10/03/2026
*بین الاقوامی جاسوسی کھیلوں کا نشانہ گلگت بلتستان*
تاریخ کے اوراق پلٹیں تو گلگت بلتستان ہمیشہ سے عالمی طاقتوں کی نظروں میں ایک اہم مقام رہا ہے، اس خطے کی جغرافیائی اہمیت، معدنی وسائل اور چین کے ساتھ سرحدی قربت نے اسے بین الاقوامی جاسوسی کھیلوں کا مرکز بنا دیا ہے، کئی دہائیوں سے یہاں غیر ملکی خفیہ ایجنسیاں اپنے مفادات کے لیے سرگرم ہیں، جس کا مقصد پاکستان کی سلامتی کو کمزور کرنا اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے جو تاحال جاری ہے
سنہ 1947ء سے قبل جب گلگت بلتستان پر ڈوگرہ راج قائم تھا، برطانوی استعمار نے یہاں اپنے جاسوسوں کا ایک مضبوط نیٹ ورک قائم کیا تھا۔
اس وقت کے برطانوی افسران نے خطے کے لوگوں کو تقسیم کرنے اور قبائلی تنازعات پیدا کرنے کی کوششیں کیں۔ بعد ازاں جب یہ خطہ پاکستان کا حصہ بنا، تو بھارت نے اپنی خفیہ ایجنسی را (RAW) کے ذریعے یہاں تخریب کاری کی متعدد کوششیں شروع کر دیں۔
1970ء کی دہائی میں جب پاکستان اور چین نے قراقرم ہائی وے کی تعمیر شروع کی، تو امریکی ایجنسی سی آئی اے نے اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ نے اس وقت گلگت بلتستان میں اپنے جاسوس بھیجے تھے، جو مقامی لوگوں کو منصوبے کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کر رہے تھے۔
گذشتہ چند سالوں میں گلگت بلتستان کے خلاف جاسوسی کھیلوں میں خطرناک اضافہ ہوا ہے۔ بھارتی ایجنسی را کے علاوہ، افغانستان کی سرحدوں سے بھی بعض عناصر خطے میں عدم استحکام
پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
2020ء میں پاک فوج نے گلگت بلتستان میں ایک بھارتی جاسوس نیٹ ورک کو بے نقاب کیا، جس کے ارکان مقامی لوگوں کو بھارت کے لیے کام کرنے پر آمادہ کر رہے تھے۔
حالیہ دنوں میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے منصوبوں نے گلگت بلتستان کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ مغربی ممالک، خاص طور پر امریکہ، اس منصوبے کو کمزور کرنے کے لیے یہاں پر پراکسی جنگ لڑ رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، بعض غیر ملکی این جی اوز کے پردے میں کام کرنے والے جاسوس یہاں کے نوجوانوں کو غلط معلومات دے کر انہیں ریاست کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان جاسوسی کھیلوں کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ:
1. پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کو خراب کیا جائے۔
2 سی پیک منصوبے کو نقصان پہنچایا جائے۔
3. گلگت بلتستان میں نسلی و مذہبی تنازعات کھڑے کیے جائیں۔
کومنٹس میں پڑھیے👇