KMN Digital

KMN Digital KMN digital is digital media platform Where we share latest updates,talk shows,infotainment & more

گلگت سکوار میں 22 سالہ خاتون کی مبینہ خودکشی کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق متوفیہ کا تعلق ضلع استور سے تھا اور ...
27/02/2026

گلگت سکوار میں 22 سالہ خاتون کی مبینہ خودکشی کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق متوفیہ کا تعلق ضلع استور سے تھا اور وہ کچھ عرصے سے گلگت میں مقیم تھیں۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی، شواہد اکٹھے کیے اور قانونی تقاضے مکمل کر لیے گئے۔ واقعے کی تحقیقات ہر زاویے سے جاری ہیں تاکہ تمام حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

دوسری جانب ڈاکٹر اکبر ناصر خاں، انسپکٹر جنرل آف پولیس گلگت بلتستان، کی زیر صدارت آج ایک اجلاس میں خودکشی کے واقعات کی تفتیش کو نہایت سنجیدگی، پیشہ ورانہ مہارت اور فرانزک شواہد کی بنیاد پر مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔ اجلاس میں تمام ضلعی پولیس افسران کو تاکید کی گئی کہ ایسے ہر واقعے کے تمام ممکنہ پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تاکہ کسی بھی مجرمانہ عنصر کو نظر انداز نہ کیا جائے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان پولیس اس امر کو یقینی بنا رہی ہے کہ مذکورہ واقعے کی تفتیش میرٹ، شفافیت اور مکمل شواہد کی بنیاد پر کی جائے۔ حکام کے مطابق تحقیقات میں پیش رفت سے عوام کو بروقت آگاہ کیا جائے گا۔

گلگت ۔ پولیس کے ایک اہلکار کو مبینہ اغوا اور ہراسمنٹ کے الزامات کے تحت گرفتار کرلیا گیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق ہیڈ کانس...
24/02/2026

گلگت ۔ پولیس کے ایک اہلکار کو مبینہ اغوا اور ہراسمنٹ کے الزامات کے تحت گرفتار کرلیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق ہیڈ کانسٹیبل (HC) ڈرائیور شاہد اقبال کے خلاف متاثرہ خاتون کی مدعیت میں تھانہ جوٹیال میں مقدمہ درج کیا گیا۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد ملزم کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ کل خومر سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی کی درخواست پر مذکورہ ڈرائیور کے خلاف ہراسانی اور اغوا کی مبینہ کوشش کا مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔

ترجمان گلگت بلتستان پولیس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کیس کی تفتیش مکمل میرٹ پر کی جائے گی اور تمام شواہد کی روشنی میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون کو قانونی تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ واقعے کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے گا۔ مزید پیش رفت تفتیش مکمل ہونے کے بعد سامنے لائی جائے گی۔

پاکستان کا اے آئی کا لمحہڈاکٹر جاوید لغاری24 فروری 2026اسلام آباد میں حال ہی میں ہونے والے انڈس اے آئی ویک کے موقع پر وز...
24/02/2026

پاکستان کا اے آئی کا لمحہ

ڈاکٹر جاوید لغاری
24 فروری 2026

اسلام آباد میں حال ہی میں ہونے والے انڈس اے آئی ویک کے موقع پر وزیرِاعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ پاکستان 2030 تک مصنوعی ذہانت (AI) پر ایک ارب ڈالر خرچ کرے گا۔

اس منصوبے کے تحت:
• وفاقی اسکولوں میں اے آئی کا نصاب متعارف کرایا جائے گا۔
• 2030 تک اے آئی میں ایک ہزار سے زیادہ مکمل فنڈڈ پی ایچ ڈی اسکالرشپس دی جائیں گی تاکہ عالمی معیار کی تحقیق ہو سکے۔
• دس لاکھ ایسے افراد کو اے آئی کی تربیت دی جائے گی جو آئی ٹی فیلڈ سے تعلق نہیں رکھتے۔

یہ ایک اچھا اور بروقت قدم ہے۔ پہلے بھی لکھا جا چکا ہے کہ اگر پاکستان کو دنیا میں مقابلہ کرنا ہے تو اسے فوری طور پر اے آئی میں مہارت رکھنے والے افراد اور مضبوط انفراسٹرکچر تیار کرنا ہوگا۔ حکومت اس بات کی تعریف کی مستحق ہے کہ اس نے سمجھ لیا ہے کہ اے آئی کوئی اختیار نہیں بلکہ معیشت کی بقا کے لیے ضروری ہے۔



دنیا میں اے آئی کی تیز رفتار ترقی

ہم اس وقت اے آئی کی غیر معمولی ترقی کا دور دیکھ رہے ہیں۔ اندازہ ہے کہ چند سالوں میں عالمی اے آئی مارکیٹ 800 ارب ڈالر سے زیادہ ہو جائے گی۔ اے آئی صنعت، حکومت، صحت، تعلیم اور دفاع سمیت ہر شعبے میں بڑی تبدیلی لا رہی ہے۔

لیکن یہ مقابلہ صرف معاشی نہیں رہا، بلکہ اب یہ بڑی طاقتوں کے درمیان سیاسی اور اسٹریٹیجک مقابلہ بھی بن چکا ہے۔ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ جو ملک اے آئی میں آگے ہوگا، وہ مستقبل میں طاقت کا توازن بھی طے کرے گا۔ کچھ لوگ یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ اگر اے آئی کو قابو میں نہ رکھا گیا تو بے روزگاری بڑھ سکتی ہے اور معاشرے غیر مستحکم ہو سکتے ہیں۔



اگلا مرحلہ: مصنوعی عمومی ذہانت (AGI)

اب دنیا کی توجہ مصنوعی عمومی ذہانت (AGI) پر ہے، جو انسان کی طرح یا اس سے زیادہ ذہین ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے چند سالوں میں اے جی آئی کمپیوٹر پر ہونے والے تقریباً ہر کام کو انسان سے زیادہ تیزی اور درستگی سے کر سکے گی۔ اس سے ابتدائی سطح کی بہت سی نوکریاں ختم ہو سکتی ہیں۔



امریکہ اور چین کی دوڑ

امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 500 ارب ڈالر کے اے آئی انفراسٹرکچر منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ “اسٹار گیٹ پروگرام” کے تحت 20 سے زیادہ بڑے ڈیٹا سینٹر بنائے جا رہے ہیں۔ ہر سینٹر بہت وسیع رقبے پر ہوگا اور ہزاروں نوکریاں پیدا کرے گا۔ NVIDIA جیسی کمپنی بھی اے آئی انفراسٹرکچر پر 100 ارب ڈالر تک خرچ کر رہی ہے۔

چین بھی پیچھے نہیں ہے۔ اندازہ ہے کہ صرف 2025 میں چین نے 125 ارب ڈالر سے زیادہ اے آئی پر خرچ کیے۔ چین تحقیق، چپس بنانے اور خودکار نظاموں میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔



بھارت کی پیش رفت

جب پاکستان سست روی کا شکار رہا، بھارت نے پچھلے دس سال میں تقریباً 11 ارب ڈالر اے آئی پر خرچ کیے۔ اب گوگل، ایمیزون اور مائیکروسافٹ جیسی بڑی کمپنیاں اربوں ڈالر بھارت میں لگا رہی ہیں۔ بھارت 2026 میں عالمی اے آئی سمٹ بھی منعقد کر رہا ہے جس میں دنیا کے بڑے لیڈر اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہ شرکت کریں گے۔



ڈیٹا سینٹرز کی اہمیت

جدید اے آئی سسٹمز کے لیے بہت بڑے اور طاقتور ڈیٹا سینٹرز کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے لیے سستی بجلی، ٹھنڈا ماحول، پانی اور مضبوط بجلی کا نظام ضروری ہے۔ ایک گیگا واٹ کے ڈیٹا سینٹر کی لاگت 20 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

امریکہ، مشرق وسطیٰ اور ایشیا میں ایسے بڑے منصوبے تیزی سے بن رہے ہیں۔



پاکستان کے لیے موقع

پاکستان کے شمالی علاقوں میں ہائیڈرو پاور (پن بجلی) کی صلاحیت موجود ہے، موسم ٹھنڈا ہے اور قابلِ تجدید توانائی دستیاب ہے۔ ان علاقوں میں اے آئی ڈیٹا سینٹر بنا کر غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی جا سکتی ہے۔

کم از کم پاکستان کو 20 میگا واٹ کا قومی اے آئی ڈیٹا سینٹر ضرور بنانا چاہیے۔ اس سے قومی سلامتی مضبوط ہوگی، مقامی اسٹارٹ اپس کو سہارا ملے گا اور بیرونی کمپنیوں پر انحصار کم ہوگا۔



صرف عمارتیں کافی نہیں

صرف انفراسٹرکچر بنانا کافی نہیں ہے۔ ضروری ہے کہ:
• قوانین آسان بنائے جائیں
• ٹیکس میں رعایت دی جائے
• کاروبار شروع کرنا آسان ہو
• یونیورسٹیاں نصاب جدید بنائیں
• تحقیق کو عملی کاروبار میں بدلا جائے
• ذہین افراد کو ملک چھوڑنے سے روکا جائے



نتیجہ

پاکستان نے پہلا قدم اٹھا لیا ہے۔ ایک ارب ڈالر کا اعلان نیت ظاہر کرتا ہے، لیکن اب ضرورت ہے تیز، منظم اور بڑے پیمانے پر عمل درآمد کی۔

پاکستان کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ ہم کتنی جلدی ہنر مند اے آئی ماہرین، جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور عالمی معیار کی تحقیق تیار کر سکتے ہیں۔ اگر درست پالیسی اور مستقل سرمایہ کاری کی جائے تو پاکستان بھی عالمی اے آئی معیشت میں اپنا حصہ حاصل کر سکتا ہے۔



مصنف سابق سینیٹر اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سابق چیئرمین ہیں۔

گلگت بلتستان سے تعلق رکھنےو الے تاجروں کے لیئے خنجراب بارڈر سے درآمدی سامان پر ٹیکس سے چھوٹ  گلگت بلتستان حکومت کا آن لا...
09/02/2026

گلگت بلتستان سے تعلق رکھنےو الے تاجروں کے لیئے خنجراب بارڈر سے درآمدی سامان پر ٹیکس سے چھوٹ

گلگت بلتستان حکومت کا آن لائن پورٹل بدھ 11فروری 2026 سے فعال کیا جائے گا٭

گلگت– حکومتِ گلگت بلتستان نے وزیراعظم پاکستان کے احکامات کی روشنی میں خنجراب بارڈر سے درآمد ہونے والے سامان پر کل 4 ارب روپے تک فیڈرل ٹیکسز سے استثنیٰ دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے ٹیکس ایگزمپشن سرٹیفکیٹس کے اجراء کے لیے آن لائن پورٹل تیار کر لیا گیا، جدید آن لائن پورٹل بدھ 11 فروری سے فعال کیا جائے گا ، جہاں پر سرٹیفیکیٹس کے لیئے رجسٹریشن کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا ، ۔ یہ اقدام مقامی رہائشیوں کی تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دے گا اور شفافیت کو یقینی بنائے گا، جس سے صرف مستحق ٹریڈرز ہی فائدہ اٹھا سکیں گے۔حکومتِ گلگت بلتستان نے وزیراعظم پاکستان کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے خنجراب بارڈر پر پاکستان اور چین کے درمیان تجارت کے ذریعے مقامی رہائشیوں کی جانب سے درآمد کیے جانے والے سامان پر کل 4 ارب روپے تک کے فیڈرل ٹیکسز سے استثنیٰ کا اعلان کیا ہے ، مستحق ٹریڈرز اور امپورٹرز کو رجسٹریشن کے بعد متعین چھوٹ کے سلیبز slabsکے مطابق سرٹیفکیٹس جاری کرے گا۔ سرٹیفکیٹس "پہلے آئیں، پہلے پائیں" کے اصول پر، مقررہ جانچ پڑتال اور اہلیت کے تقاضوں کی تکمیل کے بعد جاری ہوں گے۔ یہ اقدام مقامی تجارت کو فروغ دینے، شفافیت برقرار رکھنے اور سہولت کو صرف جائز گلگت بلتستان رہائشیوں تک محدود کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے، جس سے عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی اور خواتین و نوجوانوں کے لیے مختص کوٹہ کے ذریعے ان کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ درخواست صرف ان ٹریڈرز اور امپورٹرز سے قبول کی جائے گی جو گلگت بلتستان کے مستقل رہائشی ہوں، متعلقہ چیمبر آف کامرس سے رجسٹرڈ ہوں، اور SECP سے رجسٹرڈ کمپنی ہوں یا فارم "سی" کے تحت رجسٹرڈ ہوں۔ ہر درخواست کی جانچ ایک خودکار نظام سے ہوگی جو NADRA سے تصدیق، SECP یا فارم "سی" رجسٹریشن کی جانچ، چیمبر آف کامرس رجسٹریشن کی تصدیق، اور بینک اسٹیٹمنٹ کی توثیق کو یقینی بنائے گا۔ اس طرح مستند رہائشیوں کو ہی فائدہ پہنچے گا اور میرٹ پر مبنی شفافیت برقرار رہے گی۔آن لائن پورٹل فعال ہونے کے بعد رجسٹریشن کے لیے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC)، SECP یا فارم "سی" رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (ضروری دستاویزات سمیت)، گزشتہ ایک سال کی ڈیجیٹل سالانہ بینک اسٹیٹمنٹ، اور بینک منیجر کا تصدیقی خط تیار رکھیں۔ رجسٹریشن اور فیس ادا کرنے کے بعد، سالانہ بینک اسٹیٹمنٹ کی بنیاد پر سرٹیفکیٹ جاری ہو جائے گا۔
سرٹیفکیٹس کے اجراء کو چار زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے ، جس میں بڑے پیمانے کا کاروبار کرنے والے افراد، ، چھوٹے پیمانے کا کاروبار کرنے والے افراد ، نوجوان، اور خواتین کو شامل کیا گیا ہے جن کو بینک اسٹیٹمنٹ کی بنیاد سرٹیفیکٹس کا اجراء یقینی بنایا جائے گا۔ سرٹیفیکٹس کے اجراء میں اضلاع کی آبادی کو بھی مدنظر رکھا جائے گا تاکہ شفافیت اور مساوات کو یقینی بنایا جا سکے۔

شگر..لمسہ پڑی کے مقام پر برفباری کے باعث سڑک پر پھسلن ہونے کی وجہ سے ایک وِٹز (Vitz) گاڑی حادثے کا شکار ہو گئی ہے۔ اس اف...
31/01/2026

شگر..
لمسہ پڑی کے مقام پر برفباری کے باعث سڑک پر پھسلن ہونے کی وجہ سے ایک وِٹز (Vitz) گاڑی حادثے کا شکار ہو گئی ہے۔ اس افسوسناک و دلخراش حادثہ کی نتیجے میں گاڑی میں سوار تینوں افراد جانبحق ہو گئے۔

25/01/2026

جوانی دیوانی اگر کسی نے نہیں سنا ہے؟
تو اس ویڈیو کو ایک دفعہ ضرور دیکھے۔
غیر سنجیدہ حرکتوں کا برا نجام

اسلام آباد:وفاقی پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) اور گلگت بلتستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی(GBPPRA) کے ...
06/01/2026

اسلام آباد:
وفاقی پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) اور گلگت بلتستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی(GBPPRA) کے مابین گلگت بلتستان میں ای۔پاکستان ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم (EPADS)کے نفاذ کے لیے مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے ۔یادداشت پر گلگت بلتستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر/سیکریٹری فنانس نجیب عالم اور EPADS کے پراجیکٹ ڈائریکٹر شیخ افضال رضا نے دستخط کیے۔
تقریب میں چیف سیکریٹری گلگت بلتستان ابرار احمد مرزا اور وفاقی پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر حسنات احمد قریشی نے شرکت کی۔
چیف سیکریٹری گلگت بلتستان نے اس موقع پر EPADS کے نفاذ کو گلگت بلتستان میں پبلک پروکیورمنٹ اصلاحات کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے سرکاری خریداری کے عمل کو شفاف، مؤثر اور جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے گا۔ انہوں نے وفاقی پی پی آر اے سے قریبی تعاون اور مسلسل تکنیکی معاونت کی فراہمی کی درخواست کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ باہمی اشتراک کے ذریعے گلگت بلتستان میں ای۔پروکیورمنٹ نظام کے مؤثر اور پائیدار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

وفاقی پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر حسنات احمد قریشی نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے گلگت بلتستان میں EPADSے نفاذ کے لیے مکمل تعاون اور تکنیکی معاونت کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظام شفافیت، مسابقت اور احتساب کو فروغ دینے کے ساتھ بدعنوانی کے امکانات میں کمی اور عوامی وسائل کے مؤثر استعمال میں مددگار ثابت ہوگا۔
اس یادداشت کے تحت دونوں اداروں نے گلگت بلتستان میں EPADS کے نفاذ کے عمل کے باقاعدہ آغاز پر اتفاق کیا ۔ پہلے مرحلے میں گلگت بلتستان کے مختلف سرکاری اداروں کے افسران اور متعلقہ ٹیموں کو جامع تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ نظام کے عملی نفاذ کے دوران کسی قسم کی تکنیکی یا انتظامی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔
تقریب کے اختتام پر منیجنگ ڈائریکٹر پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی حسنات احمد قریشی نے چیف سیکریٹری گلگت بلتستان ابرار احمد مرزا کو یادگاری شیلڈ پیش کی۔
یہ مفاہمتی یادداشت گلگت بلتستان میں جدید ای۔پروکیورمنٹ نظام کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جس کے ذریعے سرکاری خریداری کے تمام مراحل کو مکمل طور پر ڈیجیٹل، شفاف اور قابلِ نگرانی بنایا جا سکے گا، اور گڈ گورننس و شفاف طرزِ حکمرانی کے فروغ میں معاونت حاصل ہوگی۔

ڈیجیٹل گلگت بلتستان کو فروغ دینے کے لیے دو روزہ ای آفس ٹریننگ پروگرام کا انعقاد گلگت: گلگت بلتستان کو مکمل طور پر ڈیجیٹا...
06/01/2026

ڈیجیٹل گلگت بلتستان کو فروغ دینے کے لیے دو روزہ ای آفس ٹریننگ پروگرام کا انعقاد

گلگت: گلگت بلتستان کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کرنے کی کوششوں کے تحت پی ایم آر یو گلگت بلتستان کی جانب سے اکائونٹنٹ جنرل آفس گلگت بلتستان کے افسران کے لیے دو روزہ ای آفس ٹریننگ پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔

اس تربیت کا مقصد حکومتی کارروائیوں کو زیادہ موثر، شفاف اور تیز تر بنانے کے لیے جدید ڈیجیٹل ٹولز متعارف کرانا تھا۔ اہلکاروں کو بغیر کاغذ کے دفتری نظام کو اپنانے کی تربیت دی گئی، جس سے کام کے بہاؤ کو بہتر بنانے اور عوامی خدمات کی فراہمی کو بڑھانے کی امید ہے۔

اس اقدام کو گلگت بلتستان میں ڈیجیٹل گورننس کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

#ڈیجیٹل گلگت بلتستان

محمد ہارون لون ولد شبیر احمد لون نے کم عمری میں قرآن پاک حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی.
06/01/2026

محمد ہارون لون ولد شبیر احمد لون نے کم عمری میں قرآن پاک حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی.

04/01/2026

سنو سکول رٹو استور میں پہاڑی سے نیچے گرا کر فوجی نوجوانوں کو ٹریننگ کس طرح دی جاتی ہے پہاڑی ڈھلان پر نیچے اترنے (رپلنگ) کی تکنیک سکھائی جاتی ہے۔

متعلقہ افسران کے خلاف کاروائی کا حکممحکمہ تعلیم گلگت بلتستان نے واضح کیا ہے کہ اساتذہ کے تبادلے اور تعیناتیاں صرف پوسٹنگ...
27/12/2025

متعلقہ افسران کے خلاف کاروائی کا حکم

محکمہ تعلیم گلگت بلتستان نے واضح کیا ہے کہ اساتذہ کے تبادلے اور تعیناتیاں صرف پوسٹنگ و ٹرانسفر پالیسی 2024 کے مطابق ہوں گی۔ ذاتی، خاندانی، سماجی یا سفارشی بنیادوں پر کسی بھی قسم کی پوسٹنگ یا تبادلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

تمام افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی بھی درخواست پر کارروائی نہ کریں۔ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ افسران کے خلاف قواعد کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

Address

Konodass
Gilgit
15100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when KMN Digital posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to KMN Digital:

Share