21/07/2025
بلوچستان میں ہونے والے افسوسناک واقعہ کے کچھ مختلف حقائق رات ہی میرے پاس آنے لگے تھے۔ میں انتظار میں تھا، اب ٹھیک وہی حقائق میڈیا پر کوئٹہ کے نمائندے سے بھی میں نے سن لیے۔ چنانچہ آپ دیکھ لیجیے۔ نام بھی شیتل وغیرہ نہیں اور حالات بھی وہ نہیں۔ جو بتائے گئے، قتل البتہ ہوئے۔ مگر کیوں اور کیسے یہ کہانی ابھی تک کی مستند معلومات کے مطابق کچھ یوں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لڑکی کا نام ماہ بانو اور لڑکے کا نام احسان سمالانی ہے
جنہیں قریب 3 ماہ قبل قتل کیا گیا تھا اب پولیس کو کسی نے ویڈیو دکھائی اور بتایا تو بات سامنے آئی۔ یہ واقعہ جس علاقے میں پیش آیا وہاں پولیس کیا سیکیورٹی فورسز بھی احتیاط سے جاتی ہیں، لڑکی پہلے سے شادی شدہ تھی غالباً بیس سال پہلے اس کی شادی ہوئی اور یہ 5 بچوں کی ماں تھی۔ اس کے 4 بیٹے اور ایک بیٹی ہے
جن کی عمریں بالترتیب بیٹا 17سال ، دوسرا بیٹا 15سال تیسری بیٹی 9سال ،چوتھا بیٹا 5سال اور آخری بیٹا 2سال کا تھا،
کچھ عرصہ قبل لڑکی شادی شدہ لڑکی شوہر اور بچوں کو چھوڑ کر احسان سمالانی نامی لڑکے کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی تھی جنھیں 2 مہینوں بعد لڑکے نے واپس انکے شوہر کے پاس پہنچا دیا تھا۔احسان سمالانی کو کوئٹہ کے اس علاقے سے علاقہ بدر کر دیا گیا تھا جہاں ماہ بانو کا گھر ہے کہ دوبارہ یہاں نظر نہ آنا۔
پھر شوہر بیوی کو لیکر15 سے 20 روز کیلئے کوئٹہ شہر چھوڑ کر کہیں اور چلے گئے تھے تاکہ معاملہ کی بازگشت دب جائے۔ مگر دوبارہ کوئٹہ لوٹنے پر ماہ بانو اور احسان سمالانی نے ایک دوسرے سے پھر سے رابطے شروع کر دئیے اور احسان سمالانی ٹک ٹوک پر ماہ بانو کے شوہر اور عزیز اقارب پر طنزیہ ویڈیوز بھی بنانے لگا تھا جس سے تنگ آ کر ماہ بانو اور احسان سمالانی کے عزیز اقارب نے مجبوراً ماہ بانو اور احسان سمالانی کو پکڑ کر ڈھگاری کے
مقام پر لے جاکر قتل کردیا۔
نوٹ۔۔۔۔۔
کمنٹس میں آپ اپنی رائے ضرور دیں،مگر یہ خیال کرتے ہوئے کہ میرا پہلے یا دوسرے حالات تخلیق کرنے میں کوئی ہاتھ نہیں۔ حقائق یہ ہیں یا اس کے بعد کچھ مزید سامنے آ جاتا ہے، ہم صرف حالات جان سکتے ہیں۔ انھیں اپنی مرضی سے بدل نہیں سکتے۔
یوسف سراج