The Reality Voice

The Reality Voice The Reality Voice 🎙️
Truth. Courage. Reality

آج ہمارے شہروں اور اب دھیرے دھیرے ماڈرن بنتے دیہاتوں میں بھی فیشن کے نام پر ایک عجیب و غریب رجحان چل پڑا ہے۔خواتین ایسے ...
21/08/2026

آج ہمارے شہروں اور اب دھیرے دھیرے ماڈرن بنتے دیہاتوں میں بھی فیشن کے نام پر ایک عجیب و غریب رجحان چل پڑا ہے۔

خواتین ایسے انتہائی چست اور تنگ لباس پہن رہی ہیں جن میں سے جسم کی ساخت واضح نمایاں ہوتی ہے۔ پائجامے ٹخنوں اور ایڑیوں سے کافی اوپر تک چست پہنے جاتے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم اسے "ٹرینڈ" اور "جدت" کا نام دے کر خاموشی سے قبول کر رہے ہیں۔

لباس کا اصل مقصد جسم کو ڈھانپنا اور حیا کو برقرار رکھنا ہے، نہ کہ جسم کی نمائش کرنا! ہماری ثقافت اور ہمارا دین ہمیشہ سادگی، وقار اور حیا کا درس دیتا ہے۔جب ہم مغربی کلچر کی اندھی تقلید میں اپنے حیا کے معیار گرا دیتے ہیں، تو ہم سے ہماری اخلاقی اور ثقافتی پہچان چھن جاتی ہے۔

والدین اور سرپرستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھروں میں حیا دار لباس کی اہمیت اور تربیت کو عام کریں۔

کیا آپ کے خیال میں بھی فیشن کے نام پر حیا کے معیارات سے سمجھوتہ کیا جا رہا ہے؟ اپنی رائے دیں۔

ہمارے نظام میں ایک اور انتہا درجے کا ظ/لم اور منافقت دیکھنے کو ملتی ہے ایک ہی گھر میں دو بہوؤں کے ساتھ الگ الگ رویہ!اگر ...
21/08/2026

ہمارے نظام میں ایک اور انتہا درجے کا ظ/لم اور منافقت دیکھنے کو ملتی ہے ایک ہی گھر میں دو بہوؤں کے ساتھ الگ الگ رویہ!

اگر ایک بہو امیر گھرانے سے آئے، اس کے والدین صاحبِ حیثیت ہوں، تو ساس اور سسر کے پاس اس کے لیے پروٹوکول، عزّت اور نرم رویہ ہوتا ہے۔ لیکن اگر دوسری بہو کسی غریب یا متوسط گھرانے سے ہو، تو اسے وہ مقام، پیار اور عزّت نہیں دی جاتی جس کی وہ حقدار ہوتی ہے۔اس سے چھوٹی چھوٹی باتوں پر طعنے دیے جاتے ہیں، کام کا بوجھ ڈالا جاتا ہے اور اسے احساسِ کمتری میں مبتلا کیا جاتا ہے۔

یاد رکھیں! بہو امیر ہو یا غریب، وہ کسی کی بیٹی ہے اور آپ کے گھر کی عزّت ہے۔ برابری اور انصاف کا مظاہرہ کریں، کیونکہ اللہ کے ہاں فیصلے مال و دولت کی بنیاد پر نہیں بلکہ نیت اور تقوے کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔

کیا آپ نے بھی معاشرے میں امیر اور غریب بہو کے ساتھ یہ دوہرا رویہ دیکھا ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔

سوشل میڈیا پر گردش کرتی ایک تصویر نے انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے... ایک لڑکی گلی سے گزر رہی ہے اور راستے میں بیٹھا...
21/08/2026

سوشل میڈیا پر گردش کرتی ایک تصویر نے انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے... ایک لڑکی گلی سے گزر رہی ہے اور راستے میں بیٹھا آوارہ کتا جیسے کہہ رہا ہو: "بے فکر ہو کر گزر جاؤ محترمہ! میں کتا ہوں، انسان نہیں!"

یہ صرف ایک تصویر نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کے منہ پر ایک سخت طمانچہ ہے!

آج ہماری بہنیں، بیٹیاں اور خواتین گلیوں، بازاروں اور سڑکوں سے گزرتے ہوئے خوف محسوس کرتی ہیں۔ وہ جانوروں سے نہیں، بلکہ "انسان" کا روپ دھارے ان درندوں سے ڈرتی ہیں جو انہیں گھورتے ہیں، آوازیں کستے ہیں اور ان کی عزت و سکون کو پامال کرتے ہیں۔

ہم اشرف المخلوقات ہیں، لیکن ہمارے رویے بعض اوقات جانوروں سے بھی بدتر ہو چکے ہیں۔ عورت کو اپنے علاقے، گلی اور بازار میں تحفظ کا احساس دینا ہر مرد کی اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے۔

اپنی نظروں میں حیا اور اپنے رویوں میں احترام پیدا کریں۔

کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہماری سڑکوں پر خواتین کے تحفظ کے لیے سوچ بدلنے کی ضرورت ہے؟ اپنی رائے تحریر کریں۔

ہمارے پنجاب میں ایک انتہائی دردناک المیہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ مرد اپنے گھر والوں (ماں، بہنوں یا بھائیوں) کے اکسانے پر بغ...
21/08/2026

ہمارے پنجاب میں ایک انتہائی دردناک المیہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ مرد اپنے گھر والوں (ماں، بہنوں یا بھائیوں) کے اکسانے پر بغیر سوچ سمجھ کر اپنی بیوی کو طلاق دے دیتے ہیں۔

ایسے مرد یہ بھول جاتے ہیں کہ جس پر وہ یہ ظلم ڈھا رہے ہیں، وہ بھی کسی کی لاڈلی بیٹی ہے جو اپنے تمام رشتے چھوڑ آئی ہے اور والدین نے کتنی مشکل سے جہیز دے کر رخصت کیا ہو گا۔

افسوس ان عورتوں پر بھی ہے جو خود ایک عورت ہوتے ہوئے اپنے بیٹوں یا بھائیوں کو اکساتی ہیں اور بہو بھابھی کا گھر اجاڑتی ہیں۔ کیا وہ یہ نہیں سوچتیں کہ اگر کل کو ان کی اپنی بیٹی یا بہن یا خود کے ساتھ ایسا ہو تو ان کے دل پر کیا گزرے گی؟

مرد کو گھر کا سربراہ بنایا گیا ہے، اسے چاہیے کہ گھر کے مسائل اور غلط فہمیاں ہمیشہ عقل اور ٹھنڈے دماغ سے حل کرے—نہ کہ اپنوں کی ضد اور انا کی خاطر کسی بے گناہ کی زندگی برباد کرے۔

ہم میں سے اکثر خواتین مہنگی کریمیں اور فیس واش استعمال کرتی ہیں، لیکن چہرے کے دانوں (Acne) کی ایک عام اور بنیادی وجہ کو ...
20/08/2026

ہم میں سے اکثر خواتین مہنگی کریمیں اور فیس واش استعمال کرتی ہیں، لیکن چہرے کے دانوں (Acne) کی ایک عام اور بنیادی وجہ کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیتی ہیں۔

طبی و سائنسی تحقیق (Dermatology) کے مطابق، رات کو سوتے وقت کھلے بالوں کے ساتھ سونا چہرے کے دانوں اور کِل مہاسوں کا بڑا باعث بنتا ہے۔ بالوں میں موجود قدرتی تیل، ہیئر آئل، پسینہ اور دن بھر کی گرد و غبار رات بھر چہرے کی جلد سے رگڑ کھاتے ہیں، جس سے جلد کے مسام (Pores) بند ہو جاتے ہیں۔

چہرے کو دانوں سے بچانے کے لیے رات کے چند آسان اصول:سوتے وقت بالوں کی ڈھلی چوٹی (Loose Braid) یا ہلکا جوڑا بنا لیں۔ہفتے میں کم از کم دو بار تکیے کا غلاف (Pillow Cover) ضرور دھوئیں۔سوتی غلاف کے بجائے سلک (Silk) کا غلاف بالوں اور جلد دونوں کے لیے بہترین ہے۔

چھوٹی چھوٹی عادتیں ہی آپ کی جلد کو شاداب اور پرسکون رکھتی ہیں۔

کیا آپ بھی سوتے وقت بال کھلے رکھتی ہیں؟ کمنٹ میں اپنی رائے اور تجربہ شیئر کریں۔

ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں انسان کی قدر اس کے اخلاق، سچائی اور نیت سے نہیں، بلکہ اس کی گاڑی، کپڑوں اور بینک ...
20/08/2026

ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں انسان کی قدر اس کے اخلاق، سچائی اور نیت سے نہیں، بلکہ اس کی گاڑی، کپڑوں اور بینک بیلنس سے لگائی جاتی ہے۔

ہم اپنے بچوں کو امیر بننا تو سکھاتے ہیں، لیکن ایک اچھا اور بااخلاق انسان بننا نہیں سکھاتے! نتیجہ یہ ہے کہ آج ہمارے پاس سہولیات اور آبرومندانہ مکانات تو موجود ہیں، مگر دلوں کا سکون اور حقیقی عزت ختم ہو چکی ہے۔

یاد رکھیں! دنیا کا ہر سٹیٹس، ہر گاڑی اور ہر عہدہ فانی ہے۔ قبر کی آخری منزل تک صرف آپ کے اچھے اعمال، نرم اخلاق اور انسانوں کے ساتھ آپ کا رویہ ہی جائے گا۔

اپنے دلوں سے تکبر اور نمائش کی بیماری کو نکالیں اور عاجزی کی زندگی اختیار کریں، کیونکہ سچا سکون صرف عاجزی اور سچائی میں ہے۔

کیا آپ کے خیال میں بھی انسان کی اصل پہچان اس کا اخلاق ہے؟ کمنٹ میں "ان شاء اللہ" لکھیں۔

20/08/2026

مسجد کی ساؤنڈ اور آرائش پر لاکھوں خرچ کرنے والے ہم لوگ، دن میں 5 وقت نماز پڑھانے والے امام صاحب کو چند ہزار دیتے ہوئے بھی سوچتے ہیں! جو ہمیں رب سے جوڑتا ہے، اس کی معقول تنخواہ اور عزتِ نفس ہمارا فرض ہے۔

ہماری سوسائٹی کا ایک انتہائی افسوسناک اور کڑوا سچ یہ بھی ہے کہ بعض مائیں اپنی بیٹیوں کا گھر آباد دیکھنے کے بجائے، خود ان...
20/08/2026

ہماری سوسائٹی کا ایک انتہائی افسوسناک اور کڑوا سچ یہ بھی ہے کہ بعض مائیں اپنی بیٹیوں کا گھر آباد دیکھنے کے بجائے، خود ان کی شادی شدہ زندگی میں زہر گھولنے کا سبب بنتی ہیں۔

بیٹی کے سسرال میں معمولی بات ہو یا کوئی عام سا اختلاف، مائیں ہمدردی کے نام پر بیٹی کو سمجھانے اور صبر و تدبیر کی ہدایت دینے کے بجائے، الٹا سسر، ساس اور شوہر کے خلاف ورغلانا شروع کر دیتی ہیں۔ روزانہ فون پر سسرال کی خامیوں پر تبصرے کرنا، الگ گھر لینے کے لیے بیٹی پر دباؤ ڈالنا، اور بات بات پر طعنے دینا بیٹی سے محبت نہیں بلکہ اس کا گھر اجاڑنے کی پہلی سیڑھی ہے۔

ایک دانشمند اور بااصول ماں وہ ہوتی ہے جو بیٹی کو جوڑنا سکھاتی ہے، توڑنا نہیں۔ جو ہر چھوٹی بات پر بیٹی کے کان بھرنے کے بجائے اسے اپنے گھر کا سکون برقرار رکھنے اور رشتوں کو سنبھالنے کا ظرف دیتی ہے۔

یاد رکھیں! جب آپ اپنی بیٹی کے ذہن میں اس کے سسرال کے خلاف نفرت کا بیج بوتی ہیں، تو آپ کسی اور کا نہیں، بلکہ اپنی ہی بیٹی کا سکون، عزّت اور مستقبل برباد کر رہی ہوتی ہیں۔

خدارا! اپنی بیٹیوں کو رشتوں کی توہین کرنا نہیں، بلکہ صبر، عزت اور گھر بسانا سکھائیں۔

کیا آپ بھی مانتے ہیں کہ شادی کے بعد والدین خصوصاً ماؤں کی حد سے زیادہ مداخلت گھر ٹوٹنے کی بڑی وجہ ہے؟ اپنی رائے دیں۔

ہماری بے حسی اور منافقت کا یہ عالم ہے کہ جو انسان ہمیں 5 وقت اللہ کے سامنے کھڑا کرتا ہے، ہمارے بچوں کو دین سکھاتا ہے—ہم ...
20/08/2026

ہماری بے حسی اور منافقت کا یہ عالم ہے کہ جو انسان ہمیں 5 وقت اللہ کے سامنے کھڑا کرتا ہے، ہمارے بچوں کو دین سکھاتا ہے—ہم نے اس کی ماہانہ تنخواہ محض 15 سے 20 ہزار روپے رکھی ہوئی ہے!

ذرا گریبان میں جھانک کر سوچیں، کیا آپ خود آج کے دور میں 20 ہزار میں پورا مہینہ گھر چلا سکتے ہیں؟ کیا امامِ مسجد کے بچے انسان نہیں؟ کیا ان کا بجلی کا بل نہیں آتا یا انہیں بازار سے راشن اور ادویات مفت ملتی ہیں؟

ہم نے اپنے دین کے خادم کو محلے کی کمیٹیوں اور چندوں کا محتاج بنا کر رکھ دیا ہے۔ جب ہم نے بچپن سے ہی عزت اور معیار کا پیمانہ صرف "پیسہ" بنا دیا ہے، تو پھر ہم کس منہ سے گلہ کرتے ہیں کہ کوئی باپ اپنے بچے کو عالم یا حافظ نہیں بنانا چاہتا؟

خدارا! اپنے رویے بدلیں۔ مساجد کے آئمہ کو بھیک نہیں، باوقار زندگی اور معقول تنخواہ دیں تاکہ وہ بھی عزت سے جی سکیں!

دنیا میں ہر چیز کا ایک متضاد (Opposite) موجود ہے۔ اگر رات کی تاریکی ہے تو صبح کا اجالا بھی ہے۔ اگر آگ کی تپش ہے تو پانی ...
19/08/2026

دنیا میں ہر چیز کا ایک متضاد (Opposite) موجود ہے۔ اگر رات کی تاریکی ہے تو صبح کا اجالا بھی ہے۔ اگر آگ کی تپش ہے تو پانی کی ٹھنڈک بھی ہے۔

لیکن اکثر ہم یہ سوچ کر اچھائی کرنا چھوڑ دیتے ہیں کہ "میرے اکیلے اچھے ہونے سے کیا بدل جائے گا؟ باقی سب بھی تو برے ہیں!" یا "میں کوئی اچھائی کا پودا لگاؤں گا تو لوگ اسے کاٹ دیں گے۔"

یاد رکھیں! آپ کا کام صرف اچھائی کا بیج بونا ہے۔ کاٹنے والے چاہے ہزار ہوں، اس پودے کی دیکھ بھال کرنے والا اور اسے پروان چڑھانے والا رب کی ذات ہے۔ اگر آپ کے لگائے ہوئے سو پودوں میں سے صرف ایک پودا بھی درخت بن گیا اور کسی کو سایہ دے گیا، تو وہ اچھائی کی ہی جیت ہے!

عاجزی کی زندگی اختیار کریں۔ عاجزی میں جو سکون اور اطمینان ہے، وہ غرور یا بدگمانی میں نہیں۔ آخری دم تک اچھائی بانٹتے رہیں، چاہے وہ چھوٹی ہو یا بڑی۔

کیا آپ بھی مانتے ہیں کہ نتیجہ جو بھی ہو، ہمیں اچھائی کا راستہ نہیں چھوڑنا چاہیے؟ اپنی رائے کمنٹ میں لکھیے۔

Address

Gujrat

Telephone

+923436500103

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Reality Voice posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to The Reality Voice:

Shortcuts

Share