20/08/2026
گلگت بلتستان میں منشیات کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ
تحریر:تاشفین مصطفیٰ
سینئر نائب صدر مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ گلگت ڈویژن
گلگت بلتستان،بالخصوص سب ڈویژن جگلوٹ،گلگت ہسپتال روڈ،دنیور اور دیگر علاقوں میں آئس سمیت دیگر خطرناک اور نشہ آور اشیاء کے بڑھتے ہوئے استعمال اور مبینہ پھیلاؤ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔منشیات کا یہ بڑھتا ہوا رجحان محض ایک فرد یا ایک خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے،ہماری نوجوان نسل،تعلیمی نظام اور امن و امان کے لیے ایک سنگین چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
آج ہماری نوجوان نسل کو کتاب،قلم،کھیل اور تعلیم کی طرف ہونا چاہیے،لیکن اگر نوجوان منشیات کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں تو یہ ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ ایک نوجوان کا نشے کی طرف جانا دراصل ایک گھر کے مستقبل کا اندھیرا اور معاشرے کے مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے اثرات تعلیم پر بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ نوجوان تعلیمی سرگرمیوں سے دور، اپنی صلاحیتوں سے محروم اور مستقبل کے روشن خوابوں سے بدظن ہوتے جا رہے ہیں۔ اس صورتحال پر اگر آج خاموشی اختیار کی گئی تو آنے والے وقت میں اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔
منشیات صرف صحت کو نقصان نہیں پہنچاتیں بلکہ معاشرتی جرائم میں اضافے کا بھی سبب بن سکتی ہیں۔ مختلف علاقوں میں چوری،لڑائی جھگڑے،بدامنی اور دیگر ناخوشگوار واقعات کے حوالے سے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اس لیے منشیات کے خلاف کارروائی کو محض ایک انتظامی معاملہ سمجھنے کے بجائے اسے امن و امان، تعلیم اور نوجوانوں کے مستقبل کا بنیادی مسئلہ سمجھا جائے۔
ہم حکومت گلگت بلتستان، پولیس،ضلعی انتظامیہ،متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر مقتدر اداروں سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ آئس سمیت تمام غیر قانونی منشیات کے خلاف فوری،مؤثر،مسلسل اور بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔منشیات کی خرید و فروخت،سپلائی اور تقسیم میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے اور اس پورے نیٹ ورک کے خلاف مؤثر حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔
صرف چھوٹے استعمال کنندگان کے خلاف کارروائی کافی نہیں؛ اصل توجہ ان عناصر پر ہونی چاہیے جو نوجوان نسل تک منشیات پہنچانے کے کاروبار میں ملوث ہیں۔ منشیات فروشوں اور سپلائی نیٹ ورک کے خلاف قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ایسی مؤثر کارروائی ضروری ہے کہ کوئی شخص ہمارے نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے کی جرأت نہ کر سکے۔
ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ نشے میں مبتلا افراد کے لیے قانون کے مطابق علاج، بحالی، کونسلنگ اور معاشرے میں دوبارہ مثبت کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ہر متاثرہ نوجوان کو صرف سزا کے طور پر تنبہ کیا جائے۔