23/03/2026
جتنے یہاں تھے صاحب ایمان یا حسین
سب ہو رہے ہیں دین پہ قربان یا حسین
رہبر کے ساتھ کتنے بہادر چلے گئے
ہونگےوہ سارے آپ کے مہمان یا حسین
رمضان بن گیا ہے محرم سا غمزدہ
ہر ایک دل میں غم کا ہےطوفان یا حسین
کیسے منائیں عید یہ دکھ معمولی نہیں
ڈوبا ہوا ہے خون میں ایران یا حسین
کہہ دیجئیے یہ مہدی دوراں سے آپ ہی
ہم ہو رہے ہیں سارے پریشان یا حسین
افسردہ دل کے ساتھ ہیں شوریدہ نگاہیں
ویران ہو گیا ہے گلستان یا حسین
خاموش ہیں وہ لوگ جو کہتےتھے آپ سے
ہیں آپ پر یہ جان بھی قربان یا حسین
کوفی بنے ہوئے ہیں محمد کے امتی
تنہا ہے آج بھی یہاں ایران یا حسین
یا رب بچائیے گا تباہی سے یہ جہاں
ہم کر رہے ہیں ایک ہی ارمان یا حسین
کلام : حبیبہ کمال
Sargan Media Network