03/09/2026
جمیل احمد امنگ — ݜݩا ادب کا ایک ابھرتا ہوا روشن ستارہ
شاعری دراصل انسان کے اندر چھپے ہوئے احساسات، جذبات، خیالات اور مشاہدات کو خوبصورت الفاظ کا لباس پہنانے کا نام ہے۔ شاعر وہ شخص ہوتا ہے جو عام انسانوں کی طرح زندگی کو صرف دیکھتا نہیں بلکہ اسے محسوس کرتا ہے، سمجھتا ہے اور اپنے الفاظ کے ذریعے دوسروں کے دلوں تک پہنچاتا ہے۔ شاعری ایک ایسی قدرتی صلاحیت ہے جو ہر کسی کے حصے میں نہیں آتی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک خوبصورت نعمت ہے، جس کے لیے ضروری نہیں کہ انسان بہت زیادہ پڑھا لکھا ہو؛ اصل چیز احساس، مشاہدہ، تخیل اور الفاظ کو خوبصورت انداز میں برتنے کا ہنر ہے۔
اسی خوبصورت فن کے حوالے سے اگر گلگت بلتستان کے نوجوان اہلِ قلم کا ذکر کیا جائے تو جمیل احمد امنگ صاحب ایک نمایاں اور قابلِ ذکر نام کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ امنگ صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ وہ ایک باصلاحیت، حساس اور تخلیقی مزاج رکھنے والے نوجوان شاعر ہیں، جو اردو کے ساتھ ساتھ ݜݩا زبان میں بھی شاعری کرتے ہیں۔
ان کی شاعری میں اپنے معاشرے، اپنی دھرتی، اپنی زبان، اپنے لوگوں اور زندگی کے مختلف رنگوں کی جھلک نظر آتی ہے۔ ان کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنے احساسات کو مشکل اور ثقیل الفاظ میں الجھانے کے بجائے سادہ مگر مؤثر انداز میں بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی سادگی ان کی شاعری کو عام قاری کے دل کے قریب لے جاتی ہے۔
ایک اچھے شاعر کی پہچان صرف خوبصورت الفاظ نہیں ہوتے بلکہ اس کے پیچھے موجود احساس اور فکر بھی اہم ہوتے ہیں۔ جمیل احمد امنگ صاحب کی تخلیقات میں یہی احساس نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ ان کے ہاں اپنی زبان و ثقافت سے محبت، معاشرتی شعور اور انسانی جذبات کی ترجمانی نظر آتی ہے۔
امنگ صاحب کی شخصیت کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ وہ صرف شاعر ہی نہیں بلکہ نثر نگاری میں بھی اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر رہے ہیں۔ ݜݩا زبان میں ان کی نثر قابلِ توجہ ہے اور اس بات کی خوش آئند علامت ہے کہ وہ اپنی مادری زبان کے ادب کو صرف شاعری تک محدود نہیں رکھنا چاہتے بلکہ نثر کے میدان میں بھی اسے آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں۔
اسی ادبی سفر کی ایک اہم کڑی ان کی کتاب "اتھلئ دݜ" ہے، جو ݜݩا ادب میں ایک مثبت اور قابلِ قدر قدم قرار دی جا سکتی ہے۔ کسی بھی زبان میں ایک نئی کتاب کا اضافہ محض چند صفحات کا اضافہ نہیں ہوتا بلکہ وہ زبان کے ادبی ذخیرے میں ایک نئے خیال، ایک نئی آواز اور ایک نئے تخلیقی سفر کا آغاز ہوتا ہے۔
"اتھلئ دݜ" کی تقریبِ رونمائی 5 ستمبر بروز ہفتہ، مڈرن اِن ہوٹل، جوٹیال میں منعقد ہوگی۔ یہ یقیناً ݜݩا زبان و ادب سے محبت کرنے والوں کے لیے ایک خوشی کا موقع ہے۔ ایسی تقریبات نہ صرف کتاب اور مصنف کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں بلکہ نئی نسل کو بھی اپنی زبان اور ادب سے وابستہ ہونے کی ترغیب دیتی ہیں۔
ہمیں خوشی ہے کہ گلگت بلتستان کی سرزمین سے ایسے نوجوان اہلِ قلم سامنے آ رہے ہیں جو اپنی زبان اور ادب کی خدمت کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ جمیل احمد امنگ صاحب جیسے نوجوان شاعر اور ادیب ہماری زبانوں کا مستقبل ہیں۔ ان کی حوصلہ افزائی دراصل ہماری زبان، ثقافت اور ادب کی حوصلہ افزائی ہے۔
میں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے جمیل احمد امنگ صاحب کو "اتھلئ دݜ" کی اشاعت اور تقریبِ رونمائی پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے قلم کو مزید طاقت، وسعت اور تاثیر عطا فرمائے، ان کے ادبی سفر کو کامیابیوں سے ہمکنار کرے اور ان کی یہ کتاب ݜݩا ادب کے فروغ میں ایک خوبصورت اور یادگار اضافہ ثابت ہو۔
امنگ صاحب! آپ کا قلم چلتا رہے، آپ کے لفظ دلوں کو چھوتے رہیں اور ݜݩا ادب کا یہ سفر آپ کی تخلیقات کے ذریعے مزید روشن ہوتا رہے۔
بہت بہت مبارک باد! 🌹
محمد اشرف سحر