Press Club Sehnsa

Press Club Sehnsa Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Press Club Sehnsa, Media/News Company, Gam Kotli.

16/05/2026
02/04/2026

ازاد کشمیر میں 2021 میں منعقد ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کا دورانیہ جولائی 2026 میں اختتام پذیر ہونے والا ہے ۔
ادھر ماضی میں ازاد کشمیر کی دو بڑی حریف سیاسی جماعتیں جن کے درمیان اختلافات کی نوعیت ایسی رہی کہ "آگ اور پانی" جیسا معاملہ ان کیلئے استعمال ہوتا تھا۔تاہم گذشتہ کم و بیش پانچ سالوں سے شیر و شکر ہیں اور مل کر ملک و ملت کی تقدیر بدلنے کیلئے حکومت کر رہی ہیں۔ ملک کی 70 سالہ تاریخ میں پہلی بار جب کہ دنیا کے جمہوری ملکوں کی تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی کہ دو جماعتوں نے پہلے مل کر وزیراعظم کا انتخاب کیا اور پھر اسی فلور پر انہی دو جماعتوں نے اپوزیشن لیڈر کا انتخاب کیا۔ اور پھر اسی فلور پر ایک جماعت حکومتی بنچوں پر اور دوسری اپوزیشن بنچوں پر۔واہ جمہوری روایات زندہ باد
قومی تاریخ اس سے زیادہ شرمناک تماشا کبھی نہیں دیکھے گی۔
شاہ غلام قادر جو مسلم لیگ ن کے صدر بھی ہیں۔ایک اینکر کے سوال کہ آپ کس طرح کے اپوزیشن سربراہ ہیں۔کہ حکومت میں بھی ہیں اور اپوزیشن میں بھی ہیں۔شاہ غلام قادر کا بیان کس قدر مضحکہ خیز ہے کہ میں کبھی وزیر اعظم کو ووٹ نہ دیتا لیکن کیا کیا جائے یہ آئینی مجبوری ہے۔
سبحان اللہ کیا آئین تشکیل دیا ہوا ہے۔آگ اور پانی کو جمع کرتا ہے۔
قصہ مختصر عام انتخابات کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔ادھر ایکشن کمیٹی کا اعلامیہ نئے سکرپٹ کے ساتھ سامنے آیا ہے۔میری ذاتی رائے میں انتخابات نہیں ہونگے۔بالفرض ہو بھی جائیں تو پوری ریاست میں تین جماعتیں اپنے اپنے امیدواران میدان میں اتاریں گی۔ان میں پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف میدان میں اتریں گی۔
پی ٹی آئی زیر عتاب ہونے کے باوجود عوام میں مقبول ترین جماعت ہے۔بالخصوص نسل نوع عمران خان کی لیڈر شپ پر ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں۔ انتخابات شفاف ہوں تو پیپلز پارٹی اور ن لیگ مسترد جماعتیں ہیں۔
اس تحریر میں پوری ریاست کے حلقوں کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔البتہ میرے پیش نظر ایل اے گیارہ کوٹلی 4 سہنسہ سرساوہ پنجیڑہ کا انتخاب اورنتائج ہیں۔
گذشتہ کئی عشروں سے پیپلز پارٹی اور ن لیگ باری باری اقتدار کے سنگھاسن پر براجما رہی ہیں۔اس حلقہ میں زیادہ تر اقتدار ن لیگ کے حصے میں رہا ۔کم و بیش 40 سال میں انفراسٹکریکچر،یعنی تعمیراتی کاموں جن میں سڑکیں،سرکاری عمارتیں شامل آخری درجہ کی کرپشن ہوتی رہی۔تقرریوں ،تبادلوں،ترقیوں ،تنزلیوں میں انتقامی بنیادوں میرٹ نام کی کوئی چیز نہیں رہی۔
طویل عرصہ بعد ریاست میں پی ٹی آئی کو 16 ماہ کیلئے حکومت سازی کا موقع ملا۔
پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والا ممبر اسمبلی وزارت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد پی ٹی آئی جماعت کے ساتھ غداری کر کے مستقل اقتدار کی ضمانت حاصل کرنے کی غرض سے اب باقاعدہ پیپلز پارٹی میں شامل ہو چکا ہے۔
اگر ماضی کے صاحب اقتدار اور موجودہ صاحب اقتدار کی مالی بےضابطگیوں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو موجودہ پانچ سالہ دور ماضی کے 25 سالہ دور پر کرپشن کے لحاظ سے بھاری ہے۔جس کے دستاویزی شواہد بھی موجود ہیں۔جنھیں وقت آنے پر پبلک کیا جائے گا۔
آمدہ الیکشن میں پیپلز پارٹی کا ٹکٹ چوہدری اخلاق ہی لے اڑیں گے۔اور پیپلز پارٹی کے جیالوں کے حصے میں تالیاں اور زندہ باد کے نعرے ہی رہ جائینگے۔جماعتوں میں ٹکٹوں کی تقسیم میرٹ پر ہو تو لوٹوں کو ٹکٹ کبھی نہ ملے۔لیکن یہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔
دوسری جانب مختلف برادریوں کے گلدستہ کا دعوی کرنے والی ن لیگ کا ٹکٹ صرف کسی راجپوت کا حق جبکہ برادریوں کو گلدان سجانے کیلئے بطور ایٹم رکھا جاتا ہے۔
رہا راجہ نصیر مرحوم کے کسی عزیز و اقرباء کی جانب سے وارثتی جانشینی کا مطالبہ وراثتی تقسیم کا تناظر تو ہو سکتا ہے جبکہ سیاسی وراثت صرف اور صرف میرٹ کی بنیادوں پر سیاسی جدوجہد میں شریک رہنے والوں کا حق ہے۔وہ طاہر بسمل سے زیادہ دوسرا کون حقدار ہو سکتا ہے۔
پی ٹی آئی کا ٹکٹ بلحاظ میرٹ سیدھا سیدھا سردار رزاق کا بنتا ہے۔جس نے 2016 اور2021 میں جماعتی فیصلے کو قبول کیا اور ممبر کشمیر کونسل منتخب ہونے کے بعد تاحال ڈٹ کر اپنی جماعت اور اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑا رہا۔اور حلقہ میں پارٹی اور ورکرز کے ساتھ کھڑا رہا۔اور پائے اثبات میں کوئی لغزش نہ آنے دی۔ بالفرض ان کے علاوہ کسی دوسرے کو اگر ٹکٹ کا حقدار سمجھا جائے تو وہ سردار ارسلان رزاق ہے۔جس نے ابتلاء کے اس دور میں پارٹی کو زندہ رکھنے اور کارکنان کی دادرسی اپنی ذاتی گرہ سے کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی بلکہ یوں کہا جائے کہ اس کے روابط پورے حلقہ کے کارکنان کے ساتھ اپنے والد سے بھی زیادہ مضبوط ہیں۔اور نوجوانوں کی کثیر تعداد انہیں بہت پسند بھی کرتی ہے۔
درج بالا حالات کے تناظر میں آمدہ جولائی میں متوقع انتخابات میں تین مین جماعتوں کے علاوہ کوئی آزاد امیدوار انتخابی معرکے کے بڑے مقابلے میں دکھائی نہیں دیتا۔
الیکشن شیڈول کے اعلان کے بعد موجودہ وزیر حکومت کی سیاسی پوزیشن تیزی سے گرتی دکھائی دے رہی ہے ۔جبکہ ن لیگ اپنی اندرونی کشمکش کے باعث مقابلہ سے باہر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اور پی ٹی آئی حلقہ میں کوئی بڑا اپ سیٹ کر سکتی ہے۔

02/04/2026

Address

Gam Kotli

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Press Club Sehnsa posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share