24/03/2023
وہ روز مجھے سحری کے وقت جگاتی تھی وہ۔ کالز کرتی اور میسجز کرتی تھی کہ اٹھ جائیں سحری کر لیں، میں جھٹ سے اس کے پہلے میسج پے جاگ جاتا یا پھر یوں کہہ لیا جاۓ کے مجھے انتظار ہی اس کے میسج کا ہوتا تھا
وہ اپنے گھر سحری کرتی اور میں ہوسٹلائز تھا تو ہوٹل پے چلا جاتا
سحری کر کے موبائل دییکھتا تو میسج آ چکا ہوتا کہ نماز پڑھ کے چاہے سو جانا پھر ہر نماز کے وقت ایک میسج ملتا نماز یاد سے پڑھ لیجئے گا حالانکہ اسے پتہ اذان کو تو میرے پاس بھی آتی ہو گی، افطار میں ایک میسج کہ افطاری کے بعد نماز نہیں بھولنا اور رات میں عشاء ضرور ادا کرنا
یہ باتیں مجھے بہت سکون دیتی اتنی خوشی کہ میں ہر پل مسکراتا پھرتا
کہتے ہیں اگر عورت سچی محبت کر لے تو ایک ماں کی طرح پرواہ کرنے لگتی ہے
اب کی بار تو ماہ رمضان کی مبارک بھی نہیں دی اس نے۔
نہیں مطلب محبت نہیں چھوڑی اس نے پتہ نہیں کیا بات ہوئی میں اسے کہتا میں مجبوریوں کی زد میں آ کے بھی اس سے محبت کرنا کبھی کم نہیں کرتا۔
پہلی سحری کی لیے آلارم لگا کے سویا اور سحری کو اس کے میسج کی بجاۓ اس کی کال کی بجاۓ آلارم پے جاگ ہوئی۔ اس بات نے بہت تکلیف دی مجھے۔ مجھ سے یہ سب اب برداشت نہیں ہو رہا، کیں کہ مجھے شاید محبت کے ساتھ ساتھ اس کی عادت بھی ہو چکی ہے۔ دوسرے روزے کو میں نے بے بسی کے عالم میں پوچھا اب کی بار نہیں جگایا کرو گی؟
جواب نہ ملنے پے خاموشیاں مزید بڑھ گئی۔ ایسے لگا جیسے سینے میں کوئی درد مسلسل بھرتا ہی جا رہا ہے۔ مجھے اب بھی روز انتظار رہتا ہے اس کے لوٹ آنے کا۔ نہ جانے کہاں چلی گئی ہے وہ، جو مجھ سے اتنی دوری اختیار کر لی ہے اس نے۔
سحری اب بھی ہو جاتی ہے۔ افطاری بھی، نماز بھی پڑھ لی جاتی ہے۔ لیکن سحری کے وقت بھی، افطاری کے وقت بھی، ایک زور دار سسکی سے اس کا نام لیتا ہوں میں، اور ساتھ ہی انکھیں نم ہو جاتی ہیں۔۔۔!!!
😕💔😔😢