Pak News

Pak News Like , Follow, Share and Comments❤️❤️💔

https://paknewsgb.blogspot.com/2026/02/blog-post_8.html

11/05/2026
18/04/2026

آبناۓ ہرمز پھر سے
بند کردیا

17/04/2026

ایرانی صدر کی وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی کوششوں کی تعریف

17/04/2026

آبناۓ ہرمز کھل گیا
💖🤞

10/03/2026

2025
انڈیا اور پاکستان کی جنگ
میں ایران نے پاکستان کا کتنا
ساتھ دیا تھا

*بین الاقوامی جاسوسی کھیلوں کا نشانہ گلگت بلتستان*تاریخ کے اوراق پلٹیں تو گلگت بلتستان ہمیشہ سے عالمی طاقتوں کی نظروں می...
10/03/2026

*بین الاقوامی جاسوسی کھیلوں کا نشانہ گلگت بلتستان*

تاریخ کے اوراق پلٹیں تو گلگت بلتستان ہمیشہ سے عالمی طاقتوں کی نظروں میں ایک اہم مقام رہا ہے، اس خطے کی جغرافیائی اہمیت، معدنی وسائل اور چین کے ساتھ سرحدی قربت نے اسے بین الاقوامی جاسوسی کھیلوں کا مرکز بنا دیا ہے، کئی دہائیوں سے یہاں غیر ملکی خفیہ ایجنسیاں اپنے مفادات کے لیے سرگرم ہیں، جس کا مقصد پاکستان کی سلامتی کو کمزور کرنا اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے جو تاحال جاری ہے

سنہ 1947ء سے قبل جب گلگت بلتستان پر ڈوگرہ راج قائم تھا، برطانوی استعمار نے یہاں اپنے جاسوسوں کا ایک مضبوط نیٹ ورک قائم کیا تھا۔
اس وقت کے برطانوی افسران نے خطے کے لوگوں کو تقسیم کرنے اور قبائلی تنازعات پیدا کرنے کی کوششیں کیں۔ بعد ازاں جب یہ خطہ پاکستان کا حصہ بنا، تو بھارت نے اپنی خفیہ ایجنسی را (RAW) کے ذریعے یہاں تخریب کاری کی متعدد کوششیں شروع کر دیں۔

1970ء کی دہائی میں جب پاکستان اور چین نے قراقرم ہائی وے کی تعمیر شروع کی، تو امریکی ایجنسی سی آئی اے نے اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ نے اس وقت گلگت بلتستان میں اپنے جاسوس بھیجے تھے، جو مقامی لوگوں کو منصوبے کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کر رہے تھے۔

گذشتہ چند سالوں میں گلگت بلتستان کے خلاف جاسوسی کھیلوں میں خطرناک اضافہ ہوا ہے۔ بھارتی ایجنسی را کے علاوہ، افغانستان کی سرحدوں سے بھی بعض عناصر خطے میں عدم استحکام
پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

2020ء میں پاک فوج نے گلگت بلتستان میں ایک بھارتی جاسوس نیٹ ورک کو بے نقاب کیا، جس کے ارکان مقامی لوگوں کو بھارت کے لیے کام کرنے پر آمادہ کر رہے تھے۔

حالیہ دنوں میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے منصوبوں نے گلگت بلتستان کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ مغربی ممالک، خاص طور پر امریکہ، اس منصوبے کو کمزور کرنے کے لیے یہاں پر پراکسی جنگ لڑ رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، بعض غیر ملکی این جی اوز کے پردے میں کام کرنے والے جاسوس یہاں کے نوجوانوں کو غلط معلومات دے کر انہیں ریاست کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان جاسوسی کھیلوں کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ:
1. پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کو خراب کیا جائے۔
2 سی پیک منصوبے کو نقصان پہنچایا جائے۔
3. گلگت بلتستان میں نسلی و مذہبی تنازعات کھڑے کیے جائیں۔
کومنٹس میں پڑھیے👇

10/03/2026

ایران نے ابھی تک خلیجی ممالک پر مجموعی طور تقریباً 1200 میزائل اور تین ہزار ڈرون داغے ہیں جبکہ دوسری طرف اسرائیل اور امریکی بیڑوں پر 128 میزائل اور 500 ڈرون داغے ہیں جو رپورٹ ہویے یعنی مسلمان ممالک 4200 میزائل و ڈرون جبکہ جنھوں نے حملہ کیا ان پر 650 میزائل و ڈرون۔

🚨 اسکردو میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی کی شہادت کے خلاف پرتشدد مظاہرے میں جس سپاہی کو زندہ جلایا گیا تھا اس کے ...
09/03/2026

🚨 اسکردو میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی کی شہادت کے خلاف پرتشدد مظاہرے میں جس سپاہی کو زندہ جلایا گیا تھا اس کے بچے افسردہ والد کا راہ تکتے کھڑے ہیں ۔

08/03/2026

اب صورتحال کافی حد تک واضح ہو گئی ہے کہ ایرانی صدر پزشکیان کے خلیجی ہمسایہ ممالک کیلیے خیر سگالی پر مبنی ویڈیو پیغام کے پیچھے اصل کہانی کیا تھی، اور کس طرح ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایسے موقع کو ضائع کر دیا جس سے جنگ کی شدت کم (de-escalate) ہو سکتی تھی۔
اصل میں ہوا یہ کہ خطے کے کئی خلیجی ممالک جنگ رکوانے یا اسکی شدت کو کم کرنے کے لیے پس پردہ کوششیں کر رہے تھے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں ایران بھی آہستہ آہستہ اپنی جوابی کارروائی میں نرمی لانے پر آمادہ ہو گیا تھا۔
اسی سلسلے میں پہلے قدم کے طور پر ایران کے صدر، جو اس وقت عبوری قیادت کی کونسل کے سربراہ بھی ہیں، نے اعلان کیا کہ اگر پڑوسی ممالک اپنی سرزمین ایران پر حملے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے تو ایران بھی ان ممالک پر حملے بند کر دے گا۔
اسی لیے پزشکیان نے وہ ویڈیو پیغام جاری کیا تھا۔
اب توقع یہ تھی کہ خطے کے دوسرے ممالک بھی اس مثبت اشارے کا جواب دیں گے۔ ظاہر ہے اس میں کچھ گھنٹے لگ سکتے تھے کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ واقعی ایران کے حملے کم ہو رہے ہیں یا نہیں۔
لیکن اس سے پہلے کہ حالات مزید بہتر ہوتے اور کشیدگی کم کرنے کا عمل آگے بڑھتا، ٹرمپ نے اپنی نیچر کے عین مطابق سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کر دی۔
اس پوسٹ میں انہوں نے نہ صرف اپنی فتح کا اعلان کیا بلکہ ایران کی توہین بھی کی اور مزید دھمکیاں دیں کہ ایران کو مکمل تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
صورت حال اس وقت اور خراب ہو گئی جب امریکہ نے اسکے چند ہی گھنٹوں بعدایران کے قشم جزیرے کے پانی صاف کرنے والے پلانٹ (Desalination plant)پر حملہ کر دیا۔
جنگی قوانین کے مطابق عام شہریوں کے ایسے بنیادی نظاموں پر حملہ کرنا جنگی جرم سمجھا جاتا ہے۔
ٹرمپ کے اس رویے نے اس پورے عمل کو شدید نقصان پہنچایا جو خطے میں جنگ کی شدت کم کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ اسی وجہ سے خلیجی ممالک کے کئی بااثر حلقوں نے بھی اس جنگ کا ذمہ دار ٹرمپ کو قرار دیا۔
اگر یہ سب نہ ہوتا تو بہت زیادہ امکان تھا کہ کم از کم اس جنگ کو خطے میں مزید پھیلنے سے روک لیا جاتا۔
لیکن اب گزشتہ رات اسرائیل نے ایران کے تہران میں واقع تیل کے ڈپو پر حملے کر دیے ہیں۔ اس کے بعد یہ کہنا مشکل ہے کہ ایران کس طرح جواب دے گا۔بلکہ تازہ ترین غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ایران نے بھی جوابی حملہ کرکے اسرائیل میں حائفہ کے آئل ڈپو کو تباہ کر دیا ہے۔
ایسا لگتا ہے

‏عاصم منیرٹرمپ اور ڈالروں کے لیے افغانستان میں رجیم چینج کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس نے بلگرام ائیربیس کا جو وعدہ کیا ہے و...
08/03/2026

‏عاصم منیرٹرمپ اور ڈالروں کے لیے افغانستان میں رجیم چینج کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس نے بلگرام ائیربیس کا جو وعدہ کیا ہے وہ پورا نہیں کر سکتا۔ اسی لیے افغانستان میں پاکستان کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں ۔آئی ایس آئی نے بڑا خرچہ کر کے اشرافی ٹائپ کے مولوی اکٹھے کر کے افغانستان کے خلاف ریلیاں نکلوائی ہیں۔جس میں پچاس سے اوپر انکا بندہ نہیں جمع ہوا۔اور یہ نفرت کے جو بیج بو رہے ہیں افغانستان کے اندر، آج پاکستان کی جارحیت کے خلاف عوام سڑکوں پر ویسے نعرے لگا رہی ہے جیسے وہ امریکہ کےلیےلگاتے تھے “پاکستان کی ظالم رجیم مردہ باد” جسطرح ایران کے بچے مرگ با امریکہ کے کارڈ لیکر پھرتے ہیں،اسی طرح افغانستان میں بچے مرگ با پاکستان کے کارڈ لیکر گھوم رہے ہیں۔کئی جگہ پر عاصم یزید اور شریف خاندان کی تصویریں جلائی گئیں اور پاکستان کی فوجی رجیم کو نشانہ بنارہے ہیں ۔ وہاں کی عوام نے اپنی حکومت اور اپنی فوج کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے ۔ پاکستان میں کتنے لوگ اپنی حکومت اور افواج کو یہ خراج تحسین پیش کر رہے ہیں ؟پاکستان میں اس وقت اپنی ہی فوج کے خلاف نفرت کا لاوا ابل رہا ہے ۔ آپ نہ صرف اپنے ملک بلکہ پڑوسی ملک کی نسلوں کے اندر بھی نفرت کے بیج بو رہے ہیں ۔

کپٹن (ر) عادل راجہ

پاکستان کا کتنا تیل آبنائے ہرمز کے راستے آتا ہے؟ – ایک تجزیاتی پوسٹپاکستان کی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ بیرونِ ملک س...
08/03/2026

پاکستان کا کتنا تیل آبنائے ہرمز کے راستے آتا ہے؟ – ایک تجزیاتی پوسٹ

پاکستان کی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ بیرونِ ملک سے آنے والے تیل پر منحصر ہے۔ خاص طور پر خلیجی ممالک سے آنے والا خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات زیادہ تر آبنائے ہرمز کے راستے پاکستان پہنچتی ہیں۔

پاکستان کی تیل پر انحصار کی صورتحال
• پاکستان اپنی ضرورت کا تقریباً 80 تا 85 فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے۔
• اس درآمد شدہ تیل کا زیادہ تر حصہ خلیجی ممالک سے آتا ہے۔
• چونکہ یہ ممالک خلیج فارس میں واقع ہیں، اس لیے ان کا تیل عالمی سمندری راستے یعنی آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔

پاکستان کو تیل فراہم کرنے والے بڑے ممالک

پاکستان کو تیل اور پیٹرولیم مصنوعات زیادہ تر درج ذیل ممالک سے ملتی ہیں:
• سعودی عرب
• متحدہ عرب امارات
• کویت
• قطر

ان ممالک سے آنے والے زیادہ تر تیل بردار جہاز پہلے آبنائے ہرمز سے گزرتے ہیں، پھر بحیرہ عرب کے ذریعے پاکستان کی بندرگاہوں تک پہنچتے ہیں

پاکستان کے پاس عام طور پر چند ہفتوں کا اسٹریٹجک ذخیرہ ہوتا ہے، اس لیے طویل بندش معیشت پر بڑا دباؤ ڈال سکتی ہے
پاکستان کی اپنی یومیہ پیداوار تقریبن ستر سے اسی ھزار بیرل ھے

Address

Gilgit

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pak News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Pak News:

Share