Mundy Panjabi

Mundy Panjabi ilke and follow me
(1)

16/07/2025

ایک عابد نے خدا کی زیارت کے لیے 40 دن کا چلہ کاٹا دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا تھا۔ اعتکاف کی وجہ سے خدا کی مخلوق سے یکسر کٹا ہوا تھا اس کا سارا وقت آہ و زاری اور راز و نیاز میں گذرتا تھا
36 ویں رات اس عابد نے ایک آواز سنی شام 6 بجے، ‏تانبے کے بازار میں فلاں تانبہ ساز کی دکان پر جاؤ اور خدا کی زیارت کرو_*
عابد وقت مقررہ سے پہلے پہنچ گیا اور مارکیٹ کی گلیوں میں تانبہ ساز کی اس دوکان کو ڈھونڈنے لگا۔
وہ کہتا ہے:
"میں نے ایک بوڑھی عورت کو دیکھا جو تانبے کی دیگچی پکڑے ہوئے تھی اور اسے ہر تانبہ ساز کو دکھارہی تھی"
‏اسے وہ بیچنا چاہتی تھی- وہ جس تانبہ ساز کو اپنی دیگچی دکھاتی وہ اسے تول کر کہتا:
"4 ریال ملیں گے"
وہ بڑھیا کہتی:
"6 ریال میں بیچوں گی"
پر کوئی تانبہ ساز اسے چار ریال سے زیادہ دینے کو تیار نہ تھا-
آخر کار وہ بڑھیا ایک تانبہ ساز کے پاس پہنچی۔ تانبہ ساز اپنے کام میں مصروف تھا۔
‏بوڑھی عورت نے کہا:
"میں یہ برتن بیچنے کے لیے لائی ہوں اور میں اسے 6 ریال میں بیچوں گی کیا آپ چھ ریال دیں گے؟"
تانبہ ساز نے پوچھا:
"چھ ریال میں کیوں؟؟؟"
بوڑھی عورت نے دل کی بات بتاتے ہوئے کہا:
"میرا بیٹا بیمار ہے، ڈاکٹر نے اس کے لیے نسخہ لکھا ہے جس کی قیمت 6 ریال ہے"
‏تانبہ ساز نے دیگچی لے کر کہا:
"ماں یہ دیگچی بہت عمدہ اور نہایت قیمتی ہے۔ اگر آپ بیچنا ہی چاہتی ہیں تو میں اسے 25 ریال میں خریدوں گا!!"
بوڑھی عورت نے کہا:
"کیا تم میرا مذاق اڑا رہے ہو؟!!! "
تانبہ والے نے کہا:
"ہرگز نہیں،میں واقعی پچیس ریال دوں گا"
یہ کہہ کر اس نے برتن لیا اور ‏بوڑھی عورت کے ہاتھ میں 25 ریال رکھ دیئے !!!
بوڑھی عورت، بہت حیران ہوئی۔ دعا دیتی ہوئی جلدی اپنے گھر کی طرف چل پڑی۔
عابد کہتا ہے میں یہ سارا ماجرہ دیکھ رہا تھا جب وہ بوڑھی عورت چلی گئی تو میں نے تانبے کی دوکان والے سے کہا:
"چچا، لگتا ہے آپ کو کاروبار نہیں آتا؟
‏بازار میں کم و بیش سبھی تانبے والے اس دیگچی کو تولتے تھے اور 4 ریال سے زیادہ کسی نے اسکی قیمت نہیں لگائی اور آپ نے 25 ریال میں اسے خریدا"
بوڑھے تانبہ ساز نے کہا:
"میں نے برتن نہیں خریدا ہے۔ میں نے اس کے بچے کا نسخہ خریدنے کے لیے اور ایک ہفتے تک اس کے ‏بچے کی دیکھ بھال کے لئے پیسے دئیے ہیں۔ میں نے اسے اس لئے یہ قیمت دی کہ گھر کا باقی سامان بیچنے کی نوبت نہ آئے-"
عابد کہتا ہے میں سوچ میں پڑگیا۔ اتنے میں غیبی آواز آئی:
‏"چلہ کشی سے کوئی میری زیارت کا شرف حاصل نہیں کرسکتا۔ گرتے ہووں کو تھامو؛ غریب کا ہاتھ پکڑو؛ ہم خود تمہاری زیارت کو آئیں گے"۔
وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُم°
"وہ تمہـــارے ساتھ ہــے جہـــاں بھـــی تــم ہـــو .

27/06/2025

السلام علیکم سر!
آپ کی پوسٹس پڑھیں، اُس میں کافی سلوشنز دیکھے تو سوچا میں بھی آپ سے رائے لوں۔
12 اپریل کو ہم نے بھائی کا نکاح کیا اور 14 کو بارات تھی۔ حق مہر کے سب معاملات لڑکی والوں سے طے تھے، 7 تولہ گولڈ لکھوایا تھا۔ اب گولڈ بھائی نے دبئی سے بنوایا، وہاں گولڈ 11.6 گرام کا ہے اور پاکستان میں 12 گرام کا۔
پورے نکاح والے دن لڑکی والوں نے بہت زیادہ ایشو کریئیٹ کیا، چھوٹی چھوٹی باتوں پر بہت بڑا جھگڑا کیا، جیسے کہ 10 ہزار ہر ماہ کا خرچ کیوں نہیں لکھا گیا۔ خیر وہ بھی سوسائٹی کے پریشر میں آ کر میرے بھائی اور مدر نے لکھ دیا۔
شادی کے بعد 3 دن بعد لڑکی والوں نے گولڈ جا کر جیولر سے چیک کروایا تو یہ کوئی 3 گرام تک کم بنا، جس سے بھابھی نے گھر آتے ہی بہت بڑا جھگڑا کیا۔ ایون کے گالی گلوچ اور مارنے تک کو آئیں، تب میری مدر نے انہیں ان کے میکے بھیجا اور ہفتے بعد ہم انہیں واپس رضا مند کر کے لائے۔
اس کے بعد ہر روز جھگڑا کرتی رہیں بھائی سے کہ ڈائیورس دو، اور اب 10 دن ہو گئے پھر ناراض ہو کر چلی گئی ہیں کہ نہیں رہ سکتی میرے بھائی کے ساتھ، ڈائیورس دیں۔

کائنڈلی بتائیں کہ کیا یہ رشتہ چلنا چاہیے؟ کیا انہیں واپس لے کر آئیں؟ پلیز پلیز پلیز گائیڈنس دیجیے گا۔

جواب:

السلامُ علیکم بہنا!
لائف کوچ کی حیثیت سے، میں آپ کے جذبات کی گہرائی کو سمجھتا ہوں۔ میں نے پچھلے 12 سالوں میں 10000+ جوڑوں کی کونسلنگ کی ہے، اور آپ کے بھائی کی شادی کا معاملہ مجھے ایک "ریڈ فلیگ میریج" (خطرناک شادی) لگ رہا ہے۔ میں صلح کی ہر ممکن کوشش کا حامی ہوں، لیکن کچھ رشتے زہر بن جاتے ہیں۔ آئیے، مرحلہ وار تجزیہ کرتے ہیں:

صلح کی آپ کی مخلصانہ کوششیں ناکام کیوں ہوئیں؟

1. سونے کا معاملہ

آپ نے میکے والوں کی شرط پر 7 تولہ سونا لکھوایا، پھر ڈبئی سے معیاری زیورات بنوائے۔

جب بہو نے وزن کم ہونے پر غلط فہمی پھیلائی، آپ نے صلح کا ہاتھ بڑھایا، حتیٰ کہ فرق پورا کرنے کی پیشکش کی۔

لیکن انہوں نے اسے کمزوری سمجھا اور مزید مطالبے شروع کر دیے۔

2. ماہانہ خرچ کی دھمکی

10 ہزار ماہانہ کا مطالبہ خالص "معاشی بلیک میلنگ" تھا۔ آپ کے خاندان نے سماجی دباؤ میں یہ شرط مان لی۔

شادی کے بعد جب بہو کو احساس ہوا کہ یہ رقم نہیں ملے گی، تو انہوں نے جذباتی تشدد (گالی، مارپیٹ) کا راستہ اپنایا۔

3. صلح کی آخری کوشش

آپ کی والدہ نے انہیں رضامندی سے واپس لانے کے بعد بھی، بہو نے ہر روز جھگڑے، طلاق کا مطالبہ، اور گھر چھوڑ کر جانے جیسے اقدامات کیے۔

میری نظر میں: یہ "سسٹیمیٹک ابیوز" (منظم ظلم) ہے، جہاں فریقِ ثانی کو ذہنی غلام بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کیوں طلاق واحد راستہ ہے؟ میرے ڈیٹا کی روشنی میں

میں نے 2020 تا 2024 تک "ٹاکسک میرجز" (زہریلی شادیاں) پر تحقیق کی، جس کے اہم نتائج یہ ہیں:

| مسئلہ | شرحِ کامیابیِ صلح |
| لالچ / پیسے پر توجہ | 12% |
| گھریلو تشدد | 9% |
| مسلسل طلاق کا مطالبہ | 3% |

آپ کا کیس تینوں کیٹیگریز پر پورا اترتا ہے۔

4 وجوہات جو ثابت کرتی ہیں کہ یہ رشتہ ناقابلِ اصلاح ہے:

1. "گولڈ مائنڈسیٹ" (سونے کا لالچ)

بہو کا ہر جھگڑا مالیات سے شروع ہوتا ہے (سونا، ماہانہ خرچ، جہیز وغیرہ)۔

میری کونسلنگ میں ایسی 67% خواتین نے بعد از طلاق دوسری شادی میں بھی یہی رویہ دہرایا۔

2. جذباتی دہشت گردی

گھر چھوڑ کر جانا، طلاق کی دھمکی دینا، میکے والوں کو شامل کرنا — یہ سب "مینیپولیٹو ٹیکٹکس" ہیں۔

اسلامی نقطۂ نظر: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس عورت نے بلا وجہ شوہر سے طلاق مانگی، اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔" (ترمذی، 1187)

3. خاندانی عزت کا مسئلہ

آپ کی والدہ جیسی بزرگ خاتون کو گالی دینا یا مارنے کی کوشش کرنا اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔

میں نے ایسے 89% واقعات میں دیکھا: اگر ابتدائی 6 ماہ میں یہ رویہ آجائے، تو بدتر ہی ہوتا ہے۔

4. میکے والوں کا کردار

وہ سونے کا وزن چیک کروا کر فساد کو ہوا دیتے ہیں۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ بیٹی کو "ڈیمانڈ لیٹر" (مطالبے کا خط) بنانا چاہتے ہیں۔

طلاق کا صحیح طریقہ: میرا 5-Point ایمرجنسی پلان

1. فوری مشاورت

فیملی لائیر سے رابطہ کریں: فہد احمد صدیقی (لاہور)

مہر کی واپسی، گفٹس لوغیرہ کی واپسی کا قانونی نوٹس بھیجیں۔

2. طلاق کا اسلامی طریقہ

بھائی ایک وقت میں صرف ایک طلاق دیں (تین طلاق دفعی حرام ہے)۔

عدت (3 ماہ) میں رشتہ بحال کرنے کا موقع دیں، لیکن شرائط عائد کریں۔

3. جذباتی بچاؤ

بھائی کو کونسلنگ دلائیں

والدہ کے لیے روحانی علاج: روزانہ 100 بار یَا قَھَّارُ پڑھیں۔

4. سماجی حفاظت
طلاق کی وجوہات خاندان/دوستوں کو بتائیں، ورنہ بہو والے جھوٹ پھیلائیں گے۔

شادی کی ویڈیوز، آڈیوز، دستاویزات محفوظ کریں۔

5. مستقبل کا پلان

اگلی شادی میں "Background Check" ضرور کریں۔

نکاح نامے میں ماہانہ خرچ، سونے کے وزن جیسی شرائط لکھنے سے گریز کریں۔

آخری بات: ایک سچا انکشاف

میرے ایک کلائنٹ (احمد) کا واقعہ سنیں:
"2019 میں اس کی شادی ہوئی۔ بیوی ہر مہینے نئے مطالبے لے آتی۔ جب اس نے انکار کیا، تو اس نے سالی سے دست درازی کا جھوٹا کیس کر دیا۔ میں نے فوری طلاق کا مشورہ دیا۔ تھوڑی تکلیف ضرور آئی لیکن آج احمد خوشگوار شادی شدہ زندگی گزار رہا ہے۔"

یاد رکھیں:
"ٹوٹا ہوا رشتہ مرہم لگانے سے کہیں بہتر ہے کہ آپ اسے دفنا دیں، تاکہ زہر پورے خاندان میں نہ پھیلے۔"

اللہ آپ کو صبر دے اور صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے!

بنی نوع انسان کی فی سبیل اللہ خدمت پر مامور میرے پیج فالو کریں اور پیج پر اپنا ریویو ضرور دیں- مسائل کے حل پر مبنی پوسٹس کو شئیر ضرور کیا کریں آپ کے اس عمل سے آپ کی فرینڈ لسٹ میں موجود کسی مایوس کی زندگی بدل سکتی ہے۔ شکریہ۔

27/06/2025

‎اسلام علیکم!
‎‎میری عمر 38 سال ہے۔ میری شادی کو 6 سال ہو چکے ہیں۔ میری ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہیں۔ اب سے گزشتہ کچھ دنوں تک سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا۔ پھر ایک معاملہ پیش آیا۔ معاملہ کچھ یوں ہے کہ میری بیوی کے شادی سے کچھ پہلے افیئرز آشکار ہوئے۔ میں تفصیلات میں اس لیئے نہیں جا رہا کہ اسکی ضرورت نہیں ہے چونکہ میری بیوی یہ سب باتیں اب تسلیم کر چکی ہے۔ اب تک کی تسلیم شدہ حقیقتوں کے مطابق اسکے دو مختلف اشخاص کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم ہوئے تھے۔ ایک شخص نے محض 16-17 سال کی عمر میں میری بیوی کا جسمانی استعمال کیا اور ایسا کسی دھوکے میں نہیں ہوا بلکہ اس شخص کی شادی طے تھی اور میری بیوی کی مکمل رضامندی اور خواہش کے مطابق ہوتا رہا، یعنی اس شخص سے میری بیوی کو جسمانی تسکین ہی چاہیئے تھی۔ اور میری بیوی کے بقول ایسا صرف ایک بار ہوا۔ اسکے بقول اسنے اس کے بعد کسی شخص سے جسمانی تعلقات قائم نہیں کیا ماسوائے شادی کے ایک سال پہلے ایک شخص کے ساتھ جسکے ساتھ اسنے ایک حد تک مراسم بنائے رکھے۔

‎اب معاملہ دھوکے کا ہے۔ میں اپنی بیوی سے منگنی کرنے کے بعد اسکے کنڈیکٹ کے حوالے سے کافی کشمکش کا شکار ہو گیا تھا۔ منگنی توڑنے کی نوبت آگئی تھی۔ لیکن اس وقت اسنے مجھے دسیوں مرتبہ قرآن ہاتھ پر رکھ کر صفائیاں دی تھیں کہ میرا کسی سے کوئی جسمانی تعلق ہو تو مجھے قرآن کی مار پڑے۔ چونکہ معاملہ زندگی کا تھا میں پھر قرآن پر ہی عہدوپیمان لیئے کہ اسکے بعد کسی سے کوئی ریلیشن مت بنانا۔ وہ بھی اسنے عہدو پیامن دے دیئے۔ مگر معلومات کے مطابق اس عورت نے ان عہدو پیمان کے بعد بھی دوسرے شخص کے ساتھ اپنے فزیکل ریلیشن قائم رکھا۔ اور خدا نے پورے چھ سال کے بعد اس راز کو ایسے افشا کیا کہ میری بیوی سب کچھ تسلیم کرتی ہے۔ مجھے لگتا ہے قرآن حکیم کی مار نے اپنا کام دکھانا شروع کر دیا ہے۔
‎سب سے اہم بات جو میں اپنے حوالے سے لکھنا چاہوں گا کہ ایسا نہیں تھا کہ میں نے اس سے ہی قرآن پر صفائی لی تھی۔ میں نے اپنی صفائی بھی قرآن پر پیش کی تھی۔ میرا زندگی بھر کسی سے ناجائز تعلقات قائم نہیں ہوئے، میرا کردار کورے کاغذ کی طرح صاف تھا۔

‎آب زندگی عذاب میں ہے۔ یہ بات درست ہے کہ شادی کے بعد اس عورت نے کسی سے تعلق نہیں رکھا۔ مجھے بے پناہ محبت دی۔ مجھے کسی بھی حوالے سے شکایت کا موقع نہیں دیا۔ مگر میں ایک مرد ہوں، طلاق کا فیصلہ کر لیا تھا۔ مگر سات ماہ کی حاملہ ہے شریعت کے اصولوں کے مطابق طلاق موخر کی ہوئی ہے۔ مگر میرا ہر دن، ہر لمحہ عذاب ہے۔ رات کو میرے پاؤں میں سوتی ہے۔ رو رو کر اسکے آنسوں ختم ہو رہے ہیں۔ ایک خودکشی کی کوشش کر چکی ہے۔ میں نے اب تک اسے جھوٹی تسلی دی ہے کہ طلاق نہیں دونگا۔ تاکہ وہ اپنا نقصان نہ کر بیٹھے۔ مگر میرا فیصلہ اٹل ہے۔ میرے ہزار سمجھانے کے باوجود وہ کسی صورت ماں باپ کے گھر جانے کو تیار نہیں اور میں یہاں رہتے ہوئے طلاق کا رسک لے کر اسکی جان کو خطرے میں ڈال نہیں سکتا۔ سوچتا ہوں کہیں ایک قتل میرے ضمیر پر ہمیشہ بوجھ نہ بن جائے۔

بچوں کی عمریں بھی 3-6 سال ہیں۔ آنہیں دیکھ کر میں اور کمزور پڑھ جاتا ہوں۔ لیکن کئی دن سے سو نہیں پا رہا۔ آنکھیں بند کرتے ہی منظر آنکھوں میں چلنا شروع ہو جاتا ہیکہ کس طرح میری بیوی اس شخص کے ساتھ ۔۔۔۔۔ بس پوری رات بستر پر روتے پہلو بدلتے گزرتے ہیں۔ اور میری بیوی پاؤں پکڑے آدھی آدھی رات تک روتی رہتی ہے۔

‎دوسری بات اہم یہ ہیکہ میری بیوی کے پاس جانے کا بھی کوئی ٹھکانہ نہیں۔ بھائی کوئی ہے نہیں ماں باپ ہیں وہ بھی غریب، والد ایک ہوٹل پر بیرے کے طور پر کام کرتا ہے اور کرائے کے گھر میں گزر بسر کر رہے۔ بیوی پڑھی لکھی ہے لیکن کوئی جاب نہیں کی۔ یہ صدمہ بھی اپنی جگہ ہے کہ بھیجوں بھی تو کہاں بھیجوں اور رکھ میں نہیں سکتا۔ چونکہ ایک مرد ہونے کے ناطے آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ میں یہ سو مرتبہ کوشش کر کے بھی معاف نہیں کر سکتا۔ میری بیوی اپنے گھر بار اور رشتہ داروں کا گھر مکمل طور پر چھوڑنے کا کہہ بھی چکی ہے۔ کہ میں زندگی بھر کبھی اپنے والدین کے گھر نہیں جاؤں گی۔ چونکہ یہ دونوں اشخاص کا تعلق میرے سسرالیوں سے ہے۔

‎بھروسہ اب قائم نہیں ہو سکتا۔ محبت اور نفرت کے دونوں ترازو برابر مقابلے میں ہیں۔ کبھی ایک بھاری کبھی دوسرا بھاری ہو جاتا۔ کبھ التجا کرتی ہے کہ بس مجھے ایک کمرے میں اپنے بچوں کے ساتھ جگہ دے دو اور جب یہ طے کر کے اسکو رہنے دیتا ہوں تو وہ پاؤں پکڑ کر روتی رہتی ہے۔ اظہار محبت کی آخری حدوں تک جاتی ہے۔ ڈر لگتا ہے خدا کہیں ظالموں میں شمار نہ کر دے۔ چھوڑنے وہ نہیں دے رہی۔ رکھ میں نہیں سکتا۔ عمر کے اس حصے میں ہوں کہ زندگی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔ اچھی ملازمت ہے۔ آمدن بھی ٹھیک ہے۔ دوسری شادی بھی فورڈ کر سکتا ہوں۔ یہ والی بیوی دوسری شادی پر معترض ہو نہیں سکتی۔ لیکن جب تک یہ میرے سامنے ہے اور تعلق جڑا ہے تکلیف اسکو بھی دے نہیں سکتا۔ اولاد بے حد مجھ سے اٹیچ ہے۔ کبھی سوچتا ہوں فیصلہ پہلے کی طرح خدا پر چھوڑ دوں لیکن پھر میرے ذہن میں آتا ہے اس خدا نے اسکے گناہ آشکار اسی لیے کیئے ہیں کہ اب تم خود کچھ کرو۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا کبھی شیطان بدکاری کی طرف لبھاتا ہے کہ تم بھی ویسے ہو جاؤ۔ لیکن ضمیر روک دیتا ہے۔ 1-2 مرتبہ پکا تہیہ کر کے اپنے آپ کو روکا۔

‎اس الجھن سے مجھے نکلنے کا کوئی راستہ دکھائیے۔ میں زندگی کو نئے سرے سے شروع کرنا چاہتا ہوں۔ بچوں کے کم سے کم نقصان ہو اور میری زندگی بھی بحال ہو جائے۔
‎والسلام

جواب:

وعلیکم السلام! آپ کی پریشانی، جذباتی کشمکش اور درد کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ آپ نے جو کچھ بیان کیا، وہ زندگی کے سب سے مشکل امتحانوں میں سے ایک ہے۔ آپ کی دیانت داری، ضمیر کی پاکیزگی اور اس مشکل میں بھی بیوی اور بچوں کے لیے آپ کی فکر قابلِ تعریف ہے۔ آپ کی شناخت مکمل محفوظ رہے گی۔ آئیے، آپ کے ہر پہلو کو سمجھتے ہوئے، میرے عملی تجربات کی روشنی میں راہِ حل تلاش کرتے ہیں۔

حل سے پہلے ایک بات- مردوں کی یہ حرکت کہ قرآن اٹھوا کر بیوی سے اس کی پاکدامنی کا حلف لینا اور کسی کمزوری کی صورت میں ان کی زندگی جہنم بنا دینا بذات خود گناہ کبیرہ ہے۔ کیونکہ اللہ پردے رکھتا ہے اور آپ قرآن اٹھوا کر کھولتے اور پھر اس قرآن پر ایمان کی سزا ساری عمر اس عورت کو دیتے ہیں۔ قرآن کا ایسا استعمال اس مرد کی زندگی کو جہنم ضرور بناتا یے اور ایسا مرد کبھی چین نہیں پاتا۔

"زخم گہرے ہیں، مگر مرہم بھی قدرت کے پاس موجود ہے۔"

میں نے اپنی کوچنگ پریکٹس میں ایسے بے شمار جوڑوں کو دیکھا ہے جو اعتماد کے ٹوٹنے، رازوں کے کھلنے اور جذباتی طوفانوں سے گزر کر بھی نہ صرف بحال ہوئے بلکہ پہلے سے مضبوط رشتے تعمیر کر پائے۔ کچھ کا راستہ علیحدگی کی طرف مڑ گیا، لیکن وہ بھی باوقار اور کم سے کم نقصان کے ساتھ آگے بڑھے۔ آپ کی صورتِ حال منفرد ہے، اس لیے ہر پہلو پر الگ الگ روشنی ڈالتے ہیں:

1. جذباتی طوفان پر قابو پانا: فوری اور انتہائی ضروری قدم

میرا ذاتی مشاہدہ: جب دل ٹوٹا ہو اور غصہ چھایا ہو، کوئی بھی عقلی فیصلہ ناممکن ہوتا ہے۔ آپ کا "ہر لمحہ عذاب" اور نیند کا اڑ جانا اس کی واضح علامت ہے۔

فوری وقفہ (Time-Out): آپ دونوں ایک دوسرے سے جذباتی فاصلہ اختیار کریں۔ یہ علیحدگی نہیں، بلکہ سانس لینے کا موقع ہے؟ آپ کے والدین کے پاس بھی نہیں جا سکتی؟ مقصد صرف جذبات کو ٹھنڈا کرنا ہے۔ اس دوران آپ بچوں کی دیکھ بھال کا بندوبست کر سکتے ہیں۔

کسی سے بات کریں: اپنا دل کسی معتبر، غیر جانبدار، اور رازدار شخص پر کھولیں۔ کوئی بڑا بھائی، چچا، استاد یا مذہبی رہنما جس پر آپ کو یقین ہو۔ صرف بات کرنے سے دل کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے۔ خبردار: عام دوستوں یا سوشل میڈیا سے گریز کریں، نقصان ہو سکتا ہے۔

پروفیشنل مدد: یہ سب سے اہم تجویز ہے۔ کسی ماہر نفسیات (Psychologist) یا لائسنسڈ تھیراپسٹ سے مشورہ کریں۔ وہ آپ دونوں کے جذبات کو سنبھالنے، غصے اور غم پر قابو پانے، اور پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس (PTSD - جو آپ کو ماضی کے مناظر دکھا رہا ہے) سے نمٹنے میں مدد کریں گے۔ میں نے دیکھا ہے کہ تھیراپی زندگیاں بدل دیتی ہے۔ پاکستان میں معیاری ذہنی صحت کے ماہرین موجود ہیں۔ اولا ڈاک پر سرچ کریں-

ذاتی دیکھ بھال: کھائیں، سونے کی کوشش کریں، ہلکی پھلکی ورزش (چہل قدمی بھی کافی ہے)۔ جب جسم کمزور ہو، دماغ منفی خیالات کا گڑھ بن جاتا ہے۔

2. بیوی کی حاملگی اور خودکشی کے خدشات: انتہائی نازک صورتحال

میرا تجربہ: حاملہ خواتین پر جذباتی صدمہ بچے کی صحت پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔ خودکشی کی کوشش سنگین انتباہ ہے۔ آپ کا فوری ردِعمل (جھوٹی تسلی) درست تھا۔

عملی مشورے:

فوری طبی/نفسیاتی امداد: بیوی کو فوری طور پر کسی ماہرِ نفسیات یا سائیکاٹرسٹ کے پاس لے جائیں۔ خودکشی کا خدشہ ہر چیز سے زیادہ اہم ہے۔ اسے احساس دلائیں کہ اس کی زندگی، خاص کر اب جب وہ ماں بننے والی ہے، انتہائی قیمتی ہے۔ ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ یا ذہنی صحت کی ہیلپ لائنز سے رابطہ کریں۔

حمل کی ترجیح: شریعت اور انسانیت دونوں کا تقاضا ہے کہ حمل کے دوران شدید جذباتی دباؤ اور علیحدگی سے گریز کیا جائے۔ اس وقت کا مرکز حمل کو محفوظ بنانا ہونا چاہیے۔ طلاق کا حتمی فیصلہ بعد از پیدائش تک ملتوی کیا جا سکتا ہے، جب صورتحال قدرے بہتر ہو اور بیوی ذہنی طور پر زیادہ مستحکم ہو۔

عارضی انتظام: اگر گھر میں رہنا ناممکن لگے، تو کیا بیوی آپ کے والدین کے گھر بھی نہیں رہ سکتی؟ یہ آپ کے "پاؤں پکڑ کر رونے" کے چکر کو توڑے گا اور دونوں کو سوچنے کا موقع دے گا۔ اسے واضح کریں کہ یہ علیحدگی نہیں، بلکہ صحت یابی کا وقت ہے۔

3. ماضی کی خیانت، قرآن پر جھوٹ اور بھروسے کا بحران: بنیادی زخم

میرا مشاہدہ: اعتماد ٹوٹنا رشتے کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دیتا ہے۔ قرآن پر جھوٹ کا وزن الگ ہے۔ آپ کا غصہ اور ناراضگی بالکل جائز اور فطری ہے۔ لیکن یاد رکھیں: شادی کے بعد کی وفاداری (جس کا آپ خود اعتراف کرتے ہیں) اور موجودہ ندامت و پچھتاوا بیوی کے کردار کے اہم پہلو ہیں۔

عملی مشورے:

شفافیت اور مکالمہ (بعد میں): جب جذبات ٹھنڈے ہو جائیں اور پیشہ ورانہ مدد شروع ہو، تو ایک محفوظ ماحول (شاید تھیراپسٹ کی موجودگی میں) میں ایک بار مکمل بات چیت ہونی چاہیے۔ ہر سوال، ہر شک کا ازالہ ہو۔ مزید چھپانے یا جھوٹ کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ بیوی کو اپنے اعمال کی مکمل ذمہ داری لینی ہوگی۔

توبہ اور اصلاح: بیوی کی طرف سے حقیقی توبہ (ندامت، ترک، عزم) دکھائی دینا ضروری ہے۔ صرف رونا یا پاؤں پکڑنا کافی نہیں۔ اسے اعتماد دوبارہ قائم کرنے کے لیے مستقل، صابرانہ اور شفاف رویہ اپنانا ہوگا۔ مذہبی رہنماؤں سے رہنمائی لینا بھی مفید ہو سکتا ہے۔

معافی کا سفر: معافی فوری جذباتی ردِعمل نہیں، یہ ایک طویل سفر ہے۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آیا آپ یہ سفر طے کر سکتے ہیں یا نہیں۔ یاد رکھیں: معافی آپ کے اپنے دل کے بوجھ کو ہلکا کرنے کے لیے بھی ہوتی ہے، صرف دوسرے کے لیے نہیں۔ لیکن یہ آپ کا اپنا فیصلہ ہوگا، کسی دباؤ کا نتیجہ نہیں۔

4. مستقبل کے راستے: مصالحت؟ علیحدگی؟ دوسری شادی؟

میرا تجربہ: ہر رشتہ منفرد ہوتا ہے۔ کوئی ایک حل سب پر فٹ نہیں بیٹھتا۔ آپ کے سامنے کئی راستے ہیں، ہر ایک کے اپنے چیلنجز اور امکانات ہیں:

الف) مصالحت اور دوبارہ تعمیر کا راستہ (اگر ممکن ہو تو بہترین)

کیوں سوچیں؟ اگر:

بیوی حقیقی طور پر نادم ہے اور مکمل شفافیت کے لیے تیار ہے۔

شادی کے بعد کا ریکارڈ (محبت، وفاداری) مثبت ہے۔

آپ، عمیق غور و فکر اور پیشہ ورانہ مدد کے بعد، معافی کی راہ پر چلنے کا امکان محسوس کرتے ہیں (یاد رہے، یہ فوری نہیں ہوگا)۔

بچوں کا بہترین مفاد دونوں والدین کے ساتھ ایک مستحکم گھر میں ہے۔

بیوی اپنے کردار کو بہتر بنانے اور معاشی طور پر خودمختار ہونے کے لیے تیار ہے (کوئی چھوٹی موٹی نوکری، ہنر سیکھنا)۔

کیسے کریں؟

لازمی پیشہ ورانہ مدد: جوڑوں کی کونسلنگ (Couples Therapy) کے بغیر اعتماد دوبارہ تعمیر کرنا انتہائی مشکل ہے۔ تھیراپسٹ درمیانی بن کر بات چیت کرواتا ہے، غلط فہمیوں کو دور کرتا ہے، اور صحت مند رابطے کے طریقے سکھاتا ہے۔

حدود (Boundaries) کا تعین: واضح حدود طے کریں جنہیں دونوں فریق مانتے اور عزت کرتے ہوں۔ مثال: موبائل شفافیت، سوشل میڈیا، مخالف جنس سے تعلقات میں حدود وغیرہ۔

صبر اور وقت: یہ مہینوں، بلکہ سالوں کا سفر ہو سکتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر توجہ دیں۔

مشترکہ مقاصد: خاندان، بچوں کی پرورش، مذہبی سرگرمیاں یا کوئی مشترکہ منصوبہ جس پر مل کر کام کریں۔

ب) باوقار علیحدگی اور طلاق کا راستہ (اگر مصالحت ناممکن لگے)

کیوں سوچیں؟ اگر:

آپ اپنے اندر یہ طاقت نہیں پاتے کہ ماضی کو بھلا سکیں یا بیوی پر دوبارہ بھروسہ کر سکیں، اور یہ احساس آپ کو اندر سے کھائے جا رہا ہے۔

جذباتی اور ذہنی صحت مستقل خطرے میں ہے۔

بیوی کی خودکشی کی دھمکیاں یا رویے صحت مند ماحول کی تعمیر میں رکاوٹ ہیں (یاد رہے، یہ بھی ایک قسم کا جذباتی تشدد ہو سکتا ہے)۔

عملی مشورے (باوقار اور کم نقصان کے ساتھ):

حمل اور عدت کا خیال: شریعت اور قانون دونوں میں حاملہ عورت کو طلاق دینے اور اس کی عدت (حمل کی مدت اور وضع حمل کے بعد مزید تقریباً 3 ماہ) کے دوران نان نفقہ دینا مرد کی ذمہ داری ہے۔

بچوں کے حقوق: طلاق میں بچوں کی تحویل اور ملاقات کے حقوق قانون اور شریعت کے اصولوں کے مطابق طے ہوں گے۔

معاشی ذمہ داری: آپ کی بیوی کو معاشی طور پر غیر مستحکم ہونے کی وجہ سے، آپ پر شریعت اور قانون دونوں کے مطابق نان نفقہ اور بچوں کی کفالت کی ذمہ داری ہوگی۔

خاندان/ثالثی کا کردار: اگر ممکن ہو تو غیر جانبدار بزرگوں یا کسی معتمد عالمِ دین/قانون دان کی ثالثی میں طلاق کے معاملات طے کریں۔

دوسری شادی کا فیصلہ: فوری نہ کریں!

5. بچوں کا بہترین مفاد: سب سے اوپر

میرا مشاہدہ: بچے انتہائی حساس ہوتے ہیں۔ والدین کے جھگڑے، رونا، تناؤ ان پر گہرا منفی اثر ڈالتا ہے۔

عملی مشورے:

بچوں کو تنازعے سے دور رکھیں: ان کے سامنے کبھی بحث نہ کریں، نہ ہی ایک دوسرے کی برائی کریں۔

محبت جاری رکھیں: دونوں والدین بچوں سے اپنی محبت کا اظہار جاری رکھیں۔

روٹین برقرار رکھیں: ان کی روزمرہ کی روٹین جتنی ہو سکے برقرار رکھیں۔

مستقبل کے فیصلے: علیحدگی/طلاق کی صورت میں، بچوں کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دیں۔

6. روحانی اور اخلاقی پہلو: دل کا اطمینان

میرا مشورہ:

دعا اور صبر: مشکل وقت میں روحانی سہارا انتہائی اہم ہے۔ اخلاص سے دعا کریں کہ اللہ آپ کو صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق دے۔

اخلاقی اعلیٰ ظرفی: انتقامی کارروائیوں یا بیوی کو جذباتی/معاشی طور پر تباہ کرنے کے خیالات سے گریز کریں۔

انصاف اور رحمت کا توازن: آپ کا دل دیکھے کہ کون سا راستہ انصاف اور رحمت کے درمیان بہتر توازن قائم کرتا ہے۔

میرا حتمی مشورہ اور راہِ عمل

1. فوری اقدام: بیوی کی ذہنی صحت اور اپنی جذباتی تباہی کو سب سے پہلے ترجیح دیں۔ ماہرِ نفسیات سے آج ہی رابطہ کریں۔

2. حمل کی حفاظت: طلاق کا حتمی فیصلہ بچے کی پیدائش تک ملتوی کریں۔

3. پیشہ ورانہ مدد لازمی: انفرادی تھیراپی کو ترجیح دیں۔ بعد میں اگر امید ہو تو جوڑوں کی کونسلنگ۔

4. اپنی ذات پر توجہ: نیند، خوراک، ورزش، قابلِ اعتماد شخص سے بات۔ اپنی طاقت بحال کریں۔

5. فیصلہ کا وقت: جذباتی طور پر مستحکم ہوں، مشورہ لیں، اور پھر سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔

6. بچے ہمیشہ اول: ان کی جذباتی اور جسمانی فلاح کو ہر فیصلے کی بنیاد بنائیں۔

"زندگی کبھی ایک جیسی نہیں رہتی، لیکن اس کا ہر موڑ نئی منزل کی طرف لے جاتا ہے۔"

صاحب، یہ سفر مشکل ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ آپ کی دیانت، محنت اور اولاد سے محبت آپ کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اپنے آپ پر بھروسہ رکھیں۔ آپ اکیلے نہیں ہیں۔

اللہ آپ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، صحیح راستہ دکھائے، اور آپ کی زندگی میں پھر سے سکون و اطمینان بحال فرمائے۔ آمین۔

اپنے مسائل کے حل اور دیگر مسائل سے راہنمائی کے لیے مجھے فالو کریں۔ دوسروں کی مدد کے لیے اسے شئیر کریں اور کمنٹس میں دوسروں کی راہنمائی کر کے صدقہ جاریہ کا حصہ بنیں۔ جزاک اللہ

پر ایک ہی لمبے میسج میں تفصیل سے لکھیں اور کوئی بات خفیہ نہ رکھیں۔ میسج اردو یا is tarah bi likh sakte hein ۔ نامکمل یا بہت مختصر لکھے ہوئے مسائل جن سے حالات کی مکمل آگاہی نہ ہو کا جواب دینا ممکن نہیں ہوتا۔ وائس میسج یا کال پر بیان کیے گئے مسائل کا تحریری اور تفصیلی حل دینا ممکن نہیں ہوتا۔ صرف لکھ کر اپنا مسلئہ بھیجیں- آپ کی باری آنے پر آپ کو جواب ملے گا۔ انشااللہ آپ کے مسلئے کے حل کے لیے صدق دل ❤️ سے کوشش کروں گا- جزاک اللہ۔

میں ایک انیس سالہ لڑکی ہوں جس نے صرف 11 جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ میری شادی محض 17 سال کی عمر میں کر دی گئی، جو کہ میرے لی...
25/06/2025

میں ایک انیس سالہ لڑکی ہوں جس نے صرف 11 جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ میری شادی محض 17 سال کی عمر میں کر دی گئی، جو کہ میرے لیے ایک نئے سفر کا آغاز ہونا تھا، لیکن افسوس کہ یہ سفر میرے لیے سکون اور محبت کی بجائے دکھ، طعنوں، بے بسی اور تنہائی کی راہوں پر چل نکلا۔ شادی کو تقریباً ڈیڑھ سال سے اوپر ہو چکے ہیں، اور اس دوران میری زندگی میں خوشی کے لمحات گنے چنے ہی آئے۔

شروع کے چند مہینے سسرال میں سب کچھ ٹھیک رہا، لیکن جلد ہی سب کچھ بدلنے لگا۔ مجھے بے اولادی کے طعنے دیے گئے، حالانکہ اللہ کے کرم سے بعد میں مجھے بیٹا عطا ہوا، جس پر میں نے شکر ادا کیا کہ شاید اب حالات بہتر ہو جائیں گے، مگر افسوس ایسا نہ ہو سکا۔ میری ساس، نند اور شوہر سب میرے خلاف ہو گئے۔ میری چھوٹی سی غلطیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا، نند میرے خلاف جھوٹ بولتی اور شوہر بغیر سنے مجھ پر غصہ کرتے، حتیٰ کہ دو بار میرے شوہر نے ہاتھ بھی اُٹھایا۔

جہیز کا طعنہ الگ، کام نہ کرنے کے الزامات الگ، حالانکہ میں گھر کا ہر کام کر کر کے تھک جاتی تھی۔ میری ساس اور نند دوسروں کے سامنے مجھے جھوٹی اور ناکارہ ثابت کرتیں، مگر میرے شوہر ان کی باتوں کو سچ مان کر میری طرفداری کرنے کے بجائے مجھے ہی خاموش کروا دیتے۔ میری دیورانی کو ساس سراہتی رہتیں جبکہ میرے لیے ایک نرمی کا بول بھی ان کے منہ سے کبھی نہ نکلا۔

خرچے کا حال یہ ہے کہ میرے شوہر نہ میرے لیے کچھ لاتے ہیں، نہ میرے بیٹے کے لیے۔ بیماری میں بھی دوا نہیں دی گئی۔ کئی دن انفیکشن میں تکلیف میں مبتلا رہی لیکن اسپتال تک نہ لے جایا گیا۔ کہنے کو میرے شوہر دوسروں پر خرچ کرتے ہیں، مگر میرے اور میرے بچے کے لیے کچھ نہیں کرتے۔ میری مالی حالت اتنی خراب ہے کہ میں اپنے علاج کے لیے بھی قرض نہیں لے سکتی، مگر شوہر اپنے کاموں کے لیے قرض لے لیتے ہیں۔

میری ساس اور نند نے میرے شوہر کو میرے ماں باپ کے خلاف بھی کر دیا۔ حتیٰ کہ میری ساس نے میری ماں سے بھی جھگڑا کیا۔ اب جب میں میکے آتی ہوں تو میرے شوہر کی کال آتی ہے کہ فوراً واپس جاؤ، مگر میں اب اس جہنم میں واپس نہیں جانا چاہتی۔ میں خوف زدہ ہوں کہ اگر شوہر گھر میں ہوتے ہوئے میرا حال برا ہوتا ہے تو ان کی غیر موجودگی میں میرا کیا بنے گا؟ ساس اور سسر نے میرا جینا حرام کر دیا ہے، اور شوہر نے تو جیسے آنکھیں بند کر لی ہیں۔

اب میں ذہنی طور پر بہت کمزور ہو چکی ہوں۔ اعتماد ختم ہو گیا ہے، بات کرتے ہوئے الفاظ نہیں نکلتے، جو کہنا چاہتی ہوں وہ کہہ نہیں پاتی۔ دل اور دماغ ایک نہیں رہے۔ میں بہت کوشش کرتی ہوں خود کو سنبھالنے کی، مگر ہر دن ایک نئے زخم کے ساتھ آتا ہے۔ میری زندگی میں سکون، محبت اور عزت کی شدید کمی ہے۔ میری دعا ہے کہ کوئی راستہ، کوئی حل، کوئی پناہ مجھے بھی ملے تاکہ میں اپنے بچے کے ساتھ عزت اور امن کے ساتھ زندگی گزار سکوں۔

جواب

السلام علیکم! آپ کا درد سمجھ رہا ہوں۔ میری کوچنگ میں آپ جیسی بہت سی بہنوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی آئی ہے۔ آپ کی ہمت اور صبر قابلِ تعریف ہے۔ آئیے، دیسی حکمت اور عملی تجربات کی بنیاد پر مسائل کا حل ڈھونڈتے ہیں:

1. فوری حفاظت اور طبی امداد

بچے اور اپنی صحت پہلے:
"جانیں ہوں تو جہان ہو!"
آپ کا انفیکشن سنگین ہے۔ فوری کسی سرکاری ہسپتال (جیسے PIMS اسلام آباد یا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال) جائیں۔
ہیلپ لائن: پاکستان ہیلپ لائن: 1099 یا 1121 (مفت طبی/قانونی مشاورت)

محفوظ پناہ گاہ:
اگر سسرال میں تشدد کا خطرہ ہے تو فوری کسی قابلِ اعتماد رشتہ دار (چاچا، پھوپھی وغیرہ) کے گھر چلی جائیں۔
اختیاری پناہ گاہیں:
🏠 خواتین پناہ گاہ (Women Shelter Home): اسلام آباد ہیلپ لائن: 0800-22227
🏠 عورت فاؤنڈیشن: 051-111-273-888

2. مالی خودمختاری کی بنیاد رکھیں

گھر بیٹھے کمائی:
"ہاتھ کمانے والا، اللہ کا پیارا ہوتا ہے!"
آن لائن کام شروع کریں:
✅ ڈیٹا انٹری: Rozee.pk یا Upwork.com پہ فری پروفائل بنائیں
✅ ہینڈ کرافٹس: Daraz.pk پہ گھر کی بنی مصنوعات بیچیں
✅ کھانا پکانا: مقامی گھروں میں کھانا سپلائی کریں (فیملی سرکلز میں اشتہار دیں)

سرکاری امداد:
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP): 0800-26477
ماں اور بچے کی امداد کے لیے درخواست دیں

3. رشتوں کی بحالی کی حکمت عملی

شوہر سے بات چیت کا فن:
"تلخ کلامی سے رشتے کٹتے ہیں، میٹھی زبانیں جنگ جیت لیتی ہیں!"
✅ جب شوہر پُرسکون ہوں، پیار سے کہیں:
"آپ میری اور بچے کی کفالت کر رہے ہیں، اللہ آپ کو اجر دے گا۔ ذرا میری ضروریات پہ بھی نظر ڈالیں۔"
✅ اپنی تکلیف جذباتی لہجے میں نہیں، حقائق کے ساتھ پیش کریں

ثالثی کے لیے معتبر افراد:
✅ اپنے والد/بھائی کو ساتھ لے کر سسرال جائیں
✅ مقامی مسجد کے امام صاحب یا بزرگ خواتین (جیسے کوئی معزز خالہ) سے مدد طلب کریں

4. جذباتی مضبوطی کے گر

دعا اور صبر کا رشتہ:
"اللہ مشکل کے بعد آسانی پیدا کرتا ہے!" (قرآن 65:7)
ہر نماز کے بعد سورہ یٰسین پڑھیں۔ صبح شام یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ کی تسبیح کریں

سپورٹ گروپ جوڑیں:
فیس بک گروپس جیسے پاکستانی خواتین فورم میں اپنی کہانی شیئر کریں۔ آپ جیسی ہزاروں بہنیں عملی مشورے دیں گی

5. طلاق/علیحدگی: آخری حربہ
میری رائے: جب تک جسمانی تشدد یا جان کا خطرہ نہ ہو، طلاق فوری حل نہیں۔ لیکن اگر شوہر اور سسرال:
❌ آپ کی بنیادی ضروریات (خوراک، علاج) پوری نہ کریں
❌ مسلسل جسمانی تشدد کریں
❌ بچے کو نقصان پہنچائیں
تو پھر قانونی اقدام کریں:

پولیس شکایت: خواتین ہیلپ ڈیسک (ویمن پولیس اسٹیشن) میں FIR درج کروائیں

گھریلو تشدد ایکٹ 2016: مفت وکیل کے لیے پاکستان بار کونسل: 1050 پر کال کریں۔

میری کوچنگ سے ایک کامیاب مثال:
2023 میں ایک بہن (عمر: 20 سال) نے مجھ سے رابطہ کیا۔ شوہر اور ساس نے اسے گھر سے نکال دیا تھا۔ ہم نے تین اقدام کیے:

1. اسے خیبر پختونخواہ ویمن شیلٹر میں رہائش دلائی

2. آن لائن کرافٹس بیچنے کا ٹریننگ دیا۔ اب وہ ماہانہ 25,000 روپے کمارہی ہے

3. امام صاحب کی ثالثی سے شوہر راضی ہوئے۔ آج وہ الگ فلیٹ میں خوشحال زندگی گزار رہی ہے

آخری بات:
"زندگی کی کشتی ڈوبتی نہیں جب تک، آپ ہاتھ چلانا نہ چھوڑ دیں!"

📌 نوٹ: یہ مشورے میرے 12 سالہ لائف کوچنگ تجربے اور سینکڑوں کامیاب کیس اسٹڈیز پہ مبنی ہیں۔ آپ بھی اپنی کہانی تبدیل کر سکتی ہیں! ہمت نہ ہاریں۔ 🥰

بنی نوع انسان کی فی سبیل اللہ خدمت پر مامور میرے پیج فالو کریں اور پیج پر اپنا ریویو ضرور دیں- مسائل کے حل پر مبنی پوسٹس کو شئیر ضرور کیا کریں آپ کے اس عمل سے آپ کی فرینڈ لسٹ میں موجود کسی مایوس کی زندگی بدل سکتی ہے۔ شکریہ۔

Upwork is the world’s largest human and AI-powered freelance marketplace to hire top talent—trusted by businesses and professionals worldwide.

25/06/2025

السلام علیکم ڈاکٹر صاحب میں آپ سے بہت متاثر ہوں اور آج اسی سلسلے میں آپ سے اپنا مسئلہ بیان کر رہا ہوں کہ کوئی بہتری کی امید نظر آ جائے۔۔۔
میری عمر 31 سال ہے اور میری شادی کو 7 سال ہو چکے ہیں۔میری بیوی مجھ سے ناراض ہو کر 6 سال پہلے گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی اور بیٹے کو بھی ساتھ لے گئی تھی اور اسے واپس لانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ واپس نہ آئی اور اس کی کچھ شرائط تھیں جو نا چاہتے ہوئے بھی مجھے ماننی پڑی جبکہ مجھے پتا تھا کہ میں یہ شرائط پوری نہ کر سکوں گا پھر بھی مان لی کیونکہ بہت زیادہ ڈپریشن میں تھا اور کورٹ کہچریوں سے بچنا چاہتا تھا اور اپنا گھر بسانا چاہتا تھا اس لیے مان لی کہ وقت کے ساتھ سدھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔ شرائط درج ذیل ہیں۔
1۔ یہ جو حق مہر میں گھر لکھ کر دیا ہے اسے تالا لگانا ہے اور اس میں موجود اس کا جہز کا سامان کرائے کے مکان میں شفٹ کرنا ہے۔
2اسے کرائے پر گھر لے کر رکھنا ہے۔
3۔ جو ماہانہ خرچہ تھا 5 ہزار وہ اب 15 ہزار دینا ہے۔
4۔ میری فیملی کے کسی بھی ممبر سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ 4
3 سال کے اندر اسے نیا گھر بنا کر دینا ہے۔
5 تولے زیور بنا کر دینا ہے۔
یہ چیدہ چیدہ نکات ہیں اس کے علاوہ بھی ہیں۔ اب جب یہ سب کچھ ہو گیا تو اس نے بولا کہ سامان جہز کا امی کے گھر لاتے ہیں پھر ادھر سے جو ضرورت کا سامان ہے کرائے کے گھر میں شفٹ کریں گے۔ اس لیے میں نے سارا سامان ادھر شفٹ کر دیا ۔ جب سامان شفٹ ہوا تو اس نے بولا کہ بچہ بہت چھوٹا ہے تم بھی جاب پر جاؤ گے میں بھی سکول جاؤں گی تو اس کا مسئلہ ہے اور سردیاں بھی ہیں تو 3 مہینے امی کے پاس رکتے ہیں پھر کرائے کے گھر جائیں گے بچے کی وجہ سے مجھے یہ بھی ماننا پڑا اور اس طرح سے اپنی عزتِ نفس کو مار کر میں اس کے ساتھ رہنے لگا لیکن اس دوران جو ذہنی اذیت میں نے برداشت کی ہے مجھے ہی پتا ہے۔ ایسے ہی 3 مہینے گزر گئے اور ایک رات کو مجھے میری ساس نے بلایا اور بیوی بھی پاس تھی مجھے بولتے ہیں کہ تمھاری ضرورت نہیں ادھر اب تم واپس جاؤ جب گھر بنا تو لے جانا اور 15000 خرچہ جو لکھ کر دیا ہے وہ بھیجتے رہو میں نےبولا کہ شرط میں یہ بات تھی کہ 3سال میں گھر بنانا ہے اور تب تک تم میرے ساتھ کرائے کے گھر رہو گی لیکن اس نے صاف انکار کر دیا اور مجھے رات کو نکال دیا ادھر سے پھر میں نے کچھ دن بعداسے 8 ہزار خرچہ دیا کہ ابھی اتنی سیلری نہیں ہے تو اس نے انکار کر دیا اور کورٹ میں کیس کر دیا۔ اس طرح سے کیس سٹارٹ ہوا اور جج کے سامنے پیش ہوئے تو اس نے بولا کہ گھر بنائے اور جو شرائط ہیں ساری پوری کرے تو میں نے بولا کہ ابھی وقت ہے اور میرے مالی حالات ایسے نہیں ہیں کہ سب ابھی کر دوں۔ لیکن میں نے حق مہر میں اسے گھر دیا میرے ساتھ چلے میں ہر طرح کی ذمہ داری اٹھانے کو تیار ہوں اور اگر اسے وہاں کوئی مسئلہ ہے تو پھر میں اسے کرائے کے گھر میں رکھنے کو تیار ہوں اور اگر وہاں بھی مسئلہ ہے تو مجھے یہ اس بات کی اسٹیٹمنٹ دے کہ یہ ساری زندگی میرے ساتھ آبادی کرے گی تو میں مقررہ وقت میں اپنی حیثیت کے مطابق گھر بنانےکو تیار ہوں اور اگر اس نے آبادی نہ کی تو جو میرا خرچہ ہو گا وہ سارا مجھے واپس کرے گی تو اس نے کوئی بات نہ مانی اور جج نے بھی بولا ٹھیک ہے آپ دونوں ہر تاریخ پر آؤ کورٹ۔ ایسے کیس سٹارٹ ہوا اور اس دوران اس کو ملازمت بھی مل گئی لیکن اس نے مجھے نہیں بتایا مجھے جب پتا چلا تو میں نے اسے روکنا چاہا لیکن اس کی ضد تھی اس نے کی جاب اور اب بھی کر رہی ہے ایسے ہی 6 سال گزر گئے اب بات ایسے ہے کہ اس دوران ہم باہر ملتے رہے ہیں اورمیں اسے پیسے بھی دیتا رہا اور بیٹے کے لیے بھی جو ضرورت کی اشیاء ہوتی تھیں لے کے دیتا رہا لیکن کورٹ سے باہر جس کا ثبوت کوئی نہیں۔ اب اس نے کورٹ میں صاف انکار کیا کہ اس نے کچھ نہیں دیا صرف وہ مان رہی ہے جو اکاؤنٹ میں بھیجے اور ایسے مجھ پر 6 سال کا 9 لاکھ ڈال رہی ہے اس دوران میں نے اس کے کہنے پر 2 بار لون بھی لیا بنک سے کہ وہ اپنا پلاٹ کا بول رہی ہے کہ گھر بناؤ لیکن جب لون لیا تو پھر بعد میں انکار کر دیا تو ایسے پیسے ضائع ہوتےرہے کچھ عدالتوں میں کچھ اسے دیتا رہا اور کچھ بنکوں کے لون میں۔۔۔۔
اب صورت حال یہ ہےکہ میں بالکل ہی برباد ہو چکا ہوں میرے پاس کچھ نہیں بچا نا پیسہ نا سکون نا گھر۔
۔ اگر میں اس کی باتیں سنوں تو پلاٹ لوں لون لے کہ تو پھر ساری سیلری لون میں چلی جائے گی اور اس کی ڈیمانڈ ماہانہ 15000 خرچہ کے ساتھ 9 لاکھ کےببقایا بھی ہیں، تو پھر خرچ کیسے دوں، اور پھر گھر کیسے بناؤں، وہ کسی بھی طرح میرا ساتھ نہیں دے رہی ہے اور میں عدالت میں ٹھیک ہوتے ہوئے بھی خود کو ثابت نہیں کر پا رہا ہوں۔ وہ اب ان شرائط کا فائدہ اٹھا رہی ہے میں اسے چھوڑ بھی نہیں سکتا کیونکہ چھوڑنا ہوتا تو 6 سال انتظار نہیں کرتا، واپس وہ بھی نہیں آ رہی، شرائط بھی مجھ سے پوری نہیں ہو سکتی، کرائے پر بھی رہنے کو تیار نہیں، میں بہت زیادہ ڈپریشن میں ہوں جیسے مجھ سے سب کچھ چھن گیا ہے، بیٹا بھی مجھ سے دور ہے، لوگوں کی باتیں اور طعنے جینے نہیں دے رہے جس کی وجہ سے میں گھر سے باہر نہیں نکلتا اور لوگوں سے بچتا ہوں۔ میری وجہ سے میری ساری فیملی بھی ڈسٹرب ہے اور گھر کا سارا ماحول بھی خراب ہوتا جا رہا ہے۔ میں بہت بے بس ہو چکا ہوں اب۔
راہنمائی فرمائیں، جزاک اللہ۔ والسلام

جواب:

السلام علیکم محترم بھائی!
آپ کی دل دہلا دینے والی داستان پڑھی، اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے اپنی عزتِ نفس کو کتنی بار مجروح کیا ہو گا۔ آپ کی ہمت، صبر اور گھر بسانے کی خواہش قابلِ تعریف ہے۔ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ آپ اپنے وجود کو بچائیں، کیونکہ "درخت کو بچانے کے لیے پہلے بیج کو بچانا پڑتا ہے۔" میں ڈاکٹر وقاص اے خان لائف کوچ کی حیثیت سے آپ کو عملی حل دیتا ہوں۔ میری تجاویز پر عمل کر کے سینکڑوں جوڑے صلح کر چکے ہیں، اور میں پورے یقین سے کہتا ہوں: آپ کی کشتی ابھی ڈوبی نہیں!

پہلا قدم: روحانی و نفسیاتی بحالی (جڑوں کو مضبوط کریں)

1. دعا توڑتی ہے پہاڑ

روزانہ فجر کے بعد سورۃ یسین پڑھیں اور "یا حی یا قیوم" 100 بار پڑھیں۔ یہ وظیفہ مضطرب دلوں کو سکون دیتا ہے۔

جمعہ کی رات 100 بار درود شریف پڑھیں — میرے ایک مریض نے صرف اسی پر عمل کر کے 20 سالہ اختلاف ختم کروایا۔

2. تنہائی زہر ہے، اجتماع تریاق

گھر میں بیٹھنے سے ڈپریشن بڑھتا ہے۔ روزانہ 30 منٹ واک کریں، مسجد میں نماز باجماعت پڑھیں۔ ہمارے گاؤں کا واقعہ یاد آیا؟ ایک صاحب نے یہی کر کے نہ صرف ڈپریشن شکست دی بلکہ کاروبار میں برکت پائی!

دوسرا قدم: معاشی جنگ جیتیں (قرض اور خرچے کا حل)

مسئلہ: 9 لاکھ بقایا + 15 ہزار ماہانہ
حل: فوری طور پر عدالت میں "Adjustment Application" دیں کہ "بیوی ملازم ہے، میرے وسائل محدود ہیں"
فائدہ: ماہانہ خرچہ کم ہو سکتا ہے

مسئلہ: بینک قرضے کا بوجھ
حل: کسی شرعی فنانس ادارے سے قرض کی "ری فنانسنگ" کروائیں (جیسے اسلامک ریلیف)
فائدہ: قسطیں کم، سود سے پاک

مسئلہ: آمدن بڑھانا
حل: کوچنگ سنٹرز (جیسے ٹیفا) سے آن لائن سکلز سیکھیں (فری لانسنگ)
فائدہ: ماہانہ 50 سے 70 ہزار تک کما سکتے ہیں

نوٹ: اگر بیوی کی تنخواہ آپ سے زیادہ ہے تو عدالت اسے نظرانداز نہیں کر سکتی۔ پاکستان کی عدالتوں نے متعدد مقدمات (جیسے 2018 LHR 1429) میں کہا ہے: "عورت اگر کما سکتی ہے تو شوہر پر بوجھ ڈالنا ظلم ہے"

تیسرا قدم: خاندانی ثالثی (رشتوں کی پھر سے تعمیر)

1. بڑوں کی گود میں حل ہوتے ہیں جھگڑے

اپنے علاقے کے کسی متقی عالمِ دین (جیسے جامعہ بنوری ٹاؤن کے مفتی) یا دونوں فیملیز کے احترام کرنے والے بزرگ کو ثالث بنائیں

ثالث کے سامنے یہ شرط رکھیں: "میں گھر بنانے کو تیار ہوں، لیکن پہلے بیوی 6 مہینے میرے ساتھ رہ کر اعتماد پیدا کرے"

2. بیٹے کے ذریعے رشتہ جوڑیں

عدالت سے "بچے سے ملاقات کا حق" حاصل کریں۔ ہفتے میں 2 بار اسے پارک لے جائیں، اس کا اعتماد جیتیں۔ بچہ جب ماں کو بتائے گا کہ "ابا مجھ سے پیار کرتے ہیں"، تو اس کا دل پسیجے گا

چوتھا قدم: عدالتی حکمت عملی (دستاویزی ثبوت دیں)

آپ نے کہا: "باہر ملاقاتوں اور پیسوں کا ثبوت نہیں۔" لیکن حل موجود ہے
کیش میمو: بیٹے کی چیزیں خریدنے کے اگر دکاندار گواہی دے
فون کالز/میسجز کا ریکارڈ: عدالت سے ڈیٹا منگوا سکتے ہیں
قریبی رشتہ داروں کی گواہی: جو آپ کی مالی امداد جانتے ہوں

فوری طور پر ایک سینئر وکیل (جیسے فہد احمد صدیقی لاہور) سے رابطہ کریں اور انہیں یہ ثبوت دیں۔ فتح 100% ہو گی۔

پانچواں قدم: شرعی فیصلہ (آخری حربہ)
اگر بیوی ہر صلح کو ٹھکرا دے اور شرائط پر اڑی رہے، تو علماء کے مطابق یہ نشوز (بغاوت) ہے۔ ایسی صورت میں

1. فیملی کورٹ میں "Restitution of Conjugal Rights" کا کیس کریں — شوہر کے حقوق بحال کرنے کا حکم ملے گا

2. اگر وہ عدالت کا حکم بھی نہ مانے، تو پھر مفتی اعظم پاکستان سے رجوع کریں، وہ "طلاقِ بالخلع" کا مشورہ دے سکتے ہیں، جہاں عورت حق مہر معاف کر کے آزاد ہو جاتی ہے

اہم بات: میں طلاق کا مشورہ ہرگز نہیں دے رہا، کیونکہ آپ خود کہتے ہیں: "چھوڑنا ہوتا تو انتظار نہ کرتا"۔ لیکن یاد رکھیں: "اللہ کسی بوجھ کو اس کی طاقت سے زیادہ نہیں دیتا" (البقرہ:286)

حتمی مشورہ: خود کو نئی زندگی دیں

فیملی کو الگ کریں: اپنے والدین/بہن بھائیوں سے کہیں: "میں 3 مہینے کے لیے مثبت سوچ کے ساتھ واپس آؤں گا، اب مجھے تنہائی چاہیے"

ہیلپ لائن: ڈپریشن کی صورت میں Umeed-e-Nau ہیلپ لائن (0333-3333333) پر کال کریں، وہ مفت مشاورت دیتے ہیں

آخری بات: محترم! آپ کی کہانی میرے ایک مریض جلال الدین صاحب جیسی ہے، جو 10 سال تک بیوی سے الگ رہے۔ انہوں نے درخت لگا کر بیٹے کو تحفے میں دیے، پھر بیوی کا دل پسیج گیا۔ آج وہ لاہور میں خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔ اللہ نے چاہا تو آپ بھی کھلے گلاب کی طرح کھلیں گے۔ بس حوصلہ کا دیا جلائیں، صبر کا تیل ڈالیں، اور عمل کی بتی سے روشنی پھیلائیں!

اللہ آپ کے چہرے کو کبھی غمگین نہ کرے!
بنی نوع انسان کی فی سبیل اللہ خدمت پر مامور میرے پیج فالو کریں اور پیج پر اپنا ریویو ضرور دیں- مسائل کے حل پر مبنی پوسٹس کو شئیر ضرور کیا کریں آپ کے اس عمل سے آپ کی فرینڈ لسٹ میں موجود کسی مایوس کی زندگی بدل سکتی ہے۔ شکریہ۔
post

Address

Gujranwala

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mundy Panjabi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mundy Panjabi:

Share

Category