نکیال میں پیپلز پارٹی کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ، جاوید اقبال بڈھانوی کی عوامی خدمات رنگ لانے لگیں: عزیر انجم چوہدری

K24 نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے عزیر انجم چوہدری نے کہا ہے کہ حلقہ نکیال میں پیپلز پارٹی روز بروز مضبوط ہو رہی ہے اور عوام کی بڑی تعداد پارٹی کی قیادت اور کارکردگی پر اعتماد کا اظہار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام اب روایتی نعروں کے بجائے عملی خدمت اور ترقیاتی کاموں کو اہمیت دے رہے ہیں، جس کا فائدہ پیپلز پارٹی کو حاصل ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر خوراک و ٹیوٹا چوہدری جاوید اقبال بڈھانوی نے مختصر مدت میں حلقے کے اندر ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھا دیا ہے۔ سڑکوں کی تعمیر، تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن، نوجوانوں کے لیے روزگار اور فنی تعلیم کے مواقع، اور بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسے اقدامات نے عوام کے دل جیت لیے ہیں۔

عزیر انجم چوہدری نے کہا کہ جاوید اقبال بڈھانوی ایک ایسے عوامی نمائندے ہیں جو ہر موقع پر اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ عوام کے مسائل سننا اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنا ان کی سیاست کا محور ہے، یہی وجہ ہے کہ حلقے کے مختلف علاقوں سے لوگ جوق در جوق پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نکیال میں جاری ترقیاتی منصوبے، عوامی رابطہ مہم اور عوامی اعتماد اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پیپلز پارٹی آئندہ انتخابات میں ایک مضبوط سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئے گی۔ عوام خدمت، دیانت اور کارکردگی کی سیاست کو پسند کر رہے ہیں اور یہی عناصر پیپلز پارٹی کی کامیابی کی بنیاد بن رہے ہیں۔

عزیر انجم چوہدری نے کہا کہ نکیال کے عوام نے ترقی کے سفر کو جاری رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور انشاءاللہ آنے والا وقت پیپلز پارٹی اور عوامی خدمت کی سیاست کا ہوگا۔

رپورٹ: K24 نیوز

نکیال میں پیپلز پارٹی کی کامیابی کا راستہ ہموار، جاوید اقبال بڈھانوی عوام کے دلوں کی دھڑکن بن گئےنکیال (Kنمائندہ خصوصی24...
02/06/2026

نکیال میں پیپلز پارٹی کی کامیابی کا راستہ ہموار، جاوید اقبال بڈھانوی عوام کے دلوں کی دھڑکن بن گئے

نکیال (Kنمائندہ خصوصی24) سلطان محمود چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حلقہ نکیال میں ترقی، خوشحالی اور عوامی خدمت کی سیاست نے پیپلز پارٹی کو ایک مضبوط عوامی قوت بنا دیا ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی کیونکہ عوام نے نعروں اور دعوؤں کے بجائے عملی کارکردگی کو ترجیح دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چوہدری جاوید اقبال بڈھانوی نے مختصر عرصے میں نکیال کے اندر ترقیاتی کاموں کا ایک نیا باب رقم کیا ہے۔ حلقے کے دور دراز علاقوں تک سڑکوں کا جال بچھایا گیا، تعلیمی اداروں کو اپ گریڈ کیا گیا، تعلیمی پیکیج کے ذریعے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے گئے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔ ان منصوبوں نے نہ صرف عوام کی مشکلات کم کیں بلکہ علاقے کی مجموعی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ عوام جاوید اقبال بڈھانوی کو صرف ایک سیاست دان نہیں بلکہ ایک عوامی رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں جو عوام کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھتے ہیں۔ وہ خوشی اور غمی میں اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر وقت متحرک رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آج نکیال کے عوام کے دلوں میں گھر کر چکے ہیں اور ان کی مقبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نکیال میں پیپلز پارٹی کی بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت، مسلسل ترقیاتی کام اور جاوید اقبال بڈھانوی کی عوامی وابستگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آنے والا وقت پیپلز پارٹی کا ہے۔ عوام کی بڑی تعداد اس بات پر متفق دکھائی دیتی ہے کہ خدمت، کارکردگی اور عوامی رابطے کی سیاست ہی کامیابی کی ضمانت ہے، اور نکیال میں یہ تمام خوبیاں جاوید اقبال بڈھانوی کی قیادت میں نمایاں نظر آتی ہیں۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ انتخابات میں نکیال کے عوام ترقی اور خدمت کے سفر کو جاری رکھنے کے لیے پیپلز پارٹی پر اپنے اعتماد کا اظہار کریں گے۔

Address

Gam Kotli

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when K/24 News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to K/24 News:

Shortcuts

Share