Mughal History Facts

Mughal History Facts تاریخِ مغلیہ کا مستند،تحقیقی اورعلمی صفحہ

قسط نمبر 13بابر کے قدموں کے نشانتیمور و بابر کی سرزمین پر مغل تاریخ کی تلاش میں الغ بیگ کی رصدگاہ سے نکلے تو آسمان ابھی ...
18/08/2026

قسط نمبر 13
بابر کے قدموں کے نشان
تیمور و بابر کی سرزمین پر
مغل تاریخ کی تلاش میں

الغ بیگ کی رصدگاہ سے نکلے تو آسمان ابھی ہمارے سروں پر تھا۔
کچھ دیر پہلے ہم اس جگہ کھڑے تھے جہاں پندرھویں صدی کے علماء نے ستاروں کو ناپا تھا۔ اب ہماری گاڑی سمرقند کے اس تاریخی مرکز کی طرف بڑھ رہی تھی جسے دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں۔
ریگستان۔
نام کا مطلب ہے: ریت بھرا میدان۔
مگر آج یہ ریت کا میدان نہیں۔
آج یہاں پتھر، کاشی، گنبد، محرابیں اور صدیوں کی تاریخ کھڑی ہے۔
اور جب ہم ریگستان کے قریب پہنچے تو پہلی نظر میں ہی اندازہ ہو گیا کہ اگلا منظر ہمارے پچھلے تمام مناظر سے مختلف ہونے والا ہے۔
دور سے تین عظیم عمارتیں ایک دوسرے کے سامنے اور اطراف میں دکھائی دینے لگیں۔
درمیان میں وسیع میدان۔
ایک طرف الغ بیگ مدرسہ۔
اس کے مقابل شیر دار مدرسہ۔
اور سامنے طلاکاری مدرسہ۔
تین عمارتیں۔
تین مختلف زمانے۔
مگر ایک ہی میدان۔
یہی ریگستان ہے۔
ہم گاڑی سے اترے۔
چند قدم آگے بڑھے۔
اور پھر رک گئے۔
سامنے پھیلا ہوا میدان ہماری توقع سے کہیں زیادہ وسیع محسوس ہو رہا تھا۔
دائیں طرف ایک بلند عمارت۔
بائیں طرف دوسری۔
سامنے تیسری۔
اور تینوں کے درمیان ایسا معماری توازن کہ انسان چند لمحوں کے لیے صرف دیکھتا رہ جاتا ہے۔
یونیسکو نے سمرقند کے تاریخی شہر کو "Crossroads of Cultures" یعنی تہذیبوں کے سنگم کے طور پر عالمی ورثے میں شامل کیا ہے، اور ریگستان کو شہر کے ان عظیم معماری مجموعوں میں شمار کیا ہے جنہوں نے اسلامی فنِ تعمیر کی ترقی پر پورے خطے، حتیٰ کہ ہندوستان کے مغلیہ فنِ تعمیر تک، اثر ڈالا۔
لیکن ریگستان کو سمجھنے کے لیے ہمیں پھر ایک مرتبہ وقت کو پیچھے لے جانا ہوگا۔
آج جو تین عمارتیں ہمیں ایک مکمل مجموعے کی صورت میں دکھائی دیتی ہیں، وہ ایک ہی وقت میں نہیں بنیں۔
سب سے پہلے یہاں الغ بیگ کا مدرسہ وجود میں آیا۔
الغ بیگ نے سمرقند کو صرف سیاسی دارالحکومت نہیں سمجھا تھا۔
وہ اسے علمی مرکز بنانا چاہتا تھا۔
اور اسی سوچ کے تحت اس نے ریگستان کو ایک ایسے علمی و شہری مرکز کی صورت دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
معتبر تاریخی ریکارڈ کے مطابق الغ بیگ کا مدرسہ 1417ء سے 1420ء کے درمیان تعمیر ہوا۔ بعد میں اس کے سامنے اور اردگرد دوسرے تعمیراتی اجزا شامل ہوتے گئے، یہاں تک کہ ریگستان ایک عظیم معماری مجموعے میں تبدیل ہو گیا۔
ہم نے سب سے پہلے اسی مدرسے کے سامنے جانے کا فیصلہ کیا۔
جوں جوں ہم قریب ہوئے، اس کا عظیم پیش طاق ہمارے سامنے بلند ہوتا گیا۔
یہاں بھی وہی تیموری معماری زبان تھی جسے ہم گورِ امیر، بی بی خانم اور شاہِ زندہ میں دیکھ چکے تھے۔
نیلا۔
فیروزی۔
سفید۔
سنہری جھلک۔
خطاطی۔
ہندسی نقش۔
اور کاشی کاری کی ایسی باریک تہیں کہ دور سے پوری عمارت ایک رنگین تصویر محسوس ہوتی ہے، مگر قریب آ کر معلوم ہوتا ہے کہ اس تصویر کا ہر حصہ الگ محنت کا نتیجہ ہے۔
ہم مرکزی دروازے کے نیچے کھڑے ہوئے۔
ذرا سر بلند کیا۔
اور اوپر دیکھا۔
اتنی بلندی پر خطاطی اور نقش و نگار بنانا اس دور کے معماروں اور کاریگروں کے لیے معمولی کام نہیں ہوگا۔
مگر یہاں وہ سب کچھ موجود تھا۔
اور شاید اس عمارت کی سب سے خوب صورت بات یہی تھی کہ یہ اپنی عظمت کا اظہار شور سے نہیں کرتی۔
یہ خاموش کھڑی ہے۔
اور آپ خود اس کے سامنے چھوٹا محسوس کرنے لگتے ہیں۔
ہم مدرسے کے اندر داخل ہوئے۔
ایک وسیع صحن۔
چاروں طرف طلبہ کے لیے حجرے۔
درمیان میں کھلا آسمان۔
اور صحن کے چاروں طرف علمی زندگی کے لیے مخصوص جگہیں۔
اب ذرا چھ سو برس پہلے کا منظر اپنے ذہن میں لائیے۔
یہاں خاموشی ایسی نہیں ہوگی جیسی آج ہے۔
طلبہ آ جا رہے ہوں گے۔
اساتذہ درس دے رہے ہوں گے۔
کسی حجرے میں کتاب کھلی ہوگی۔
کہیں ریاضی پر گفتگو ہو رہی ہوگی۔
کہیں فقہ پڑھائی جا رہی ہوگی۔
اور ممکن ہے کسی گوشے میں فلکیات کے مسئلے پر بحث جاری ہو۔
کیونکہ الغ بیگ کے لیے علم محض ایک موضوع نہیں تھا۔
یہ اس کی زندگی کا حصہ تھا۔
الغ بیگ کے علمی حلقے میں ریاضی اور فلکیات کو خاص اہمیت حاصل تھی، اور سمرقند میں قائم اس کے مدرسے اور رصدگاہ نے شہر کو پندرھویں صدی میں ایک اہم علمی مرکز بنا دیا۔
یہاں کھڑے ہو کر ہمیں گزشتہ منظر یاد آ گیا۔
رصدگاہ میں ہم نے آسمان ناپنے والے علماء کو تصور کیا تھا۔
اور اب ہم اسی علمی دنیا کے ایک دوسرے مرکز میں کھڑے تھے۔
گویا رصدگاہ اور مدرسہ ایک دوسرے سے الگ نہیں تھے۔
ایک جگہ علم پڑھایا جاتا تھا۔
دوسری جگہ اسی علم کو مشاہدے اور حساب کے ذریعے آگے بڑھایا جاتا تھا۔
اور اس پورے عمل کے پیچھے ایک حکمران کی سرپرستی تھی۔
یہ تیموری سمرقند کا وہ چہرہ تھا جو تلوار سے نہیں، علم سے پہچانا جاتا ہے۔
ہم مدرسے کے حجرات کی طرف دیکھ رہے تھے۔
آج وہاں دکانیں اور یادگاری اشیا بھی نظر آتی ہیں۔
مگر ان دیواروں کے اندر کبھی طلبہ رہتے تھے۔
یہی وہ فرق ہے جو موجودہ سمرقند اور تاریخی سمرقند کے درمیان ہے۔
عمارت وہی۔
مگر زندگی بدل چکی ہے۔
کبھی یہاں طالب علم کتاب لے کر چلتا تھا۔
آج یہاں سیاح کیمرہ لے کر چلتا ہے۔
کبھی استاد کی آواز گونجتی ہوگی۔
آج مختلف زبانوں میں بات کرتے ہوئے سیاحوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔
لیکن عمارت اب بھی کھڑی ہے۔
اور یہی اس کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
ہم باہر نکلے اور میدان کے وسط میں آ گئے۔
اب ہماری نگاہ سامنے موجود دوسری عمارت پر تھی۔
شیر دار مدرسہ۔
اگر الغ بیگ مدرسے کی شناخت علمی وقار ہے تو شیر دار کی شناخت اس کا غیر معمولی بیرونی نقش و نگار ہے۔
اسے دیکھتے ہی آنکھ ایک خاص منظر پر رک جاتی ہے۔
مرکزی پیش طاق کے اوپر شیر نما یا بڑے شکاری جانور کی تصویر اور اس کے سامنے ایک سفید ہرن نما جانور، جبکہ اوپر سورج کی شعاعیں۔
یہ اسلامی معماری کی عام خطاطی اور جیومیٹری سے قدرے مختلف منظر ہے، اور اسی نے اس مدرسے کو دنیا بھر میں ایک منفرد شناخت دی ہے۔
شیر دار مدرسہ 1619ء سے 1636ء کے درمیان سمرقند کے حاکم یالانگتوش بہادر کے حکم سے تعمیر ہوا۔ یہ الغ بیگ کے مدرسے کے مقابل بنایا گیا اور اس کے نقش میں پہلے سے موجود تیموری معماری روایت کو ایک نئے دور کے انداز میں دوبارہ پیش کرنے کی کوشش نظر آتی ہے۔
ہم اس کے سامنے جا کھڑے ہوئے۔
ذرا فاصلے سے دیکھنے پر مرکزی پیش طاق کی پوری ساخت نمایاں ہوتی ہے۔
پھر چند قدم قریب آئیں۔
اب نقش واضح ہونے لگتے ہیں۔
اور پھر اوپر دیکھیے۔
شیر اور ہرن کا وہ منظر فوراً نظر آتا ہے۔
یہاں ایک دلچسپ بات سامنے آتی ہے۔
یہ مدرسہ تیمور یا الغ بیگ کے زمانے کا نہیں۔
یہ سترھویں صدی کا ہے۔
یعنی جب ہم ریگستان کے میدان میں کھڑے ہیں تو ہمارے سامنے صرف تیموری دور نہیں۔
ہمیں اس کے بعد کی تاریخ بھی دکھائی دے رہی ہے۔
تیموری سلطنت ختم ہوئی۔
سیاسی حالات بدلے۔
سمرقند کی حیثیت بھی بدلتی رہی۔
لیکن شہر کی تعمیراتی روایت ختم نہیں ہوئی۔
بلکہ ایک نئی حکومت نے اسی میدان میں ایک نئی عمارت کھڑی کر دی۔
اور یہی ریگستان کی اصل خوب صورتی ہے۔
یہ ایک دور کا یادگار نہیں؛ یہ مختلف ادوار کا مکالمہ ہے۔
ہم نے شیر دار مدرسے کو ایک طرف سے دیکھا۔
پھر میدان کے دوسرے سرے سے۔
دونوں سمتوں سے اس کا منظر مختلف محسوس ہوتا تھا۔
یہاں کاشی کاری صرف عمارت کو خوب صورت بنانے کے لیے نہیں۔
اس میں تناسب، تکرار، symmetry اور رنگوں کا ایسا استعمال ہے کہ پوری عمارت ایک منظم بصری ترکیب بن جاتی ہے۔
ہم پھر میدان کے وسط میں آئے۔
اب سامنے تیسری عمارت تھی۔
طلاکاری مدرسہ۔
نام ہی بتا رہا تھا کہ یہاں سونے کا استعمال خاص اہمیت رکھتا ہے۔
طلاکاری یعنی سنہری یا سونے سے مزین۔
یہ عمارت ریگستان کے مجموعے کی تیسری اور آخری بڑی عمارت ہے، جس نے اس میدان کو وہ شکل دی جس میں ہم آج اسے دیکھتے ہیں۔
طلاکاری مدرسہ 1646ء میں شروع ہوا اور تقریباً 1659ء–1660ء میں مکمل ہوا۔ اس کی تعمیر بھی یالانگتوش بہادر کے حکم سے ہوئی اور اس میں ایک بڑی مسجد شامل تھی، جس نے سمرقند کی جامع مسجد کی ضرورت بھی پوری کی۔
ہم اس کے اندر داخل ہوئے۔
اور یہاں واقعی منظر بدل گیا۔
باہر سے عمارت کے نیلے اور فیروزی رنگ غالب نظر آتے ہیں۔
لیکن اندرونی حصے میں سنہری آرائش نے ماحول کو بالکل مختلف بنا دیا۔
دیواریں، محرابیں اور گنبدی سطحیں ایسی تزئین سے مزین ہیں جس کی وجہ سے اس کا نام طلاکاری بالکل موزوں محسوس ہوتا ہے۔
ہم نے کچھ دیر سر اٹھا کر چھت کو دیکھا۔
روشنی مختلف زاویوں سے اندر آ رہی تھی۔
سنہری نقش اس روشنی میں کبھی زیادہ روشن دکھائی دیتے، کبھی نسبتاً مدھم۔
اور یوں لگتا جیسے پوری چھت پر کسی نے سنہری روشنی پھیلا دی ہو۔
یہاں ایک تاریخی حقیقت بھی ہمارے لیے اہم تھی۔
طلاکاری صرف مدرسہ نہیں تھا۔
اس میں ایک بڑی مسجد بھی شامل تھی، اور ریگستان کے مجموعے کی تکمیل کے ساتھ یہ میدان سمرقند کی مذہبی اور شہری زندگی کا ایک اہم مرکز بن گیا۔
ہم باہر نکلے۔
اب تینوں عمارتیں ایک ہی منظر میں ہمارے سامنے تھیں۔
میں نے کافی دیر تک انہیں خاموشی سے دیکھا۔
الغ بیگ۔
شیر دار۔
طلاکاری۔
1417ء سے شروع ہونے والی ایک علمی تعمیراتی روایت۔
پھر سترھویں صدی کی دو عظیم عمارتیں۔
اور ان سب کے درمیان وہ میدان جس نے صدیوں کی تاریخ کو ایک ہی منظر میں محفوظ کر لیا۔
یہی وہ لمحہ تھا جب مجھے محسوس ہوا کہ ریگستان کو صرف دیکھنا کافی نہیں۔
اسے سمجھنا بھی ضروری ہے۔
کیونکہ اگر آپ صرف اس کے نیلے گنبد دیکھیں گے تو یہ ایک خوب صورت جگہ ہے۔
لیکن اگر آپ اس کی تاریخ پڑھ کر یہاں آئیں تو یہی میدان ایک کتاب بن جاتا ہے۔
ہر عمارت ایک باب۔
ہر محراب ایک جملہ۔
ہر کاشی ایک لفظ۔
اور پورا ریگستان ایک ایسا تاریخی متن جسے آنکھوں سے پڑھا جا سکتا ہے۔
ہم میدان کے ایک کنارے کھڑے تھے۔
اچانک ذہن میں بابر آ گیا۔
وہ نوجوان تیموری شہزادہ جس کے قدموں کے نشان ہم تلاش کرتے ہوئے یہاں تک پہنچے تھے۔
بابر نے سمرقند کو متعدد مرتبہ دیکھا۔
اس شہر پر قبضہ کیا۔
اسے کھویا۔
پھر دوبارہ حاصل کیا۔
اور آخرکار اسے ہمیشہ کے لیے اپنے پاس نہ رکھ سکا۔
لیکن جس سمرقند کو وہ اپنے خاندان کی میراث سمجھتا تھا، اس کی عمارتیں آج بھی ہمارے سامنے موجود ہیں۔
اور ریگستان انہی یادوں میں سے ایک ہے۔
البتہ یہاں ایک تاریخی احتیاط ضروری ہے۔
آج کا ریگستان جس شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے، بابر کے زمانے میں یہ تین مدرسوں کا موجودہ مجموعہ نہیں تھا۔
اس وقت الغ بیگ کے عہد کی تعمیرات موجود تھیں، جبکہ شیر دار اور طلاکاری بعد میں سترھویں صدی میں تعمیر ہوئے۔
یعنی اگر ہم بابر کو اسی میدان میں تصور کریں تو ہمیں موجودہ ریگستان کی پوری عمارتیں اس کے سامنے نہیں رکھنی چاہییں۔
اس کے سامنے ایک مختلف سمرقند تھا۔
یہ فرق معمولی نہیں۔
یہی فرق تاریخ اور افسانے میں ہوتا ہے۔
ہم ماضی کو خوب صورت بنانے کے لیے اس میں موجود چیزیں اپنی مرضی سے شامل نہیں کر سکتے۔
ہمیں بابر کے سمرقند کو بابر کے زمانے میں ہی دیکھنا ہوگا۔
اور شاید یہی اس سفرنامے کی سب سے اہم ذمہ داری بھی ہے۔
ہم نے دوبارہ میدان کی طرف دیکھا۔
آج کے ریگستان میں دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں۔
کوئی تصویر بنا رہا ہے۔
کوئی عمارت کے سامنے کھڑا ہے۔
کوئی گائیڈ کی بات سن رہا ہے۔
کوئی کاشی کاری کو قریب سے دیکھ رہا ہے۔
اور کوئی شاید ہماری طرح یہ سوچ رہا ہے کہ صدیوں پہلے یہاں علم کیسی آواز میں بولا کرتا ہوگا۔
یونیسکو نے ریگستان اور سمرقند کے دیگر تیموری معماری مجموعوں کو عالمی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان عمارتوں نے اسلامی فنِ تعمیر اور شہری منصوبہ بندی کی تاریخ میں نمایاں کردار ادا کیا اور ان کے اثرات مغلیہ ہندوستان تک پہنچے۔
یہ بات ہمارے سفر کے لیے خاص معنی رکھتی ہے۔
کیونکہ ہم جس ورثے کو دیکھ رہے ہیں، وہ صرف ازبکستان کا ورثہ نہیں۔
یہ اس تہذیبی سلسلے کا حصہ ہے جس کی ایک شاخ ہندوستان پہنچی اور وہاں مغلیہ سلطنت کے عہد میں نئی شکل اختیار کی۔
ہم نے میدان کو آخری بار دیکھا۔
تینوں مدرسے شام کی روشنی میں اور بھی خوب صورت دکھائی دے رہے تھے۔
نیلے گنبدوں پر سورج کی آخری کرنیں پڑ رہی تھیں۔
کاشی کاری کے رنگ نرم ہو گئے تھے۔
اور ریگستان کی وسعت میں ایک عجیب سکون اتر آیا تھا۔
ہم آہستہ آہستہ میدان سے باہر نکلنے لگے۔
مگر آج کی منزل ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی۔
سمرقند ہمیں ایک اور ایسی جگہ کی طرف بلا رہا تھا جہاں ہمیں بابر کے زمانے کے ایک اور اہم تاریخی رشتے کو تلاش کرنا تھا۔
ایک ایسی شخصیت جس کا نام تیموری دنیا میں روحانی، علمی اور سیاسی اثرات کے حوالے سے نمایاں رہا۔
خواجہ عبیداللہ احرار۔
ان کی نسبت سے قائم مقام سمرقند کے مضافات میں موجود ہے، اور بابر کی زندگی اور تیموری دور کو سمجھنے کے لیے یہ باب بھی ہماری تلاش میں اہم ہے۔
ہم نے گاڑی کا رخ سمرقند کے مرکزی حصے سے باہر کی طرف کیا۔
پیچھے ریگستان کے تینوں مدرسے رہ گئے۔
مگر ان کے نیلے گنبد ابھی تک ذہن میں تھے۔
آج ہم نے آسمان کو ناپنے والے الغ بیگ کو دیکھا تھا۔
علم کے مدرسے کو دیکھا تھا۔
شیر دار کے نقش و نگار دیکھے تھے۔
طلاکاری کی سنہری روشنی دیکھی تھی۔
اور ایک بات پھر واضح ہو گئی تھی:
تیموری سمرقند صرف فاتحوں کا شہر نہیں تھا؛ یہ علم، فن، مذہب اور تعمیر کا شہر بھی تھا۔
اور اسی سمرقند کی گلیوں میں بابر نے اپنی زندگی کے کچھ اہم ترین خواب دیکھے تھے۔
اب ہماری تلاش ہمیں شہر کے ایک اور گوشے میں لے جا رہی تھی۔
جہاں ہمیں ایک ایسے بزرگ کی یادگار کے سامنے کھڑا ہونا تھا جس کا اثر صرف روحانی زندگی تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کا تعلق وسطی ایشیا کی سیاست اور تیموری معاشرے سے بھی جڑتا ہے۔
گاڑی آگے بڑھ رہی تھی۔
اور سمرقند کی تاریخی داستان کا ایک نیا باب ہمارے سامنے کھل رہا تھا۔
بابر کے قدموں کے نشان اب خواجہ احرار کی دہلیز کی طرف بڑھ رہے تھے۔۔۔
**جاری ہے۔۔۔**

قسط نمبر 12بابر کے قدموں کے نشانتیمور و بابر کی سرزمین پر مغل تاریخ کی تلاش میں شاہِ زندہ کی سیڑھیاں ہمارے پیچھے رہ گئی ...
18/08/2026

قسط نمبر 12
بابر کے قدموں کے نشان
تیمور و بابر کی سرزمین پر
مغل تاریخ کی تلاش میں

شاہِ زندہ کی سیڑھیاں ہمارے پیچھے رہ گئی تھیں۔
ہم نیچے اتر آئے تھے، مگر ذہن ابھی تک ان نیلے گنبدوں اور فیروزی کاشی کاری کے درمیان کہیں ٹھہرا ہوا تھا۔ چند لمحے پہلے ہم قبروں اور مقبروں کے درمیان صدیوں کی خاموشی سن رہے تھے، اور اب سمرقند ہمیں تاریخ کا ایک بالکل مختلف چہرہ دکھانے والا تھا۔
اب ہماری منزل کسی بادشاہ کا مقبرہ نہیں تھی۔
نہ کوئی عظیم الشان مسجد۔
نہ کوئی شاہی محل۔
اس مرتبہ ہم جا رہے تھے ایک ایسی جگہ جہاں کبھی انسان نے آسمان کو زمین پر ناپنے کی کوشش کی تھی۔
ہماری منزل تھی:
الغ بیگ کی رصدگاہ۔
گاڑی سمرقند کی گلیوں سے گزرتی ہوئی شہر کے نسبتاً بلند حصے کی طرف بڑھنے لگی۔
میں کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا اور ذہن میں ایک عجیب سا سوال بار بار آ رہا تھا۔
آخر ایک بادشاہ کو ستاروں سے اتنی دلچسپی کیوں تھی؟
جس خاندان کے نام کے ساتھ میدانِ جنگ، سلطنت، فتوحات اور اقتدار کی داستانیں جڑی ہوئی تھیں، اسی خاندان کا ایک شہزادہ ایسا بھی تھا جو اپنی توجہ آسمان کی طرف لے گیا۔
یہ شخص تھا:
میرزا الغ بیگ۔
امیر تیمور کا پوتا اور شاہ رخ مرزا کا بیٹا۔
وہی تیموری خاندان جس کی نسبت ہم گورِ امیر میں دیکھ کر آئے تھے۔
اور اب اسی خاندان کی ایک دوسری میراث ہمارے سامنے آنے والی تھی۔
علم۔
الغ بیگ 1394ء میں پیدا ہوا اور تیمور کی وفات کے بعد اس کے بیٹے شاہ رخ کے زیرِ اقتدار تیموری دنیا کے اہم ترین مراکز میں سے ایک، سمرقند، اس کی علمی سرگرمیوں کا مرکز بنا۔ وہ 1409ء سے سمرقند اور ماوراءالنہر کا حکمران رہا اور ریاضی و فلکیات میں غیر معمولی دلچسپی رکھتا تھا۔
ہم رصدگاہ کے قریب پہنچے۔
باہر سے دیکھنے پر آج یہاں وہ عمارت موجود نہیں جو الغ بیگ کے زمانے میں ہوا کرتی تھی۔
یہ بات شاید کسی ایسے شخص کے لیے حیران کن ہو جو پہلی مرتبہ یہاں آ رہا ہو۔
اتنی مشہور رصدگاہ، جس کا ذکر تاریخِ سائنس میں ہوتا ہے، آخر کہاں ہے؟
ہم اندر داخل ہوئے تو اس سوال کا جواب سامنے آنے لگا۔
اصل عمارت صدیوں پہلے تباہ ہو چکی ہے۔
آج یہاں جو کچھ باقی ہے، وہ زیادہ تر اس عظیم رصدگاہ کی بنیادوں اور اس کے مرکزی فلکیاتی آلے کے زیرِ زمین محفوظ حصے کی شکل میں ہے۔
اور یہی باقیات اس جگہ کو غیر معمولی بنا دیتی ہیں۔
ہم چند قدم آگے بڑھے۔
پھر اچانک ہماری نگاہ ایک لمبے، خم دار، سنگِ مرمر سے بنے ہوئے حصے پر پڑی۔
یہ بظاہر ایک دیوار کا ٹکڑا معلوم ہوتا ہے۔
مگر دراصل یہ ایک ایسے آلے کا باقی ماندہ حصہ ہے جس نے پندرھویں صدی کے سمرقند کو دنیا کے اہم ترین فلکیاتی مراکز میں شامل کر دیا تھا۔
فخری سیکسٹنٹ۔
یعنی وہ عظیم فلکیاتی آلہ جس کے ذریعے آسمانی اجرام کی بلندی اور دوسرے فلکیاتی پیمانے انتہائی دقت کے ساتھ ناپے جاتے تھے۔
اور یہاں ذرا رک کر اس کی جسامت کا تصور کیجیے۔
اس کے قوس نما آلے کا رداس تقریباً 40 میٹر تھا۔
اسے اس انداز میں تعمیر کیا گیا تھا کہ اس کا ایک بڑا حصہ زمین کے اندر بنایا جائے۔ موجودہ محفوظ حصے میں سنگِ مرمر سے مزین متوازی دیواریں اور پیمائش کے نشانات آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
میں نے نیچے کی طرف دیکھا۔
اور پھر بے اختیار خیال آیا:
پانچ سو، چھ سو برس پہلے یہاں لوگ کیا کر رہے ہوں گے؟
آج ہمارے پاس دوربینیں ہیں۔
سیٹلائٹ ہیں۔
کمپیوٹر ہیں۔
انتہائی حساس کیمرے اور سینسر ہیں۔
مگر اس زمانے میں؟
نہ دوربین تھی۔
نہ جدید کمپیوٹر۔
نہ بجلی۔
نہ وہ سائنسی آلات جنہیں ہم آج معمولی سمجھتے ہیں۔
صرف ریاضی، مشاہدہ، ذہانت اور صبر۔
اور انہی چیزوں کے ذریعے سمرقند کے علماء آسمان کا حساب لگا رہے تھے۔
الغ بیگ کی رصدگاہ کی تعمیر پندرھویں صدی کے ابتدائی عشروں میں ہوئی؛ معتبر علمی ذرائع اسے 1420ء کی دہائی کی تعمیر قرار دیتے ہیں۔ اس کا مرکزی دائرہ نما ڈھانچہ تقریباً 46 میٹر قطر اور تقریباً 30 میٹر بلند بتایا جاتا ہے، جبکہ عظیم فخری سیکسٹنٹ کا رداس تقریباً 40 میٹر تھا۔
ذرا اس عمارت کا تصور کیجیے۔
ایک تقریباً گول، کئی منزلہ عمارت۔
اوپر کھلا آسمان۔
اندر بڑے بڑے فلکیاتی آلات۔
اور عمارت کے وسط میں شمال سے جنوب کی سمت ایک ایسا عظیم آلہ جس کی پیمائش کے لیے اسے زمین میں گہرا اتارا گیا تھا۔
اس زمانے میں یہ محض ایک عمارت نہیں تھی۔
یہ ایک سائنسی تحقیق گاہ تھی۔
یہاں آسمان کو دیکھا جاتا تھا۔
حساب کیا جاتا تھا۔
اعداد لکھے جاتے تھے۔
پرانے حسابات سے موازنہ کیا جاتا تھا۔
اور پھر نئی جدولیں تیار کی جاتی تھیں۔
الغ بیگ اکیلا یہ کام نہیں کر رہا تھا۔
اس نے اپنے گرد اپنے زمانے کے ممتاز ریاضی دانوں اور ماہرینِ فلکیات کو جمع کیا۔
ان میں غیاث الدین جمشید کاشانی، قاضی زادہ رومی اور علی قوشچی جیسے نام شامل تھے۔ الغ بیگ کی علمی سرگرمیوں کے گرد قائم یہ سمرقندی علمی حلقہ اپنے زمانے کے اہم ترین ریاضیاتی و فلکیاتی مراکز میں شمار ہوا۔
ہمیں یہاں ایک بات خاص طور پر یاد رکھنی چاہیے۔
یہ صرف بادشاہ کی ذاتی دلچسپی نہیں تھی۔
یہ ایک منظم علمی منصوبہ تھا۔
سمرقند میں مدرسہ قائم کیا گیا۔
علماء اور طلبہ جمع ہوئے۔
ریاضی اور فلکیات پر بحث ہوئی۔
اور پھر رصدگاہ نے مشاہدے کو عملی تحقیق سے جوڑ دیا۔
الغ بیگ کا مدرسہ تقریباً 1420ء میں قائم ہوا، اور اس کے بعد رصدگاہ نے سمرقند کے علمی ماحول کو مزید وسعت دی۔
ہم رصدگاہ کے باقی ماندہ حصے کے قریب کھڑے تھے۔
میں نے سوچا:
یہ وہی سمرقند ہے جس میں ہم کل تیمور کی قبر پر کھڑے تھے۔
وہی شہر جہاں بی بی خانم مسجد نے ہمیں سلطنت کی عظمت دکھائی۔
وہی شہر جہاں شاہِ زندہ نے ہمیں عقیدت اور معماری کا امتزاج دکھایا۔
اور اب یہی شہر ہمیں بتا رہا تھا کہ تیموری ورثے میں صرف تلوار نہیں تھی، قلم بھی تھا۔
صرف فتوحات نہیں تھیں، مشاہدہ بھی تھا۔
صرف محلات نہیں تھے، مدارس بھی تھے۔
اور صرف زمین پر حکومت کرنے کا خواب نہیں تھا، بلکہ آسمان کو سمجھنے کی جستجو بھی تھی۔
ہم نے رصدگاہ کے باقی ماندہ فلکیاتی آلے کو دیکھا۔
اس پر بنے ہوئے پیمائشی نشانات آج بھی اس سائنسی ذہن کی گواہی دیتے ہیں جو صدیوں پہلے یہاں کام کر رہا تھا۔
اس آلے کی اصل اہمیت اس کی جسامت سے زیادہ درستگی میں تھی۔
اس عظیم سیکسٹنٹ کے پیمانے پر تقریباً 70 سینٹی میٹر ایک درجے کے برابر تھا، اور اس کی باریک تقسیم انتہائی چھوٹے زاویائی فرق ناپنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ جدید تاریخی تحقیق کے مطابق اس آلے کے ذریعے سورج اور دوسرے اجرامِ فلکی کی بلندی سمیت اہم فلکیاتی پیمائشیں کی جاتی تھیں۔
یہاں کھڑے ہو کر ایک لمحے کے لیے تصور کیجیے۔
رات کا وقت ہے۔
سمرقند سو رہا ہے۔
محلوں کی روشنیاں محدود ہیں۔
گلیاں خاموش ہیں۔
لیکن اس رصدگاہ میں کچھ لوگ جاگ رہے ہیں۔
ان کی نظریں آسمان پر ہیں۔
ایک شخص پیمانہ دیکھ رہا ہے۔
دوسرا حساب لکھ رہا ہے۔
تیسرا وقت نوٹ کر رہا ہے۔
اور کہیں الغ بیگ خود موجود ہے، اپنے علماء کے ساتھ کسی مسئلے پر گفتگو کر رہا ہے۔
آسمان پر ستارے اپنی جگہ موجود ہیں۔
مگر زمین پر بیٹھے یہ انسان ان ستاروں کو اعداد میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ منظر شاید ہماری پوری سمرقند یاترا کے سب سے خوب صورت مناظر میں سے ایک تھا۔
کیونکہ یہاں تاریخ ہمیں خاموش عمارتوں سے نہیں بلکہ انسانی ذہانت کے نشانوں سے دکھائی دے رہی تھی۔
الغ بیگ اور اس کے علمی حلقے کا ایک بڑا کارنامہ ستاروں کی ایک جامع فہرست کی تیاری تھا۔
ان کی مشاہداتی تحقیق سے تیار ہونے والی زیجِ الغ بیگ میں تقریباً ایک ہزار ستاروں کے مقامات کے اعداد و شمار شامل تھے، اور اس علمی کام نے بعد کی فلکیاتی روایت پر گہرا اثر ڈالا۔ ایک معتبر علمی ماخذ کے مطابق سمرقند کے مشاہدات میں ایک ہزار سے زیادہ ستاروں کے طول و عرض کی جانچ اور تصحیح شامل تھی۔
یہاں ایک بات مجھے خاص طور پر حیران کرتی رہی۔
الغ بیگ کے علماء نے جو کچھ کیا، وہ کسی ایک رات یا ایک موسم کا کام نہیں تھا۔
اس کے لیے مسلسل مشاہدات چاہیے تھے۔
حساب چاہیے تھا۔
پرانے علم سے واقفیت چاہیے تھی۔
اور سب سے بڑھ کر یہ اعتراف چاہیے تھا کہ پہلے سے موجود علم کو دوبارہ جانچا جا سکتا ہے۔
یہی تحقیق کی روح ہے۔
ایک قدیم جدول موجود ہے۔
آپ اسے مقدس سمجھ کر دہراتے نہیں۔
آپ آسمان کی طرف دیکھتے ہیں۔
پھر دوبارہ حساب کرتے ہیں۔
اور اگر مشاہدہ مختلف نتیجہ دے تو علم کو بہتر بناتے ہیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ سمرقند کا یہ علمی دور آج بھی تاریخِ سائنس میں اہم سمجھا جاتا ہے۔
ہم رصدگاہ کے میوزیم والے حصے کی طرف بڑھے۔
وہاں الغ بیگ کی زندگی، اس کے علمی کام اور اس دور کے فلکیاتی آلات سے متعلق مواد موجود تھا۔
اب سامنے ایک اور سوال تھا:
اتنی عظیم رصدگاہ پھر ختم کیسے ہوئی؟
تاریخ یہاں بھی ہمیں ایک تلخ جواب دیتی ہے۔
الغ بیگ کی علمی دنیا زیادہ عرصے تک قائم نہ رہ سکی۔
1449ء میں سیاسی کشمکش کے دوران الغ بیگ قتل کر دیا گیا۔
اس کے بعد سمرقند کے علمی ماحول کو شدید دھچکا پہنچا اور بعد کے زمانے میں رصدگاہ بتدریج زوال کا شکار ہوئی۔ بعد کے زمانے میں عمارت تباہ ہو گئی اور اس کا مقام وقت کے ساتھ تقریباً فراموش ہو گیا۔
یہاں کھڑے ہو کر یہ حقیقت خاصی تکلیف دہ محسوس ہوتی ہے۔
جس جگہ کبھی انسان آسمان کے راز سمجھنے کے لیے جمع ہوتے تھے، وہ صدیوں بعد مٹی کے نیچے چھپ گئی۔
عمارت غائب ہو گئی۔
آلات ختم ہو گئے۔
علماء دنیا کے مختلف حصوں میں منتشر ہو گئے۔
اور سمرقند کی وہ رصدگاہ، جو اپنے زمانے میں علمی دنیا کی ایک روشن علامت تھی، تاریخ کے پردے میں چلی گئی۔
لیکن تاریخ ہمیشہ سب کچھ نہیں بھولتی۔
1908ء میں آثارِ قدیمہ کے ماہر واسیلی ویاٹکن نے رصدگاہ کے باقیات کو دوبارہ دریافت کیا۔ اس دریافت نے اس عظیم سائنسی مرکز کو دوبارہ دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا۔
ہم کچھ دیر خاموش رہے۔
ایک طرف صدیوں پرانی تباہی۔
دوسری طرف ایک سو برس سے زیادہ پرانی دوبارہ دریافت۔
اور درمیان میں علم کی ایک ایسی روایت جو آج بھی زندہ ہے۔
میں نے سامنے موجود باقیات کو دیکھا۔
یہ بہت بڑا عجیب احساس تھا۔
ہم جس چیز کو دیکھ رہے تھے وہ ایک مکمل عمارت نہیں تھی۔
مگر اس کے چند بچے ہوئے حصے اتنا کچھ کہہ رہے تھے کہ پوری عمارت کا تصور ذہن میں بننے لگا۔
مجھے بابر کا خیال آیا۔
بابر نے بھی اس رصدگاہ کو دیکھا تھا۔
اس نے اپنی خودنوشت میں سمرقند کے حوالے سے الغ بیگ کی رصدگاہ کا ذکر کیا اور اس کی تین منزلہ عمارت ہونے کی طرف اشارہ کیا۔
یہ ہمارے سفر کے لیے ایک غیر معمولی تعلق تھا۔
ہم آج اسی جگہ کھڑے تھے جہاں بابر بھی کھڑا ہوا تھا۔
وہی زمین۔
وہی آسمان۔
وہی سمرقند۔
فرق صرف صدیوں کا تھا۔
ایک لمحے کے لیے مجھے یوں لگا جیسے بابر ہمارے ساتھ ہی کھڑا ہے۔
وہ ایک طرف دیکھ رہا ہے۔
ہم دوسری طرف۔
وہ اپنے خاندان کی عظمت کو دیکھ رہا ہے۔
اور ہم اس کے قدموں کے نشان تلاش کرتے ہوئے اسی خاندان کی علمی میراث کو دیکھ رہے ہیں۔
شاید یہی اس سفر کی اصل کشش ہے۔
ہم ماضی کو صرف پڑھ نہیں رہے۔
ہم اس کے مقامات پر جا کر اسے چھونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
رصدگاہ سے باہر نکلتے ہوئے میں نے ایک مرتبہ پھر آسمان کی طرف دیکھا۔
دن کا وقت تھا۔
ستارے نظر نہیں آ رہے تھے۔
مگر مجھے ایسا لگا جیسے اس آسمان پر آج بھی الغ بیگ کے ستارے کہیں موجود ہیں۔
وہی ستارے جن کے مقامات ناپنے کے لیے کبھی یہاں کے علماء نے راتیں جاگ کر گزاری تھیں۔
اور اچانک ایک خیال آیا:
تیمور نے سمرقند کو اپنی سلطنت کا دارالحکومت بنایا تھا، مگر الغ بیگ نے اسی شہر کو علم کا دارالحکومت بنانے کی کوشش کی۔
ایک نے شہر کو دنیا کے سیاسی نقشے پر نمایاں کیا۔
دوسرے نے اسے علمی نقشے پر۔
اور یہی تیموری ورثے کی وہ تہہ ہے جسے ہم آج تک مکمل طور پر بیان نہیں کر سکے۔
ہم گاڑی کی طرف واپس آئے۔
سمرقند کی سڑکیں سامنے تھیں۔
اب اگلی منزل کی طرف بڑھنے کا وقت تھا۔
لیکن اس مرتبہ ہماری تلاش کسی نئی عمارت کی نہیں تھی۔
ہمیں جانا تھا ریگستان کی طرف۔
وہ عظیم میدان جہاں سمرقند کے تین مشہور مدارس—الغ بیگ، شیر دار اور طلاکاری—ایک ایسی معماری تصویر بناتے ہیں جو آج سمرقند کی پہچان بن چکی ہے۔
وہاں ہمیں ایک ہی جگہ پر تیموری علمی روایت کے بعد کے ادوار کی داستان بھی دکھائی دینے والی تھی۔
ہم نے گاڑی کا رخ بدل دیا۔
رصدگاہ پیچھے رہ گئی۔
مگر آسمان ابھی بھی ہمارے اوپر تھا۔
اور دل میں ایک بات واضح ہو چکی تھی:
بابر کے قدموں کے نشان صرف محلوں، قلعوں اور مقبروں تک نہیں پہنچتے۔
وہ ہمیں ان جگہوں تک بھی لے جاتے ہیں جہاں اس کے آباؤ اجداد نے علم کے چراغ روشن کیے تھے۔
سمرقند کی گلیاں ایک بار پھر ہمارے سامنے تھیں۔
اور دور کہیں، تاریخ کے سب سے مشہور چوراہوں میں سے ایک ہماری منتظر تھی۔
ریگستان۔
بابر کے قدموں کے نشان اب ریگستان کی طرف بڑھ رہے تھے۔۔۔
**جاری ہے۔۔۔**

قسط نمبر 11بابر کے قدموں کے نشانتیمور و بابر کی سرزمین پر مغل تاریخ کی تلاش میں شاہِ زندہ: سیڑھیوں کے اُس پار صدیوں کی د...
18/08/2026

قسط نمبر 11
بابر کے قدموں کے نشان
تیمور و بابر کی سرزمین پر
مغل تاریخ کی تلاش میں

شاہِ زندہ: سیڑھیوں کے اُس پار صدیوں کی دنیا
بی بی خانم مسجد کا نیلا گنبد ابھی ہماری نظروں سے پوری طرح اوجھل بھی نہیں ہوا تھا کہ گاڑی سمرقند کے ایک اور تاریخی حصے کی طرف بڑھنے لگی۔
چند ہی دیر پہلے ہم تیمور کی عظیم جامع مسجد کے صحن میں کھڑے تھے۔ اب رخ اُس مقام کی طرف تھا جسے سمرقند کے تاریخی ورثے میں ایک الگ ہی مقام حاصل ہے۔
شاہِ زندہ۔
نام میں ہی ایک پوری داستان چھپی ہوئی تھی۔
شاہِ زندہ۔
یعنی زندہ بادشاہ۔
مگر یہ بادشاہ کون تھا؟
اور صدیوں سے سمرقند کے لوگ اس نام کو کس عقیدت کے ساتھ یاد کرتے آئے ہیں؟
ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں سمرقند کے ایک نسبتاً خاموش حصے کی طرف جانا تھا، جہاں افراسیاب کے قدیم شہر کے کنارے ایک لمبی سیڑھیوں والی گزرگاہ صدیوں سے آنے والوں کو اپنے اندر بلاتی ہے۔
ہم گاڑی سے اترے۔
سامنے سیڑھیاں تھیں۔
اور سیڑھیوں کے اوپر، ایک دوسرے سے جڑی ہوئی عمارتوں کا سلسلہ۔
دور سے دیکھنے پر یوں لگتا تھا جیسے کسی نے ایک ہی جگہ پر مختلف زمانوں کے نیلے، فیروزی اور آسمانی رنگ کے چھوٹے چھوٹے گنبد سجا دیے ہوں۔
لیکن یہ محض خوب صورت عمارتوں کا مجموعہ نہیں تھا۔
شاہِ زندہ دراصل صدیوں پر محیط ایک عظیم مقبرہ جاتی مجموعہ ہے۔
یونیسکو کے مطابق شاہِ زندہ افراسیاب کے جنوبی کنارے پر واقع ہے اور اس میں گیارہویں سے انیسویں صدی تک کے مساجد، مدارس اور مقابر شامل ہیں۔ اسی وجہ سے اسے سمرقند کے ان مقامات میں شمار کیا جاتا ہے جہاں مختلف تاریخی ادوار کی معماری ایک ہی جگہ پر دکھائی دیتی ہے۔
ہم نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا۔
پھر دوسری پر۔
پھر تیسری پر۔
اور ہر چند قدم کے بعد منظر بدلتا گیا۔
کسی مقبرے کا دروازہ سامنے آ جاتا۔
کسی دیوار پر فیروزی کاشی کاری نظر آتی۔
کہیں عربی خطاطی کے نقوش۔
کہیں نیلے اور سفید موزیک کی باریک تہیں۔
کہیں گنبد کا ایک چھوٹا سا حصہ۔
اور کہیں اینٹوں کی وہ قدیم ساخت جو ہمیں یاد دلاتی تھی کہ ہم ایک ایسی جگہ پر چل رہے ہیں جہاں صرف ایک دور نہیں، کئی صدیاں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہیں۔
یہاں ایک لمحے کے لیے رک کر تاریخ کو سمجھنا ضروری ہے۔
شاہِ زندہ کی روایت کا تعلق حضرت قُثَم بن عباسؓ سے جوڑا جاتا ہے، جنہیں اسلامی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی اور سمرقند میں اسلام کی ابتدائی تبلیغ سے وابستہ شخصیت سمجھا جاتا ہے۔
ان کی نسبت سے یہاں ایک مقدس مزار قائم ہوا اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ جگہ ایک اہم زیارتی مرکز بنتی گئی۔
لیکن شاہِ زندہ کی موجودہ عمارتیں کسی ایک زمانے کی تعمیر نہیں۔
یہ ایک طویل تاریخی عمل کا نتیجہ ہیں۔
قدیم ترین محفوظ حصوں کے بعد مختلف ادوار میں یہاں مزید مقابر، مساجد اور مدارس تعمیر ہوتے رہے، جبکہ چودھویں اور پندرھویں صدی میں تیموری خاندان کے عہد میں اس مجموعے نے خاص طور پر شاندار معماری صورت اختیار کی۔
ہم سیڑھیاں چڑھتے رہے۔
اور ایک عجیب احساس ساتھ ساتھ چلتا رہا۔
یہاں گورِ امیر کی طرح ایک عظیم مقبرہ سامنے کھڑا نہیں تھا۔
بی بی خانم کی طرح ایک وسیع جامع مسجد بھی نہیں تھی۔
یہاں چھوٹے بڑے مقابر کی ایک پوری گزرگاہ تھی۔
جیسے سمرقند کے حکمران خاندانوں نے اپنی یادیں ایک ہی جگہ جمع کر دی ہوں۔
اور یہی شاہِ زندہ کو منفرد بناتا ہے۔
آپ ایک عمارت دیکھ کر آگے نہیں بڑھتے۔
آپ ایک تاریخی سلسلے کے اندر چلتے ہیں۔
ہر دروازہ ایک نئی کہانی۔
ہر مقبرہ ایک نیا نام۔
ہر کاشی کا ٹکڑا ایک الگ فنکارانہ روایت۔
اور ہر موڑ پر ایک نیا منظر۔
تیموری عہد میں شاہِ زندہ کے اس حصے کی تعمیر و تزئین نے غیر معمولی بلندی حاصل کی۔ میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ کے مطابق سمرقند میں چودھویں اور پندرھویں صدی کے اواخر میں تیموری معماری تزئین اپنی انتہا کو پہنچی، اور شاہِ زندہ کے مقابر میں فیروزی کاشی، موزیک، جیومیٹریائی، نباتاتی اور خطاطی کے نقش اس فن کی نمایاں مثالیں ہیں۔
ہم ایک مقبرے کے دروازے کے سامنے رک گئے۔
قریب جا کر جو چیز سب سے پہلے محسوس ہوتی ہے وہ رنگ نہیں بلکہ کاریگری ہے۔
دور سے دیوار نیلی دکھائی دیتی ہے۔
لیکن قریب آئیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ نیلا رنگ ایک ہی رنگ نہیں۔
فیروزی کے مختلف درجات۔
سفید۔
گہرا نیلا۔
کبھی سبز مائل رنگ۔
اور ان سب کے درمیان چھوٹے چھوٹے نقش۔
ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے دیوار پر پینٹنگ نہیں کی بلکہ کاشی کے ہزاروں ٹکڑوں سے ایک تصویر بنائی ہو۔
یہاں ذرا قاری بھی ہمارے ساتھ کھڑا ہو۔
گردن ذرا اوپر اٹھائیے۔
دروازے کے اوپر خطاطی کو دیکھیے۔
پھر اس کے اطراف کے نقش دیکھیے۔
پھر گنبد کی طرف نظر کیجیے۔
اور اب پیچھے ہٹ کر پورا مقبرہ ایک ساتھ دیکھیے۔
قریب سے باریکی۔
دور سے تناسب۔
اور دونوں کو ملا کر ایک ایسا حسن جو صرف تصویر میں مکمل طور پر سمجھ میں نہیں آتا۔
اسی لیے تاریخی عمارتوں کا سفر کتاب پڑھنے سے مختلف ہوتا ہے۔
کتاب آپ کو تاریخ بتاتی ہے۔
مگر عمارت آپ کو تاریخ دکھاتی ہے۔
ہم آگے بڑھے۔
شاہِ زندہ کے مقابر میں تیموری خاندان کے افراد، اشرافیہ اور درباری طبقے سے وابستہ اہم شخصیات کی قبریں شامل ہیں۔ اس مجموعے میں مختلف ادوار کی عمارتیں ایک دوسرے کے قریب واقع ہیں، جس سے پورا احاطہ ایک طرح کا معماری تاریخ نامہ بن جاتا ہے۔
اور پھر ایک لمحے کے لیے بابر کا خیال آیا۔
بابر خود تیموری خاندان کا فرد تھا۔
اس کے لیے سمرقند محض ایک خوب صورت شہر نہیں تھا۔
یہ اس کے آباؤ اجداد کی سرزمین تھی۔
وہی تیموری دنیا جس میں اس کے بزرگوں نے حکومت کی، عمارتیں بنائیں، علمی مراکز قائم کیے اور اپنی یادیں شہر کی دیواروں پر چھوڑیں۔
ہم شاہِ زندہ کی گزرگاہ میں چل رہے تھے تو یوں محسوس ہوا جیسے بابر کے قدموں کے نشان ہمیں صرف ایک عمارت سے دوسری عمارت تک نہیں لے جا رہے۔
وہ ہمیں اپنے خاندان کی اجتماعی یادداشت کے اندر لے جا رہے تھے۔
یہاں ایک طرف مذہبی عقیدت تھی۔
دوسری طرف شاہی خاندانوں کی قبریں۔
تیسری طرف فنِ تعمیر۔
اور چوتھی طرف سمرقند کی وہ تہذیبی زندگی جس نے تیموری دور کو تاریخ میں غیر معمولی اہمیت دی۔
یہی وہ سمرقند تھا جس نے بعد میں ہندوستان کے مغل فنِ تعمیر کو بھی متاثر کیا۔
یونیسکو واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ سمرقند کے تیموری معماروں اور فنکاروں کے کام نے اسلامی فنِ تعمیر کی ترقی پر وسیع اثر ڈالا، جس کے اثرات صفوی ایران، مغل ہندوستان اور عثمانی ترکی تک پہنچے۔
یہ جملہ پڑھنا ایک بات ہے۔
مگر شاہِ زندہ کے سامنے کھڑے ہو کر اس اثر کو دیکھنا دوسری بات۔
کیونکہ یہاں ہم وہی معماری زبان اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے تھے جس کے اثرات صدیوں بعد ہندوستان میں مغلیہ عمارتوں میں نئی صورت اختیار کرتے ہیں۔
کاشی۔
گنبد۔
محراب۔
خطاطی۔
ہندسی نقش۔
اور عمارت کے اندر اور باہر روشنی اور رنگ کا امتزاج۔
یہ سب بعد کی مغلیہ دنیا میں مختلف انداز سے دوبارہ سامنے آتا ہے۔
ہم ابھی اس تاریخی گزرگاہ کے درمیانی حصے میں تھے کہ سیڑھیاں قدرے بلند ہوئیں۔
ہم نے اوپر دیکھا۔
سامنے ایک کے بعد ایک مقبرے کھڑے تھے۔
اور اچانک ایک خیال آیا:
اگر چھ سو برس پہلے کا کوئی مسافر یہاں آتا تو اسے کیا نظر آتا؟
شاید یہی نیلا رنگ۔
شاید یہی گنبد۔
شاید یہی سیڑھیاں۔
فرق صرف اتنا تھا کہ اس وقت عمارتیں نئی تھیں۔
کاشی کے رنگ تازہ تھے۔
اور جن لوگوں کے نام آج تاریخ کی کتابوں میں ہیں، ان میں سے بہت سے لوگ اس دنیا میں موجود تھے۔
آج ہم ان کے بعد کھڑے تھے۔
یہی سفرنامے کا وہ لمحہ ہے جہاں ماضی اور حال ایک دوسرے میں گھل جاتے ہیں۔
ہم نے قدم آگے بڑھایا۔
اور پھر شاہِ زندہ کا سب سے مشہور احساس سامنے آیا:
خاموشی۔
باہر سمرقند کا شہر اپنی رفتار سے چل رہا تھا۔
لیکن اس گزرگاہ کے اندر قدم رکھتے ہی جیسے آوازیں مدھم پڑ جاتی تھیں۔
لوگ آہستہ چلتے ہیں۔
کسی کے لبوں پر دعا ہے۔
کوئی تصویر بنا رہا ہے۔
کوئی دیوار کی کاشی کاری کو قریب سے دیکھ رہا ہے۔
اور کوئی شاید ہماری طرح یہ سوچ رہا ہے کہ صدیوں پہلے یہاں آنے والے لوگوں کے قدموں کی آواز بھی شاید ایسی ہی رہی ہوگی۔
یہاں سیاحت اور زیارت کے درمیان ایک باریک فرق بھی محسوس ہوتا ہے۔
شاہِ زندہ صرف دیکھنے کی جگہ نہیں۔
بہت سے لوگوں کے لیے یہ مقدس مقام بھی ہے۔
اس لیے اس جگہ کی تاریخی خوب صورتی کو دیکھتے ہوئے اس کی مذہبی اور روحانی حیثیت کا احترام بھی ضروری ہے۔
ہم آہستہ آہستہ آگے بڑھتے رہے۔
پھر وہ مقام آیا جس نے اس پورے سفر کو ایک اور معنی دے دیا۔
قُثَم بن عباسؓ سے منسوب مزار۔
یہ شاہِ زندہ کے مقدس ترین حصوں میں شمار ہوتا ہے۔
مزار کے قریب پہنچ کر ماحول میں ایک خاص سنجیدگی محسوس ہوتی ہے۔
یہاں عمارت کی شان سے زیادہ خاموش عقیدت نمایاں ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ سمرقند کی تاریخ صرف بادشاہوں، جنگوں اور سلطنتوں کی تاریخ نہیں۔
یہ ایمان، علم، روحانیت اور تہذیب کی تاریخ بھی ہے۔
ہم نے کچھ دیر وہاں قیام کیا۔
پھر واپس سیڑھیوں کی طرف دیکھا۔
وہی راستہ جس سے ہم اوپر آئے تھے، اب نیچے جا رہا تھا۔
لیکن واپس اترنے سے پہلے میں نے ایک بار پھر پیچھے مڑ کر شاہِ زندہ کو دیکھا۔
نیلے گنبد۔
فیروزی دیواریں۔
قدیم اینٹیں۔
خطاطی۔
اور ان سب کے پیچھے افراسیاب کی خاموش زمین۔
کتنی عجیب بات ہے۔
ہم نے چند دنوں میں ایک ہی شہر کے اندر کتنی صدیاں دیکھ لیں۔
افراسیاب میں قدیم سمرقند۔
گورِ امیر میں تیمور۔
بی بی خانم میں تیموری اقتدار کی معماری شان۔
اور اب شاہِ زندہ میں مذہب، شاہی خاندان اور فنِ تعمیر کا ایسا امتزاج جو صدیوں سے قائم ہے۔
لیکن سمرقند کا ایک اہم باب ابھی باقی تھا۔
ہمیں اس شہر کے اُس حصے میں جانا تھا جہاں تیموری خاندان کی عظمت کا ایک اور پہلو ہمارے سامنے آنے والا تھا۔
علم۔
تلوار کے بجائے قلم۔
فتوحات کے بجائے ستارے۔
اور ایک ایسا تیموری شہزادہ جس کا نام صرف بادشاہوں کی فہرست میں نہیں بلکہ دنیا کی تاریخِ فلکیات میں بھی زندہ ہے۔
مرزا محمد طَرَغَائی بن شاہ رخ، المعروف الغ بیگ۔
تیمور کا پوتا۔
سمرقند کا حکمران۔
اور علمِ نجوم و فلکیات کا غیر معمولی سرپرست۔
شاہِ زندہ سے نکلتے ہوئے ہماری نگاہیں ابھی بھی ان نیلے گنبدوں پر تھیں۔
مگر اب ہمارے سفر کا اگلا سوال بدل چکا تھا۔
تیمور نے سمرقند کو فتح اور تعمیر سے عظیم بنایا؛ مگر اس کے پوتے نے اسے علم سے کیسے روشن کیا؟
ہم گاڑی کی طرف بڑھے۔
سمرقند کی گلیاں پھر ہمارے سامنے تھیں۔
اور اس مرتبہ ہماری منزل کسی مقبرے یا مسجد کی طرف نہیں تھی۔
ہم جا رہے تھے ایک ایسی جگہ جہاں صدیوں پہلے آسمان کو زمین پر ناپنے کی کوشش کی گئی تھی۔
الغ بیگ کی رصدگاہ۔
اور شاید وہاں پہنچ کر ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملے کہ تیموری ورثہ صرف جنگ اور سلطنت کا نام نہیں تھا۔
اس میں علم کا ایک ایسا چراغ بھی روشن تھا جس کی روشنی آج تک دنیا کے علمی نقشے پر دکھائی دیتی ہے۔
بابر کے قدموں کے نشان اب ستاروں کی طرف اٹھ رہے تھے۔۔۔
**جاری ہے۔۔۔**

Address

Gujranwala

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mughal History Facts posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category