HJ Digital

HJ Digital Interviews, Documentary, News , shorts , latest news

عمران خان سے ملاقات کا امکان، پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان دوبارہ رابطوں کی اطلاعاتاسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ...
12/06/2026

عمران خان سے ملاقات کا امکان، پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان دوبارہ رابطوں کی اطلاعات
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور حکومت کے درمیان ایک بار پھر رابطوں اور ممکنہ مذاکرات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، جس کے بعد بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے امکانات پر بھی سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں بعض حکومتی اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں نے سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان بیک ڈور رابطوں کی اطلاعات کو تقویت دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے سیاسی کشیدگی کے خاتمے اور قومی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کیا گیا ہے، تاہم پارٹی قیادت کا مؤقف ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی اور ان سے مشاورت کے بغیر کسی بھی اہم پیش رفت کا امکان محدود ہے۔
دوسری جانب عمران خان سے ملاقاتوں کے معاملے پر پی ٹی آئی مسلسل تحفظات کا اظہار کر رہی ہے اور حالیہ دنوں میں متعدد رہنماؤں کو اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر احتجاج بھی کیا گیا۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عمران خان تک رسائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ سیاسی معاملات پر ان کی رہنمائی حاصل کی جا سکے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر دونوں جانب سے رابطوں کا سلسلہ جاری رہا تو آئندہ دنوں میں سیاسی ماحول میں نرمی اور باضابطہ مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، تاہم کسی حتمی پیش رفت کے لیے عمران خان سے ملاقات اور ان کی مشاورت کو کلیدی حیثیت حاصل ہوگی۔

12/06/2026

گرمیوں کی چھٹیوں میں سکول فیس سے متعلق وضاحت، روٹین فیس وصول کی جائے گی: سر عمران حنیف
گوجرانوالہ: فورم فار سٹاف ڈویلپمنٹ کے سی ای او اور معروف ماہرِ تعلیم سر عمران حنیف نے صوبائی وزیر تعلیم کے حالیہ بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر تعلیم نے گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران سکولوں کو سمر کیمپس کی اضافی فیس وصول کرنے سے منع کیا ہے، تاہم طلبہ سے معمول کی ماہانہ فیس بدستور وصول کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض معلومات کے باعث والدین میں ابہام پیدا ہوا، جسے دور کرنا ضروری ہے۔ سر عمران حنیف نے کہا کہ تعلیمی ادارے حکومتی ہدایات کے مطابق کام کریں گے اور والدین کو درست معلومات فراہم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔





#تعلیم
#گوجرانوالہ




اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کو طبیعت ناساز ہونے پر طبی معائن...
12/06/2026

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کو طبیعت ناساز ہونے پر طبی معائنے اور علاج کے لیے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹروں کی سفارش پر انہیں خصوصی طبی نگرانی میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کا تفصیلی معائنہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق عمران خان گزشتہ چند ماہ سے آنکھوں کے عارضے کے باعث زیر علاج ہیں اور اس سلسلے میں انہیں متعدد مرتبہ پمز ہسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔ طبی ماہرین کی جانب سے ان کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے جبکہ ہسپتال ذرائع کے مطابق ان کی حالت مستحکم ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے عمران خان کی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف طبی سہولیات اور ان کے ذاتی معالجین تک رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ عمران خان کو تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جا رہی۔









11/06/2026

سرکاری تعلیمی اداروں میں تعینات ٹیچرز کی ناقض کارکردگی اور کم تنخواہوں کے باوجود پرائیویٹ اداروں کے ٹیچرز کوالٹی ایجوکیشن مہیا کر رہے ہیں اس حوالے سے وزیر تعلیم کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے سی ای او فورم فار سٹاف ڈویلپمنٹ سر عمران حنیف کا موقف سامنے آ گیا،

اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ معاشی اعداد و شمار میں انکشاف ہوا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران معیشت کے ...
11/06/2026

اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ معاشی اعداد و شمار میں انکشاف ہوا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران معیشت کے متعدد اہم شعبے مقررہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس کے باعث مجموعی معاشی شرح نمو توقعات سے کم رہنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق حکومت نے زراعت، صنعت اور بعض خدمات کے شعبوں میں ترقی کے جو اہداف مقرر کیے تھے، ان میں سے بیشتر مکمل نہیں ہو سکے۔ خاص طور پر زرعی شعبے کو موسمیاتی اثرات، پیداواری لاگت میں اضافے اور بعض فصلوں کی کم پیداوار جیسے مسائل کا سامنا رہا، جس کے باعث مجموعی معاشی کارکردگی متاثر ہوئی۔
دوسری جانب صنعتی شعبے میں بھی سست روی برقرار رہی۔ توانائی کے بلند نرخ، خام مال کی قیمتوں میں اضافہ اور کاروباری لاگت بڑھنے کے باعث صنعتی پیداوار توقعات کے مطابق نہ بڑھ سکی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ برآمدات میں اضافے اور صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مزید مؤثر پالیسی اقدامات کی ضرورت ہے۔
خدمات کے شعبے نے اگرچہ نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی، تاہم یہ شعبہ بھی مجموعی اقتصادی اہداف کے حصول میں مطلوبہ کردار ادا نہ کر سکا۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق مہنگائی میں کمی اور شرح سود میں بتدریج کمی کے مثبت اثرات آئندہ مالی سال میں سامنے آ سکتے ہیں۔
حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ مشکل معاشی حالات، عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال اور مالیاتی دباؤ کے باوجود معیشت کو استحکام کی جانب گامزن کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق آئندہ بجٹ میں پیداواری شعبوں کی حوصلہ افزائی، سرمایہ کاری کے فروغ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے زراعت، صنعت اور برآمدات کے شعبوں میں اصلاحات ناگزیر ہیں تاکہ مستقبل میں معاشی شرح نمو کے اہداف مؤثر انداز میں حاصل کیے جا سکیں۔

11/06/2026

نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں میں سب سے بڑا فرق
والدین کا اعتماد،
پرائیویٹ سکولز والدین کا سوفیصد اعتماد حاصل کرنے کے باوجود نشانے پر کیوں؟
سرکاری تعلیمی اداروں پر والدین کا عدم اعتماد ہی ان کی نجکاری کا اصل سبب ہے
تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے
پرائیویٹ تعلیمی ادارے کوالٹی ایجوکیشن کے باوجود کسی کھاتے میں کیوں نہیں ؟
وزیر تعلیم کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن پورا سچ بیان کرنے کی ہمت بھی کریں
سرکاری اساتذہ اکرام کے کسی بھی احتجاج میں تعلیمی نظام کی بہتری کبھی بھی ایجنڈے کا حصہ نہیں رہا، ان خیالات کا اظہار سی ای او فورم فار سٹاف ڈویلپمنٹ سر عمران حنیف کے ایکسکلوزیو انٹرویو سے اقتباس

پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کو اپ ڈیٹ کرن...
11/06/2026

پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کو اپ ڈیٹ کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے، جس سے صوبوں کے مالی حقوق اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے اہم پیش رفت متوقع ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی معاملات میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور موجودہ معاشی تقاضوں کے مطابق این ایف سی ایوارڈ کو ازسرِ نو ترتیب دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اس معاملے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے جلد پیش رفت کی یقین دہانی کرائی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا سمیت تمام صوبے اپنے آئینی اور مالی حقوق کے حصول کے خواہاں ہیں اور این ایف سی ایوارڈ کی اپ ڈیٹ سے وسائل کی تقسیم کا نظام مزید مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کو درپیش ترقیاتی اور مالی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وفاقی سطح پر مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔
سہیل آفریدی نے امید ظاہر کی کہ وفاقی حکومت اس حوالے سے تمام صوبوں کو اعتماد میں لے کر جلد عملی اقدامات کرے گی تاکہ قومی یکجہتی اور معاشی استحکام کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ سیاسی و معاشی حلقوں نے بھی این ایف سی ایوارڈ کی ممکنہ اپ ڈیٹ کو صوبائی خودمختاری اور مالیاتی نظام کی بہتری کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

11/06/2026

سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے درمیان اعتماد کا فرق ختم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، سر عمران حنیف
گوجرانوالہ: فورم فار سٹاف ڈویلپمنٹ کے سی ای او اور معروف ماہرِ تعلیم سر عمران حنیف نے کہا ہے کہ پاکستان میں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے درمیان سب سے بڑا فرق والدین کے اعتماد کا ہے۔ نجی تعلیمی اداروں نے محدود وسائل کے باوجود والدین کا بھرپور اعتماد حاصل کیا ہے، تاہم اس کے باوجود انہیں اکثر تنقید اور مختلف انتظامی دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔
ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ تعلیم کی فراہمی بنیادی طور پر ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن سرکاری تعلیمی اداروں پر والدین کے عدم اعتماد نے نجی شعبے کو آگے آنے کا موقع دیا۔ ان کے مطابق اگر سرکاری سکولوں میں تعلیمی معیار، احتساب اور سہولیات کو بہتر بنایا جائے تو والدین کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے اور نجی و سرکاری اداروں کے درمیان موجود خلیج کم کی جا سکتی ہے۔
سر عمران حنیف نے وزیرِ تعلیم کے حالیہ بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی مسائل کے حل کے لیے حقیقت پسندانہ اور جامع نقطۂ نظر اپنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف نجی تعلیمی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے سرکاری نظامِ تعلیم کی کمزوریوں کا بھی کھل کر جائزہ لیا جانا چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نجی تعلیمی ادارے ملک میں معیاری تعلیم کی فراہمی، جدید تدریسی طریقوں کے فروغ اور طلبہ کی بہتر تربیت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم پالیسی سازی کے مراحل میں ان کی آراء اور خدمات کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کے وہ مستحق ہیں۔
سر عمران حنیف کا کہنا تھا کہ سرکاری اساتذہ کے مختلف احتجاجی مظاہروں اور تحریکوں میں عموماً سروس اسٹرکچر، مراعات اور دیگر انتظامی مطالبات کو ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ تعلیمی نظام کی بہتری، تدریسی معیار میں اضافہ اور طلبہ کے تعلیمی نتائج کو مرکزی ایجنڈے کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان تصادم کے بجائے تعاون کی فضا قائم کرنا ہوگی۔ والدین کے اعتماد، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت، جدید نصاب اور مؤثر تعلیمی پالیسیوں کے ذریعے ہی ملک میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
ماہرین تعلیم کے مطابق ملک میں تعلیمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ ہر بچے کو معیاری اور یکساں تعلیمی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
فیس بک پوسٹ:
سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے درمیان اعتماد کا فرق ختم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، معروف ماہرِ تعلیم اور فورم فار سٹاف ڈویلپمنٹ کے سی ای او سر عمران حنیف نے کہا ہے کہ معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ والدین کے اعتماد کی بحالی، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت، جدید نصاب اور مؤثر تعلیمی پالیسیوں کے ذریعے ہی پاکستان کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔














اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ خطے میں جاری جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی اگرچہ ختم بھی ہو جائے، تاہم اس کے معاش...
11/06/2026

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ خطے میں جاری جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی اگرچہ ختم بھی ہو جائے، تاہم اس کے معاشی اثرات فوری طور پر ختم نہیں ہوں گے اور ان کے اثرات کم از کم ایک سال تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
وزیر خزانہ نے معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے جس کے نتیجے میں تیل، اشیائے خورونوش اور دیگر درآمدی مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات سرمایہ کاری، تجارت اور معاشی سرگرمیوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت بدلتی ہوئی عالمی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ممکنہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات پر کام جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت کو مستحکم بنانے اور عوام پر اضافی بوجھ کم کرنے کے لیے مالی نظم و ضبط اور اصلاحاتی پروگرام پر عمل درآمد جاری رکھا جائے گا۔
ماہرین معاشیات کے مطابق خطے میں کشیدگی کے باعث عالمی سپلائی چین، توانائی کی قیمتوں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جن کے اثرات کسی بھی ملک کی معیشت پر طویل عرصے تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے درمیان اعتماد کا فرق ختم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، سر عمران حنیفگوجرانوالہ: فورم فار سٹاف ...
11/06/2026

سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے درمیان اعتماد کا فرق ختم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، سر عمران حنیف
گوجرانوالہ: فورم فار سٹاف ڈویلپمنٹ کے سی ای او اور معروف ماہرِ تعلیم سر عمران حنیف نے کہا ہے کہ پاکستان میں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے درمیان سب سے بڑا فرق والدین کے اعتماد کا ہے۔ نجی تعلیمی اداروں نے محدود وسائل کے باوجود والدین کا بھرپور اعتماد حاصل کیا ہے، تاہم اس کے باوجود انہیں اکثر تنقید اور مختلف انتظامی دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔
ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ تعلیم کی فراہمی بنیادی طور پر ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن سرکاری تعلیمی اداروں پر والدین کے عدم اعتماد نے نجی شعبے کو آگے آنے کا موقع دیا۔ ان کے مطابق اگر سرکاری سکولوں میں تعلیمی معیار، احتساب اور سہولیات کو بہتر بنایا جائے تو والدین کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے اور نجی و سرکاری اداروں کے درمیان موجود خلیج کم کی جا سکتی ہے۔
سر عمران حنیف نے وزیرِ تعلیم کے حالیہ بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی مسائل کے حل کے لیے حقیقت پسندانہ اور جامع نقطۂ نظر اپنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف نجی تعلیمی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے سرکاری نظامِ تعلیم کی کمزوریوں کا بھی کھل کر جائزہ لیا جانا چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نجی تعلیمی ادارے ملک میں معیاری تعلیم کی فراہمی، جدید تدریسی طریقوں کے فروغ اور طلبہ کی بہتر تربیت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم پالیسی سازی کے مراحل میں ان کی آراء اور خدمات کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کے وہ مستحق ہیں۔
سر عمران حنیف کا کہنا تھا کہ سرکاری اساتذہ کے مختلف احتجاجی مظاہروں اور تحریکوں میں عموماً سروس اسٹرکچر، مراعات اور دیگر انتظامی مطالبات کو ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ تعلیمی نظام کی بہتری، تدریسی معیار میں اضافہ اور طلبہ کے تعلیمی نتائج کو مرکزی ایجنڈے کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان تصادم کے بجائے تعاون کی فضا قائم کرنا ہوگی۔ والدین کے اعتماد، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت، جدید نصاب اور مؤثر تعلیمی پالیسیوں کے ذریعے ہی ملک میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
ماہرین تعلیم کے مطابق ملک میں تعلیمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ ہر بچے کو معیاری اور یکساں تعلیمی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

The Education Debate | Private vs Public SchoolsIn this thought-pr...

Address

Gujranwala

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when HJ Digital posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share