09/07/2026
20 سال پہلے ایک زلزلے نے ہزاروں گھر اُجاڑ دیے… مگر ایک باپ کی امید آج بھی زندہ ہے۔
8 اکتوبر 2005 کی صبح، مظفرآباد کی 10 سالہ معصوم بچی ارفع طارق بھی ہر روز کی طرح اپنا اسکول بیگ اٹھا کر گھر سے نکلی تھی۔ کسی کو کیا معلوم تھا کہ یہ اس کی اپنے گھر والوں سے آخری ملاقات ثابت ہوگی۔
چند ہی لمحوں بعد زمین لرز اٹھی۔ عمارتیں گرنے لگیں، ہر طرف چیخ و پکار، گرد و غبار اور قیامت کا منظر تھا۔
ارفع گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول مظفرآباد کی پانچویں جماعت میں پڑھتی تھی۔
اس کی چند کلاس فیلوز، جو اس سانحے میں زندہ بچ گئیں، آج بھی یہ گواہی دیتی ہیں کہ انہوں نے ارفع کو اسکول کے باہر زخمی حالت میں دیکھا تھا۔ یعنی ارفع ملبے سے زندہ نکل آئی تھی…
لیکن اس کے بعد وہ کہاں گئی؟
یہ سوال آج بھی اس کے والد طارق محمود کی آنکھوں میں آنسو بن کر زندہ ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ انہیں آج بھی اپنی بیٹی کے زندہ ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ ایک باپ کا دل اب بھی اسی امید کے ساتھ دھڑکتا ہے کہ شاید ایک دن دروازہ کھلے گا، اور برسوں پہلے بچھڑ جانے والی اس کی بیٹی اسے آواز دے گی۔
ارفع کی والدہ منور سلطانہ (بےبی) نے بھی بیٹی کی جدائی کا ہر دن ایک صدی کی طرح گزارا ہے۔ اس کی بہنیں گل افشاں (افشی) اور زنیرہ طارق بھی آج تک اپنی بہن کی راہ دیکھ رہی ہیں۔
اگر ارفع زندہ ہے تو آج اس کی عمر تقریباً 31 سال ہوگی۔ ممکن ہے اسے اپنا بچپن یاد نہ ہو، اپنا نام بھی یاد نہ ہو، مگر شاید کوئی چہرہ، کوئی یاد، کوئی نشان اسے اس کے اپنے خاندان تک واپس لے آئے۔
میں آپ سب سے ایک درخواست کرتا ہوں۔
اس پوسٹ کو صرف پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیں۔
براہِ کرم اسے زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔
کون جانتا ہے کہ یہ پوسٹ کس کی ٹائم لائن پر پہنچے، کون اسے پہچان لے، یا شاید ارفع خود ہی اسے دیکھ لے۔
ہم نے اللہ کے فضل سے برسوں بعد سینکڑوں بچھڑے ہوئے لوگوں کو ان کے خاندانوں سے ملتے دیکھا ہے۔ اسی لیے میں آج بھی مایوس نہیں ہیں۔
شاید اگلی خوشخبری ارفع طارق کی ہو۔
اگر آپ کے پاس ارفع طارق کے بارے میں کوئی بھی معلومات ہوں، چاہے وہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ لگیں، براہِ کرم فوراً رابطہ کریں۔
+923162529829
9 july 2026