31/08/2026
آج میں بہاولپور سے اسلام آباد جا رہا تھا، راستے میں ریفریشمنٹ کے لیے ملتان جنرل بس اسٹینڈ پر گاڑی روکی۔ وہاں میری نظر ایک بزرگ چاچا جی پر پڑی جو چائے کا چھوٹا سا سٹال لگا کر اپنے بچوں کے لیے حلال رزق کمانے کی کوشش کر رہے تھے۔ میں نے چاچا جی سے رک کر بات کی اور ان کا حال چال پوچھا تو ان کی باتیں سن کر دل اداس ہو گیا۔ 💔
چاچا جی نے بتایا کہ انہیں ملتان جنرل بس اسٹینڈ پر چائے کا سٹال لگاتے ہوئے تقریباً پانچ سال ہو گئے ہیں۔ اس سے پہلے وہ مزدوری کیا کرتے تھے، لیکن مزدوری میں اتنی بچت نہیں ہو پاتی تھی اور مسلسل محنت کی وجہ سے کندھوں اور جوڑوں میں درد بھی رہنے لگا۔ حالات ایسے ہوئے کہ کام کرنا مشکل ہو گیا۔ پھر ان کی بیگم نے اپنے گھر کا کچھ سامان بیچ کر انہیں چائے کا یہ چھوٹا سا سٹال لگوا کر دیا تاکہ وہ بیٹھ کر اپنے بچوں کے لیے حلال روزی کما سکیں۔
چاچا جی کی دو بیٹیاں ہیں، کوئی بیٹا نہیں۔ آج کے مہنگائی کے اس دور میں وہ روزانہ صرف چند سو روپے کما پاتے ہیں۔ کبھی کام تیز ہوتا ہے اور کبھی پورا دن گاہکوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ چاچا جی تقریباً دو کلو دودھ لے کر آتے ہیں، لیکن آج کل حالات ایسے ہیں کہ چھ گھنٹوں میں دو سے تین کلو دودھ کی چائے بیچنا بھی بہت مشکل ہو گیا ہے۔ تمام اخراجات نکالنے کے بعد کبھی 200 اور کبھی 300 سے 400 روپے تک بچتے ہیں۔
چاچا جی نے ایک ایسا وقت بھی دیکھا جب حالات اتنے خراب ہو گئے تھے کہ ان کے پاس چائے بنانے کے لیے دودھ خریدنے تک کے پیسے نہیں تھے اور وہ مسلسل تین دن گھر بیٹھے رہے۔ ذرا سوچیں، ایک باپ جس کے گھر میں دو بیٹیاں ہوں، وہ صرف اس لیے کام نہ کر سکے کہ اس کے پاس اگلے دن کی چائے کے لیے دودھ خریدنے کے پیسے نہیں تھے۔ 💔
ہم میں سے بہت سے لوگ روزانہ چائے پیتے ہیں، کبھی 100، 200 یا اس سے بھی زیادہ روپے صرف ایک کپ چائے پر خرچ کر دیتے ہیں۔ لیکن اگر یہی چائے کسی ایسے بزرگ سے خرید لی جائے جو اپنی اولاد کے لیے عزت کے ساتھ حلال رزق کمانے کی کوشش کر رہا ہو، تو شاید ہماری ایک چھوٹی سی مدد اس کے پورے دن کا سہارا بن جائے۔
میں نے خود چاچا جی کی چائے پی اور ماشاءاللہ بہت اچھی چائے بنا رہے تھے۔ ❤️☕
میری آپ سب سے گزارش ہے کہ جب بھی آپ ملتان جنرل بس اسٹینڈ جائیں اور وہاں چاچا جی کا چائے کا سٹال دیکھیں تو صرف چائے پی کر نہ گزریں، انہیں دل سے سپورٹ کریں۔ ان سے چائے لیں، ان کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئیں اور اگر استطاعت ہو تو کچھ زیادہ بھی دے دیں۔
یہ لوگ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلا رہے، بھیک نہیں مانگ رہے، بلکہ محنت کر کے اپنے بچوں کے لیے حلال رزق کما رہے ہیں۔ ایسے محنت کش لوگوں کی عزت اور حوصلہ افزائی کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
اللہ پاک چاچا جی کے رزق میں برکت عطا فرمائے، ان کی دونوں بیٹیوں کے نصیب اچھے کرے، ان کے گھر کے حالات آسان فرمائے اور ہر محنت کرنے والے انسان کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔ آمین۔ 🤲❤️
اگر آپ بھی ملتان جنرل بس اسٹینڈ جائیں تو چاچا جی کی چائے ضرور پئیں اور ان کا ساتھ ضرور دیں۔ شاید آپ کے لیے ایک کپ چائے ہو، لیکن ان کے لیے وہ پورے دن کی امید بن جائے۔ ❤️