20/03/2026
وجود انسان اور یہ کرہ
تحریر مختار ترابی
امریکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر جنگ کی حقیقی سچائیاں منکشف ھونے لگی ہیں سفارتی تنہائ نے انہیں بوکھلا دیا ھے ساری دنیا میں مہنگائ کا طوفان برپا کر کے اور ساری دنیا کو اقتصادی تباھی کا شکار بنا کر اب وہ یورپین یونین یا نیٹو کو تو چھوڑیں روس اور چائنہ سے بھی مدد کی اپیل کر رھے ہیں یہ ایسے ہی ھے جیسے ٹائ ٹینک آئس برگ سے ٹکرا کر لمحہ بہ لمحہ ڈوب رھا ھو اور اس کا کیپٹن جہاز کے ڈیک پر فل آرکسٹرا نائٹ ڈنر ڈانسنگ پارٹی کی ٹکٹیں بیچ رھا ھو موصوف کی سوشل ٹروتھ اکاونٹ پر ٹوئیٹ دراصل اعتراف نامہ ھے جس کی پہلی ہی لائن میں وہ اپنی ناجائز اولاد کے بارے دنیا کیساتھ ساتھ ایران کو بھی یقین دلا رھے ہیں کہ کوئ نہیں بچہ ھے اس نے غصے میں یہ سب کر دیا یعنی ایران کی ساوتھ پارس گیس فیلڈ کوئ معمولی کھلونا ھو جو اسرائیل نے غصے میں توڑ دیا ھو حالانکہ کہ یہ پوری دنیا کی سب سے بڑی آئل اینڈ گیس فیلڈ ھے اور ایران کے جوابی حملے سے صرف قطر کو آئندہ 5 سال ھونے والے مالی نقصان کا اندازہ 100 ارب ڈالر ھے یعنی 20 ارب ڈالر سالانہ قطر کے شمال مشرقی ساحل پر واقع راس لفحان گیس فیلڈ دنیا کی سب سے بڑی مائع گیس پیدا کرنے والی سہولت ھے جس کے CEO کا کہنا ھے کہ ھونے والے نقصان کی ریکوری سالوں ممکن نہیں دوسری طرف ایران نے گذشتہ دو دنوں میں اسرائیل سمیت پورے گلف ریجن میں جو تباھی مچائ ھے اس سے یہ جنگ ایک ایسے خطرناک موڑ پر آگئ ھے جس کا خمیازہ شاید پوری دنیا مل کر بھی نہ بھگت سکے امریکی صدر اپنے پیغام میں فرماتے ہیں کہ انہیں ایران کی پارس گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کا علم نہ تھا اسرائیلی آفیشل امریکی میڈیا پر ہی بیٹھ کر اس بات کی تردید کر رھے اور بڑے واضع الفاظ میں کہہ رھے ہیں کہ حملے سے پہلے امریکہ کو باقاعدہ آگاہ کیا گیا تھا ایران اپنے موقف اور عزم میں بالکل واضع ھے کہ اس پر حملہ میں جس ملک کی ائر سپیس نیول سپیس یا زمینی حدود استمعال ھوئ اس ملک میں امریکی اور اسرائیلی اہداف اس کے قانونی ٹارگٹ ھو نگے یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ھے کہ اسرائیل کی سرحدیں ایران کیساتھ نہیں ملتیں اسے ایران پر حملے کے لئے انہی گلف ممالک کی فضائ حدود کو پار کرنا پڑتا ھے تو باقی دو جمع دو آپ خود کر لیں ۔
ایک تو ایران میں جن لوگوں کیساتھ جنگ بندی کے لئے مکالمہ ممکن تھا اسرائیل بڑی تیزی کیساتھ انہیں قتل کئے جا رھا ھے ایران نے جنگ کے آغاز سے بہت پہلے آمدہ جنگ کے لئے جو ڈاکٹرائن تیار کیا تھا اس پر کاربند نظر آتا ھے یعنی ہر ذمہ دار عہدے پر اس نے انکے کئ کئ متبادل پہلے سے طے کر رکھے ہیں ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کے فوری بعد انکا نظام خود کار مشین کی طرح چلنا شروع ھو گیا اب ایرانی نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل سید علی لاریجانی کی شہادت کیساتھ ہی انکا متبادل پہلے سے طے تھا اور سعید جلیلی کو تو زندہ شہید کہا جاتا ھے نئے رھبر اور سپریم لیڈر کا سیکورٹی کونسل کے نئے جنرل سیکرٹری کیساتھ جو کومبو بنا ھے اس نے جنگ کا نقشہ ہی تبدئیل کر دیا ھے مثال کے طور پر تہران میں آئل ڈپو اور پارس آئل اینڈ گیس فیلڈ پر حملے کے بعد ایران نے اسرائیل کے سب سے بڑے توانائ کے مرکز حیفہ آئل ریفائنری کمپلکس اتنا شدید حملہ کیا ھے کہ جس سے پورے حیفہ بیت شمس ایلات اور یروشلم کے کچھ حصہ میں ابھی تک بجلی بحال نہیں ھو سکی بازان میں واقع یہ حیفہ آئل ریفائنری روزانہ 1 لاکھ 97 ہزار بیرل آئل سے زیادہ تیل ریفائن کرتی تھی اور ملکی ضروریات کا 50 سے 60 فیصد یہی یونٹ فراہم کرتا تھا اسرائیل کی ٹرانسپورٹ ایوی ایشن اور فوجی ایندھن کا انحصار اسی آئل ریفائنری پر تھا ساتھ ہی گذشتہ رات ایران نے اسرائیل کے سب سے بڑے انٹرنیشنل بن گوریان ائر پورٹ پر حملہ کر کے اسے کچھ عرصہ کے لئے ناقابل استعمال بنا دیا ھے اسرائیل کے لئے ذاتی طور پر یہ جنگ اپنے قیام سے آج تک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ڈراونا خواب بنتا جا رھا ھے اور اب آھستہ آھستہ اسرائیل بھی غزہ کے موجودہ ڈیزائن میں ڈھلنا شروع ھو چکا ھے دوسری جانب قطر سعودی عرب کویت اور بحرین کی آئل تنصیبات بھی ایران کے مسلسل نشانے پر ہیں اور اس سے ھونے والے نقصان کا خمیازہ آنے والے کل میں پوری دنیا کو بھگتنا ھو گا
ایران کی جوابی حکمت عملی نے دنیا کے سب سے طاقتور شخص اس قدر کمزور کر دیا ھے کہ اس نے گذشتہ ایک روز میں پاکستان سمیت تین مختلف ثالثوں کے ذریعے ایران کو جنگ بندی کی پیشکش اس یقین دھانی کیساتھ کروائ ھے کہ اسرائیل آئیندہ ایسا کوئ حملہ اس کی پیشگی اجازت کے بغیر نہیں کرئے گا لیکن فی الحال ایران ایسی کسی پیشکش کو درخوراعتناء نہیں سمجھتا ایک درمیانی رابطے نے ایران کو ایٹمی حملے سے بھی ڈرانے کی کوشش کی کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کو اس جنگ سے فرار کے لئے محفوظ راستہ نہ دیا گیا تو وہ یہ انتہائ قدم بھی اٹھا سکتا ھے جس پر ایران کا جواب آنے والے دنوں کی حساسیئت اور سنگینی کو مزید گہرا کر دیتا ھے کہ ایران انکے ایٹمی حملے کے لئے بھی تیار ھے۔
یعنی خدا نہ کرے کیا ایران آخری حد تک جانے کو تیار ھے تو اس کرہ پر حضرت انسان کا وجود ہی خطرے میں ھے۔