13/11/2025
زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی 👏
ثمرین نگری کے ہمت ، قابلیت اور علاقے کے روایات کو برقرار رکھتے ہوئے صحافت کرنے پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں ۔
کسی بھی معاشرے میں عوامی ایشوز بڑھنے لگے تو سمجھو کہ آپ کے معاشرے میں صحافت کی کمی ہے،
ایسے میں نگر سے ایک باہمت بیٹی دوران صحافتی تعلیم ہی علاقے کے مسائل اور انکے حل کے لیے بہترین کردار ادا کررہی ہے ،
ثمرین بہت جلد قومی و بین الاقوامی سطح پر ایک بہترین مقرر اور صحافی بن کر ابھرے گی، اس کے لب و لہجہ اور بول چال کسی بڑے صحافی سے کم نہیں ،
جب بھی وی لاگ بناتی ہے تو اسلامی اقدار اور علاقے کے روایات کو بھی مدنظر رکھ کر ہی وی لاگ سوشل میڈیا پر شئیر کرتی ہے ۔
باقی کسی کی بیٹی کو بے وجہ تنقید نہ کرے تاکہ کل کو ہمارے بیٹیوں نے بھی علاقے کی نمائندگی کرنا ہے، کسی کی بیٹی کو صحافت کرنے پہ اعتراض ہے تو پھر بیٹیوں کو گھروں تک ہی محدود رکھنا ہوگا ،تعلیم سے دور کرنا ہوگا، کیا یہ سب کرنے سے ہم غیرت مند کہلائے گے؟ مقابلے کا دور ہے سوچ بلند رکھیں اور مثبت رکھیں پھر معاشرے میں مثبت تبدیلی کے ساتھ علاقے کی ترقی ہوگا۔
ثمرین نگری نے جس عہد و جزبے کے ساتھ علاقے کے ایشوز کو نمایاں کررہی ہے وہ قابل تعریف و قابل ستائش ہیں۔
کرن قاسم جیسے قابل بیٹیاں آج ہمارے معاشرے میں صحافت کے زریعے ہی خود کو منوا رہی ہیں نہ صرف خود کو منوایا ہے بلکہ بہت سارے ایشوز کو حل کروا کر ثابت کیا ہے کہ صحافت ہو یا تعلیمی میدان عورتیں بھی مردوں کی طرح کردار ادا کرسکتے ہیں ۔
آج ثمرین پہ لکھنے کا مقصد کچھ منفی سوچ کے ٹھیکیدار تنقید کا نشانہ بناتے ہیں انکے تنقید کا کوئی اثر نہیں پڑتا لیکن جو اچھا اور مثبت کام کرے اور اسکی حوصلہ شکنی کرے تو جس جزبے کے ساتھ کام کرے وہ جزبہ ختم ہو جاتا ہے۔
ثمرین نگری سمیت ہر باہمت بیٹی کی حوصلہ افزائی کیجیے، کیونکہ یہی روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
ثمرین نگری سمیت ہر باہمت بیٹی کی حوصلہ افزائی کیجیے، کیونکہ یہی روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
آللہ ہماری بیٹیوں کو عزت و کردار کے ساتھ علاقے کی خدمت کرنے کی توفیق دے۔ آمین
Rj Samreen nagarii👏