Suno Gilgit-Baltistan

Suno Gilgit-Baltistan SUNO Gilgit Baltiatan- The Largest FM Radio Network & Digital Media Platform of Gilgit-Baltistan, Pakistan Pakistan's Largest FM Radio
(1)

Voice of people, promoting talent & projecting Pakistani and local music only.

امریکی وفاقی ادارے نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن نے ٹیسلا کی نئی بغیر ڈرائیور چلنے والی روبوٹیکسی ’سائبر کیب‘ کی...
05/09/2026

امریکی وفاقی ادارے نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن نے ٹیسلا کی نئی بغیر ڈرائیور چلنے والی روبوٹیکسی ’سائبر کیب‘ کی حفاظتی سرٹیفکیشن کے طریقہ کار کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ادارہ یہ جانچ رہا ہے کہ آیا ٹیسلا نے ان گاڑیوں کو وفاقی موٹر وہیکل سیفٹی قوانین کے مطابق قرار دیتے وقت درست طریقہ کار اور تکنیکی معلومات استعمال کی تھیں یا نہیں۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق یہ تحقیقات ایسے وقت میں شروع ہوئی ہیں جب ٹیسلا نے جمعرات کو ٹیکساس کے شہر آسٹن میں دو نشستوں والی سائبر کیب کی محدود تجارتی سروس شروع کی ہے۔ کمپنی نے بتایا ہے کہ ابتدائی طور پر گاڑیوں کی تعداد کم رکھی جائے گی اور بعد میں اس سروس کو مزید گاڑیوں اور دوسرے مقامات تک پھیلایا جائے گا۔

سائبر کیب عام گاڑیوں سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس میں ڈرائیور کے لیے روایتی کنٹرول موجود نہیں ہیں۔ نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی کے مطابق اس گاڑی میں اسٹیئرنگ وہیل، بریک پیڈل، ایکسیلیریٹر پیڈل اور روایتی سائیڈ مررز شامل نہیں ہیں۔ یہی خصوصیات اب وفاقی حفاظتی ضوابط کے تحت تحقیقات کا اہم حصہ ہیں۔

(ٹیسلا کی بغیر ڈرائیور چلنے والی روبوٹیکسی ’سائبر کیب‘)
امریکا میں گاڑی تیار کرنے والی کمپنیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کو وفاقی موٹر وہیکل سیفٹی اسٹینڈرڈز کے مطابق ہونے کی خود تصدیق کریں۔ تاہم اگر کسی تصدیق شدہ گاڑی کے بارے میں یہ خدشہ پیدا ہو کہ وہ ان تقاضوں پر پوری نہیں اترتی تو نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی تحقیقات کر سکتا ہے۔

ادارے کے مطابق موجودہ تحقیقات میں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ ٹیسلا نے سائبر کیب کی سرٹیفکیشن کے لیے کیا بنیاد اختیار کی اور کن حفاظتی معیاروں کو اس گاڑی پر لاگو نہ ہونے کے قابل سمجھا گیا۔

یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ امریکی حکومت خود ڈرائیونگ ٹیکنالوجی کے لیے موجودہ قوانین میں تبدیلی پر غور کر رہی ہے۔ جون میں نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی نے خودکار گاڑیوں میں لازمی بریک پیڈل سے متعلق موجودہ حکومتی تقاضے کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ اس کے علاوہ ایسے دیگر ضوابط میں تبدیلیوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے جن کے نتیجے میں مکمل خودکار گاڑیوں کو انسانی ڈرائیور کے لیے درکار بعض روایتی آلات کے بغیر سڑکوں پر چلانا آسان ہو سکتا ہے۔

تاہم نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی نے واضح کیا ہے کہ جب تک یہ قانونی تبدیلیاں مکمل نہیں ہوتیں، موجودہ حفاظتی معیار بدستور نافذ رہیں گے۔ نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی کے ایڈمنسٹریٹر جوناتھن موریسن نے کہا کہ ادارہ خودکار گاڑیوں کی محفوظ تیاری اور استعمال کی حمایت کرتا ہے، لیکن وفاقی ریگولیٹر کی حیثیت سے اس کی ذمہ داری ہے کہ تمام متعلقہ قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

ٹیکساس کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق جمعے کی صبح تک ریاست میں ٹیسلا کی 420 خودکار گاڑیاں رجسٹرڈ تھیں، جن میں 45 سائبر کیب شامل تھیں۔

موجودہ امریکی قانون کے تحت مکمل خودکار گاڑیوں کو نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی سے الگ منظوری کی ضرورت نہیں ہوتی، بشرطیکہ ان میں قانون کے مطابق مطلوبہ انسانی کنٹرولز، جیسے اسٹیئرنگ وہیل، بریک پیڈل یا مررز، موجود ہوں۔ تاہم ایسی گاڑیوں کے لیے جن میں یہ روایتی کنٹرول موجود نہیں، نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی کو محدود تعداد میں خصوصی اجازت دینے کا اختیار حاصل ہے۔

قانون کے تحت نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایک گاڑی ساز کمپنی کی زیادہ سے زیادہ ڈھائی ہزار ایسی گاڑیوں کو سالانہ سڑکوں پر چلانے کی اجازت دے سکتا ہے جن میں مطلوبہ انسانی کنٹرول موجود نہ ہوں۔ جولائی میں ادارے نے ایمیزون کے ذیلی ادارے زوکس کو اس نوعیت کی اسٹیئرنگ وہیل سے محروم روبوٹیکسی کی محدود تجارتی سروس کی اجازت دی تھی۔ یہ خودکار ٹرانسپورٹ کے شعبے میں اس طرح کی پہلی منظوری تھی۔

نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی کے مطابق ٹیسلا نے سائبر کیب کے لیے ایسی خصوصی استثنیٰ کی درخواست جمع نہیں کرائی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ تحقیقات میں یہ سوال بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ ٹیسلا نے کس قانونی اور تکنیکی بنیاد پر سائبر کیب کو موجودہ حفاظتی معیاروں کے مطابق قرار دیا۔

ٹیسلا نے تحقیقات کے حوالے سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ تحقیقات کا آغاز فی الحال اس بات کا حتمی فیصلہ نہیں ہے کہ ٹیسلا نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے، بلکہ امریکی حکام اب یہ طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سائبر کیب کی سرٹیفکیشن موجودہ وفاقی قوانین اور حفاظتی معیاروں کے مطابق تھی یا نہیں۔

05/09/2026

6 ستمبر — شہداءِ وطن کو سلام 🇵🇰

یومِ دفاع ہمیں اُن عظیم شہداء کی لازوال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے مادرِ وطن کے دفاع کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ 1965ء میں افواجِ پاکستان کی بے مثال بہادری اور پوری قوم کے اتحاد و عزم نے دفاعِ وطن کی تاریخ میں ایک روشن باب رقم کیا۔

آج بھی قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو قدر و احترام سے یاد کرتے ہوئے پاکستان کی سلامتی، استحکام اور دفاع کے عزم کی تجدید کرتی ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں ماہرین نے گلیشیئرز کو تیزی سے پگھلنے سے روکنے کے لیے ایک منفرد تجربہ شروع کیا ہے، جس میں پلاسٹک کی مصنوعی...
05/09/2026

سوئٹزرلینڈ میں ماہرین نے گلیشیئرز کو تیزی سے پگھلنے سے روکنے کے لیے ایک منفرد تجربہ شروع کیا ہے، جس میں پلاسٹک کی مصنوعی چادروں کے بجائے بھیڑ کی اون سے تیار کردہ کمبل استعمال کیے جا رہے ہیں۔

ماحولیاتی گروپ سمِٹ فاؤنڈیشن اور یونیورسٹی آف لوزان کے زیرِ قیادت ’کِیپ اِٹ کوُل‘ منصوبے کے تحت مغربی سوئٹزرلینڈ کے سان فلورون گلیشیئر پر جون میں اون سے بنے دو خصوصی کمبل بچھائے گئے۔ تقریباً 200 مربع میٹر رقبے پر پھیلائے گئے ان کمبلوں کی کارکردگی کا روایتی مصنوعی جیو ٹیکسٹائل کورز کے ساتھ موازنہ کیا جا رہا ہے۔

ابتدائی نتائج نے محققین کو حیران کر دیا ہے۔ منصوبے کے منتظم تیموتھی اسٹینر کے مطابق ہر دو ہفتے بعد کی جانے والی پیمائش سے معلوم ہوا کہ اون کے کمبل گلیشیئر کے پگھلاؤ کو مصنوعی چادروں کی طرح مؤثر انداز میں محدود کر رہے ہیں۔

اس تجربے کا ایک مقصد سوئٹزرلینڈ میں ضائع ہونے والی بھیڑ کی اون کو مفید بنانا بھی ہے۔ اندازے کے مطابق ملک میں ہر سال پیدا ہونے والی بھیڑ کی اون کا 40 سے 70 فی صد حصہ ضائع کر دیا جاتا ہے۔

تجربے میں شریک طلبا اور اون کے کمبل تیار کرنے والی سوئس کمپنی فِسولان کے ماہرین بھی نتائج سے خوش ہیں۔

کمپنی کے نمائندے نِکلاس سیگرسر نے کہا کہ انہیں ابتدا میں خدشہ تھا کہ اون اتنی مضبوط اور مستحکم نہیں ہوگی، تاہم اس کی پائیداری توقعات سے بہتر ثابت ہوئی۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ کامیاب ضرور ہے لیکن اون کے کمبل موسمیاتی تبدیلی کا مستقل حل نہیں۔

سوئٹزرلینڈ میں صرف تقریباً 0.02 فی صد گلیشیئر رقبہ حفاظتی چادروں سے ڈھکا جاتا ہے جبکہ ماہرین کے مطابق گلیشیئرز کے طویل مدتی تحفظ کا واحد مؤثر راستہ گرین ہاؤس گیسوں، خصوصاً فوسل فیولز سے پیدا ہونے والے اخراج میں نمایاں کمی ہے۔

05/09/2026

کوئٹہ: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کوئٹہ گیریژن کا دورہ، سکیورٹی صورتحال اور آپریشنل تیاریوں پر بریفنگ لی، بلوچستان میں امن و ترقی کے عزم کا اظہار۔

ڈنمارک میں ایک گھر کے باغیچے کی کھدائی کے دوران وائکنگ دور کا اب تک کا سب سے بڑا چاندی کا خزانہ دریافت کر لیا گیا، جس می...
05/09/2026

ڈنمارک میں ایک گھر کے باغیچے کی کھدائی کے دوران وائکنگ دور کا اب تک کا سب سے بڑا چاندی کا خزانہ دریافت کر لیا گیا، جس میں تقریباً 700 قیمتی اشیاء شامل ہیں۔

یہ غیر معمولی خزانہ رِینِلڈ کے علاقے میں ایک مکان کے مالک کو اس وقت ملا جب وہ گھر کے باہر نیا ٹائل والا ٹیرس بنانے کے لیے گھاس، پتھر اور بجری ہٹا رہا تھا۔ حیران کن طور پر دریافت صرف آدھے گھنٹے کی کھدائی کے بعد سامنے آگئی۔

ماہرین کے مطابق تقریباً 320 اشیاء اب بھی مٹی کے اپنے اصل برتن میں موجود تھیں، جن کا مجموعی وزن 6.4 کلو گرام ہے۔ باقی نوادرات اسی مقام کے اردگرد مٹی میں بکھرے ہوئے ملے۔

خزانے میں چاندی کے کنگن، چاندی کی سلاخیں، سکے اور مختلف نوادرات شامل ہیں۔ ان میں ایک انتہائی چھوٹا ہتھوڑا بھی ملا ہے جسے نورس دیوتا تھور سے منسوب کیا جا رہا ہے۔

دریافت ہونے والے خزانے میں 47 مکمل سکے اور سکے کے ٹکڑے بھی شامل ہیں جبکہ چاندی کے کاٹے گئے ٹکڑوں سمیت متعدد دیگر اشیاء بھی برآمد ہوئی ہیں۔

ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ خزانہ 10 ویں صدی میں وائکنگ عہد کے دوران زمین میں دفن کیا گیا تھا۔

05/09/2026

اکستان کی حفاظت کے لیے جانیں قربان کرنے والے شہداء کو یوم دفاع پر قوم کا سلام

تیار ہو کر گھر سے نکلنا ہو اور عین اسی وقت بجلی چلی جائے تو سب سے بڑی پریشانی استری کے منتظر سلوٹوں بھرے کپڑے بن جاتے ہی...
05/09/2026

تیار ہو کر گھر سے نکلنا ہو اور عین اسی وقت بجلی چلی جائے تو سب سے بڑی پریشانی استری کے منتظر سلوٹوں بھرے کپڑے بن جاتے ہیں۔ ایسے میں کچن میں موجود سفید سرکہ ایک آسان متبادل ثابت ہو سکتا ہے۔

سفید سرکہ صرف کھانوں اور صفائی کے کام ہی نہیں آتا بلکہ اسے کپڑوں کی سلوٹیں قدرے ہموار کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

اس ٹِپ کو آزمانے کے لیے ایک اسپرے بوتل میں سفید سرکہ اور پانی برابر مقدار میں ملا لیں۔ اب سلوٹوں والے کپڑے کو ہینگر پر لٹکائیں اور تیار کردہ محلول کا ہلکا سا اسپرے کریں۔

اسپرے کے بعد کپڑے کو چند منٹ تک لٹکا رہنے دیں اور ہاتھوں سے کپڑے کو آہستگی سے سیدھا کریں۔ نمی خشک ہونے کے ساتھ معمولی سلوٹیں کم نمایاں ہو سکتی ہیں اور کپڑا نسبتاً ہموار دکھائی دے سکتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ طریقہ استری کا مکمل متبادل نہیں اور گہری یا سخت سلوٹوں پر اس کا اثر محدود ہو سکتا ہے۔ نازک یا خاص کپڑے پر استعمال کرنے سے پہلے محلول کو کسی چھپے ہوئے حصے پر آزمانا بھی بہتر ہے۔

یوں اچانک بجلی جانے یا استری دستیاب نہ ہونے کی صورت میں کچن میں موجود سفید سرکہ آپ کے لیے ایک فوری لائف اسٹائل ہیک ثابت ہو سکتا ہے۔

05/09/2026

6 ستمبر یوم دفاع کے حوالے سے وزیر اعلی گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ کا خصوصی پیغام

05/09/2026

یوم دفاع افواجِ پاکستان کی بے مثال بہادری اور پوری قوم کے اتحاد و حوصلے کی علامت ہے

بالی ووڈ کے منجھے ہوئے اداکار نانا پاٹیکر ایک بار پھر ایسی کہانی لے کر پردے پر آنے والے ہیں جس کے پیچھے چھپا حقیقی واقعہ...
05/09/2026

بالی ووڈ کے منجھے ہوئے اداکار نانا پاٹیکر ایک بار پھر ایسی کہانی لے کر پردے پر آنے والے ہیں جس کے پیچھے چھپا حقیقی واقعہ آج بھی لوگوں کو حیران کرتا ہے۔

سچے مگر ہولناک واقعے پر بنائی اس فلم کی کہانی جون 1966 سے شروع ہوتی ہے جب کیرالہ کے رانی علاقے میں 43 سالہ بیوہ اور پانچ بچوں کی ماں ماری یاکٹی کی لاش مداتارووی ندی کے قریب سے ملی۔

واقعے نے اس وقت پورے ملک میں تہلکہ مچا دیا جب عینی شاہدین نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے مقتولہ کو قتل سے کچھ دیر قبل ایک رومن کیتھولک پادری کے ساتھ دیکھا تھا۔

اس کے تقریباً ایک ہفتے بعد 37 سالہ فادر بینیڈکٹ اونامکلم کو قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔

پادری پر قتل کا الزام، پھر کیا ہوا؟

فلم میں پادری پر الزام تھا کہ اس نے ماری یاکٹی کو ملازمت دلانے کا جھانسہ دے کر اپنے ساتھ لے جاکر قتل کیا۔ مقدمہ چلا، پادری کو مجرم قرار دیا گیا اور عدالت نے سزائے موت سنادی۔

یہ فیصلہ اس لیے بھی غیر معمولی تھا کہ فلم کے پس منظر کے مطابق بھارت میں قتل کے جرم میں کسی کیتھولک پادری کو پہلی مرتبہ سزائے موت سنائی گئی تھی۔

لیکن اصل کہانی کا سب سے حیران کن حصہ یہیں سے شروع ہوتا ہے اور یہی وہ پہلو ہے جسے ’دی کنفیشن آف میری‘ پردۂ سیمیں پر کھولنے جارہی ہے۔

نانا پاٹیکر سمیت بڑے نام ایک ساتھ

فلم میں نانا پاٹیکر کے ساتھ آشیش ودیارتھی اور عادل حسین جیسے تجربہ کار اداکار بھی اہم کرداروں میں نظر آئیں گے۔

فلم کی کاسٹ میں گوتم روڈ، جوئے سینگپتا، نیہا مہاجن، پنکھڑی اوستھی اور میناکشی مارٹن بھی شامل ہیں۔

اسکرین پلے معروف مصنف سی پی سریندرن نے تحریر کیا ہے جبکہ فلم کا میوزک امر موہیلے نے ترتیب دیا ہے۔

ٹورنٹو میں نمائش کے بعد فلم کب ریلیز ہوگی؟

’دی کنفیشن آف میری‘ کی ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں نمائش کے بعد اس کی سینما ریلیز سے متعلق مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔

فلم کی کہانی بظاہر صرف ایک قتل کی تفتیش تک محدود نہیں بلکہ مذہب، ادارہ جاتی دباؤ، انصاف اور سچ کی تلاش جیسے حساس موضوعات کو بھی چھوتی ہے۔

نانا پاٹیکر، آشیش ودیارتھی اور عادل حسین کی نئی کرائم ڈراما فلم ’دی کنفیشن آف میری‘ کا پریمیئر معروف ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں ہوگا۔

Address

Shahrah-e-Quaid-e-Azam
Gilgit
15100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Suno Gilgit-Baltistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Suno Gilgit-Baltistan:

Shortcuts

Share