18/08/2026
قسط نمبر 13
بابر کے قدموں کے نشان
تیمور و بابر کی سرزمین پر
مغل تاریخ کی تلاش میں
الغ بیگ کی رصدگاہ سے نکلے تو آسمان ابھی ہمارے سروں پر تھا۔
کچھ دیر پہلے ہم اس جگہ کھڑے تھے جہاں پندرھویں صدی کے علماء نے ستاروں کو ناپا تھا۔ اب ہماری گاڑی سمرقند کے اس تاریخی مرکز کی طرف بڑھ رہی تھی جسے دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں۔
ریگستان۔
نام کا مطلب ہے: ریت بھرا میدان۔
مگر آج یہ ریت کا میدان نہیں۔
آج یہاں پتھر، کاشی، گنبد، محرابیں اور صدیوں کی تاریخ کھڑی ہے۔
اور جب ہم ریگستان کے قریب پہنچے تو پہلی نظر میں ہی اندازہ ہو گیا کہ اگلا منظر ہمارے پچھلے تمام مناظر سے مختلف ہونے والا ہے۔
دور سے تین عظیم عمارتیں ایک دوسرے کے سامنے اور اطراف میں دکھائی دینے لگیں۔
درمیان میں وسیع میدان۔
ایک طرف الغ بیگ مدرسہ۔
اس کے مقابل شیر دار مدرسہ۔
اور سامنے طلاکاری مدرسہ۔
تین عمارتیں۔
تین مختلف زمانے۔
مگر ایک ہی میدان۔
یہی ریگستان ہے۔
ہم گاڑی سے اترے۔
چند قدم آگے بڑھے۔
اور پھر رک گئے۔
سامنے پھیلا ہوا میدان ہماری توقع سے کہیں زیادہ وسیع محسوس ہو رہا تھا۔
دائیں طرف ایک بلند عمارت۔
بائیں طرف دوسری۔
سامنے تیسری۔
اور تینوں کے درمیان ایسا معماری توازن کہ انسان چند لمحوں کے لیے صرف دیکھتا رہ جاتا ہے۔
یونیسکو نے سمرقند کے تاریخی شہر کو "Crossroads of Cultures" یعنی تہذیبوں کے سنگم کے طور پر عالمی ورثے میں شامل کیا ہے، اور ریگستان کو شہر کے ان عظیم معماری مجموعوں میں شمار کیا ہے جنہوں نے اسلامی فنِ تعمیر کی ترقی پر پورے خطے، حتیٰ کہ ہندوستان کے مغلیہ فنِ تعمیر تک، اثر ڈالا۔
لیکن ریگستان کو سمجھنے کے لیے ہمیں پھر ایک مرتبہ وقت کو پیچھے لے جانا ہوگا۔
آج جو تین عمارتیں ہمیں ایک مکمل مجموعے کی صورت میں دکھائی دیتی ہیں، وہ ایک ہی وقت میں نہیں بنیں۔
سب سے پہلے یہاں الغ بیگ کا مدرسہ وجود میں آیا۔
الغ بیگ نے سمرقند کو صرف سیاسی دارالحکومت نہیں سمجھا تھا۔
وہ اسے علمی مرکز بنانا چاہتا تھا۔
اور اسی سوچ کے تحت اس نے ریگستان کو ایک ایسے علمی و شہری مرکز کی صورت دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
معتبر تاریخی ریکارڈ کے مطابق الغ بیگ کا مدرسہ 1417ء سے 1420ء کے درمیان تعمیر ہوا۔ بعد میں اس کے سامنے اور اردگرد دوسرے تعمیراتی اجزا شامل ہوتے گئے، یہاں تک کہ ریگستان ایک عظیم معماری مجموعے میں تبدیل ہو گیا۔
ہم نے سب سے پہلے اسی مدرسے کے سامنے جانے کا فیصلہ کیا۔
جوں جوں ہم قریب ہوئے، اس کا عظیم پیش طاق ہمارے سامنے بلند ہوتا گیا۔
یہاں بھی وہی تیموری معماری زبان تھی جسے ہم گورِ امیر، بی بی خانم اور شاہِ زندہ میں دیکھ چکے تھے۔
نیلا۔
فیروزی۔
سفید۔
سنہری جھلک۔
خطاطی۔
ہندسی نقش۔
اور کاشی کاری کی ایسی باریک تہیں کہ دور سے پوری عمارت ایک رنگین تصویر محسوس ہوتی ہے، مگر قریب آ کر معلوم ہوتا ہے کہ اس تصویر کا ہر حصہ الگ محنت کا نتیجہ ہے۔
ہم مرکزی دروازے کے نیچے کھڑے ہوئے۔
ذرا سر بلند کیا۔
اور اوپر دیکھا۔
اتنی بلندی پر خطاطی اور نقش و نگار بنانا اس دور کے معماروں اور کاریگروں کے لیے معمولی کام نہیں ہوگا۔
مگر یہاں وہ سب کچھ موجود تھا۔
اور شاید اس عمارت کی سب سے خوب صورت بات یہی تھی کہ یہ اپنی عظمت کا اظہار شور سے نہیں کرتی۔
یہ خاموش کھڑی ہے۔
اور آپ خود اس کے سامنے چھوٹا محسوس کرنے لگتے ہیں۔
ہم مدرسے کے اندر داخل ہوئے۔
ایک وسیع صحن۔
چاروں طرف طلبہ کے لیے حجرے۔
درمیان میں کھلا آسمان۔
اور صحن کے چاروں طرف علمی زندگی کے لیے مخصوص جگہیں۔
اب ذرا چھ سو برس پہلے کا منظر اپنے ذہن میں لائیے۔
یہاں خاموشی ایسی نہیں ہوگی جیسی آج ہے۔
طلبہ آ جا رہے ہوں گے۔
اساتذہ درس دے رہے ہوں گے۔
کسی حجرے میں کتاب کھلی ہوگی۔
کہیں ریاضی پر گفتگو ہو رہی ہوگی۔
کہیں فقہ پڑھائی جا رہی ہوگی۔
اور ممکن ہے کسی گوشے میں فلکیات کے مسئلے پر بحث جاری ہو۔
کیونکہ الغ بیگ کے لیے علم محض ایک موضوع نہیں تھا۔
یہ اس کی زندگی کا حصہ تھا۔
الغ بیگ کے علمی حلقے میں ریاضی اور فلکیات کو خاص اہمیت حاصل تھی، اور سمرقند میں قائم اس کے مدرسے اور رصدگاہ نے شہر کو پندرھویں صدی میں ایک اہم علمی مرکز بنا دیا۔
یہاں کھڑے ہو کر ہمیں گزشتہ منظر یاد آ گیا۔
رصدگاہ میں ہم نے آسمان ناپنے والے علماء کو تصور کیا تھا۔
اور اب ہم اسی علمی دنیا کے ایک دوسرے مرکز میں کھڑے تھے۔
گویا رصدگاہ اور مدرسہ ایک دوسرے سے الگ نہیں تھے۔
ایک جگہ علم پڑھایا جاتا تھا۔
دوسری جگہ اسی علم کو مشاہدے اور حساب کے ذریعے آگے بڑھایا جاتا تھا۔
اور اس پورے عمل کے پیچھے ایک حکمران کی سرپرستی تھی۔
یہ تیموری سمرقند کا وہ چہرہ تھا جو تلوار سے نہیں، علم سے پہچانا جاتا ہے۔
ہم مدرسے کے حجرات کی طرف دیکھ رہے تھے۔
آج وہاں دکانیں اور یادگاری اشیا بھی نظر آتی ہیں۔
مگر ان دیواروں کے اندر کبھی طلبہ رہتے تھے۔
یہی وہ فرق ہے جو موجودہ سمرقند اور تاریخی سمرقند کے درمیان ہے۔
عمارت وہی۔
مگر زندگی بدل چکی ہے۔
کبھی یہاں طالب علم کتاب لے کر چلتا تھا۔
آج یہاں سیاح کیمرہ لے کر چلتا ہے۔
کبھی استاد کی آواز گونجتی ہوگی۔
آج مختلف زبانوں میں بات کرتے ہوئے سیاحوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔
لیکن عمارت اب بھی کھڑی ہے۔
اور یہی اس کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
ہم باہر نکلے اور میدان کے وسط میں آ گئے۔
اب ہماری نگاہ سامنے موجود دوسری عمارت پر تھی۔
شیر دار مدرسہ۔
اگر الغ بیگ مدرسے کی شناخت علمی وقار ہے تو شیر دار کی شناخت اس کا غیر معمولی بیرونی نقش و نگار ہے۔
اسے دیکھتے ہی آنکھ ایک خاص منظر پر رک جاتی ہے۔
مرکزی پیش طاق کے اوپر شیر نما یا بڑے شکاری جانور کی تصویر اور اس کے سامنے ایک سفید ہرن نما جانور، جبکہ اوپر سورج کی شعاعیں۔
یہ اسلامی معماری کی عام خطاطی اور جیومیٹری سے قدرے مختلف منظر ہے، اور اسی نے اس مدرسے کو دنیا بھر میں ایک منفرد شناخت دی ہے۔
شیر دار مدرسہ 1619ء سے 1636ء کے درمیان سمرقند کے حاکم یالانگتوش بہادر کے حکم سے تعمیر ہوا۔ یہ الغ بیگ کے مدرسے کے مقابل بنایا گیا اور اس کے نقش میں پہلے سے موجود تیموری معماری روایت کو ایک نئے دور کے انداز میں دوبارہ پیش کرنے کی کوشش نظر آتی ہے۔
ہم اس کے سامنے جا کھڑے ہوئے۔
ذرا فاصلے سے دیکھنے پر مرکزی پیش طاق کی پوری ساخت نمایاں ہوتی ہے۔
پھر چند قدم قریب آئیں۔
اب نقش واضح ہونے لگتے ہیں۔
اور پھر اوپر دیکھیے۔
شیر اور ہرن کا وہ منظر فوراً نظر آتا ہے۔
یہاں ایک دلچسپ بات سامنے آتی ہے۔
یہ مدرسہ تیمور یا الغ بیگ کے زمانے کا نہیں۔
یہ سترھویں صدی کا ہے۔
یعنی جب ہم ریگستان کے میدان میں کھڑے ہیں تو ہمارے سامنے صرف تیموری دور نہیں۔
ہمیں اس کے بعد کی تاریخ بھی دکھائی دے رہی ہے۔
تیموری سلطنت ختم ہوئی۔
سیاسی حالات بدلے۔
سمرقند کی حیثیت بھی بدلتی رہی۔
لیکن شہر کی تعمیراتی روایت ختم نہیں ہوئی۔
بلکہ ایک نئی حکومت نے اسی میدان میں ایک نئی عمارت کھڑی کر دی۔
اور یہی ریگستان کی اصل خوب صورتی ہے۔
یہ ایک دور کا یادگار نہیں؛ یہ مختلف ادوار کا مکالمہ ہے۔
ہم نے شیر دار مدرسے کو ایک طرف سے دیکھا۔
پھر میدان کے دوسرے سرے سے۔
دونوں سمتوں سے اس کا منظر مختلف محسوس ہوتا تھا۔
یہاں کاشی کاری صرف عمارت کو خوب صورت بنانے کے لیے نہیں۔
اس میں تناسب، تکرار، symmetry اور رنگوں کا ایسا استعمال ہے کہ پوری عمارت ایک منظم بصری ترکیب بن جاتی ہے۔
ہم پھر میدان کے وسط میں آئے۔
اب سامنے تیسری عمارت تھی۔
طلاکاری مدرسہ۔
نام ہی بتا رہا تھا کہ یہاں سونے کا استعمال خاص اہمیت رکھتا ہے۔
طلاکاری یعنی سنہری یا سونے سے مزین۔
یہ عمارت ریگستان کے مجموعے کی تیسری اور آخری بڑی عمارت ہے، جس نے اس میدان کو وہ شکل دی جس میں ہم آج اسے دیکھتے ہیں۔
طلاکاری مدرسہ 1646ء میں شروع ہوا اور تقریباً 1659ء–1660ء میں مکمل ہوا۔ اس کی تعمیر بھی یالانگتوش بہادر کے حکم سے ہوئی اور اس میں ایک بڑی مسجد شامل تھی، جس نے سمرقند کی جامع مسجد کی ضرورت بھی پوری کی۔
ہم اس کے اندر داخل ہوئے۔
اور یہاں واقعی منظر بدل گیا۔
باہر سے عمارت کے نیلے اور فیروزی رنگ غالب نظر آتے ہیں۔
لیکن اندرونی حصے میں سنہری آرائش نے ماحول کو بالکل مختلف بنا دیا۔
دیواریں، محرابیں اور گنبدی سطحیں ایسی تزئین سے مزین ہیں جس کی وجہ سے اس کا نام طلاکاری بالکل موزوں محسوس ہوتا ہے۔
ہم نے کچھ دیر سر اٹھا کر چھت کو دیکھا۔
روشنی مختلف زاویوں سے اندر آ رہی تھی۔
سنہری نقش اس روشنی میں کبھی زیادہ روشن دکھائی دیتے، کبھی نسبتاً مدھم۔
اور یوں لگتا جیسے پوری چھت پر کسی نے سنہری روشنی پھیلا دی ہو۔
یہاں ایک تاریخی حقیقت بھی ہمارے لیے اہم تھی۔
طلاکاری صرف مدرسہ نہیں تھا۔
اس میں ایک بڑی مسجد بھی شامل تھی، اور ریگستان کے مجموعے کی تکمیل کے ساتھ یہ میدان سمرقند کی مذہبی اور شہری زندگی کا ایک اہم مرکز بن گیا۔
ہم باہر نکلے۔
اب تینوں عمارتیں ایک ہی منظر میں ہمارے سامنے تھیں۔
میں نے کافی دیر تک انہیں خاموشی سے دیکھا۔
الغ بیگ۔
شیر دار۔
طلاکاری۔
1417ء سے شروع ہونے والی ایک علمی تعمیراتی روایت۔
پھر سترھویں صدی کی دو عظیم عمارتیں۔
اور ان سب کے درمیان وہ میدان جس نے صدیوں کی تاریخ کو ایک ہی منظر میں محفوظ کر لیا۔
یہی وہ لمحہ تھا جب مجھے محسوس ہوا کہ ریگستان کو صرف دیکھنا کافی نہیں۔
اسے سمجھنا بھی ضروری ہے۔
کیونکہ اگر آپ صرف اس کے نیلے گنبد دیکھیں گے تو یہ ایک خوب صورت جگہ ہے۔
لیکن اگر آپ اس کی تاریخ پڑھ کر یہاں آئیں تو یہی میدان ایک کتاب بن جاتا ہے۔
ہر عمارت ایک باب۔
ہر محراب ایک جملہ۔
ہر کاشی ایک لفظ۔
اور پورا ریگستان ایک ایسا تاریخی متن جسے آنکھوں سے پڑھا جا سکتا ہے۔
ہم میدان کے ایک کنارے کھڑے تھے۔
اچانک ذہن میں بابر آ گیا۔
وہ نوجوان تیموری شہزادہ جس کے قدموں کے نشان ہم تلاش کرتے ہوئے یہاں تک پہنچے تھے۔
بابر نے سمرقند کو متعدد مرتبہ دیکھا۔
اس شہر پر قبضہ کیا۔
اسے کھویا۔
پھر دوبارہ حاصل کیا۔
اور آخرکار اسے ہمیشہ کے لیے اپنے پاس نہ رکھ سکا۔
لیکن جس سمرقند کو وہ اپنے خاندان کی میراث سمجھتا تھا، اس کی عمارتیں آج بھی ہمارے سامنے موجود ہیں۔
اور ریگستان انہی یادوں میں سے ایک ہے۔
البتہ یہاں ایک تاریخی احتیاط ضروری ہے۔
آج کا ریگستان جس شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے، بابر کے زمانے میں یہ تین مدرسوں کا موجودہ مجموعہ نہیں تھا۔
اس وقت الغ بیگ کے عہد کی تعمیرات موجود تھیں، جبکہ شیر دار اور طلاکاری بعد میں سترھویں صدی میں تعمیر ہوئے۔
یعنی اگر ہم بابر کو اسی میدان میں تصور کریں تو ہمیں موجودہ ریگستان کی پوری عمارتیں اس کے سامنے نہیں رکھنی چاہییں۔
اس کے سامنے ایک مختلف سمرقند تھا۔
یہ فرق معمولی نہیں۔
یہی فرق تاریخ اور افسانے میں ہوتا ہے۔
ہم ماضی کو خوب صورت بنانے کے لیے اس میں موجود چیزیں اپنی مرضی سے شامل نہیں کر سکتے۔
ہمیں بابر کے سمرقند کو بابر کے زمانے میں ہی دیکھنا ہوگا۔
اور شاید یہی اس سفرنامے کی سب سے اہم ذمہ داری بھی ہے۔
ہم نے دوبارہ میدان کی طرف دیکھا۔
آج کے ریگستان میں دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں۔
کوئی تصویر بنا رہا ہے۔
کوئی عمارت کے سامنے کھڑا ہے۔
کوئی گائیڈ کی بات سن رہا ہے۔
کوئی کاشی کاری کو قریب سے دیکھ رہا ہے۔
اور کوئی شاید ہماری طرح یہ سوچ رہا ہے کہ صدیوں پہلے یہاں علم کیسی آواز میں بولا کرتا ہوگا۔
یونیسکو نے ریگستان اور سمرقند کے دیگر تیموری معماری مجموعوں کو عالمی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان عمارتوں نے اسلامی فنِ تعمیر اور شہری منصوبہ بندی کی تاریخ میں نمایاں کردار ادا کیا اور ان کے اثرات مغلیہ ہندوستان تک پہنچے۔
یہ بات ہمارے سفر کے لیے خاص معنی رکھتی ہے۔
کیونکہ ہم جس ورثے کو دیکھ رہے ہیں، وہ صرف ازبکستان کا ورثہ نہیں۔
یہ اس تہذیبی سلسلے کا حصہ ہے جس کی ایک شاخ ہندوستان پہنچی اور وہاں مغلیہ سلطنت کے عہد میں نئی شکل اختیار کی۔
ہم نے میدان کو آخری بار دیکھا۔
تینوں مدرسے شام کی روشنی میں اور بھی خوب صورت دکھائی دے رہے تھے۔
نیلے گنبدوں پر سورج کی آخری کرنیں پڑ رہی تھیں۔
کاشی کاری کے رنگ نرم ہو گئے تھے۔
اور ریگستان کی وسعت میں ایک عجیب سکون اتر آیا تھا۔
ہم آہستہ آہستہ میدان سے باہر نکلنے لگے۔
مگر آج کی منزل ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی۔
سمرقند ہمیں ایک اور ایسی جگہ کی طرف بلا رہا تھا جہاں ہمیں بابر کے زمانے کے ایک اور اہم تاریخی رشتے کو تلاش کرنا تھا۔
ایک ایسی شخصیت جس کا نام تیموری دنیا میں روحانی، علمی اور سیاسی اثرات کے حوالے سے نمایاں رہا۔
خواجہ عبیداللہ احرار۔
ان کی نسبت سے قائم مقام سمرقند کے مضافات میں موجود ہے، اور بابر کی زندگی اور تیموری دور کو سمجھنے کے لیے یہ باب بھی ہماری تلاش میں اہم ہے۔
ہم نے گاڑی کا رخ سمرقند کے مرکزی حصے سے باہر کی طرف کیا۔
پیچھے ریگستان کے تینوں مدرسے رہ گئے۔
مگر ان کے نیلے گنبد ابھی تک ذہن میں تھے۔
آج ہم نے آسمان کو ناپنے والے الغ بیگ کو دیکھا تھا۔
علم کے مدرسے کو دیکھا تھا۔
شیر دار کے نقش و نگار دیکھے تھے۔
طلاکاری کی سنہری روشنی دیکھی تھی۔
اور ایک بات پھر واضح ہو گئی تھی:
تیموری سمرقند صرف فاتحوں کا شہر نہیں تھا؛ یہ علم، فن، مذہب اور تعمیر کا شہر بھی تھا۔
اور اسی سمرقند کی گلیوں میں بابر نے اپنی زندگی کے کچھ اہم ترین خواب دیکھے تھے۔
اب ہماری تلاش ہمیں شہر کے ایک اور گوشے میں لے جا رہی تھی۔
جہاں ہمیں ایک ایسے بزرگ کی یادگار کے سامنے کھڑا ہونا تھا جس کا اثر صرف روحانی زندگی تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کا تعلق وسطی ایشیا کی سیاست اور تیموری معاشرے سے بھی جڑتا ہے۔
گاڑی آگے بڑھ رہی تھی۔
اور سمرقند کی تاریخی داستان کا ایک نیا باب ہمارے سامنے کھل رہا تھا۔
بابر کے قدموں کے نشان اب خواجہ احرار کی دہلیز کی طرف بڑھ رہے تھے۔۔۔
**جاری ہے۔۔۔**