28/05/2026
خبر کہانی
تحریر: Abdul Salam Naaz , Abdul Salam Naz
ایبٹ آباد میں پیدا ہونے والی ایک خوبصورت اور معصوم لڑکی کی زندگی کا لاہور کے روہی نالے میں افسوسناک انجام ۔۔۔۔ 2 مئی 2026 کو نالے سے ملنے والی لا۔ش کا معمہ آخرکار حل ہو گیا ۔۔۔
مہروش کے والدین برسوں پہلے لاہور منتقل ہوگئے تھے۔ وقت گزرا، مہروش جوان ہوئی تو اس کا رشتہ فہیم نامی نوجوان سے طے پایا۔ یہ شادی پسند کے بعد والدین کی رضامندی سے ہوئی تھی۔ شروع میں دونوں ایک دوسرے کے ساتھ خوشگوار زندگی گزار رہے تھے اور ڈیڑھ سال بعد اللہ نے انہیں ایک بیٹی کی نعمت سے بھی نوازا۔
لیکن وقت کے ساتھ گھریلو حالات بدلنے لگے۔ خرچے بڑھے، آمدن کم پڑنے لگی اور معمولی جھگڑے رفتہ رفتہ بڑے اختلافات میں بدل گئے۔ مہروش اکثر ناراض ہوکر اپنے والدین کے گھر چلی جاتی اور فہیم اسے منا کر واپس لے آتا، مگر سکون زیادہ دیر قائم نہ رہتا۔ آخرکار ایک شدید جھگڑے کے بعد دونوں کے درمیان طلاق ہوگئی اور مہروش اپنی بیٹی کو لے کر والدین کے گھر آ بیٹھی۔
والد کی محدود آمدن کے باعث مہروش نے ایک دفتر میں ملازمت شروع کر دی، جہاں اس کی ملاقات خلیل نامی شخص سے ہوئی۔ ابتدا میں دوستی ہوئی، پھر بات اعتماد اور جذبات تک جا پہنچی۔ خلیل نے شادی کی پیشکش کی مگر یہ شرط رکھی کہ شادی خفیہ طور پر کورٹ میں ہوگی کیونکہ اس کے گھر والے ایک بچی کے ساتھ طلاق یافتہ عورت کو قبول نہیں کریں گے۔
مہروش کو شاید ایک سہارے اور محبت کرنے والے شخص کی ضرورت تھی، اس نے ہامی بھر لی۔ شادی ہوگئی، خلیل نے الگ کرائے کا مکان لے کر اسے وہاں رکھ دیا، مگر وہ ہفتے میں کئی دن اپنے والدین کے گھر بھی رہتا تھا۔
ایک رات مہروش نے خلیل کا موبائل دیکھا تو گیلری میں اسے ایک خاتون اور بچے کے ساتھ خلیل کی تصاویر ملیں۔ پوچھنے پر خلیل نے اعتراف کیا کہ وہ اس کی پہلی بیوی اور بچہ ہیں۔ یہ سن کر مہروش ٹوٹ گئی، اس نے شدید احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ یا تو پہلی بیوی کو چھوڑو یا مجھے طلاق دو۔ اگرچہ وہ دوبارہ طلاق یافتہ ہونے کا داغ اپنے اوپر نہیں لگانا چاہتی تھی۔
چند دنوں کی پریشانی کے بعد خلیل نے خوفناک فیصلہ کر لیا۔ پولیس کے مطابق ایک رات اس نے مبینہ طور پر تکیہ منہ پر رکھ کر مہروش کا گلہ گھونٹ دیا، پھر لا۔ش بوری میں ڈال کر قریب واقع روہی نالے میں پھینک دی۔ اگلی صبح اس نے تھانے جا کر بیوی کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ درج کروا دی۔
دو دن بعد راہگیروں نے 15 پر اطلاع دی کہ نالے میں ایک خاتون کی لا۔ش موجود ہے۔ پولیس، ریسکیو 1122 اور فارنزک ٹیمیں موقع پر پہنچیں، ضروری کارروائی کے بعد لا۔ش ہسپتال منتقل کی گئی۔ فنگر پرنٹس کی مدد سے خاتون کی شناخت مہروش کے نام سے ہوئی۔
پوسٹ ۔مار۔ٹم رپورٹ کے مطابق موت سانس بند ہونے سے واقع ہوئی جبکہ لا۔ش بعد میں نالے میں پھینکی گئی تھی۔ پولیس نے خلیل کو اطلاع دی تو ابتدائی تفتیش میں ہی اس نے مبینہ طور پر ساری کہانی بیان کر دی۔ ملزم کو عدالت میں پیش کرکے جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ادھر مہروش کی معصوم بیٹی اب اپنے نانا نانی کے پاس ہے، جو ایک بار پھر اپنی بیٹی کے غم کے ساتھ اس ننھی جان کی ذمہ داری اٹھانے پر مجبور ہیں ۔۔۔۔۔