ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ کوئی شخص ہر گز یہ نہ کہے کہ میرا (غلام)، کیونکہ تم سب اللہ کے بندے ہو، لیکن یہ کہہ سکتے ہو میرا جوان(میراخادم) اور غلام یہ نہ کہے کہ میرا رب(مالک) بلکہ وہ کہے ، میرا سردار
السلسلۃ الصحیحہ 458
Al Silsilah Al Sahiha 458
17/01/2026
عَنْ مُحَمَّدِ بن سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: زَرَعْتُ، وَلَكِنْ لِّيَقُلْ: حَرَثْتُ قال محمدٌ: قَالَ أبو هريرة : أَلَمْ تَسْمَعُوا إلىٰ قَولِ اللهِ تَباركَ وتَعالىٰ : اَفَرَءَیۡتُمۡ مَّا تَحۡرُثُوۡنَ ﴿ؕ۶۳﴾ ءَاَنۡتُمۡ تَزۡرَعُوۡنَہٗۤ اَمۡ نَحۡنُ الزّٰرِعُوۡنَ ﴿۶۴﴾ .(الواقعة)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میں نےاگایاہے بلکہ یہ کہوکہ میں نےکاشت کیاہے، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم نے اللہ عزوجل کا یہ فرمان نہیں سنا: ﴿(الواقعة۶۳،۶۴﴾ ۔ ترجمہ:”اچھا پھر یہ بھی بتلاؤ کہ تم جو کچھ بوتے ہواسے تم ہی اگاتے ہو یا ہم ہی اگانے والے ہیں؟“na
ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی مسلمان سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرے کیونکہ یہ دونوں جب تک اپنے حرام کام پر رہیں گےحق سے بھٹکے رہیں گے ان میں جو شخص رجوع کرنے میں سبقت کرتا ہے اس کا سبقت کرنا اس کے لئے کفارہ ہے اگر وہ سلام کہے اور دوسرا شخص اس کو جواب نہ دے تو فرشتے اسے جواب دیتے ہیں جبکہ دوسرے شخص کو شیطان جواب دیتا ہےاگر وہ اسی قطع تعلقی پر فوت ہوجائیں تو کبھی بھی جنت میں جمع نہ ہوں گے
السلسلۃ الصحیحہ 453
Al Silsilah Al Sahiha 453
12/01/2026
عَنْ سَهَلِ بن سَعَد قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : « لَا يَجْلِسُ الرَّجُلُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَابْنِهِ فِي الْمَجْلِسِ »
سہل بن سعدرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص مجلس میں کسی آدمی اور اس کے بیٹے کے درمیان نہ بیٹھے۔
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : نماز پڑھنے والے اور مسافر کے علاوہ کسی کے لئے رات کو جاگنا درست نہیں
السلسلۃ الصحیحہ 450
Al Silsilah Al Sahiha 450
09/01/2026
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَال: قِيْل لِلنَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ فُلَانَةَ تَقُوم اللَّيل وَتَصُوم النَّهَار، وَتفعَل، وَتصدق، وتُؤْذِي جِيرَانَهَا بِلِسَانِهَا، فَقَال رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَا خَيْرَ فِيْهَا هِيَ مِنْ أَهْلِ النَّار، قال: وَفُلَانَةَ تصلي المَكْتُوبَة، تُصَدِّقُ بِأَثْوَارِ (مِّنْ الْأَقِطِ) وَلَا تُؤْذِي أَحْدًا ، فَقَال رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : « هِيَ مِنْ أَهلِ الجَنَّة ».
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا اے اللہ کے رسول فلاں عورت رات کو قیام کرتی ہے اور دن کو روزہ رکھتی ہے کام بھی کرتی ہے اور صدقہ بھی کرتی ہے ، لیکن اپنی زبان سے اپنے پڑوسیوں کو تکلیف دیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں کوئی خیر نہیں وہ دوزخی ہے ۔ اس نے کہا: اور فلاں عورت صرف فرض نمازیں پڑھتی ہےاور(پنیر)کےٹکڑے صدقہ کرتی ہے لیکن اپنی زبان سے کسی بھی شخص کو تکلیف نہیں پہنچاتی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جنتی ہے
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک آدمی کی چادر ہوانے اڑادی تو اس نے ہوا کو لعنت دی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہوا کو لعنت نہ دو کیونکہ یہ مامور ہے ، اور جس شخص نے کسی ایسی چیز کو لعنت دی جس کی وہ اہل نہیں تو لعنت اسی کی طرف لوٹ آئے گی
Be the first to know and let us send you an email when Sabeel Allah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.