Bol Gilgit Media Network

Bol Gilgit Media Network اس پیج کو بنانے کا مقصد گلگت بلتستان کی اندرونی صورتحال مسائل، عمومی علم، خبریں، سماجی مسائل

غزہ کے بعد مسلم دنیا: مزاحمت، مصلحت اور منافقت کے درمیانغزہ نے صرف اسرائیل کا چہرہ بے نقاب نہیں کیا، اس نے پوری مسلم دنی...
12/08/2026

غزہ کے بعد مسلم دنیا: مزاحمت، مصلحت اور منافقت کے درمیان

غزہ نے صرف اسرائیل کا چہرہ بے نقاب نہیں کیا، اس نے پوری مسلم دنیا کی خارجہ پالیسی، ترجیحات اور باہمی تضادات کو بھی کھول کر رکھ دیا ہے۔

آج سوال یہ نہیں کہ کون فلسطین کے حق میں بیان دے رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کون اپنی طاقت، سفارت کاری، معیشت اور علاقائی اثرورسوخ کو فلسطینیوں کے حق میں عملی طور پر استعمال کر رہا ہے، اور کون واشنگٹن، تل ابیب اور اپنے معاشی مفادات کے درمیان توازن قائم کرتے ہوئے فلسطین کے نام پر صرف سیاسی بیانیہ فروخت کر رہا ہے؟

اگر اس پورے منظرنامے کو نسبتاً غیر جانب دارانہ مگر حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھا جائے تو ایک ملک سب سے نمایاں طور پر مختلف دکھائی دیتا ہے: ایران۔

ایران نے فلسطین کو اپنی خارجہ پالیسی کے مرکزی ستونوں میں رکھا۔ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی کا خطرہ مول لیا، خطے میں اپنے اتحادی مزاحمتی نیٹ ورک کو برقرار رکھا اور اس قیمت کو بھی برداشت کیا جو اس پالیسی کی صورت میں اسے ادا کرنا پڑی۔ 2026 میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف براہِ راست جنگ نے اس پوزیشن کی قیمت مزید واضح کر دی۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایران کی ہر داخلی یا خارجی پالیسی قابلِ تعریف ہے۔ ایران کے اپنے قومی مفادات، علاقائی طاقت کی خواہش اور داخلی سیاسی مسائل بھی ہیں۔ لیکن فلسطین اور اسرائیل کے معاملے میں عملی confrontation کی جس سطح پر ایران کھڑا ہے، مسلم دنیا میں اس وقت اس کا کوئی دوسرا ریاستی ہم پلہ نظر نہیں آتا۔

یہاں سے باقی مسلم دنیا کا موازنہ شروع ہوتا ہے۔

سعودی عرب اسرائیل کو ابھی تک تسلیم نہیں کرتا اور فلسطینی ریاست کے قیام کو اپنی سرکاری پالیسی کا بنیادی حصہ قرار دیتا ہے۔ لیکن ریاض کا راستہ ایران سے بالکل مختلف ہے۔

سعودی عرب براہِ راست مزاحمتی محاذ کا حصہ بننے کے بجائے امریکہ، عرب دنیا اور اپنے معاشی اثرورسوخ کے ذریعے سفارتی راستہ اختیار کرتا ہے۔ اس کی اپنی سلامتی، تیل کی معیشت اور امریکی دفاعی شراکت داری اس کی خارجہ پالیسی کو ایک مخصوص حد تک محدود بھی کرتی ہے۔

یعنی سعودی عرب فلسطین کے خلاف نہیں، لیکن وہ فلسطین کے لیے ایران جیسی confrontation بھی قبول کرنے کو تیار نہیں۔

یہ فرق سمجھنا ضروری ہے۔

ترکیہ شاید اس پورے معاملے کی سب سے دلچسپ مثال ہے۔

صدر اردوان کی حکومت فلسطین کے حق میں انتہائی سخت سیاسی زبان استعمال کرتی ہے، اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرتی ہے اور خود کو فلسطینی کاز کے ایک اہم محافظ کے طور پر پیش کرتی ہے۔

لیکن ریاستی تعلقات صرف تقریروں سے نہیں بنتے۔

ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان ماضی میں دفاعی تعاون، تجارت اور مختلف شعبوں میں تعلقات رہے ہیں، اور دونوں ممالک کے تعلقات کی تاریخ آج کے سیاسی بیانات سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ 2026 میں بھی ترکیہ نے غزہ کے امریکی سرپرستی والے Board of Peace کے عمل میں حصہ لیا۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے:

اگر اسرائیل ایک ریاستی دشمن اور فلسطینیوں کا قاتل ہے تو پھر اس کے ساتھ تعلقات کے دروازے مکمل طور پر کیوں بند نہیں ہوتے؟

ترکیہ کا جواب شاید یہی ہوگا کہ ریاستیں جذبات سے نہیں، مفادات سے چلتی ہیں۔

لیکن پھر یہی اصول ایران پر لاگو کیوں نہیں کیا جاتا؟

اگر ایران اپنے مفادات کے لیے مزاحمتی نیٹ ورک بناتا ہے تو اسے "علاقائی مداخلت" کہا جاتا ہے، اور اگر ترکیہ یا خلیجی ممالک امریکہ اور مغرب کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک مفادات کے لیے شراکت داری کرتے ہیں تو اسے "pragmatic diplomacy" کہا جاتا ہے۔

یہی دوہرا معیار بھی اس بحث کا حصہ ہے۔

UAE اس تضاد کی شاید سب سے واضح مثال ہے۔

متحدہ عرب امارات نے 2020 میں اسرائیل کے ساتھ Abraham Accords کے ذریعے سفارتی تعلقات قائم کیے۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعاون بھی بڑھا۔ دوسری طرف UAE ایران کے ساتھ سفارتی اور معاشی روابط بھی رکھتا ہے، سعودی عرب کے ساتھ قریبی علاقائی تعلقات رکھتا ہے اور امریکہ کے ساتھ گہری دفاعی و اسٹریٹجک شراکت داری بھی۔

اب غزہ کے نئے امریکی امن فریم ورک میں بھی UAE شامل ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں "منافقت" کا لفظ عوامی سطح پر پیدا ہوتا ہے۔

ایک طرف فلسطینی ریاست کی حمایت، دوسری طرف اسرائیل کے ساتھ معمول کے سفارتی اور تجارتی تعلقات۔

ریاستی زبان میں اسے strategic balancing کہا جا سکتا ہے؛ لیکن غزہ میں مرنے والے عام فلسطینی کے لیے یہ تضاد شاید صرف ایک لفظ میں سمٹتا ہے: مصلحت۔

پاکستان کا معاملہ خلیجی ممالک سے مختلف ہے۔

پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے اور غزہ کے معاملے پر سخت سیاسی مؤقف بھی اختیار کرتا رہا ہے۔

لیکن پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری اس کی معاشی vulnerability ہے۔

ایک کمزور معیشت، بیرونی قرضوں، مالیاتی دباؤ اور عالمی مالیاتی نظام پر انحصار کرنے والی ریاست کے لیے امریکہ کو مکمل طور پر نظرانداز کرنا آسان نہیں۔

اسی لیے پاکستان نے امریکی صدر کے Gaza Board of Peace میں شمولیت بھی اختیار کی ہے، جسے اسلام آباد نے غزہ میں امن، جنگ بندی اور تعمیرِ نو کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کا حصہ قرار دیا ہے۔

لیکن یہاں ایک اور سوال بھی ہے جس سے فرار ممکن نہیں:

کیا پاکستان کی خارجہ پالیسی مکمل طور پر سول حکومت کے ہاتھ میں ہے؟

پاکستان میں تاریخی طور پر عسکری ادارے کا خارجہ اور سلامتی کے معاملات میں غیر معمولی اثرورسوخ رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں امریکہ اور پاکستانی عسکری قیادت کے درمیان رابطے بھی نمایاں رہے ہیں۔ Board of Peace میں پاکستان کی شمولیت کے اعلان کے وقت پاکستانی آرمی چیف کا ڈیووس میں امریکی صدر سے متعلق اہم سفارتی سرگرمیوں کے پس منظر میں موجود ہونا بھی رپورٹ ہوا تھا۔

اس لیے پاکستان کے معاملے کو صرف "منافقت" کہہ دینا بھی شاید مسئلے کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا دینا ہوگا۔

یہاں اصول اور مجبوری دونوں ساتھ چل رہے ہیں۔

یہاں آکر مسلم دنیا کی اصل تقسیم سامنے آتی ہے۔

ایک طرف وہ ریاستیں ہیں جو کہتی ہیں:

"ہم فلسطین کے ساتھ ہیں، لیکن ہماری اپنی معاشی، دفاعی اور سفارتی مجبوریاں ہیں۔"

دوسری طرف ایران کا ماڈل ہے جو کہتا ہے:

"فلسطین کے لیے confrontation کی قیمت بھی ادا کرنا پڑے تو ادا کریں گے۔"

اور تیسری طرف وہ قوتیں ہیں جو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکی ہیں اور پھر فلسطینیوں کے لیے امن کے منصوبوں کا حصہ بھی ہیں۔

یہاں کسی ایک ملک کو مکمل فرشتہ اور دوسرے کو مکمل شیطان قرار دینا بھی درست نہیں۔ ریاستیں مفادات کے مطابق چلتی ہیں۔ مگر ریاستی مفادات اور اخلاقی دعووں کے درمیان جتنا بڑا فاصلہ ہو، اتنا ہی سوال پیدا ہوتا ہے۔

عرب دنیا کی عسکری تاریخ بھی اس بحث کا اہم پس منظر ہے۔ 1967 کی چھ روزہ جنگ میں عرب ریاستوں کو اسرائیل کے ہاتھوں شدید شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد عرب ریاستوں کی بڑی تعداد نے براہِ راست عسکری confrontation کے بجائے سفارت کاری، معیشت اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کو اپنی علاقائی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا۔

آج کی عرب دنیا اسی تاریخی تجربے کا نتیجہ بھی ہے۔

ایران نے مختلف راستہ اختیار کیا۔

اسی لیے آج سوال صرف یہ نہیں کہ کون فلسطین سے محبت کرتا ہے؟

سوال یہ ہے کہ کون فلسطین کے لیے اپنی strategic autonomy قربان کرنے کو تیار ہے؟

اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ایران اور باقی مسلم دنیا کے درمیان سب سے بڑا فرق پیدا ہوتا ہے۔

غزہ نے مسلم دنیا کو ایک آئینہ دکھایا ہے۔

اس آئینے میں ایران ہمیں مزاحمت کی تصویر دکھاتا ہے۔

سعودی عرب سفارتی مصلحت کی۔

ترکیہ سخت بیانات اور پیچیدہ مفادات کے تضاد کی۔

UAE normalization اور strategic balancing کی۔

اور پاکستان اصولی مؤقف، معاشی کمزوری اور عالمی طاقتوں کے دباؤ کے درمیان پھنسی ہوئی ریاست کی تصویر دکھاتا ہے۔

شاید اس پورے منظرنامے کا سب سے تلخ سوال یہی ہے:

اگر فلسطین واقعی امت کا مسئلہ ہے تو پھر امت کی اتنی بڑی تعداد اپنی معاشی، دفاعی اور سفارتی طاقت کو اسرائیل کے خلاف ایک مشترکہ پالیسی میں کیوں تبدیل نہیں کر پائی؟

جواب شاید "منافقت" سے زیادہ پیچیدہ ہے۔

اس میں خوف بھی ہے، مصلحت بھی، معاشی انحصار بھی، امریکی طاقت بھی، داخلی سیاست بھی اور قومی مفادات بھی۔

لیکن ان سب کے درمیان ایک حقیقت بہرحال اپنی جگہ موجود ہے:

بیانات بہت سے دے رہے ہیں؛ قیمت ادا کرنے کے لیے آج بھی بہت کم تیار ہیں۔

22/07/2026

1971 میں جب امریکی صدر رچرڈ نکسن نے ڈالر کو سونے کی ضمانت سے الگ کر دیا تو امریکہ کو خدشہ تھا کہ اگر دنیا نے ڈالر پر اعتماد کھو دیا تو اس کی معاشی برتری بھی کمزور ہو جائے گی۔ 1973 کے تیل بحران کے بعد امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ایسی اسٹریٹجک شراکت داری وجود میں آئی جس نے عالمی مالیاتی نظام کی سمت بدل دی۔ سعودی عرب نے اپنی تیل کی فروخت امریکی ڈالر میں جاری رکھی، جبکہ امریکہ نے سعودی عرب کو سیکیورٹی، جدید اسلحہ اور سیاسی حمایت فراہم کی۔ بعد ازاں اوپیک کے بیشتر ممالک نے بھی یہی نظام اپنایا، جس کے نتیجے میں دنیا کے ہر ملک کو تیل خریدنے کے لیے امریکی ڈالر درکار ہونے لگا۔ اس عمل نے ڈالر کی عالمی حیثیت کو مضبوط کیا اور امریکہ کو بے مثال مالی طاقت حاصل ہوئی۔
اس نظام کا دوسرا اہم ستون امریکی اسلحہ کی صنعت تھی۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، نے ایران کو ایک بڑے علاقائی خطرے کے طور پر دیکھنا شروع کیا۔ امریکہ نے اس صورتحال کو ایک مضبوط دفاعی شراکت داری میں تبدیل کیا، اور سعودی عرب نے کئی دہائیوں تک امریکی جنگی طیاروں، میزائلوں، فضائی دفاعی نظاموں اور دیگر عسکری سازوسامان پر سیکڑوں ارب ڈالر خرچ کیے۔ اس کے نتیجے میں امریکی دفاعی صنعت کو مسلسل مالی سہارا ملتا رہا، امریکی معیشت کو فائدہ پہنچا اور امریکہ کی عالمی عسکری برتری مزید مضبوط ہوئی۔

ناقدین کے مطابق امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ تعلق صرف تیل یا دفاع تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ ان کے مطابق سعودی عرب نے اپنی سرزمین، وسائل اور اسٹریٹجک تعاون کے ذریعے امریکہ کو خطے میں غیر معمولی اثر و رسوخ فراہم کیا، جبکہ امریکہ نے اسی طاقت کے بل بوتے پر مختلف ادوار میں عراق، افغانستان اور دیگر ممالک میں فوجی کارروائیاں کیں۔ ان جنگوں کے نتیجے میں لاکھوں افراد متاثر ہوئے، بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا اور خطے میں عدم استحکام پیدا ہوا۔
اسی تناظر میں سعودی عرب کی پالیسیوں پر بھی شدید تنقید کی جاتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف سعودی عرب خود کو حرمین شریفین کی سرزمین اور عالمِ اسلام میں مرکزی حیثیت رکھنے والی ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے، جبکہ دوسری طرف اس کی خارجہ اور دفاعی پالیسیاں اکثر امریکہ کے ساتھ قریبی ہم آہنگی میں رہی ہیں۔ ان کے مطابق یہی تضاد سعودی عرب کی پالیسیوں پر سب سے بڑا سوالیہ نشان ہے۔

مزید یہ کہ ناقدین یہ بھی مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ فلسطین، یمن، لبنان، عراق، افغانستان اور خطے کے دیگر تنازعات میں سعودی عرب نے وہ مؤثر اور آزادانہ کردار ادا نہیں کیا جس کی توقع عالمِ اسلام کی ایک بااثر ریاست سے کی جاتی تھی۔ اسی طرح حالیہ برسوں میں اسرائیل کے ساتھ بعض عرب ممالک کے تعلقات میں آنے والی تبدیلیوں کو بھی ناقدین اسی وسیع جغرافیائی سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیتے ہیں، اگرچہ مختلف ممالک کے اس حوالے سے اپنے اپنے سیاسی اور سلامتی کے دلائل موجود ہیں۔
اس لیے تاریخی اور سیاسی تجزیے کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ کی عالمی برتری صرف اس کی فوجی قوت کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ پیٹرو ڈالر نظام، خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب کے ساتھ اس کی اسٹریٹجک شراکت داری، اور امریکی اسلحہ کی صنعت کو حاصل ہونے والی مسلسل مالی تقویت نے مل کر اس کی عالمی طاقت کو کئی دہائیوں تک مستحکم رکھا۔ دوسری جانب ناقدین کے نزدیک یہی شراکت داری عالمِ اسلام کی سیاسی تقسیم، بیرونی انحصار اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے عدم توازن کا ایک اہم سبب بھی بنی۔

ناقدین کے نزدیک عالمِ اسلام کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ مسلم دنیا کی قیادت کا دعویٰ کرنے والی ریاستیں اپنے عملی کردار میں یکساں نہیں رہیں۔ ایک طرف سعودی عرب خود کو حرمین شریفین کی سرزمین اور عالمِ اسلام کا مرکزی کردار قرار دیتا ہے، جبکہ دوسری طرف اس کی خارجہ پالیسی کئی دہائیوں سے امریکہ کے ساتھ گہری اسٹریٹجک شراکت داری پر قائم رہی ہے۔ دوسری جانب ترکی بھی خود کو امتِ مسلمہ کے مسائل کا آواز اٹھانے والا ملک قرار دیتا ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی بھی اکثر قومی مفادات، نیٹو کی رکنیت، مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات اور علاقائی سیاسی تقاضوں کے تابع رہی ہے۔ ان کے مطابق مسلم دنیا کی قیادت کے دعوے اس وقت مؤثر ثابت ہوتے ہیں جب ان کے ساتھ مستقل اور عملی اقدامات بھی
موجود ہوں۔

اسی بحث میں بہت سے مبصرین اسلامی جمہوریہ ایران کو ایک مختلف مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران نے گزشتہ کئی دہائیوں میں فلسطین اور خطے کے بعض مزاحمتی گروہوں کی سیاسی، مالی اور عسکری حمایت کی، جس کے نتیجے میں اسے سخت معاشی پابندیوں، سفارتی دباؤ، سکیورٹی خطرات اور اپنی اعلیٰ عسکری و سائنسی شخصیات کے جانی نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ایران کے حامی اسے عالمی طاقتوں کے سامنے مزاحمت کی علامت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اس کی بعض پالیسیوں پر تنقید بھی کرتے ہیں۔ اس لیے اس کردار کی تشریح بھی نقطۂ نظر کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔
ایران کے حامی اکثر اس مزاحمتی فکر کو کربلا کے فلسفۂ مزاحمت سے تشبیہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جس طرح امام حسینؑ نے ظلم کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا، اسی طرح ان کے نزدیک ظلم اور بیرونی بالادستی کے خلاف مزاحمت بھی ایک اصولی مؤقف ہے۔ تاہم یہ ایک مذہبی و سیاسی تشبیہ ہے، جسے تمام مسلمان یا تمام مؤرخ یکساں طور پر قبول نہیں کرتے۔۔

گلگت بلتستان کی معروف کاروباری، سماجی اور سیاسی شخصیت، پاکستان پیپلز پارٹی کے دیرینہ کارکن و رہنما جناب بشارت حسین نے وز...
11/07/2026

گلگت بلتستان کی معروف کاروباری، سماجی اور سیاسی شخصیت، پاکستان پیپلز پارٹی کے دیرینہ کارکن و رہنما جناب بشارت حسین نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ سے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران جناب بشارت حسین نے وزیر اعلیٰ کو منصب سنبھالنے پر دلی مبارکباد پیش کی، نیک خواہشات اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا، اور ان کی کامیابی، صحت اور عوامی خدمت کے لیے دعا کی۔ اس موقع پر گلگت بلتستان کی ترقی، عوامی فلاح و بہبود، بہتر طرزِ حکمرانی اور خطے کے روشن مستقبل سے متعلق مختلف امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

جناب بشارت حسین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انہیں مکمل یقین ہے کہ وزیر اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ اپنی قیادت، بصیرت اور عوام دوست پالیسیوں کے ذریعے گلگت بلتستان کو ترقی، خوشحالی اور استحکام کی نئی منزلوں تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان شاء اللہ وزیر اعلیٰ کی قیادت میں گلگت بلتستان پاکستان کے بہترین انتظامی خطوں میں اپنی نمایاں پہچان بنائے گا اور ترقی و گڈ گورننس کی ایک قابلِ تقلید مثال قائم کرے گا۔

10/07/2026

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت میں عظیم الشان یوم حسین پرامن طریقے سے اہتمام پذیر سٹوڈنٹ نے رضاکارانہ طور پر گرفتاریاں دینا شروع کر دیا

سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس فیصلے نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ریاست عوامی مفاد کے لیے نجی زمین حاصل کرتی ہے تو متاثرین کو م...
07/07/2026

سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس فیصلے نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ریاست عوامی مفاد کے لیے نجی زمین حاصل کرتی ہے تو متاثرین کو منصفانہ اور بروقت معاوضہ دینا بھی ریاست کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

ہم اسی تناظر میں گلگت بلتستان کے ایئرپورٹ متاثرین کا مقدمہ ایک بار پھر قومی سطح پر اٹھانا چاہتے ہیں۔

پاکستان کے ابتدائی دور میں گلگت بلتستان کے لوگوں نے قومی مفاد اور حب الوطنی کے جذبے کے تحت اپنی قیمتی زمینیں رضاکارانہ طور پر ایئرپورٹ کی تعمیر کے لیے دیں۔ اس وقت ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ انہیں مناسب معاوضہ دیا جائے گا، مگر افسوس کہ آج تین نسلیں گزر چکی ہیں اور یہ وعدہ آج تک وفا نہ ہو سکا۔

ان متاثرین نے وفاقی محتسب، مختلف عدالتوں اور ہر دورِ حکومت کا دروازہ کھٹکھٹایا، لیکن ہر بار صرف یقین دہانیاں، وعدے اور تاخیر ہی ان کا مقدر بنے۔ انصاف کی مسلسل عدم فراہمی نے انہیں شدید مایوسی سے دوچار کر دیا ہے۔

آج صورتحال یہ ہے کہ متاثرین یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہیں کہ اگر ان کی زمین کا جائز معاوضہ نہیں دیا جا سکتا، تو پھر ان کی زمینیں انہیں واپس کیوں نہیں کی جاتیں؟

ہم امید کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں گلگت بلتستان کے ایئرپورٹ متاثرین کے اس دیرینہ اور جائز مسئلے پر بھی فوری توجہ دی جائے گی تاکہ ان خاندانوں کو وہ انصاف مل سکے جس کے وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے منتظر ہیں۔

The Supreme Court of Pakistan has ruled that the government can acquire private land without the owner’s consent if the acquisition is meant to serve public interest, while making clear that the power to do so is not unconditional and comes tied to fair compensation.

Details in first comment 👇️

چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر گلگت بلتستان کے نومنتخب وزیراعلی امجد حسین آزر نے اپنے پہلے آرڈر پر دستخط...
07/07/2026

چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر گلگت بلتستان کے نومنتخب وزیراعلی امجد حسین آزر نے اپنے پہلے آرڈر پر دستخط کردئیے

وزیراعلی امجد حسین ایڈووکیٹ نے اپنے پہلے آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے گلگت بلتستان کے 89 ڈاکٹروں کو ریگولرائز کردیا

بیلجیئم کے چوتھا گول کرنے کے بعد کئی کھلاڑیوں کو ایسے انداز میں رقص کرتے دیکھا گیا جو ’ٹرمپ ڈانس‘ سے مشابہہ تھا۔ ٹرمپ کے...
07/07/2026

بیلجیئم کے چوتھا گول کرنے کے بعد کئی کھلاڑیوں کو ایسے انداز میں رقص کرتے دیکھا گیا جو ’ٹرمپ ڈانس‘ سے مشابہہ تھا۔ ٹرمپ کے اس انداز میں 2024 کی صدارتی مہم کے دوران خاصی شہرت پائی تھی۔

🚨 بریکنگ نیوزسیونگ اکاؤنٹ رکھنے والے صارفین کے لیے اہم خبر!اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سیونگ اکاؤنٹس کے حوالے سے نئی پالیسی...
07/07/2026

🚨 بریکنگ نیوز

سیونگ اکاؤنٹ رکھنے والے صارفین کے لیے اہم خبر!

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سیونگ اکاؤنٹس کے حوالے سے نئی پالیسی جاری کر دی ہے۔

نئے فیصلے کے مطابق صرف ان صارفین پر اثر پڑے گا جن کے سیونگ اکاؤنٹ میں 1 کروڑ روپے سے زیادہ رقم موجود ہے۔ اب بینک ایسے اکاؤنٹس پر پہلے کی طرح لازمی منافع دینے کے پابند نہیں ہوں گے، بلکہ منافع کی شرح اپنی پالیسی کے مطابق مقرر کر سکیں گے۔

عام صارفین کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ اگر آپ کے سیونگ اکاؤنٹ میں 1 کروڑ روپے سے کم رقم ہے تو آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، اس نئی پالیسی سے آپ کے اکاؤنٹ یا منافع پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بڑے سرمایہ کاروں کو دیگر سرمایہ کاری کے مواقع کی طرف راغب کرنا اور بینکاری نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

کربلا کی محبت اور ایک ہندو شاعر کا لازوال نوحہتاریخِ کربلا محض ایک مذہبی واقعہ نہیں بلکہ انسانیت کی مشترکہ میراث ہے۔ یہی...
24/06/2026

کربلا کی محبت اور ایک ہندو شاعر کا لازوال نوحہ

تاریخِ کربلا محض ایک مذہبی واقعہ نہیں بلکہ انسانیت کی مشترکہ میراث ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ صدیوں گزر جانے کے باوجود کربلا کا پیغام مذہبی، جغرافیائی اور نسلی حدود سے بلند ہو کر دنیا بھر کے انسانوں کے دلوں کو متاثر کرتا چلا آ رہا ہے۔ برصغیر کی عزاداری کی تاریخ میں بھی ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جہاں غیر مسلم اہلِ قلم نے اہلِ بیتؑ کی عظمت اور کربلا کے پیغام کو اپنے فن کا موضوع بنایا۔

شامِ غریباں کی مجالس میں جب بھی نوحۂ "گھبرائے گی زینب" پڑھا جاتا ہے تو فضا سوگوار ہو جاتی ہے اور سامعین کی آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔ اس نوحے کے درد بھرے الفاظ نسل در نسل منتقل ہوتے رہے ہیں اور آج بھی عزاداری کا ایک لازمی حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس لازوال نوحے کے خالق ایک ہندو شاعر، چھنو لال دلگیر تھے۔

یہ حقیقت اپنے اندر ایک غیر معمولی پیغام رکھتی ہے۔ کربلا کی کشش صرف مسلمانوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے ہر اس دل کو اپنی طرف متوجہ کیا جو حق، انصاف، وفاداری اور قربانی کی قدر جانتا ہے۔ چھنو لال دلگیر نے جب حضرت زینبؑ کے صبر، استقامت اور کربلا کے المناک واقعات کو اپنے احساسات میں سمویا تو ان کے قلم سے ایسے اشعار تخلیق ہوئے جو آج بھی عزاداروں کے دلوں کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔

برصغیر کی تہذیبی تاریخ میں اہلِ بیتؑ سے محبت کی بے شمار داستانیں ملتی ہیں۔ ہندو، سکھ اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے شعرا اور ادبا نے بھی امام حسینؑ کی قربانی کو انسانیت کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا۔ ان کے نزدیک کربلا کسی ایک مذہب کی نہیں بلکہ ظلم کے خلاف جدوجہد اور انسانی اقدار کی بقا کی علامت تھی۔

شاید یہی وجہ ہے کہ چھنو لال دلگیر کا نام وقت کی گرد میں کہیں دب گیا، مگر ان کا لکھا ہوا نوحہ آج بھی زندہ ہے۔ مجالس میں جب "گھبرائے گی زینب" کی صدا بلند ہوتی ہے تو سامعین شاعر کے مذہب کے بارے میں نہیں سوچتے بلکہ ان الفاظ میں پوشیدہ عقیدت، محبت اور درد کو محسوس کرتے ہیں۔ یہی کسی بھی عظیم تخلیق کی اصل کامیابی ہوتی ہے کہ وہ اپنے خالق کی شناخت سے آگے بڑھ کر لوگوں کے جذبات کا حصہ بن جائے۔

کربلا کا پیغام آج بھی انسانیت کو یہ سبق دیتا ہے کہ حق اور باطل کی جنگ میں اصل اہمیت کردار، اصول اور قربانی کی ہوتی ہے، نہ کہ نام، نسل یا مذہب کی۔ چھنو لال دلگیر کا یہ شاہکار نوحہ اسی آفاقی پیغام کی ایک خوبصورت مثال ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ محبتِ اہلِ بیتؑ دلوں کو جوڑتی ہے، تقسیم نہیں کرتی۔

محمد ہابیل حسین قزلباش

24/06/2026

موجودہ دنیا میں رائج سیاسی نظام کی اس سے بہتر تشریح شاید ممکن نہیں۔ ضرور دیکھیے اور اپنے مستقبل کو اس دھوکے باز نظام سے محفوظ بنائیے

Address

Qazalbash Muhallah Near Passport Office Gilgit
Gilgit
15100

Opening Hours

09:00 - 17:00

Telephone

+923109151936

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bol Gilgit Media Network posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Bol Gilgit Media Network:

Shortcuts

Share