08/01/2026
تختِ طاؤس
تختِ طاؤس مغلیہ عہد کی شاہانہ عظمت، فنی کمال اور سیاسی وقار کی سب سے درخشاں علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہ تخت مغل شہنشاہ شاہجہان کے عہد میں تیار کیا گیا، وہی فرمانروا جس کا نام برصغیر کی تاریخ میں تعمیرات، جمالیاتی ذوق اور سلطنت کے عروج کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ شاہجہان 1628ء میں تخت نشین ہوا اور اس کا دورِ حکومت مغلیہ سلطنت کے استحکام، خوشحالی اور ثقافتی عروج کا زمانہ مانا جاتا ہے۔ اسی پس منظر میں تختِ طاؤس کا تصور سامنے آیا، جو محض ایک شاہی نشست نہیں بلکہ عالمگیر بادشاہت کے دعوے کی علامت تھا۔
تاریخی مصادر کے مطابق تختِ طاؤس کی تیاری کا حکم 1630ء کی دہائی میں دیا گیا اور کئی برس کی محنت کے بعد یہ شاہکار مکمل ہوا۔ اس کی تیاری میں شاہی خزانے سے بے پناہ دولت صرف کی گئی، اور سلطنت کے بہترین سنار، جواہر ساز اور فنکار اس کام پر مامور کیے گئے۔ تخت خالص سونے سے تیار کیا گیا تھا اور اس کی ساخت اس قدر بلند اور پُرشکوہ تھی کہ دربار میں داخل ہونے والا ہر شخص مغل اقتدار کی ہیبت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا۔ تخت کے اوپر مور کی شکل کا محرابی سایہ تھا، جس سے ہی اس کا نام تختِ طاؤس پڑا، کیونکہ مور برصغیر میں شاہی وقار اور حسن کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
اس تخت پر جڑے جواہرات کی تفصیل مغلیہ تاریخ کے سب سے حیرت انگیز ابواب میں شمار ہوتی ہے۔ معاصر اور بعد کے معتبر مؤرخین جیسے عبد الحمید لاہوری اور محمد صالح کمبوہ نے اس کی شان و شوکت کا ذکر کیا ہے۔ تخت میں بے شمار یاقوت، زمرد، موتی اور ہیروں کا استعمال ہوا، جن میں سب سے مشہور الماس کوہِ نور بھی شامل تھا، جو اس وقت مغل خزانے کی شان سمجھا جاتا تھا۔ اسی طرح دریاۓ نور اور دیگر نادر جواہرات کا ذکر بھی تاریخی کتب میں ملتا ہے، اگرچہ ہر ہر پتھر کی مکمل فہرست اور مقام کے بارے میں قطعی تفصیل محفوظ نہیں رہی، جس کا اعتراف جدید مورخین بھی کرتے ہیں۔
تختِ طاؤس محض زیبائش کا نمونہ نہیں تھا بلکہ اس کے ذریعے مغل بادشاہ خود کو دنیا کی سب سے طاقتور اور باوقار سلطنت کا نمائندہ ظاہر کرتا تھا۔ شاہجہان جب اس تخت پر بیٹھ کر دربار لگاتا تو یہ منظر سلطنت کے استحکام، خدائی عطا کردہ اقتدار اور نظم و نسق کی علامت سمجھا جاتا۔ اسی تخت سے شاہی فرامین جاری ہوتے اور غیر ملکی سفیروں کو مغل سلطنت کی دولت اور طاقت کا عملی مظاہرہ دکھایا جاتا تھا۔
اٹھارہویں صدی میں مغلیہ سلطنت کے زوال کے ساتھ ہی تختِ طاؤس کی قسمت بھی بدل گئی۔ 1739ء میں ایرانی فرمانروا نادر شاہ نے دہلی پر حملہ کیا اور شہر کو لوٹ لیا۔ مستند تاریخی روایات کے مطابق نادر شاہ تختِ طاؤس کو دیگر بیش قیمت خزانوں کے ساتھ ایران لے گیا۔ یہی وہ موقع ہے جہاں سے اس عظیم شاہکار کا اصل وجود ختم ہو جاتا ہے۔ ایران پہنچنے کے بعد تختِ طاؤس کو یا تو مکمل طور پر توڑ دیا گیا یا مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اس بارے میں مؤرخین کا اتفاق ہے کہ اصل مغلیہ تخت آج اپنی مکمل شکل میں کہیں موجود نہیں۔
جہاں تک یہ سوال ہے کہ تختِ طاؤس آج کہاں ہے، تو اس کا دیانت دارانہ جواب یہی ہے کہ وہ اپنی اصل حالت میں اب موجود نہیں۔ ایرانی شاہی خزانے میں بعد کے ادوار میں جو “تختِ طاؤس” کہلائے، وہ اصل مغلیہ تخت نہیں بلکہ اس سے متاثر ہو کر بنائے گئے نئے تخت تھے۔ اس نکتے پر جدید تحقیق واضح ہے اور کسی مستند ماخذ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ شاہجہان کا بنایا ہوا تختِ طاؤس آج بھی سالم حالت میں کہیں محفوظ ہو۔
البتہ تخت پر جڑے بعض جواہرات کی داستان مختلف ہے۔ کوہِ نور ہیرا بعد کے تاریخی مراحل سے گزرتا ہوا سکھ سلطنت، پھر برطانوی حکومت کے قبضے میں آیا اور آج برطانوی شاہی جواہرات کا حصہ ہے۔ دریاۓ نور ہیرا ایران کے قومی خزانے میں محفوظ سمجھا جاتا ہے، اور اس کی نسبت نادر شاہ کی لوٹ مار سے جوڑی جاتی ہے۔ دیگر بے شمار جواہرات یا تو تاریخ کی گرد میں گم ہو گئے یا مختلف شاہی خزانوں میں بکھر گئے، جن کے بارے میں قطعی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں۔ معتبر مورخین یہاں قیاس آرائی سے گریز کرتے ہیں، اور یہی علمی دیانت کا تقاضا بھی ہے۔
تختِ طاؤس کی اہمیت اس کی جسمانی موجودگی سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ تخت مغلیہ سلطنت کے عروج، شاہجہان کے جمالیاتی وژن، اور اس دور کی معاشی طاقت کا استعارہ بن چکا ہے۔ اگرچہ آج وہ تخت موجود نہیں، مگر اس کا تصور، اس کی کہانی اور اس سے وابستہ تاریخی حقائق مغلیہ تاریخ کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔ تختِ طاؤس ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ طاقت، دولت اور شان و شوکت ہمیشہ قائم نہیں رہتیں، مگر ان کے نقوش تاریخ میں ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں۔
راشد ابراہیم مُغل