3+Six

3+Six This Rare Page for News
Talk Shows
Cover The local and International Politices

بریکنگ نیوزآبنائے ہرمز کھلوانے کے لئے امریکن نیوی کا آپریشن ناکام آئ آر جی سی کی شدید مزاحمت پر امریکن نیوی پیچھے ہٹنے پ...
20/03/2026

بریکنگ نیوز
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لئے امریکن نیوی کا آپریشن ناکام آئ آر جی سی کی شدید مزاحمت پر امریکن نیوی پیچھے ہٹنے پر مجبور
وال سٹریٹ جنرل

وجود انسان اور یہ کرہتحریر مختار ترابی       امریکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر جنگ کی حقیقی سچائیاں منکشف ھونے لگی ہیں سفارتی تنہ...
20/03/2026

وجود انسان اور یہ کرہ

تحریر مختار ترابی

امریکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر جنگ کی حقیقی سچائیاں منکشف ھونے لگی ہیں سفارتی تنہائ نے انہیں بوکھلا دیا ھے ساری دنیا میں مہنگائ کا طوفان برپا کر کے اور ساری دنیا کو اقتصادی تباھی کا شکار بنا کر اب وہ یورپین یونین یا نیٹو کو تو چھوڑیں روس اور چائنہ سے بھی مدد کی اپیل کر رھے ہیں یہ ایسے ہی ھے جیسے ٹائ ٹینک آئس برگ سے ٹکرا کر لمحہ بہ لمحہ ڈوب رھا ھو اور اس کا کیپٹن جہاز کے ڈیک پر فل آرکسٹرا نائٹ ڈنر ڈانسنگ پارٹی کی ٹکٹیں بیچ رھا ھو موصوف کی سوشل ٹروتھ اکاونٹ پر ٹوئیٹ دراصل اعتراف نامہ ھے جس کی پہلی ہی لائن میں وہ اپنی ناجائز اولاد کے بارے دنیا کیساتھ ساتھ ایران کو بھی یقین دلا رھے ہیں کہ کوئ نہیں بچہ ھے اس نے غصے میں یہ سب کر دیا یعنی ایران کی ساوتھ پارس گیس فیلڈ کوئ معمولی کھلونا ھو جو اسرائیل نے غصے میں توڑ دیا ھو حالانکہ کہ یہ پوری دنیا کی سب سے بڑی آئل اینڈ گیس فیلڈ ھے اور ایران کے جوابی حملے سے صرف قطر کو آئندہ 5 سال ھونے والے مالی نقصان کا اندازہ 100 ارب ڈالر ھے یعنی 20 ارب ڈالر سالانہ قطر کے شمال مشرقی ساحل پر واقع راس لفحان گیس فیلڈ دنیا کی سب سے بڑی مائع گیس پیدا کرنے والی سہولت ھے جس کے CEO کا کہنا ھے کہ ھونے والے نقصان کی ریکوری سالوں ممکن نہیں دوسری طرف ایران نے گذشتہ دو دنوں میں اسرائیل سمیت پورے گلف ریجن میں جو تباھی مچائ ھے اس سے یہ جنگ ایک ایسے خطرناک موڑ پر آگئ ھے جس کا خمیازہ شاید پوری دنیا مل کر بھی نہ بھگت سکے امریکی صدر اپنے پیغام میں فرماتے ہیں کہ انہیں ایران کی پارس گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کا علم نہ تھا اسرائیلی آفیشل امریکی میڈیا پر ہی بیٹھ کر اس بات کی تردید کر رھے اور بڑے واضع الفاظ میں کہہ رھے ہیں کہ حملے سے پہلے امریکہ کو باقاعدہ آگاہ کیا گیا تھا ایران اپنے موقف اور عزم میں بالکل واضع ھے کہ اس پر حملہ میں جس ملک کی ائر سپیس نیول سپیس یا زمینی حدود استمعال ھوئ اس ملک میں امریکی اور اسرائیلی اہداف اس کے قانونی ٹارگٹ ھو نگے یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ھے کہ اسرائیل کی سرحدیں ایران کیساتھ نہیں ملتیں اسے ایران پر حملے کے لئے انہی گلف ممالک کی فضائ حدود کو پار کرنا پڑتا ھے تو باقی دو جمع دو آپ خود کر لیں ۔
ایک تو ایران میں جن لوگوں کیساتھ جنگ بندی کے لئے مکالمہ ممکن تھا اسرائیل بڑی تیزی کیساتھ انہیں قتل کئے جا رھا ھے ایران نے جنگ کے آغاز سے بہت پہلے آمدہ جنگ کے لئے جو ڈاکٹرائن تیار کیا تھا اس پر کاربند نظر آتا ھے یعنی ہر ذمہ دار عہدے پر اس نے انکے کئ کئ متبادل پہلے سے طے کر رکھے ہیں ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کے فوری بعد انکا نظام خود کار مشین کی طرح چلنا شروع ھو گیا اب ایرانی نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل سید علی لاریجانی کی شہادت کیساتھ ہی انکا متبادل پہلے سے طے تھا اور سعید جلیلی کو تو زندہ شہید کہا جاتا ھے نئے رھبر اور سپریم لیڈر کا سیکورٹی کونسل کے نئے جنرل سیکرٹری کیساتھ جو کومبو بنا ھے اس نے جنگ کا نقشہ ہی تبدئیل کر دیا ھے مثال کے طور پر تہران میں آئل ڈپو اور پارس آئل اینڈ گیس فیلڈ پر حملے کے بعد ایران نے اسرائیل کے سب سے بڑے توانائ کے مرکز حیفہ آئل ریفائنری کمپلکس اتنا شدید حملہ کیا ھے کہ جس سے پورے حیفہ بیت شمس ایلات اور یروشلم کے کچھ حصہ میں ابھی تک بجلی بحال نہیں ھو سکی بازان میں واقع یہ حیفہ آئل ریفائنری روزانہ 1 لاکھ 97 ہزار بیرل آئل سے زیادہ تیل ریفائن کرتی تھی اور ملکی ضروریات کا 50 سے 60 فیصد یہی یونٹ فراہم کرتا تھا اسرائیل کی ٹرانسپورٹ ایوی ایشن اور فوجی ایندھن کا انحصار اسی آئل ریفائنری پر تھا ساتھ ہی گذشتہ رات ایران نے اسرائیل کے سب سے بڑے انٹرنیشنل بن گوریان ائر پورٹ پر حملہ کر کے اسے کچھ عرصہ کے لئے ناقابل استعمال بنا دیا ھے اسرائیل کے لئے ذاتی طور پر یہ جنگ اپنے قیام سے آج تک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ڈراونا خواب بنتا جا رھا ھے اور اب آھستہ آھستہ اسرائیل بھی غزہ کے موجودہ ڈیزائن میں ڈھلنا شروع ھو چکا ھے دوسری جانب قطر سعودی عرب کویت اور بحرین کی آئل تنصیبات بھی ایران کے مسلسل نشانے پر ہیں اور اس سے ھونے والے نقصان کا خمیازہ آنے والے کل میں پوری دنیا کو بھگتنا ھو گا
ایران کی جوابی حکمت عملی نے دنیا کے سب سے طاقتور شخص اس قدر کمزور کر دیا ھے کہ اس نے گذشتہ ایک روز میں پاکستان سمیت تین مختلف ثالثوں کے ذریعے ایران کو جنگ بندی کی پیشکش اس یقین دھانی کیساتھ کروائ ھے کہ اسرائیل آئیندہ ایسا کوئ حملہ اس کی پیشگی اجازت کے بغیر نہیں کرئے گا لیکن فی الحال ایران ایسی کسی پیشکش کو درخوراعتناء نہیں سمجھتا ایک درمیانی رابطے نے ایران کو ایٹمی حملے سے بھی ڈرانے کی کوشش کی کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کو اس جنگ سے فرار کے لئے محفوظ راستہ نہ دیا گیا تو وہ یہ انتہائ قدم بھی اٹھا سکتا ھے جس پر ایران کا جواب آنے والے دنوں کی حساسیئت اور سنگینی کو مزید گہرا کر دیتا ھے کہ ایران انکے ایٹمی حملے کے لئے بھی تیار ھے۔
یعنی خدا نہ کرے کیا ایران آخری حد تک جانے کو تیار ھے تو اس کرہ پر حضرت انسان کا وجود ہی خطرے میں ھے۔

شری ڈونلڈ ٹرمپ کی دھائ      پہلا حصہ             زیادہ سنجیدہ ھونے کی ضرورت نہیں بس خود کو دنیا کا طاقتور ترین شخص قرار ...
16/03/2026

شری ڈونلڈ ٹرمپ کی دھائ

پہلا حصہ
زیادہ سنجیدہ ھونے کی ضرورت نہیں بس خود کو دنیا کا طاقتور ترین شخص قرار دینے والے کی شرلیاں اور پھلجھڑیاں ملاحظہ فرمائیں موصوف اپنے ٹرتھ سوشل اکاونٹ پر فرماتے ہیں کہ میں نے ایران کو بدترین شکست سے دوچار کر دیا ھے انکو ہر طرح سے برباد کر دیا ھے اب دنیا آئے اور میرے ساتھ ملکر آبنائے ہرمز کھلوائے گو یہاں بھی ایران کچھ کرنے کے قابل نہیں اور وہ اکیلے بھی یہ معرکہ سرانجام دے سکتے ہیں لیکن وہ اس مقدس کام میں دنیا کے دیگر طاقتور ملکوں کو بھی شامل کرنا چاھتے ہیں تاکہ اس سے حاصل ھونے والا اجر عظیم وہ اکیلے ہی نہ لے اڑیں پھر باقاعدہ نام لیکر مختلف ملکوں کو پکارتے ہیں اور انکے نام کی دھائیاں دیتے ہیں کہ چین فرانس جرمنی روس شمالی کوریا اور دیگر یعنی ساری دنیا ہی کہاں ھے کہاں ہیں میرے نیٹو کے اتحادی یہ سب آگے بڑھیں اور آبنائے ہرمز کو کھلوایں ساتھ ہی ایک یقین دھانی بھی کرواتے ہیں کہ جب آپ یہ مقدس فریضہ سرانجام دے رھے ھوں گے ھم ایران پر تاریخ کی بدترین بمباری کر رھے ھونگے لہذا ڈرنے یا جھجکنے کی ضرورت نہیں اس کے ٹھیک 20 گھنٹے بعد انکا اسی ٹرتھ سوشل اکاونٹ سے دوبار ایک ری انفورسمنٹ پیغام موصول ھوتا ھے۔
دوسرا حصہ
دوسرے حصے میں وہ بات ہی یہاں سے شروع کرتے ہیں کہ آبنائے ہرمز ایران نے مصنوعی طور پر بند کر رکھی یعنی آبنائے کی بندش کا سارا تاثر جعلی ھے کہنا وہ یہ چاھتے ہیں کہ میں نے ساری چھان بین کر لی ھے اور یہ خبر پکی ھے کہ آبنائے پر ایران کا بالکل بھی کنٹرول نہیں لہذا وہ ممالک جن کا یہاں سے تیل گذرتا ھے بالخصوص چین اور یورپین یونین نیٹو ممالک آگے بڑھیں اور آبنائے سے ایران کی جعلی مناپلی اور فیک قبضے کا قصہ تمام کر دیں کیونکہ اتنے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے بھی اب اسے ہی آنا ھو گا۔
کل ملا کر بات یہ ھوئ کہ وہ آبنائے ہرمز جو انکی وجہ سے
ایران نے بند کر دی اور یہ بندش بھی جعلی اور فیک ھے دنیا آگے آئے اور مجھے کھلوا کر دے
ویسے ان دونوں پیغامات میں امریکہ کے صدر نے کیا کیا تسلیم کر لیا ھے؟
بلاتبصرہ

تہذیبوں کا تصادمتحریر مختار ترابیایک بات تو طے ھے کہ ایران   جنگ کا روائیتی انداز ترک کر کے امریکہ اور اسرائیل کو غیر رو...
16/03/2026

تہذیبوں کا تصادم
تحریر مختار ترابی

ایک بات تو طے ھے کہ ایران جنگ کا روائیتی انداز ترک کر کے امریکہ اور اسرائیل کو غیر روائیتی میدان میں لے آیا ھے جس کا انہیں پہلے کوئ تجربہ حاصل نہ تھا ایک ایسا میدان جس میں اپنے لہو لہو بدن کیساتھ ایران دشمن کو ہر ضرب کاری لگا رھا ھے جس نے اس عالمی عفریت کو بوکھلا دیا ھے اپنی مرضی کے میدان میں دوسروں کی تذلیل کرنے والا امریکہ ہونقوں کی طرح ادھر ادھر دیکھ رھا ھے اور نوبت ایں جا رسید کہ دنیا بھر میں طاقت کی علامت امریکی صدر کو روسی صدر ولادی میر پوٹن کو ایک گھنٹہ فون کرنا پڑ گیا ھے دنیا کو ٹیرف ٹیرف کی دھمکیاں لگانے والا بقلم خود دوسروں کو روسی تیل خریدنے کی آفرز دینے لگ گیا ھے یوں لگتا ھے جیسے ایران جنگ کا پورا نقشہ پہلے سے تیار کر کے بیٹھا تھا اور جون 2025 کے بعد ایران نے صرف اس جنگ کی منصوبہ بندی ہی کی ھو اور میدان جنگ میں اپنا ایک ایک مہرہ اس طرح سجایا ھے کہ ماہرین جنگ انگشت بدنداں ہیں کہ یہ ھو کیا رھا ھے لبیا مصر عراق سوڈان اور افغانستان اور شام جیسے تجربے کی حامل امریکی افواج اور تھنک ٹینکس کا خیال تھا کہ ماضی کی طرح سر کٹتے ہی ایرانی رجیم منہ کے بل گرئے گی اور ایران کی سڑکوں پر امریکہ کے لئے خوش آمدیدی کتبے لئے عوام کا سمندر چشم مآ روشن دل ماشاد کہنے باہر آ جائے گا لیکن برستے بارود میں ایرانی نکلے اور ایسا نکلے کہ چشم فلک نے پہلے یہ نظارہ شاید ہی دیکھا ھو کروڑوں ایرانی مرگ بر امریکہ مرگ بر اسرائیل کہتے ھوئے میزائیلوں اور بارود کے سائے میں امریکہ اور اسرائیل کی ساری طاقت کو جوتے کی نوک پر رکھے ھوئے تھے برستی آگ میں عزم اور حوصلہ نہ ھارنے والی اپنے دشمن کی اتنی درست شناخت رکھنے والی ایرانی قوم جی ہاں دشمن کی شناخت کتنا بڑا مسلہ ھوتا ھے یہ کوئ لبیا عراق مصر شام وغیرہ سے پوچھے لیکن کمال یہ تھا ایک ایرانی خاتون جو اپنے چھوٹے سے بچے کیساتھ تہران کی سڑک پر مرگ بر امریکہ کے نعرے لگا رھی تھی تو اس سے ایک ایرانی صحافی نے پوچھا کہ آپکا بچہ ڈائیپر کرتا ھے اس نے کہا ھاں کرتا ھے صحافی نے فوری دوسرا سوال کیا کہ امریکہ اور اسرائیل تو ایرانی پانی کے ذخائر برباد کر رھے ہیں تو آپ کیا کریں گی قوموں کی زندگی میں حریت اور آزادی کسے کہتے ہیں یہ بتایا اس خاتون کے جواب نے اس ایرانی عورت نے کہا میرا بچہ میرے ساتھ اپنے ڈائیپر بدلنے کے لئے پانی مانگنے نہیں آیا بلکہ یہ آئندہ آنے والوں کا پانی محفوظ بنانے آیا ھے میں جانتی ھوں اس جنگ میں یہ اور میں دونوں مر بھی سکتے ہیں لیکن آئندہ آنے والوں کے لئے کسی کو تو کھڑا ھونا ھے اور وہ " کسی" ھم دونوں ماں بیٹا کیوں نہیں ھم اپنے حصے کا پانی لینے نہیں آئے بلکہ اپنا حصہ آنے والوں کے لئے محفوظ بنانے نکلے ہیں یہ ھے وہ غیر روائیتی میدان جس میں ایران امریکہ اور اسرائیل کو گھیر کر لے آیا ھے اور پلاننگ کے مطابق پہلے مرحلے میں ہی اس نے سر کاٹ کر ایران کو چیک میٹ کہہ دیا لیکن یہ تو انہیں گمان بھی نہیں تھا کہ ایران اگلی ہی چال میں اسے چیک میٹ کہہ دے گا اب بساط پر اسکے مضبوط قلعے گر رھے ہیں اسکے اندھی طاقت کے نشے میں بدمست ھاتھی یو ایس ایس ابراھم لنکن اور یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ کان میں گھسنے والی چیونٹی کی وجہ سے اب اپنی ہی فوج کو روندنے کے درپے ھیں اسکا وزیر چاروں طرف سے گھر چکا ھے ایران اس پر آسمان سے آگ برسا رھا ھے تو زمین پر اسے حزب اللہ نے گھیر لیا ھے اس کے نیٹو کی شکل میں اڑھائ گھر چلنے والے یورپی اور دیگر اتحادی گھوڑے اپنے اپنے تھان پر بندھے دولتیاں جھاڑنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کر پا رھے کیونکہ انکے اصطبلوں کے دروازے پر پہلے ہی روسی سفید ریچھ بیٹھے ہیں جس کے خوف سے اگلی پچھلی دولتیاں جھاڑ جھاڑ وہ خود کو ہی زخمی کئے جا رھے ہیں پورے مشرق وسطی میں پھیلے اس کے بے چارے معمولی پیادے ایک کے بعد ایک گر رھے ھیں اپنی عوام اور دنیا کے سامنے خود کو علاقے کے مکمل بدمعاش سمجھنے والی یہ رقاصائیں جو کبھی امریکی صدر کے سامنے بال کھول کر ناچتی ہیں جن میں ایک بھی مرد نہیں سب کو اپنی جان کے لالے پڑے ہیں پوری دنیا کی لائف لائن آبنائے ہرمز ایران نے بند کر دی ھے اور اپنی تماتر حشر سامانیوں کے باوجود امریکہ اسے تاحال کھلوانے میں ناکام ھے ایران کی دفاعی سٹرئیٹجی بڑی واضع ہے یعنی جیسے کو تیسا جسے انگریزی میں ٹٹ 4 ٹیٹ کہتے ہیں سادہ لفظوں میں جیسا کرو گے ویسا بھرو گے کوئ دن جاتا ھے کہ امریکہ کو بے آبرو ھو کر مشرق وسطی سے نکلنا پڑ جائے اور یہ ایسا نکلنا ھو کہ پھر کبھی اس خطے کا رخ بھی نہ کر سکے
شروع تو امریکہ اور اسرائیل نے کیا لیکن جنگ کا کنٹرول یعنی اس کے اسٹئیرنگ پر اب ایران بیٹھا ھے اسی لئے کہتے ہیں کہ جنگ لاکھ منصوبہ بندی کے باوجود میدان جنگ میں کیسا رخ اختیار کر لے یہ جنگ شروع کرنے والے کے اختیار میں نہیں رھتا ایران کے ایک سابق صدر سید محمد خاتمی نے بہت عرصہ پہلے دنیا کو اسی جنگ بارے بتایا تھا کہ ایران اس دنیا کی معلوم تاریخ کی سب سے قدیم تہذیب ھے جس نے ہزاروں سال سے اپنے وجود کو کھویا نہیں آپ دیکھ لیں تاریخ کھنگال لیں بابل ہڑپہ موہنجوداڑو اور ٹیکسلا کی تہذیبیں ماءسوا اپنے نشانات کے دنیا سے مٹ گئیں لیکن ایرانی قوم نہ کبھی آئین نو سے ڈری ھے نہ ہی طرز کہن پر اڑی ھے دنیا جوں جوں آگے بڑھتی گئ ایران اپنا سینہ کشادہ کرتا چلا گیا اور ہر نئے دور کو اپنے اندر سموتا چلا گیا خاتمی نے دنیا کو یہی سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ ایران ایک مکمل تہذیب ھے جس کیساتھ کسی دوسری تہذیب کا ٹکراو امن عالم کو خطرے میں ڈال دے گا جو اس کرے پر حضرت انسان کے وجود کو بھی ناپید کر سکتا ھے لیکن یقینی طور پر جھوٹی اور مینج کشتیاں کروانے والے ڈبلیو ذبلیو ای کے مالک امریکی صدر کو تہذیبوں اور انکے تصادم کے نتائج کا کیا علم ھو سکتا ھے

سود و زیاںتہران میں ایران کے سب سے بڑے آئل ڈپو پر اسرائیلی خوفناک حملہ کے بعد جواب آں غزل ایران نے حیفہ میں واقع اسرائیل...
10/03/2026

سود و زیاں

تہران میں ایران کے سب سے بڑے آئل ڈپو پر اسرائیلی خوفناک حملہ کے بعد جواب آں غزل ایران نے حیفہ میں واقع اسرائیل کی سب سے بڑی آئل ریفائنری اڑا دی جس کی عالمی میڈیا باقاعدہ تصدیق کر رھا ھے یہ آئل ریفائنری اسرائیل کی شہہ رگ کی حثیت رکھتی تھی جہاں سے وہ اپنی توانائ کی 70 فیصد ضروریات کو پورا کر رھا تھا اس بارے IRGC کے ترجمان کرنل ابراھیم ذوالفقاری نے حملے کی تفصیلات بتاتے ھوئے ایک بات بڑی کمال کی انہوں نے کہا ھم اپنی مادر گیتی کے لئے آخری ایرانی کے قربان ھونے تک کھڑے ہیں سوچنا تو یہ ھے کہ آپ یہ سب کب تک برداشت کر پائیں گے جی ھاں بات اب یہیں آ پہنچی ھے کہ ایران تو اپنی بربادی کے ملبے پر بھی ڈٹ کے کھڑا ھے لیکن عالمی دوکاندار اس کاروبار کا سود و زیاں تولنے بیٹھ چکے ہیں آبنائے ہرمز بند ھونے سے ایک ہی دفعہ تیل کی قیمتوں کو جو جھٹکا لگا ھے اس نے کئ سرمایہ داروں کا رام رام ستہ بول دیا ھے دوسری جانب رواں ہفتے کے آغاز پر عین توقع کے مطابق عالمی سٹاک مارکیٹ میں مندی کے رحجان کی وجہ سے کئ سرمایہ کاروں کا ابتک کریا کرم بھی ھو چکا ھے اور صرف 2 ورکنگ یعنی کاروباری دنوں میں سرمایہ داروں کے کھربوں ارب ڈالر ڈوب چکے ہیں بلوم برگ کی ایک رپورٹ کیمطابق ہائ ٹیک مارکیٹ میں 18 کمنیوں کو ابتک 1 ہزار ارب ڈالر کا نقصان ھو چکا ھے تیل کی بندش کیساتھ ساتھ قطر نے ایل این جی گیس کی پیداوار بھی بند کر دی ھے اور یہ یکم مارچ 2026 کو یی طے ھو گیا تھا ایسے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائ کا ایک بہت بڑا اور خوفناک طوفان دنیا کے نقشے پر موجود کم وبیش ہر ملک کے سامنے ایک خوفناک حقیقت بن کر کھڑا ھے مہنگائ کا عالمی رحجان پہلے ہی بہت کچھ تباہ و برباد کر چکا ھے اوپر سے تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اور اس سے پیدا ھونے والی مہنگائ بے روزگاری اور افراط زر کا طوفان کون برداشت کر پائے گا ۔
مشرق وسطی اس وقت جنگ کا سینٹرل پوائنٹ ھے جہاں پینے کا صاف پانی انتہائ ناپید ھے یہ پانی اگر سعودی عرب قطر یو اے ای وغیرہ میں نایاب ھے تو تہران بھی بہت عرصے سے اس کمی کا شکار ھے اور 2025 میں ھونے والے حکومت مخالف مظاہروں کی ایک وجہ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی بھی تھی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل نے ایک ایرانی جزیرے پر قائم سمندر کے پانی کو پینے کے قابل بنانے کے لئے لگائے گئے پلانٹ پر حملہ کر کے اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا ھے جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل بحرین کویت قطر اور یو اے ای میں نصب ایسے ہی پلانٹوں کو اپنے میزائیلوں اور ڈرونز کے نشانے پر رکھ لیا ھے جس کی بنا پر خطے میں ایک انسانی المیہ بھی پیدا ھو سکتا ھے پانی کی کمی ایک ایسا معاملہ ھے جس کے اثرات اگلی نسلوں میں بھی دکھائ دیں گے اس لئے تمام متحارب فریقین ھوش کے ناخن لیں لیکن جنگ میں اصول ضابطے کہاں اور جہاں دشمن اسرائیل جیسا ھو وہاں کیسا انصاف اور کیا ضابطہ اب دیکھیں ہمارے لئے اس جنگ میں ابتک کا خوفناک منظر ایرانی وزیر خارجہ کی طرف سے شجرہ طیبہ سکول پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں شہید ھونے والی بچیوں کی قبروں کی تصویر تھی جس نے معمولی درد دل رکھنے اور انسانیت پر یقین کرنے والے کو دہلا کر رکھ دیا لیکن حملہ آور کے لئے تو یہ ایک معمولی آبجیکٹ تھا ۔
اس وقت جو صورتحال ھے اس میں ایران اگر لہو لہو ھے تو اسرائیل و امریکہ بھی ایران کے دئیے گئے زخموں کو چاٹنے پر مجبور ہیں اسرائیل اور خطے پر اپنی گرفت مظبوط رکھنے اور مشرق وسطی میں موجود توانائ کے ذخائر کو اپنے قابو میں رکھنے کے لئے امریکہ کی کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری جنگ کے پہلے دس دنوں خاکستر ھو کر مٹی کا ڈھیر بن چکی ھے اس کی آنکھ ناک اور کان کا درجہ رکھنے والے حواس ایران کے سستے ترین ڈرونز نے برباد کر دئیے ہیں اسکے اتحادی عرب یہ کہنے پر مجبور ھو چکے ہیں کہ ہماری دولت سے ہی ہماری حفاظت کا دم بھرنے والے امریکہ نے ھمارا زرہ برابر خیال نہیں رکھا اور صرف اسرائیل کی وجہ سے ہمیں ایران کے مقابل لا کھڑا کیا ھے عربوں میں یہ تاثر بھی کسی نہ کسی سطح پر موجود ھے کہ اگر ھم پلٹ کر ایران پر وار کرتے ہیں تو ھم براہ راست نیتن یاھو یعنی اسرائیل کے حمائیتی شمار ھونگے جس کا دوسرا رخ یہ بھی ھو سکتا ھے کہ ھمارے اپنے لوگ ہی ھمارے خلاف ھو جائیں اور ہماری بادشاہی دھری کی دھری رہ جائے اس حوالے سے عرب عوام میں پھیلنے والی بے چینی کا آغاز بحرین سے ھو چکا ھے ھو سکتا ھے آنے والے دنوں میں چشم افلاک یہ نظارہ بھی دیکھے کہ ان عرب ممالک میں غلاموں جیسی زندگی بسر کرنے والے کمزور غیر ملکی عرب کے وارث بن بیٹھیں کیونکہ یہ بھی خدا کا وعدہ ھے کہ وہ کمزور نحیف لوگوں کو بھی زمین کا وارث بنا دیتا ھے۔

مذھبی ٹچ تحریر مختار ترابی                            جون 2025 کی 12 روزہ جنگ کی طرح اب بھی آپ اسی غلط فہمی کا شکار تھے ...
07/03/2026

مذھبی ٹچ
تحریر مختار ترابی

جون 2025 کی 12 روزہ جنگ کی طرح اب بھی آپ اسی غلط فہمی کا شکار تھے کہ ھم کسی نیوکلیر سائٹ پر بمباری کر کے پیشگی اطلاع پر ایران کو رسمی ایک دو پٹاخے پھوڑنے کی اجازت دے کر جنگ بندی کروا لیں گے لیکن اب ایران کا ردعمل ہر گذرتے دن کیساتھ آپکو حیران و پریشان کئے جا رھا ھے آپکے ناقابل شکست ھونے کی متھ ٹوٹ رھی ھے اقوام عالم میں آپکی بچی کھچی ساکھ کے مشرق وسطی اور اسرائیل میں لگنے والے ایرانی مزائیلوں سے پرخچے اڑ رھے ہیں مشرق وسطی سے آپ تقریبا پیک کر چکے ہیں بس رسمی اعلان باقی ھے کیونکہ اب آپکے خطے میں موجود اتحادیوں نے چیخ و پکار شروع کر دی ھے جنگ سے پہلے ایران پوری دنیا کو یقین دلا چکا تھا کہ وہ کسی طور جنگ نہیں چاھتا وہ یورنیم کی صفر فیصد انرچمنٹ پر بھی راضی ھو چکا تھا لیکن آپ کا خیال تھا جیسے لبیا عراق سوڈان مصر اور افغانستان میں وہاں کے ڈکٹیٹروں کے گرنے سے عوام نے آپکا استقبال کیا تھا ایران میں بھی کچھ ایسا ہی ھو گا لیکن یہاں تو سب کچھ آپ کے اندازوں کے الٹ ھوا ایرانی سپریم لیڈر نے اپنی عوام اور ملک کے لئے اپنے پورے کنبے اور ٹاپ لیڈر شپ کے ہمراہ ایسی قربانی اور شہادت دی ھے جس نے ایرانی عوام کو بجا طور پر دوبارہ یک جان کر دیا ھے اور اس خون نے ان کے دلوں میں ایسی حرارت پیدا کی ھے جس کی حدت اب آپکو باقاعدہ محسوس ھو رھی ھے اب آپکو اس جنگ سے نکلنے کا کوئ راستہ سجھائ نہیں دے رھا امریکی ذرائع ابلاغ دعوی کر رھے ہیں کہ امریکی صدر نے بیک ڈور چینل سے اٹلی کے ذریعے ایران کو جنگ بندی اور مذاکرات کی پیشکش کی ھے لیکن ایران کسی طور ماننے کو تیار نہیں اقوام متحدہ پر آپ خود خودکش حملہ کر کے اسے برباد کر چکے ہیں رہ گئ غزہ پیس بورڈ کی بات تو وہ بھی اس حملے کے ساتھ ہی کہیں شہادت پا گیا ھے دوسری جانب روسی اینٹلی جنس ذرائع بتا رھے ہیں کہ آپ کو اس جنگ میں دھکا دینے والے اسرائیل کی حالت دگرگوں ھو چکی ھے روسی ذرائع کا کہنا ھے کہ اسرائیل ڈیفنس فورس کے ٹاپ 6 جنرلز 32 موساد ایجنٹ 198 ائرفورس پرسونل 11 سائنس دان 76 میرینز 423 ریزرو فوجیوں سمیت 1233 افراد ایرانی میزائیلوں کا نشانہ بن چکے ہیں اسرائیل کا ایٹمی ڈیمونہ پاور پلانٹ ایرانی میزائیلوں نے راکھ کا ڈھیر بنا دیا ھے ان تمام باتوں کی تصدیق بھارتی ذرائع بھی کر رھے ہیں مشرق وسطی میں آپکا ففتھ فلیٹ ھیڈ کوارٹر بحرین قطر میں العدید ائربیس پر سینٹ کام کا ھیڈ کوارٹر اور اربوں ڈالر مالیت کا ریڈار سسٹم تباہ ھو چکا ھے امریکی طاقت کا مظہر یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ پیچھے ھٹ رھا ھے جبکہ امریکی ذرائع ہی یہ بتا رھے ہیں کہ زخم خوردہ یو ایس ایس ابراھام لنکن ایرانی پانیوں سے 1 ہزار کلومیٹر دور کہیں بحر ھند میں اپنے زخم سہلا رھا ھے آبنائے ہرمز بند ھونے سے گلوبل اکنامی دباو میں آ چکی ھے تیل کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائ کا ایک عالمی طوفان دنیا کے نقشے پر موجود ہر ملک کی طرف بڑھنا شروع ھو چکا ھے آپ ایران پر جتنے بھی حملے کرنے ہیں کریں ایران کو بچانا ھے اپنا نظام اور اپنی جغرافیائ حثیت کو لیکن آپ کا تو سب کچھ داوء پر لگ چکا ھے حالات کی سنگینی کا آپکو خود بھی احساس ھے کیونکہ پورے عالم اسلام کو مذھبی انتہا پسندی کا طعنہ دینے والے کا اپنا اوول آفس مذھبی انتہا پسندی کا عملی نمونہ بنا ھوا ھے ملک بھر کے پادریوں سے دعا لینے سے پہلے اپنے خطاب میں آپ نے خود کو حضرت مسیح علیہ السلام کا نمائندہ قرار دیا اور اس جنگ کو حق و باطل کا ایک معرکہ قرار دے کر مذھبی ٹچ خود فراھم کر دیا ھے لیکن اس دھرتی پر بہائے گئے ہر بے گناہ خون کیساتھ خدا کا وعدہ ھے ظلم پھر ظلم ھے بڑھتا ھے تو مٹ جاتا ھے

بدقسمت عربتحریر مختار ترابی           28 فروری کو دونوں خبریں تھوڑے بہت فرق سے ایک ساتھ ہی آئیں پہلی خبر تھی کہ امریکہ ا...
05/03/2026

بدقسمت عرب
تحریر مختار ترابی
28 فروری کو دونوں خبریں تھوڑے بہت فرق سے ایک ساتھ ہی آئیں پہلی خبر تھی کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا جوابی حملے میں ایران کا ردعمل بڑا خوفناک تھا اس نے بشمول اسرائیل مشرق وسطی میں قائم تمام امریکی اڈوں کو اپنے ڈرونز اور میزائیلوں کے نشانے پر رکھ لیا جن 4 مقامات پر ابتک ایران تابڑ توڑ حملے کئے جا رھا ھے ان میں اسرائیل بحرین قطر اور یواےای کے اڈے شامل ہیں ان میں بھی ایران نے میزائیل مار مار کر جس جگہ کا بھرکس نکال دیا ھے وہ امریکہ کا ففتھ فلیٹ نیول ھیڈ کوارٹر بحرین ھے آخر ایران تاک تاک کر یہیں حملے کیوں کیے جا رھا ھے جون 2025 کے 7 ماہ بعد اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر موجودہ دوبارہ حملے میں اس دفعہ ایران کا ردعمل بڑا خوفناک نپا تلا اور اور انتہائ ٹارگٹڈ ھے یوں لگتا ھے کہ اسے زرا بھی جلدی نہیں نہ ھی اس کے ردعمل میں کوئ بوکھلاھٹ ھے انتہائ مربوط اور عین نشانوں پر ایرانی حملوں نے مشرق وسطی میں طاقت کے توازن کو ہلا کر رکھ دیا ھے اور جس طرح کی چیزیں سامنے آ رھی ہیں معلوم یہ ھوتا ھے کہ ایک آدھ ہفتے کے بعد یہ توازن ایران کے حق میں ہی نہ پلٹ جائے یہاں سوچنے والی بات ھے کہ آخر بحرین کا ففتھ فلیٹ ھو یا قطر کی العدید ائر بیس یا یواےای میں ھونے والے یکے بعد دیگرے حملے آخر ان حملوں سے ایران حاصل کیا کرنا چاھتا ھے گو ایران نے پیشگی ان حملوں سے آگاہ کر دیا تھا پھر بھی برادر اسلامی ممالک پر ان حملوں کے پیچھے ایران کی ایک واضع سوچ نظر آتی ھے اب ففتھ فلیٹ نیول ھیڈ کوارٹر بحرین کی ہی بات کریں تو اسے ایسے سمجھیے کہ امریکہ کے پاس 5 ایسے فلیٹ ہیں جو طے کردہ علاقوں اور ممالک میں امریکی مفادات کا تحفظ کرتے ھیں انہی میں سے ایک بحرین کا ففتھ فلیٹ ھے جہاں اس کا پانچواں بحری بیڑہ متعین ھے اس کے زیرنگرانی کتنا ایریا ھے آپ شاید یقین نہ کریں 68 ملین مربع کلومیٹر مشرق وسطی سے بحرہ ھند اور بحرالکاہل تک پاکستان سمیت 21 ممالک اس میں آتے ہیں عراق کی دونوں جنگیں افغانستان کی جنگ یا مشرق وسطی میں اب تک جتنے بھی آپریشن امریکہ نے کئے ان سب پر عملدرآمد کی ساری پلاننگ منصوبہ بندی اور ایگزیکیوٹ یہیں سے ھوے اس فلیٹ ھیڈکوارٹر پر لگ بھگ 10 ہزار فوجی 5 ہزار سے 7 ہزار تک وزارت دفاع کے ملازمین فوجیوں کے اہل خانہ اور دیگر معاون متعین ھیں اس بیڑے میں شامل موبائل ائر کرافٹ کیرئیرز ڈسٹرائرز سب میرینز میری ٹائم پٹرولنگ ائر کرافٹ فائٹرجیٹ ھیلی کاپٹرز اور کئ سٹلائٹس ٹیلی کمیونیکشن سسٹم کام کرتے ہیں ساتھ ہی یہاں پر بحری و فضائ طیاروں کی مرمت کے لئے بڑی اعلی سطحی ورکشاپ بھی موجود ھے اس سارے نظام کو آپ امریکہ کی آنکھ قرار دے سکتے ہیں جبکہ اس سیٹ اپ کو کھڑا کرنے پر امریکہ کے اربوں ڈالر خرچ ھوئے ہیں جبکہ جنگ کے پہلے دن سے آج تک اس فلیٹ ھیڈ کوارٹر کو ایرانی میزائیلوں اور ڈرونز نے کھنڈر بنا دیا ھے اور چار و ناچار تباھی سے بچ جانے والے اثاثوں کو امریکہ کسی اور جگہ منتقل کرنے پر مجبور محض ھے دوسری جانب قطر کا سرکاری موقف ھے اس پر ایران کی طرف سے برسائے گئے 97 فیصد میزائیل راستے میں تباہ کر دئیے گئے لیکن 3 فیصد میزائیل ایسے تھے جو امریکہ کی قطر میں موجود العدید ائر بیس پر تباھی اور بربادی کی داستان رقم کر گئے قطر کی اعلی سطحی حکومتی وضاحت میں اس بات کو تسلیم کیا گیا ھے کہ 1 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا
AN/FPS.132 امریکی ریڈار
سسٹم ایرانی حملے میں تباہ ھو گیا ھے یہ ریڈار سسٹم مشرق وسطی میں امریکہ کے لئے انتہائ اہمیت کا حامل تھا بحرین کے ٹیلی کمیونیکشن سسٹم اس ریڈار کے ساتھ ملکر امریکی مفادات کی قابل بھروسہ نگرانی کرتے تھے یہی وہ سسٹم تھے جو اسرائیل کو بھی حملوں کی پیشگی اطلاع فراھم کرتے تھے قطر کی العدید ایر بیس امریکی CENTCOM سینٹ کام کا مشرق وسطی میں ھیڈ کوارٹر ھے ریڈار سسٹم اور بحرین میں لگے ٹیلی کمیونیکشن سسٹم کی تباھی سے مشرق وسطی میں تمام امریکی اثاثوں کی سیکورٹی کمپرومائز ھو چکی ھے اسی لئے امریکہ کو اپنے لوگوں اور اثاثوں کو یہاں سے فوری طور پر کسی دوسرے محفوظ مقام پر شفٹ کرنا پڑا ھے کویت میں گرنے والے تین امریکی F/15 طیاروں کی اصل وجہ بھی ریڈار سسٹم کی تباھی بتائ جا رھی ھے دوسری جانب یواےای دوبئ میں واقع سی آئ اے کے دفتر پر حملے کے بعد انہوں نے اسے راس الخیمہ میں واقع ایک ھوٹل میں منتقل کیا لیکن ایران نے وھاں بھی حملہ کر دیا کل ملا کر مشرق وسطی میں تمام امریکی اہداف ایران کے نشانے پر ہیں اور مشرق وسطی سے امریکہ کا پیک اپ اب نوشتہ دیوار ھے اور اگر ایسا ھو گیا تو نہ صرف جنگ کا نقشہ بدل جائے گا بلکہ مشرق وسطی کا نقشہ بھی بدل سکتا ھے یعنی ایران نے یہ طے کر دیا ھے کہ یہ تمام اہداف تو میرے ٹارگٹ پر ہیں اب تم کہیں اور سے ہی اس جنگ کو آپریٹ کرو گے ایسے میں بدقسمت عربوں کے پاس میڈیم نورجہاں کا یہ گانا ہی گانے کو بچے گا
اھو جاندا جے ٹریا کول جیہڑا بہندا سی

03/03/2026

پکچر ابھی باقی ھے
تحریر مختار ترابی

سادگی اور معصومیت تو دیکھیے امریکی صدر فرما رھے ہیں کہ یہ کیا بات ھوئ ایران نے عرب ممالک پر ہی حملے شروع کر دئیے ہیں اب اس ڈبلیو ڈبلیو ایف برانڈ کے مالک درشنی اور فکس کشتیاں لڑنے والے پہلوان کی دوسری سادہ بات سنئیے سر دھنیے اور عبرت حاصل کیجئے کہ کویت میں ہمارے تین جہاز فرینڈلی فائر میں گر گئے موصوف کی سادگی کا یہ عالم ھے کہ دنیا ابھی ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت بارے ایران کے سرکاری موقف کا انتظار کر رھی تھی جبکہ موصوف سادہ سادہ شگوفے چھوڑ رھے تھے کہ ایران کی نئ قیادت ھمارے ساتھ مذاکرات کے لئے تیار ھے یہ تو بعد میں جناب صدر کے کان میں کسی مشیر نے کہا کہ اس بات کا مطلب ھے کہ اب آپ اس جنگ سے جان چھڑانا چاھتے ہیں حالانکہ وہ جانتا ھے کہ ایران نے پہلے ہی یہ بتا دیا تھا کہ اگر اس پر حملہ ھوا تو یہ جنگ پورے خطے میں پھیل جائے گی خطے میں جہاں جہاں امریکی اڈے ہیں وہ بلا تفریق ایران کے نشانے پر ھونگے ایران کے اس سوچے سمجھے اور نپے تلے ردعمل سے رتی بھر بھی بوکھلاھٹ عیاں نہیں ھوتی کہ ٹاپ کی تمامتر سیاسی و عسکری قیادت کھو دینے کے باوجود مشرق وسطی میں موجود امریکی اڈوں پر حملے کر کے ایران نے سیاسی بساط پر ایک کمال چال چلی ھے ایک طرف اس نے امریکی اسلحے اور وار ٹیکنالوجی پر اندھا اعتماد کرنے والے عربوں کے سامنے یہ ننگی حقیقت عیاں کر دی ھے کہ کرائے کے ٹٹو وقت پڑنے پر کسی کام نہیں آتے اور انتہائ مہنگے داموں اربوں کھربوں ڈالر سالانہ ادا کر کے انہوں نے جو سیکورٹی کرائے پر حاصل کر رکھی تھی وہ انہیں ایرانی حملوں سے بچا نہیں پائ آج انکے ائرپورٹ بند سڑکیں سنسان اور شہروں میں ھو کا عالم ھے بلاد اسلامیہ اور اس جنگ سے براہ راست متاثرین میں ترکیہ آزربائیجان اردن بحرین عمان اور یو اے ای نے اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ھے اور ان ممالک کیساتھ اسرائیل کے باقاعدہ سفارتی تعلقات ہیں یعنی یہ وہ ممالک ہیں جہاں باقاعدہ اسرائیلی جھنڈا لہرا رھا ھے ایک طرف تو یہ تمام ممالک ایرانی میزائیلوں کی زد پر ہیں اور امریکہ ان کو محفوظ نہیں رکھ پایا تو ساتھ ہی ایران نے انکے منافقانہ کردار و افکار کو بیچ چوراھے میں ننگا کر دیا ھے اگر یہ ایرانی حملوں کا براہ راست جواب دیں یا پلٹ کر ایران پر وار کریں تو وہ براہ راست نتن یاھو کی قیادت میں لڑی جانے والی اس جنگ کا حصہ بن جائیں گے دوسری جانب امریکی پرائڈ یو ایس ایس ابراھم لنکن پر 4 ایرانی بلیسٹک میزائیلوں کے حملے کے بعد یہ ائر کرافٹ کیرئیر بحری بیڑہ اپنی جگہ پر نہیں بلکہ پیچھے ایرانی پانیوں سے دور ھوتا چلا جا رھا ھے اس دوران ایران نے سائپرس یعنی قبرص پر بھی ڈرون اور میزائیل حملہ کیا ھے یہاں ترکیہ سے اوپر قبرص کے پاس دوسرا امریکی بیڑہ یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ کھڑا ھے غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس ائیر کرافٹ کیرئیر نے بھی اس کے بعد ایڈوانس کرنے کی بجائے پیچھے پسپا ھونا شروع کر دیا ھے گویا ایران نے خطے میں تمام امریکی اتحادیوں پر حملہ کر کے اپنے عزم اور اپنے میزائیلوں کی رینج دکھا دی ھے یہی وجہ ھے کہ امریکی بحری بیڑے ایران سے دور ھٹا دئیے گئے ہیں امریکہ نے تسلیم کیا ھے کہ اس جنگ میں اس کے تین لڑاکا طیارے ایف 15 غلط فہمی کی بنیاد پر فرینڈلی فائر سے گر گئے ہیں دوسری جانب ایران کا دعوی ھے کہ اس نے یہ طیارے مار گرائے ہیں ایک تو ایران کے پاس ایسا کوئ فائٹر جہاز موجود نہیں جو ان جہازوں کے پیچھے کویت تک آ جائے جن کے چکر میں یہ طیارے ھٹ ھو جائیں دوسرا فرینڈلی فائر میں ایک آدھ طیارہ تباہ ھو بھی سکتا ھے جبکہ ہائ لی سوفیسٹیکیٹڈ ان طیاروں میں اے ایف ایف سسٹم کام کرتا ھے جو پائلٹ کو دوست دشمن کی پہچان کرواتا ھے پھر ائر ٹریفک کنٹرولر پائلٹس کی آپس میں بات چیت یہ سب چیزیں ظاہر کرتی ہیں کہ ایرانی دعوی درست ھے اور ایران کی چائنہ کیساتھ زمین سے فضا میں مار کرنے والے HQ9 سیریز کے میزائیلوں کے حصول کی بات چیت چل رھی تھی اگر ایران یہ حاصل کرنے میں کامیاب ھو چکا ھے تو اب اسرائیل و امریکہ کا ائر سٹرائیک بھی خالی نہیں جائے گا ایران کچھ پرندوں کو شکار کر لے گا اور یہ اس کا پہلا مظاہرہ ھے کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ فرینڈلی فائر میں اکٹھے تین جہاز ہی گر جائیں
امریکہ نے پہلے اپنے یورپی اتحادی ڈمپ کئے ہیں وہی نیٹو ممالک جن کی وجہ سے امریکہ کی دنیا پر دھشت تھی آج اپنے ان اتحادیوں کو امریکہ نے کورا سا جواب دیا ھے کہ آپ جانیں اور آپکے مسائل اب اس نے عرب اتحادی بھی ایران کے سامنے ڈمپ کر دئیے ہیں تو برستے میزائیلوں میں عرب شیوخ ابھی صبر کریں کافی ساری پکچر ابھی باقی ھے

21/02/2026

آبنائے ہرمز
ایک طرف عمان کی ثالثی میں ایران امریکہ مذاکرات کا دوسرا دور جنیوا میں بغیر کسی نتیجہ کے ختم ھو چکا ھے دونوں فریقین نے مذاکرات کے اگلے دور کا کوئ ٹائم فریم نہیں دیا یہ بلواسطہ مذاکرات جن میں دونوں فریقین جنیوا میں واقع عمانی سفارتخانے کے الگ الگ کمروں میں بیٹھے رھے جبکہ عمانی وزیر خارجہ دونوں فریقین کے درمیان رابطہ کاری کا فریضہ سرانجام دیتے رھے مذاکرات میں ایران نے اپنے جوھری پروگرام سے بڑھ کسی دوسرے نکتے پر بات چیت سے قطعی طور منع کر دیا جس کا صاف مطلب یہ ھے کہ ایران اپنے میزائیل پروگرام اور خطے میں موجود اپنی پراکسیز پر بات چیت کے لئے تیار ہی نہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی جوھری پروگرام ایرانی میزائیل پروگرام اور خطے میں ایرانی پراکسیز کو اپنی ریڈ لائن قرار دے چکے ہیں کہ اس سے کم ایران سے کوئ گفتگو نہ ھو گی جس کا واضع مطلب ھے کہ ایران نہ صرف اپنی حاصل کردہ جوھری صلاحیت سے دستبردار ھونے کو تیار نہیں ساتھ ہی دیگر دونوں نکات پر بات سننے کو بھی تیار نہیں جس سے یہ واضع ھو چکا ھے کہ ایران امریکہ کی جانب اپنے جنگی آرماڈہ کو خلیج فارس میں منتقل کرنے عراق اور آرمینیا میں ہزاروں امریکن ڈیلٹا فورس کی تعیناتی سے ہر گز مرعوب نہیں اور نہ ہی وہ امریکی جنگی دھمکیوں کو خاطر میں لا رھا ھے جس سے الٹا اثر یہ ھوا ھے کہ بجائے اس کے کہ امریکہ اور یورپ کی ہزاروں پابندیوں میں جکڑا ایران امریکن وار انڈسڑی کے شاہکار اپنے سمندروں میں دیکھ کر دباو میں آتا الٹا اس کا خم ٹھونک کر مذاکرات کی ٹیبل پر بھی اپنی پسند کے موضوع کے علاوہ بات نہ کرنے کا سخت موقف حریف امریکہ اور اسرائیل کے لئے دباو کا باعث بن گیا ھے۔
اس کے ساتھ ہی ایرانی پاسداران انقلاب نے چین اور روس کیساتھ ملکر آبنائے ہرمز میں بحری مشقوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا ھے اور مغربی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران نے گذشتہ روز آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی جزوقتی مشق کی جس سے سٹریٹ آف ہرمز چند گھنٹوں کے لئے بند رھی حالانکہ قبل ازیں ان مشقوں کے اعلان پر امریکی سنٹ کام نے واضع انتباہ جاری کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایسی کسی مشق کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن ایران نے اپنے اتحادیوں کیساتھ ملکر نہ صرف مشقوں کا آغاز کیا بلکہ آبنائے ہرمز کو کچھ دیر کے لئے بند کر کے بھی دکھا دیا جنیوا مذاکرات بارے امریکن صدر کا کہنا ھے کہ اس کا اگلا مرحلہ آئندہ دو ہفتے بعد دوبارہ شروع ھو سکتے ہیں اس دوران ایران میں حکومت مخالف مظاہرے کل سے دوبارہ شروع ھو گئے ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایران کے 7 صوبوں 19 شہروں میں دوبارہ مظاہرے شروع ھو گئے ہیں ایران سے آمدہ ابتدائ اطلاعات کے مطابق گو مظاہروں کی شدت دسمبر اور جنوری میں ھونے والے مظاہروں سے بہت کم ھے لیکن ایسا محسوس ھو رھا ھے کہ امریکہ اپنے اوپر دباو کم کرنے اور ایران پر دباو بڑھانے کے لئے دوبارہ شروع ھونے والے مظاہروں کو بنیاد بنا کر مذاکراتی عمل سے خود کو الگ کر لے گا لیکن جنگ کی بلف کال پر چین اور روس کی خلیج فارس میں موجودگی اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز کی بندش نے امریکی اور اسرائیلی اوسان خطا کر رکھے ہیں

Address

St#3 Gill Road
Gujranwala

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when 3+Six posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share