19/05/2026
ایک 40 سالہ آدمی ہر شام پارک کی ایک بینچ پر اکیلا بیٹھا ہوتا تھا۔ لوگ اسے روز وہاں دیکھتے، وہ خاموشی سے پرندوں کو دانہ ڈالتا اور غروبِ آفتاب کو دیکھتا رہتا۔ کسی کو اس کے بارے میں زیادہ معلوم نہیں تھا، بس اتنا کہ اس کا نام ڈیوڈ تھا۔
ایک بارش بھری شام ایک چھوٹا لڑکا آ کر اس کے پاس بیٹھ گیا۔
لڑکے نے پوچھا،
“آپ ہمیشہ یہاں اکیلے کیوں بیٹھتے ہیں؟”
ڈیوڈ ہلکا سا مسکرایا۔
“کیونکہ یہ بینچ مجھے کسی کی یاد دلاتی ہے۔”
“کس کی؟”
“میری بیوی کی۔”
لڑکا حیران ہوا۔
“وہ اب کہاں ہیں؟”
ڈیوڈ نے چند لمحے بھیگی زمین کی طرف دیکھا۔
“وہ 10 سال پہلے دنیا سے چلی گئی تھیں۔”
لڑکا خاموش ہو گیا۔
ڈیوڈ نے آہستہ سے کہا،
“چالیس سال پہلے، جب میں تمہاری عمر کا تھا، میری اس سے پہلی ملاقات اسی پارک میں ہوئی تھی۔ وہ ایک کتاب پڑھ رہی تھی اور غلطی سے میری فٹبال اس کے قریب جا گری۔ مجھے لگا وہ غصہ کرے گی… مگر وہ ہنس پڑی۔”
یہ یاد کر کے وہ مسکرا دیا۔
“ہم ساتھ بڑے ہوئے، شادی کی، بچے ہوئے، اور پوری زندگی ایک دوسرے کے ساتھ گزاری۔ ہر شام کام کے بعد ہم اسی بینچ پر آ کر بیٹھتے تھے۔”
لڑکے نے دھیمی آواز میں پوچھا،
“کیا آپ انہیں بہت یاد کرتے ہیں؟”
ڈیوڈ نے جواب دیا،
“ہر ایک دن۔ لیکن سچی محبت کسی کے دنیا سے چلے جانے کے بعد ختم نہیں ہوتی۔ وہ یادوں میں، عادتوں میں، اور ایسی جگہوں میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔”
بارش آہستہ آہستہ رک گئی اور آسمان نارنجی رنگ میں بدلنے لگا۔
جانے سے پہلے لڑکے نے کہا،
“مجھے لگتا ہے وہ خوش ہوں گی کہ آپ آج بھی یہاں آتے ہیں۔”
ڈیوڈ نے اپنے پاس خالی جگہ کی طرف دیکھا اور مسکرا کر بولا،
“مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے۔”