30/04/2026
کوئی بھی سکیمر اس کمپنی کا نام لے کر بات نہیں کرتا، لیکن میں آپ کو اس کے کچھ اہم ہتھکنڈے بتا دیتا ہوں تاکہ ہمارے بھائی اس دھوکے سے بچ سکیں:
اگر آپ کو کوئی دور کا دوست یا رشتہ دار کہے کہ آپ کے لیے ایک نوکری ہے، آپ آ جائیں۔ جب آپ اس سے پوچھیں گے کہ کام کیا ہوگا تو وہ کہے گا: “آپ آ کر دیکھیں، ایسے نہیں بتایا جا سکتا۔”
جب آپ وہاں پہنچیں گے تو ان کی رہائش گاہ پر کافی رش ہوگا، اور ہر شخص اپنے پھنسائے ہوئے شکار کا دماغ بدلنے (برین واش) میں لگا ہوگا۔ وہ آپ کو قائل کرنے کے لیے اتنا بولیں گے کہ آپ حیران رہ جائیں گے۔
پھر وہ آپ کو اپنے دفتر لے جائیں گے۔ وہاں بہت بڑا سیٹ اپ ہوگا۔ پہلی بار آپ سے تقریباً 2000 روپے لیے جائیں گے، یہ کہہ کر کہ یہ ایک ہفتے کی کلاسز یا لیکچرز کی فیس ہے۔ پہلے تو آپ ہچکچائیں گے، لیکن سوچیں گے کہ آ ہی گئے ہیں تو دیکھ لیتے ہیں۔ آپ پیسے دے دیں گے، آپ کا داخلہ ہو جائے گا، اور آپ کو کمپنی کا کارڈ بھی مل جائے گا۔
اس کے بعد ان کے تربیت یافتہ لوگ آپ کو لیکچر دیں گے کہ پیسہ کیسے کمانا ہے۔ بس ہر بات پیسے کے گرد گھومے گی۔ وہ آپ کی پچھلی زندگی میں خامیاں نکال کر اس طرح آپ کا دماغ بدلیں گے کہ آپ خود اپنی گزری ہوئی زندگی کو برا کہنے لگیں گے اور محسوس کریں گے کہ اصل زندگی تو یہی ہے۔
رات کو جب آپ گھر فون کریں گے تو کہیں گے کہ بہت اچھی جگہ آ گیا ہوں، بس دو تین دن مزید دیکھنے دیں، اب ہم امیر ہونے والے ہیں۔
لائٹس بند کر کے جذباتی انداز میں لیکچرز دیے جائیں گے۔ اس دوران ان کے اپنے لوگ ڈرامہ کریں گے، جیسے کہ بے ہوش ہونا یا رونا۔ یہ سب اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ آپ جذباتی ہو جائیں، کیونکہ وہ عام معاشرتی مسائل بیان کرتے ہیں جن سے ہر شخص گزرتا ہے۔
چوتھے یا پانچویں دن وہ کہیں گے کہ ہمارے پاس غیر ملکی مصنوعات ہیں، یہاں تک کہ کینسر کے علاج تک کے دعوے کریں گے۔ پھر آپ سے کہا جائے گا کہ کم از کم 40 سے 50 ہزار روپے کی سرمایہ کاری کریں۔ کچھ لوگ اسی مرحلے پر پیچھے ہٹ جاتے ہیں، لیکن جو یہ قدم اٹھا لیتا ہے وہ بھی اس دھوکے کا حصہ بن جاتا ہے، کیونکہ وہ اپنی رقم واپس نہیں لے پاتا۔
پھر اسے کہا جاتا ہے کہ مزید 40-50 لوگوں کو لاؤ تاکہ تم 3 یا 4 اسٹار بن جاؤ۔ اس کے بعد وہ اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو بھی پھسانے کی کوشش کرتا ہے۔
مختصر یہ کہ جیسے وہ خود پھنسا، ویسے ہی دوسروں کو پھنساتا ہے۔ ملک میں بے روزگاری زیادہ ہونے کی وجہ سے لوگ آسانی سے اس جال میں آ جاتے ہیں۔ یہ لوگوں کو پھنسانے کا ایک منظم طریقہ ہے۔
نوٹ: اگر کوئی رشتہ دار یا دوست، خاص طور پر دور کا رشتہ، آپ کو اس طرح بلائے تو اس سے پوچھیں کہ کہیں یہ وہی کمپنی تو نہیں۔ وہ کبھی سیدھا جواب نہیں دے گا۔ آپ ان اشاروں سے پہچان سکتے ہیں۔ اگرایسی صورتحال ہو تو صاف انکار کر دیں۔
شئر کر دے پلیز تاکہ کوئی بھی اس دھوکے سے ۔
Imran Khan Iqrar Ul Hassan
Islamabad United