12/02/2026
میجر میر اسداللہ خان — شجاعت، قیادت اور خدمت کی روشن مثال
میجر میر اسداللہ خان پاکستان آرمی کے ان بہادر اور باوقار افسران میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ وطنِ عزیز کی خدمت، امن کے قیام اور انسانیت کی فلاح کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ آپ معروف سیاسی و سماجی شخصیت سردار رسول میر کے فرزند ہیں، جن کا شمار گلگت بلتستان کے معزز رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ میجر میر اسداللہ خان کا تعلق گلگت بلتستان کے تاریخی علاقے جگلوٹ سائی سے ہے اور آپ میر قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، جو اپنی بہادری، مہمان نوازی اور خدمتِ خلق کی روایات کے لیے مشہور ہے۔
میجر میر اسداللہ خان نے نہایت کٹھن اور خطرناک محاذوں پر وطن کا دفاع کیا۔ آپ نے دنیا کے بلند ترین اور سخت ترین محاذ، سیاچن میں خدمات انجام دیں جہاں صرف حوصلہ، ایمان اور عزمِ صمیم ہی انسان کو ثابت قدم رکھ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ نے دہشت گردی کے خلاف آپریشنز میں عملی طور پر حصہ لیا اور ایک فرنٹ لائن وارئیر کی حیثیت سے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور جرات کا لوہا منوایا۔
بین الاقوامی سطح پر بھی آپ نے پاکستان کا نام روشن کیا۔ اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے تحت آپ نے آئیوری کوسٹ میں خدمات سرانجام دیں، جہاں آپ کی ذمہ داری امن و استحکام کے قیام میں اہم کردار ادا کرنا تھا۔ آپ کی پیشہ ورانہ قابلیت کے اعتراف میں آپ کو مملکتِ سعودی عرب میں رائل سعودی لینڈ فورسز کے ساتھ بطور انسٹرکٹر خدمات انجام دینے کا اعزاز بھی حاصل ہوا، جو کسی بھی فوجی افسر کے لیے باعثِ فخر ہے۔
شخصیت کے اعتبار سے میجر میر اسداللہ خان نہایت منکسرالمزاج، نرم گفتار اور خوش اخلاق انسان ہیں، مگر نظم و ضبط اور قواعد و ضوابط کے معاملے میں انتہائی سخت ہیں۔ بطور لیڈر آپ ہمیشہ سامنے سے قیادت کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور اپنے جوانوں کے لیے خود کو ایک عملی مثال بناتے ہیں۔ آپ کی قیادت میں کام کرنے والے افراد آپ کو ایک بہادر سپاہی کے ساتھ ساتھ ایک شفیق رہنما کے طور پر یاد رکھتے ہیں۔
اپنے آبا و اجداد کی روایات کے مطابق میجر میر اسداللہ خان مہمان نوازی، لوگوں کی مدد اور ضرورت مندوں کا سہارا بننے میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔ ان کی زندگی خدمت، قربانی اور اخلاص کا عملی نمونہ ہے۔
بلاشبہ میجر میر اسداللہ خان ایک دلیر سپاہی، باصلاحیت قائد اور باکردار انسان ہیں، جو ہر لحاظ سے ترقی کے حق دار ہیں۔ قوم کو ایسے سپوتوں پر فخر ہے جو خاموشی سے اپنے فرائض انجام دے کر تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے رقم کرتے ہیں۔