25/02/2026
سوشل میڈیا کا غلط استعمال بند کیا جائے — اب بہت ہو چکا
ہم نوجوانوں کو واضح پیغام دیتے ہیں کہ سوشل میڈیا کوئی کھیل تماشا نہیں ہے کہ جسے دل چاہا جس کے خلاف زہر اگلا دیا۔ اپنے عقیدے کا دفاع کا حق ہر کسی کو حاصل ہے لیکن کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس دفاع کے نام پر بدتمیزی، اشتعال انگیزی اور فرقہ واریت کو ہوا دے۔
اگر کسی ایک فرد، خصوصاً ایک کم عمر بچے کی طرف سے کوئی گستاخانہ حرکت سرزد ہوئی ہے تو اس کے خلاف قانون موجود ہے، عدالتیں موجود ہیں، ریاستی ادارے موجود ہیں۔ لیکن ایک فرد کے عمل کو جواز بنا کر پورے مسلک کے خلاف نعرہ بازی کرنا، تکفیر کے ذریعے کفر کے فتوے لگانا اور سڑکوں پر نفرت پھیلانا کھلی زیادتی اور سنگین جرم ہے۔ اس کے سنگین نتائج حاصل ہوسکتے ہے۔
گلگت بلتستان کے چوک چوراہوں کو ماہِ رمضان میں بند کر دینا، روزہ دار مسافروں کو اذیت میں مبتلا کرنا، اور ہر طرف اشتعال انگیز نعرے لگانا کسی بھی مہذب معاشرے کا طریقہ نہیں۔ “کافر، کافر” کے نعرے لگا کر آپ نہ دین کی خدمت کر رہے ہیں نہ شریعت دین ناب محمدی کی— بلکہ معاشرے کو آگ میں جھونک رہے ہیں۔
ہم حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واضح اور دوٹوک مطالبہ کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر موجود شواہد کی بنیاد پر جہاں جہاں ملتِ تشیع کے خلاف تکفیر، نفرت انگیزی اور اشتعال پھیلایا گیا ہے، وہاں کے سرکردہ عناصر کے خلاف فوری اور بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔ اگر ایک فرد قانون کے کٹہرے میں آ سکتا ہے تو نفرت پھیلانے والے تکفیری گروہ کیوں نہیں؟
یہ دوہرا معیار کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ اگر ریاست نے اپنی ذمہ داری پوری نہ کی تو پھر شدید عوامی ردعمل کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر ہوگی۔ ہم اپنے آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر جائز راستہ اختیار کریں گے۔
امن چاہتے ہیں، مگر عزت اور حق کے ساتھ۔ خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
المرکز گلگت بلتستان