27/07/2026
بلا معاوضہ 400 سے زائد لاشیں اور 50 ڈوبتے افراد کو زندہ ریسکیو کرنیوالے انسان دوست محمد ہلال کی داستاں: دریائے سوات کی تیز موجوں نے گزشتہ کئی دہائیوں میں بے شمار زندگیاں نگلیں، مگر انہی موجوں کے درمیان ایک ایسا شخص بھی موجود ہے جس نے اپنی زندگی دوسروں کو واپس ان کے پیاروں تک پہنچانے کے لیے وقف کر دی۔ محمد ہلال گزشتہ 35 برس سے دریائے سوات میں ڈوبنے والے افراد کی تلاش اور ریسکیو کا کام سرانجام دے رہے ہیں۔
محمد ہلال کے مطابق جب بھی کسی کے ڈوبنے کی اطلاع ملتی ہے تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ متاثرہ شخص کون ہے، بلکہ ان کے دل میں یہی احساس ہوتا ہے کہ یہ ان کا اپنا بھائی، بیٹا یا بہن ہے۔ اسی جذبے کے تحت وہ اس وقت تک تلاش جاری رکھتے ہیں جب تک ڈوبنے والا شخص یا اس کی لاش نہ مل جائے۔
گزشتہ 35 برس کے دوران محمد ہلال تقریباً 400 افراد کی لاشیں دریا سے نکال چکے ہیں، جبکہ تقریباً 50 افراد کو زندہ ریسکیو بھی کر چکے ہیں۔ صرف ایک ماہ کے دوران بھی وہ کئی متاثرین کی تلاش میں مصروف رہے، جن میں بچوں کی لاشیں بھی شامل تھیں۔
پورے ضلع سوات میں کالام سے لے کر بٹ خیلہ تک جب بھی دریائے سوات میں کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو مقامی لوگ سب سے پہلے محمد ہلال سے رابطہ کرتے ہیں۔ وہ یہ خدمت کسی معاوضے کے بغیر انجام دیتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت لکڑی اور ٹریکٹر کی ٹیوبوں سے ایک کشتی بھی تیار کر رکھی ہے۔ اس مشن میں ان کے بھائی، بیٹے اور چند ساتھی بھی ان کا ساتھ دیتے ہیں، جبکہ اپنی حفاظت کے لیے وہ لائف جیکٹس اور سٹریچر بھی ہمیشہ ساتھ رکھتے ہیں۔
یہ کام خطرات سے خالی نہیں۔ محمد ہلال کئی مرتبہ اپنی جان بھی خطرے میں ڈال چکے ہیں۔ ایک موقع پر طوفانی موسم میں ان کی کشتی الٹ گئی اور وہ اپنے بیٹے سمیت دریا میں جا گرے، تاہم ان کے بھائیوں نے بروقت کارروائی کرکے ان کے بیٹے کو بچا لیا۔
محمد ہلال گھر سے نکلتے وقت ہمیشہ ایک چادر یا کپڑا بھی ساتھ رکھتے ہیں تاکہ اگر لاش برآمد ہو تو اسے ڈھانپا جا سکے۔ ان کے مطابق کئی لاشیں کئی دن پانی میں رہنے کے باعث بری طرح متاثر ہو جاتی ہیں، لیکن وہ پھر بھی پوری ذمہ داری کے ساتھ انہیں ان کے اہل خانہ تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ مشکلات ضرور ہیں، اخراجات بھی اپنی جیب سے اٹھانے پڑتے ہیں اور کئی کئی دن گھر سے دور رہنا پڑتا ہے، مگر انہیں یقین ہے کہ اللہ نے انہیں شاید اسی خدمت کے لیے منتخب کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے والد سے ملنے والا یہ مشن آج بھی جاری رکھے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آنے والی نسل بھی اس خدمت کو جاری رکھے۔