25/06/2025
میں ایک انیس سالہ لڑکی ہوں جس نے صرف 11 جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ میری شادی محض 17 سال کی عمر میں کر دی گئی، جو کہ میرے لیے ایک نئے سفر کا آغاز ہونا تھا، لیکن افسوس کہ یہ سفر میرے لیے سکون اور محبت کی بجائے دکھ، طعنوں، بے بسی اور تنہائی کی راہوں پر چل نکلا۔ شادی کو تقریباً ڈیڑھ سال سے اوپر ہو چکے ہیں، اور اس دوران میری زندگی میں خوشی کے لمحات گنے چنے ہی آئے۔
شروع کے چند مہینے سسرال میں سب کچھ ٹھیک رہا، لیکن جلد ہی سب کچھ بدلنے لگا۔ مجھے بے اولادی کے طعنے دیے گئے، حالانکہ اللہ کے کرم سے بعد میں مجھے بیٹا عطا ہوا، جس پر میں نے شکر ادا کیا کہ شاید اب حالات بہتر ہو جائیں گے، مگر افسوس ایسا نہ ہو سکا۔ میری ساس، نند اور شوہر سب میرے خلاف ہو گئے۔ میری چھوٹی سی غلطیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا، نند میرے خلاف جھوٹ بولتی اور شوہر بغیر سنے مجھ پر غصہ کرتے، حتیٰ کہ دو بار میرے شوہر نے ہاتھ بھی اُٹھایا۔
جہیز کا طعنہ الگ، کام نہ کرنے کے الزامات الگ، حالانکہ میں گھر کا ہر کام کر کر کے تھک جاتی تھی۔ میری ساس اور نند دوسروں کے سامنے مجھے جھوٹی اور ناکارہ ثابت کرتیں، مگر میرے شوہر ان کی باتوں کو سچ مان کر میری طرفداری کرنے کے بجائے مجھے ہی خاموش کروا دیتے۔ میری دیورانی کو ساس سراہتی رہتیں جبکہ میرے لیے ایک نرمی کا بول بھی ان کے منہ سے کبھی نہ نکلا۔
خرچے کا حال یہ ہے کہ میرے شوہر نہ میرے لیے کچھ لاتے ہیں، نہ میرے بیٹے کے لیے۔ بیماری میں بھی دوا نہیں دی گئی۔ کئی دن انفیکشن میں تکلیف میں مبتلا رہی لیکن اسپتال تک نہ لے جایا گیا۔ کہنے کو میرے شوہر دوسروں پر خرچ کرتے ہیں، مگر میرے اور میرے بچے کے لیے کچھ نہیں کرتے۔ میری مالی حالت اتنی خراب ہے کہ میں اپنے علاج کے لیے بھی قرض نہیں لے سکتی، مگر شوہر اپنے کاموں کے لیے قرض لے لیتے ہیں۔
میری ساس اور نند نے میرے شوہر کو میرے ماں باپ کے خلاف بھی کر دیا۔ حتیٰ کہ میری ساس نے میری ماں سے بھی جھگڑا کیا۔ اب جب میں میکے آتی ہوں تو میرے شوہر کی کال آتی ہے کہ فوراً واپس جاؤ، مگر میں اب اس جہنم میں واپس نہیں جانا چاہتی۔ میں خوف زدہ ہوں کہ اگر شوہر گھر میں ہوتے ہوئے میرا حال برا ہوتا ہے تو ان کی غیر موجودگی میں میرا کیا بنے گا؟ ساس اور سسر نے میرا جینا حرام کر دیا ہے، اور شوہر نے تو جیسے آنکھیں بند کر لی ہیں۔
اب میں ذہنی طور پر بہت کمزور ہو چکی ہوں۔ اعتماد ختم ہو گیا ہے، بات کرتے ہوئے الفاظ نہیں نکلتے، جو کہنا چاہتی ہوں وہ کہہ نہیں پاتی۔ دل اور دماغ ایک نہیں رہے۔ میں بہت کوشش کرتی ہوں خود کو سنبھالنے کی، مگر ہر دن ایک نئے زخم کے ساتھ آتا ہے۔ میری زندگی میں سکون، محبت اور عزت کی شدید کمی ہے۔ میری دعا ہے کہ کوئی راستہ، کوئی حل، کوئی پناہ مجھے بھی ملے تاکہ میں اپنے بچے کے ساتھ عزت اور امن کے ساتھ زندگی گزار سکوں۔
جواب
السلام علیکم! آپ کا درد سمجھ رہا ہوں۔ میری کوچنگ میں آپ جیسی بہت سی بہنوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی آئی ہے۔ آپ کی ہمت اور صبر قابلِ تعریف ہے۔ آئیے، دیسی حکمت اور عملی تجربات کی بنیاد پر مسائل کا حل ڈھونڈتے ہیں:
1. فوری حفاظت اور طبی امداد
بچے اور اپنی صحت پہلے:
"جانیں ہوں تو جہان ہو!"
آپ کا انفیکشن سنگین ہے۔ فوری کسی سرکاری ہسپتال (جیسے PIMS اسلام آباد یا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال) جائیں۔
ہیلپ لائن: پاکستان ہیلپ لائن: 1099 یا 1121 (مفت طبی/قانونی مشاورت)
محفوظ پناہ گاہ:
اگر سسرال میں تشدد کا خطرہ ہے تو فوری کسی قابلِ اعتماد رشتہ دار (چاچا، پھوپھی وغیرہ) کے گھر چلی جائیں۔
اختیاری پناہ گاہیں:
🏠 خواتین پناہ گاہ (Women Shelter Home): اسلام آباد ہیلپ لائن: 0800-22227
🏠 عورت فاؤنڈیشن: 051-111-273-888
2. مالی خودمختاری کی بنیاد رکھیں
گھر بیٹھے کمائی:
"ہاتھ کمانے والا، اللہ کا پیارا ہوتا ہے!"
آن لائن کام شروع کریں:
✅ ڈیٹا انٹری: Rozee.pk یا Upwork.com پہ فری پروفائل بنائیں
✅ ہینڈ کرافٹس: Daraz.pk پہ گھر کی بنی مصنوعات بیچیں
✅ کھانا پکانا: مقامی گھروں میں کھانا سپلائی کریں (فیملی سرکلز میں اشتہار دیں)
سرکاری امداد:
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP): 0800-26477
ماں اور بچے کی امداد کے لیے درخواست دیں
3. رشتوں کی بحالی کی حکمت عملی
شوہر سے بات چیت کا فن:
"تلخ کلامی سے رشتے کٹتے ہیں، میٹھی زبانیں جنگ جیت لیتی ہیں!"
✅ جب شوہر پُرسکون ہوں، پیار سے کہیں:
"آپ میری اور بچے کی کفالت کر رہے ہیں، اللہ آپ کو اجر دے گا۔ ذرا میری ضروریات پہ بھی نظر ڈالیں۔"
✅ اپنی تکلیف جذباتی لہجے میں نہیں، حقائق کے ساتھ پیش کریں
ثالثی کے لیے معتبر افراد:
✅ اپنے والد/بھائی کو ساتھ لے کر سسرال جائیں
✅ مقامی مسجد کے امام صاحب یا بزرگ خواتین (جیسے کوئی معزز خالہ) سے مدد طلب کریں
4. جذباتی مضبوطی کے گر
دعا اور صبر کا رشتہ:
"اللہ مشکل کے بعد آسانی پیدا کرتا ہے!" (قرآن 65:7)
ہر نماز کے بعد سورہ یٰسین پڑھیں۔ صبح شام یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ کی تسبیح کریں
سپورٹ گروپ جوڑیں:
فیس بک گروپس جیسے پاکستانی خواتین فورم میں اپنی کہانی شیئر کریں۔ آپ جیسی ہزاروں بہنیں عملی مشورے دیں گی
5. طلاق/علیحدگی: آخری حربہ
میری رائے: جب تک جسمانی تشدد یا جان کا خطرہ نہ ہو، طلاق فوری حل نہیں۔ لیکن اگر شوہر اور سسرال:
❌ آپ کی بنیادی ضروریات (خوراک، علاج) پوری نہ کریں
❌ مسلسل جسمانی تشدد کریں
❌ بچے کو نقصان پہنچائیں
تو پھر قانونی اقدام کریں:
پولیس شکایت: خواتین ہیلپ ڈیسک (ویمن پولیس اسٹیشن) میں FIR درج کروائیں
گھریلو تشدد ایکٹ 2016: مفت وکیل کے لیے پاکستان بار کونسل: 1050 پر کال کریں۔
میری کوچنگ سے ایک کامیاب مثال:
2023 میں ایک بہن (عمر: 20 سال) نے مجھ سے رابطہ کیا۔ شوہر اور ساس نے اسے گھر سے نکال دیا تھا۔ ہم نے تین اقدام کیے:
1. اسے خیبر پختونخواہ ویمن شیلٹر میں رہائش دلائی
2. آن لائن کرافٹس بیچنے کا ٹریننگ دیا۔ اب وہ ماہانہ 25,000 روپے کمارہی ہے
3. امام صاحب کی ثالثی سے شوہر راضی ہوئے۔ آج وہ الگ فلیٹ میں خوشحال زندگی گزار رہی ہے
آخری بات:
"زندگی کی کشتی ڈوبتی نہیں جب تک، آپ ہاتھ چلانا نہ چھوڑ دیں!"
📌 نوٹ: یہ مشورے میرے 12 سالہ لائف کوچنگ تجربے اور سینکڑوں کامیاب کیس اسٹڈیز پہ مبنی ہیں۔ آپ بھی اپنی کہانی تبدیل کر سکتی ہیں! ہمت نہ ہاریں۔ 🥰
بنی نوع انسان کی فی سبیل اللہ خدمت پر مامور میرے پیج فالو کریں اور پیج پر اپنا ریویو ضرور دیں- مسائل کے حل پر مبنی پوسٹس کو شئیر ضرور کیا کریں آپ کے اس عمل سے آپ کی فرینڈ لسٹ میں موجود کسی مایوس کی زندگی بدل سکتی ہے۔ شکریہ۔
Upwork is the world’s largest human and AI-powered freelance marketplace to hire top talent—trusted by businesses and professionals worldwide.