Ask News

Ask News ASK News is an Online News Portal that provides good quality content to social media users in variou

کوئی بھی کاروبار       تحریر   محمد شہباز میں اکثر دوستوں سے یہ بات کہتا ہوں کہ جاب چاہے لاکھوں کی ہو ۔ چھوٹے سے چھوٹا ک...
27/03/2026

کوئی بھی کاروبار
تحریر محمد شہباز
میں اکثر دوستوں سے یہ بات کہتا ہوں کہ جاب چاہے لاکھوں کی ہو ۔ چھوٹے سے چھوٹا کاروبار بھی لاکھوں کی جاب سے بہتر ہوتا ہے ۔ چند روز قبل میں ارشد الیکٹرک شاپ پر بیٹھا ہوا تھا ۔ وہاں ایک گاہک جو دینی مدرسے کیلئے سامان خریدنے آیا ہوا تھا ۔ اس گاہک سے کئی موضوعات پر باتیں ہوئیں ۔ انہوں نے ایک ایسی بات سنائی جو جاب اور کاروبار کے حوالے سے ہی تھی ۔
یہ کہانی جاوید چوہدری نے اپنے ایک کالم میں لکھی تھی ۔ کہانی کچھ یوں تھی کہ اسلام آباد کے ایک چوک کے فٹ پاتھ پر ایک نوجوان جس کے ہاتھ میں
ایک فاہل بھی تھی ۔ جاوید چوہدری نے نوجوان سے پوچھا کہ آپ کدھر جا رہے ہیں ۔ ریڈ لائٹ کی وجہ سے دونوں رکے ہوئے تھے ۔ نوجوان نے کہا کہ جاب کیلئے اپلائی کیا ہوا تھا ۔ انٹر ویو کیلئے بلایا گیا تو انٹر ویو دینے جارہا ہوں ۔ جاوید چوہدری نے پوچھاکہ
انٹر ویو اوکے ہو گیا تو ماہانہ کتنی تنخواہ ملے گی ۔
نوجوان نے کہا کہ 25 ہزار روپے ۔ اگلے چوک پر ایک ریڑھی والے سے چھلیاں لیں اور کھانے لگے ۔ چالیس روپے کی ایک چھلی تھی ۔ جاوید چوہدری نے چھلیاں بھیجنے والے سے پوچھا کہ روزانہ کتنا کما لیتے ہو ۔ ریڑھی والا بولا کہ اڑھائی سے تین ہزار روپے کما لیتا ہوں جاوید چوہدری نے پوچھاکہ یہ چھلی آپ کو کتنے کی پڑتی ہے ۔ ریڑھی والا بولا 5 روپے کی ۔
انہوں نے نوجوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔ سن لیا یہ ریڑھی پر چھلیاں بیچنے والا روزانہ کے کتنے روپے کما رہا ہے ۔ نوکری کو بھول جاؤ ۔ تم بھی چھلیاں بیچنا شروع کرو مگر اس ریڑھی والے سے ذرا مختلف طریقے سے ۔
تم نے چھلی کو پیک کرنا ہے اس میں نمک مرچ مصالحہ اور لیموں بھی رکھنا ہے اور تم نے یہ چھلی 50 روپے میں بیچنی ہے ۔ اس میں میں تمھاری ہیلپ بھی کروں گا ۔
تقریباً 3 سال گزرنے کے بعد جاوید چوہدری اپنی گاڑی لیکر ورشاپ میں گئے ۔ وہاں اور لوگ بھی اہنی گاڑیاں لیکر گئے ہوئے تھے ۔ میں اس انتظار میں تھا کہ مکینک او کے بولے اور میں گاڑی لیکر جاؤں ۔اسی دوران ایک نوجوان میرے پاس آیا اور سلام کیا ۔ میں نے جواب میں وعلیکم السلام بولا ۔نوجوان نے بولا ! مجھے پہچانا ۔ جاوید چوہدری نے کہا نہیں ۔نوجوا بولا ۔ میں وہی ہوں جسے آپ نے کوئی 3 سال قبل بولا تھا ۔ کہ نوکری کو بھول جاؤ اور چھلیاں بیچنا شروع کر دیں ۔ اور میں اپ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق چھلیاں ہی بیچ رہا ہوں ۔ آج میرے پاس گاڑی بھی ہے اور میں نے اپن گھر بھی بنا لیا ہے ۔ میری والدہ آپ کو یاد کر کے بہت دعائیں دیتی ہیں میں بھی آپ کا شکر گزار ہوں آپ نے مجھے اچھا مشورہ دیا ۔ جس نے میری زندگی ہی بدل دی اور آج میں ایک اچھی زندگی گزار رہا ہوں ۔

جعلی نوٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد شہباز سے    ہمارے گھر کے ساتھ ویلڈنگ والوں کی دوکان ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ میں 18 ڈال کا تھا جب...
16/03/2026

جعلی نوٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد شہباز سے

ہمارے گھر کے ساتھ ویلڈنگ والوں کی دوکان ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ میں 18 ڈال کا تھا جب کھاریاں میں ایک دوکان پر کام کرتا تھا ۔ دو بندے وہاں آئے اور دوکاندار سے کہنے لگے ۔۔ ہمیں ہیلپ کیلئے ایک بندہ چاہئے ۔ آپ جو کہیں گے ہم خدمت کر دیں گے ۔ دوکاندار نے مجھے انکے ساتھ بھیج دیا ۔ وہ مجھے دینے میں اپنے ڈیرے پر لے گئے ۔ وہاں کچھ اور لوگ بھی تھے ۔ ان لوگوں نے جوا کھیلنا شروع کر دیا ۔ وہ مجھے کہنے لگے کہ آپ بھی کھیلیں ۔میں نے انکار کیا کہ میں نے نہ کبھ کھیلا اور نہ ہی کھیلنا آ تا ہے ۔ ہم آپ کو سکھا دیتے ہیں ۔ کیسے کھیلنا ہے ۔ یہ کہہ کر انہوں نے مجھے اپنے ساتھ بٹھا لیا ۔ جب کھیل ختم ہوا تو کہنے لگے کہ تم 35 ہزار روپے ہار گئے ہو ۔ یہ ہمیں دو گے تو ہی آپ کو چھوڑیں گے ۔ میں نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی پیسہ نہیں ۔ میں کہاں سے دوں ۔
نوسر باز کہنے لگا کہ ٹھیک ہے تمھیں ہمارے ساتھ جانا ہو گا ۔ تمھیں تب ہی چھوڑیں گے جب تمھارے وارث ہمیں ہمارے 35 ہزار روپے دیں گے ۔
نوسر باز اس کو میر پور آزاد کشمیر لے گئے ۔ انہوں نے اپنی کہانی سناتے ہوئے کہا کہ وہ نوسر باز ایک ہزار والے جعلی نوٹ بناتے تھے ۔ مجھے وہ ہزار کا نوٹ دیکر بازار سے کچھ خریداری کرنے کیلئے بھیجتے ۔ میں بازار جاتا اور واپس آ کر خریدا ہوا مال اور باقی رقم انہیں واپس دے دیتا ۔
کوئی ایک مہینے کے بعد مجھے وہاں سے بھاگ جانے کا خیال آیا تو میں نے میر پور سے دینہ جانے والی ویگن کے ٹاہم کو اپنے دماغ میں رکھ لیا اس وقت میر پور سے دن میں ایک ہی ویگن میر پور سے دینے جاتی تھی اور وہی ویگن دینہ سے میر پور واپس آتی تھی ۔ پھر ایک روز جب میں ہزار کا نوث لیکر بازار گیا تو وہاں سے بھاگ جانے کا پروگرام بنایا ۔ میں نے ۔ ویگن اڈے سے ویگن میں بیٹھنے کے بجائے ۔ دینے جانے والی روڈ پر دینے کی جانب بھاگنا شروع کر دیا ۔ اور میر پور شہر سے دور جاکر سڑک کنارے کھڑا ہو گیا ۔ دینے جان والی ویگن دور سے نظر آ گئی ۔میں نے ویگن کو رکنے کیلئے ہاتھ دیا ۔ ویگن رکی تو میں اس میں سوار ہو گیا ۔ دینہ پہنچ کر میں گجرات جانے والی بس میں سوار ہوا اور گجرات اپنے گھر پہنچ گیا ۔
میرے گھر کے بیرونی دروازے کو تالا لگا ہوا تھا ۔ میں اپنے ایک رشتے دار کے گھر گیا تو پتہ چلا کہ ہمارے گھر والو کے ہاتھوں ایک قتل ہو گیا ہے اور وہ سب گھر سے بھاگے ہوئے ہیں ۔ اُدھر میر پور میں خریداری کرنے کیلئے جانے کے بعد جب میں واپس نہ آیا تو نوسر باز میر پور سے کھاریاں جہاں میں کام کرتا تھا ۔وہاں پہنچ گئے ۔
دوکاندار سے میرا پوچھا تو انہوں نے کہا کہ جب سے آپ انہیں لیکر گئے ہیں ۔ وہ تو میرے پاس واپس نہیں آیا ۔ نوسر باز دوکاندار سے میرے گھر کا پتہ لیکر گجرات پہنچے اور محلے والوں سے میرے گھر کا پوچھا ۔ اور میرے گھر کے سامنے پہنچ کر لوگوں سے
پوچھا کہ اس گھر کو تالا لگا ہوا ہے ۔ یہ لوگ کہاں ہیں ۔ جب لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے ایک بندے کو قتل کر دیا ہے اور سبھی لوگ گھر سے بھاگے ہوئے ہیں ۔ نوسر بازوں کو جب یہ پتہ چلا کہ اس گھر والوں نے کسی کو قتل کر دیا ہے ۔ تو انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور وہ وہاں سے فوراً چلے گئے ۔

محمد شہباز ۔۔۔ آرگن ٹرانسپلانٹ   ارگن ڈونیشن کی ایک کہانی تو میں لکھ چکا ہوں ۔ اس کہانی میں میں نے اپنے بچوں کو وصیت کر ...
07/03/2026

محمد شہباز ۔۔۔ آرگن ٹرانسپلانٹ
ارگن ڈونیشن کی ایک کہانی تو میں لکھ چکا ہوں ۔ اس کہانی میں میں نے اپنے بچوں کو وصیت کر رکھی ہے کہ میرے مرنے کے بعد میرے تمام آرگن ڈونیٹ کر دینا ۔میں نے تو اپنی ڈیڈ باڈی بھی کسی میڈیکل کالج کو دے دینے کا کہا تھا ۔ مگر میری چھوٹی بیٹی کرن نے کہا نہیں پاپا ڈیڈ باڈی کی بات نہ کریں باقی آرگن ڈونیٹ کر دیں گے ۔ کوئی دو سال پہلے کی بات ہے ۔ میں اپنے ایک عزیز کے گھر کھانا کھانے کے دوران بولا کہ میں نے تو اپنے بچوں کو اپنے تمام آرگن ڈونیٹ کرنے کی وصیت کر دی ہے ۔ وہاں بیٹھے ایک قاری صاحب بولے اپنے آرگن آپ کیوں ڈونیٹ کرنا چاہتے ہیں ۔ میں نے جواب دیا مرنے کے بعد اگر یہ کسی کے کام آ جائیں تو اس سے اچھی بات اور کیا ہو سکتی ہے ۔ تو قاری صاحب کہنے لگے ۔ آپ زندگی میں ہی لوگوں کے کام آ جایا کرو ۔ میرا چھوٹا سا جواب تھا ۔ جہاں میں پیدا ہوا ۔ لڑکپن ، جوانی اور اپنی زندگی کے کئی سال گزارے اور گزار رہا ہوں وہاں کسی بھی فرد سے پوچھیں کہ کیا آپ نے شہباز کو کبھی کوئی کام کہا اور اس نے کیا تو جواب ہاں میں ہی ملے گا ۔
مجھے قاری صاحب کے سوال سے محسوس کیا کہ کہ انکے نزدیک باڈی ارگنز ڈونیٹ کرنا جاہز نہیں ۔

ہمارا ایک مزہبی فرقہ آرگن ڈونیشن کو جاہز تصور نہیں سمجھتا ۔ اس فرقے کا موقف ہے کہ جسم اللہ کی ملکیت ہے ۔ انسانی جسم انسان کی ملکیت نہیں بلکہ اللہ کی امانت ہے لہزا اڈے کسی کو دینا جائز نہیں ۔
کچھ علما کے نزدیک اعضاء کا عطیہ انسانی جسم کی چیر پھاڑ اور بے حرمتی( مثلہ ) ہے ۔ جو اسلام میں حرام ہے ۔
دو روز قبل ہی میرے ایک عزیز چوہدری عنایت جو کینیڈا سے پاکستان آنے ہیں ۔ کوئی 24 سال بعد ان سے ملاقات ہوئی ۔ ان سے انکی بیوی اور بچوں کے بارے میں پو چھا تو انہوں نے خیر وعافیت کے ساتھ اپنی بیوی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ میری بیوی کو جگر کا مسلہ تھا اور یہ بگڑتے بگڑتے مکمل طور پر کام کر نا چھوڑ گیا انہیں ہسپتال داخل کروایا تو ہتایا گیا کہ ان کی زندگی کے لیے کسی دوسرے کے جگر کی ضرورت ہے ۔ ہم کیا کرتے کہاں سے جگر لیکر آتے ۔
ہسپتال کے ڈاکٹر ہر روز ہم سے پوچھتے کہ کوئی بندوبست ہوا ۔ ہم خاموش ہو جاتے ۔ کم و بیش دو مہینے کے بعد خبر ملی کہ ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں ایک نوجوان کی ہلاکت ہو گئ ہے اور اسکے ورثاء اسکا
جگر ڈونیٹ کرنا چاہتے ہیں ۔ ہم نے شکر بجا لاتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا ۔ڈاکٹروں نے نوجوان کا جگر اسکے جسم سے نکالا اور ضروری ٹیسٹوں کے بعد آپریشن کے ذریعے میری بیگم کا جگر نکال کر ڈونیٹ کیا گیا جگر لگا دیا ۔ اللہ کا شکر ہے کہ نوجوان کا ڈونیٹ کردہ جگر نے میری بیگم کو نئی زندگی دے دی ہے ۔ چند روز قبل برطانیہ سے ایک خبر میں کہا گیاہے کہ برطانیہ میں ایک ایسا بچہ پیدا ہوا ہے جس کی ماں میڈیکلی کبھی بھی ماں نہیں بن سکتی تھی ۔ مگر ایک مردہ خاتون کی بچہ دانی کے ڈونیٹ کردہ بچہ دانی کی ٹرانسپلانٹیشن سے ایک بچے کی ماں بن گئی ہے ۔اور برطانیہ میں بچہ دانی کی ٹرانسپلانٹیشن اور اس سے بچہ کی پیدائش کا یہ پہلا واقع ہے ۔
دنیا بھر میں اب تک بچہ دانی کی ڈونیشن سے کم و بیش 30 بچے پیدا ہو چکے ہیں ۔

ایرانی بارڈر ۔۔ محمد شہباز  ہماری بس جب ایرانی بارڈر کے قریب پہنچ کر رکی اور مجھ سمیت دیگر مسافر بس سے اترنے لگے تو پاکس...
12/02/2026

ایرانی بارڈر ۔۔ محمد شہباز
ہماری بس جب ایرانی بارڈر کے قریب پہنچ کر رکی اور مجھ سمیت دیگر مسافر بس سے اترنے لگے تو پاکستانی بارڈر پولیس کے اہلکاروں نے مجھ سمیت ایسے سبھی مسافروں کو حراست میں لے لیا جن کا تعلق کوئٹہ یا بلوچستان سے نہیں تھا ۔
کوئی 2 گھنٹے کے بعد مجھے بارڈر پولیس کے انچارج کے سامنے پیش کیا گیا ۔
غالباً 1980 کی بات ہے ۔ میں گجرات سے وزیر آباد اپنے سسرال جانے کیلئے ٹرین میی سوار ہوا ۔ سیٹ پر بیٹھا تو ساتھ بیٹھے نوجوان سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ میں بھی وزیر آباد ہی جا رہا ہوں ۔ میں کوئٹہ میں رہتا ہوں وہاں میری موٹر سائیکل ریپئرنگ کی شاپ ہے اور لوگوں کو ایران بھیجنے کا کام بھی کرتا ہوں ۔
ایران بھیجنے کے بات پر میرے اندر ایران جانے کی خواہش پیدا ہو گئی ۔ میں نے اسے کہا کہ آپ کو وزیر آباد میں ملنا ہو تو کہاں ۔ اس نے مین بازار میں ایک دوکان کا پتہ دیا کہ آپ مجھے وہاں مل سکتے ہیں ۔
اگلے روز اسے جب ملا تو اس ڈے ایران جانے کی خواہش کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کوئٹہ میں اپنی دوکان کا ایڈریس دے دیا ۔ 2 ہفتوں کے بعد میں اور میرا ایک ساتھی کوئثہ میں ان کی دوکان پر پہنچ گئے ۔ اس نے جتنے پیسے مانگے ہم نے اسے دے دئے ۔ اس کی دوکان کے اوپر بھی ایک کمرہ تھا ۔ ہم وہاں سوتے ۔
6 سے 7 روز کے بعد اس نے ہم کو ایک بس میں سوار ہونے کا کہا کہ یہ بس آپ کو ایران بارڈر پر پہنچا دے گی ۔ ہمارا ایک آدمی آپ لوگوں کو ایرانی بارڈر کراس کرا دے گا ۔
بس میں سوار ہونے کے کوئی آدھ گھنٹہ کے بعد بس کوئٹہ سے روانہ ہو گئ ۔کوئٹہ سے ایرانی بارڈر کا سفر زیادہ تر بغیر سڑک کے ہی تھا ۔ کوئی 3 سے زائد گھنٹوں کے سفر کے بعد ایک چھوٹی سے گاؤں کے سامنے بس رکی اور کچھ مسافر بس سے نیچے اترے اور ایک آدمی بس کے اندر آیا اور اس نے ہم دونوں کو بس سے نیچے اترنے کو کہا ۔ نیچے اترے تو ہمیں کہا گیا کہ آپ آگے نہی جاسکتے کوئٹہ جانے والی بس میں سوار ہو کر واپس چلے جاؤ ۔
ہم خاموشی اور افسردگی کے ساتھ واپس جانے والی بس میں سوار ہونے اور کوئٹہ دوکان پر پہنچ گئے ۔ دوکاندار کو صورت حال سے آگاہ کیا ۔ دوکاندار نے ایک ہفتے بعد دوبارہ ہمیں بس میں سوار کرا دیا ۔ بس کوئٹہ بارڈر پر پہنچ کر گئی ۔ بس سے نیچے اترے تو ہمیں اور کچھ دوسرے مسافروں کو بھی پاکستانی بارڈر پولیس نے پکڑ لیا ۔
کوئی دو گھنٹے کے بعد مجھے پولیس انچارج کے سامنے پیش کیا گیا ۔ مجھ سے کچھ سوال پوچھے جن میں کہاں سے آئے اور کیوں آئے ہو ۔ پولیس افسر کو بتایا کہ پنجاب کے شہر گجرات سے آیا ہوں شادی شدہ ہوں ۔ 2 سال کی میری ایک بیٹی بھی ہے ۔ پولیس افسر بھی شاید پنجاب ہی کا تھا ۔ وہ مجھ سے پنجابی میں ہی سوال کر رہا تھا ۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں 4 سال سے جہاں جاب کرتا تھا ۔ وہاں سے بعض وجوہات کی بنا پر جاب چھوڑنا پڑی ۔ میری باتیں سن کر پولیس افسر نے کہا کہ کہ تم ایران جانا چاہتے ہو چلے جاؤ ۔ اگر بارڈر کراس کرتے ہوئے تمھیں ایرانی پولیس نے پکڑ لیا اور واپس بھیج دیا تو میں تمھیں کوئٹہ جانے والی بس میں بیٹھا دوں گا ۔
میں نے پولیس افسر سے کہا کہ میں ایران نہیں جانا چاہتا ۔ میں واپس اپنے گھر جانا چاہتا ہوں ۔ انہوں نے اپنے ماتحت اہلکار سے کہا کہ اسے کوئٹہ جانے والی بس میں بیٹھا دو ۔ میں کوئٹہ پہنچ کر ٹرین میں سوار ہو کر ایران جانے نے کے خواب کو بھلا کر واپس اپنے گھر پہنچ گیا ۔

ستاروں کی چال        محمد شہبازامریکہ سے واپسی کے  ایک ہفتہ قبل میرے دوست طاہر چوہدری جن کا تعلق گجرات شہر سے ہے اور وہ ...
07/12/2025

ستاروں کی چال
محمد شہباز
امریکہ سے واپسی کے ایک ہفتہ قبل میرے دوست طاہر چوہدری جن کا تعلق گجرات شہر سے ہے اور وہ فیملی سمیت امریکا میں ہی رہائش پزیر ہیں نے فون کیا کہ آپ کدھر ہیں ۔ میں نے کہا کہ گھر میں ہی ہوں ، گھر میں ہی رہیں ۔ بولے کوئی گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹے تک میں آپ کے پاس آ رہا ہوں ۔ آپ تیار رہیں ۔ کسی قریبی ریسٹورنٹ میں بیٹھتے ہیں ۔ میں تیار ہو گیا ۔
طاہر چوہدری آئے اور ہم کوئین نیویارک میں قریبی ریسٹورنٹ میں چلے گئے ۔
طاہر چوہدری صاحب نے ، اوریا مقبول جان جن کا تعلق گجرات سے ہی ہے ۔ کے بھائی رضا عباسی صاحب کو بھی ریسٹورنٹ میں آنے کیلئے بولا ہوا تھا ۔ رضا عباسی صاحب سے یہ میری پہلی ملاقات تھی ۔ طاہر چوہدری صاحب نے ہم دونوں کا ایک دوسرے سے تعارف کرایا ۔مختلف موضوع پر باتیں ہونے لگیں ۔
باتوں کے دوران رضا عباسی صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کی تاریخ پیدائش کیا ہے میں نے انہیں تاریخ پیدائش بتائی تو بولے کیا یہ تاریخ پیدائش اوریجنل ہے ۔
میں تو اس دور کی پیداوار ہوں جب پیدائش کے چند روز بعد دائی کو ہی ایک پرچی پر بچے کا نام لکھ کر دے دیا جاتا تھا ۔ کمیٹی میں بچے کا نام لکھا دینا ۔ دائی ںچے کا نام درج کراتی یا نہیں کوئی نہیں جانتا تھا اور نہ ہی کبھی کسی کو تاریخ پیدائش کی ضروت پیش آتی ۔ اس وقت کی ماؤں کو بھی جب کبھی کو پوچھتا کہ تیرا اے منڈا یا کڑی کدوں ہوئی سی تو جواب ملتا مینوں اینا یاد اے اودوں کنکاں دی واڈی ہو رہی سی ۔ یا ۔ ساون بھادوں ، وڈی یا چھوٹی عید توں کچھ دن پہلاں یا کچھ دن بعد دا کہہ دیندے ۔ اس دور میں نکاح کے وقت بھی لڑکے اور لڑکی کی عمر ہی پوچھی جاتی ۔ بلکہ سکول میں بھی اندازے سے صرف عمر ہی لکھائی جاتی ۔
1966 مارچ کے مہینے میں میٹرک کے امتحان کیلئے داخلہ فارم پر کرتے ہوئے مارچ کا ہی مہینہ یعنی سال کا تیسرا مہینہ اور 3 ہی تاریخ لکھی اور پرائمری کلاس کی کچی اور پکی سے میٹرک تک کے 11 سال اور شروع کرنے سے پہلے کے 5 سال کو سامنے رکھتے ہوئے
3-3-1950 لکھ دیا اور یہی میری تاریخ پیدائش ہے ۔ رضا عباسی صاحب بولے کہ مجھے تو آپ کی اوریجنل تاریخ پیدائش چاہئے تھی ۔
میں نے کہا کہ مجھے سمجھ آ گئی ہے کہ آپ کیوں پوچھ رہےہیں ۔ مگر میں ان باتوں پر یقین نہیں رکھتا ۔ تو وہ بولے اوکے ۔ در اصل وہ میری تاریخ پیدائش کو سامنے رکھتے ہوئے ستاروں کی چال ،۔ فال یا زائچہ بنا کر کچھ بتانا چاہتے تھے ۔
ستاروں کی چال ، اسٹرالوجی ، جوتشی ، علم نجوم ، زائچہ ، فال رمل ، ہندو مزہب میں کنڈلی
اور اسلامی ٹچ میں اسے استخارہ کہتے ہیں۔میرا خیال ہے کہ پاکستان اور ہندوستان سمیت دنیا کے سبھی ممالک میں اپنی اپنی زبان میں ستاروں کی چال پر یقین رکھنے والے موجود ہیں ۔ جب کہ یہ کوئی سائنس نہیں

گجرات پاکستان میں بھی کوئی سات آٹھ سال پہلےایک روز میرے جاننے والے نے میرے آفس میں آ کر مجھ سے تاریخ پیدائش پو چھی تھی انہیں بھی میں نے یہی ایک فقرہ بولا کہ میں اس پر یقین نہیں رکھتا ۔ ایک ہی دن میں
دنیا بھر میں لاکھوں ، ایک ملک میں ہزاروں اور ایک شہر میں درجنوں بچے پیدا ہوتے ہیں ۔ مگر ایک ہی تاریخ میں پیدا ہونے والے سبھی بچوں کا زائچہ ، زندگی اور قسمت کوئی ایک جیسی تو نہیں ہوتی ۔
ہندوستان میں رہنے والے ہندو کنڈلی ( ستارو کی چال ) پر پورا یقین رکھتے ہیں اور وں ستارو کا حال ، اسٹرالوجسٹ اور مزہبی پیشواؤں کے پاس اپنے مستقبل ، اپنی پریشانیوں اپنے رشتوں اور دیگر کاموں کیلئے کنڈلی کیلئے جاتے ہیں ۔ بیشتر ہندوستانی ڈراموں اور فلموں میں بھی یہ کنڈلی کا شارٹ ( سین )دیکھایا جاتا ہے
پاکستان میں بھی بعص مسلمان اپنی پریشانیوں اپنے مستقبل اور دیگر کاموں کیلئے
استخارہ کا سہارا لیتے ہیں اور استخارہ کیلے
مسلم مزہبی راہنماؤں سے مدد لیتے پیں ۔
استخارہ کیلے جہاں نفلی نمازیں اور خدا سے دعائیں اور مدد کی دعا کی جاتی ہے ۔
وہیں ایک طریقہ یہ بھی ہے
اے اللہ اگر اس معاملے میں میرے لئے بھلائی ہے تو قرآن پاک کے زریعے میری راہنمائی فرما

قران پاک کو بے ترتیب طریقے سے کھولیں
دائیں صفحہ کے اوپری یعنی پہلی مکمل آیت پر
نظر ڈالیں ۔ اس آیت کے معنی اور مفہوم پر غور کریں ۔ اگر اس آیت میں رحمت , خوشخبری ،
رحمت یا کسی نیک عمل کا ذکر ہو تو اسے کام کرنے کے حق میں مثبت اشارہ سمجھا جاتا ہے ۔جبکہ اگر آیت میں عذاب ، ڈر ، منع کرنے یا برے انجام کا ذکر ہو تو اسے کام نہ کرنے یا رک جانے کا اشارہ سمجھا جاتا ہے:.
پاکستانی فلم بول میں بھی ایک با ریش ، پرہیز گزار اور نمازی کو دو بار قران پاک کو آنکھیں بند کر کے کھولنے اور قرآن پاک کے دائیں جانب کے کھلے ہوے صفحے پر اپنی انگلی گھماتے ہوے انگلی کو ایک جگہ پر ٹھہرا کر اس آیت کا ترجمہ پڑھتے ہوئے دیکھایا گیا ہے ۔

تعویز                       محمد شہباز جمعہ کے دن کام سے چھٹی کی وجہ سے اکثر سائیں کانواں والی سرکار کے دربار پر حاضری د...
21/11/2025

تعویز
محمد شہباز
جمعہ کے دن کام سے چھٹی کی وجہ سے اکثر سائیں کانواں والی سرکار کے دربار پر حاضری دیتا ۔ دربار پر مسلسل جانے کی وجہ سے سائیں کانواں والی سرکار کی فیملی کے ایک ممبر سائنس انور سے دوستی ہو گئی ۔ جب میں سائیں کانواں والی سرکار کے دربار پر جاتا تو دربار کے مین دروازے کے سامنے صف ( پھوڑ )
بچھائے سائیں انور اور دیگر لوگ بیٹھے ہوتے میں بھی اس پھوڑ پر سائیں انور کے قریب بیٹھ جاتا ۔
ایک روز آبائی محلے چاہ کھولے میں چئیرمن چوہدری فصل الٰہی جو ہمارے قریبی رشتے دار بھی تھے کے گھر گیا تو سائیں انور اسی وقت اس گھر سے باہر نکل رہے تھے . میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے وعلیکم السلام کہا اور ساتھ ہی کہنے لگے ۔ توانوں تے ہون نواں پیر لب گیا اے ۔ سانوں ہون تساں کدوں ملنا اے ۔ میں فورآ بولا ۔جی اے تسی کی کہہ رے او ۔ ساہیں جی کہنے لگے ٹھیک ہی تے کہہ ریا واں ۔ میں توانوں دربار دے راہ وچ اک پیر دے کروں نکل دیاں ویکھیا اے ۔ میں خاموش ہو گیا ۔
سائیں انور صاحب کی بات تو صحیح تھی ۔ ان دنوں میں کچھ بیمار رہنے لگا تھا ۔ اور مجھے کسی نے بتایا کہ یہ پیر بڑا پہنچا ہوا ہے ۔ وہ آپ کو تعویز دے گا ۔ آ پ یقیناً شفا یاب ہو جائیں گے ۔ میں اور میرا پڑوسی خالد محمود عرف مودا دونوں پیر صاحب کے پاس گئے ۔ انہوں نے کچھ پڑھنے کے بعد پھونک ماری اور کہا کہ جمعرات کو آئیں آپ کو تعویز لکھ کر دوں گا ۔ دو روز بعد پیر صاحب سے تعویز لینے کیلئے میں اکیلا ہی گیا ۔ پیر صاحب کا دروازا کھٹکھٹایا تو پیر صاحب نے ہی دروازا کھولا اور پوچھنے لگے ۔کیا بات ہے ۔ انہیں بتایا کہ تعویز لینے کیلئے آیا ہوں ۔ پیر صاحب بولے ،انتظار کریں ۔ چار سے پانچ منٹ کے بعد دروازا کھلا تو پیر صاحب نے میرے ہاتھ میں تعویز دئیے ۔ میں نے تعویز اپنی جیب میں ڈال لئے ۔ پیر صاحب سے تعویز ہاتھ میں لینے اور جیب میں ڈالنے کے دوران مجھے محسوس ہوا کہ پیر صاحب نے مجھے جو تعویز دئیے ہیں وہ تعویز نہیں بلکہ الجبرے کی کاپی کے ورک پھاڑ کر ان کو تعویز کی طرح فولڈ کر کے مجھے پکڑا دئیے ہیں ۔
میں نے گھر آ کر اپنی بھابھی اور بہن کو ساری بات بتائی اور تعویز جیب سے نکال کر انہیں دئیے ۔ تعویز کھولے گئے تو وہ واقع ہی الجبرے کی کاپی کے پھاڑے ہوئے ورک ہی تھے ۔ ان سے تعویز واپس لیکر شام کو اپنے والد صاحب اللہ تعالیٰ انکی مغفرت فرمائے آمین ، کو دئے اور انہیں ساری بات بتائی تو انہوں نے تعویزوں کو کپڑے کی ایک ٹاکی میں رکھا اور مجھے کہا کہ تم جاؤ ۔ نہ صرف میرے گھر والے بلکہ ہماری ساری فیملی ہی تعویز گنڈے پر یقین رکھتی تھی ۔ میں نے اپنی والدہ محترمہ ، اللہ تعالیٰ انکی مغفرت فرمائے آمین کے سامنے اپنے گلے میں ڈالا ہوا تعویز اتارا اور انہیں دے دیا اور کہا ماں جی میں اب کبھی بھی اور کوئی بھی تعویز نہی پہنوں گا ۔ اور نہ ہی کوئی تعویز گھول کر پیوں گا ۔ آپ میری ماں ہی مجھے بتائے بغیر جو مرضی کریں ۔
جب سائیں انور صاحب کے سامنے پیر صاحب سے تعویز لینے کا اقرار کیا تو کہنے لگے کہ انہیں کوئی پیسے تو نہیں دئے تھے ۔ میں نے کہا کہ میں نے تو نہیں دیئے ۔ مگر میرے چھوٹے ماموں جان جو بیمار رہتے ہیں انکے گھر گئے تھے ۔ اور پیر صاحب نے انکے گھر کی ایک دیوار سے تعویز نکالے تھے ۔ اس پر انہیں ایک سو روپے دیئے تھے ۔پیر صاحب بولے پھر واپس لے دوں ۔جواب میں کہا جی ضرور ۔ سائیں انور صاحب نے کہا کہ کل صبح 10 بجے کے قریب دربار کے راستے میں دو دوکانیں بنی ہوئی ہیں اور وہ خالی ہیں ۔ وہاں آ جانا ۔ اور ہسں صرف 100 روپے ہی نہیں یہ بھی کہنا کہ سونے کی دو بالیاں بھی دی تھیں ۔ایسا کہنے سے وہ سو تو فورآ ہی مان جائے گا ۔ اور ہم نے تو 100 روپے ہی واپس لینے ہی۔ نہ وہ یقیناً مل جائیں گے ۔

مقررہ وقت پر جب میں وہاں پہنچا تو سائیں انور ایک چارپائی پر اور پیر صاحب انکے قدموں میں بیٹھا ہوا تھا ۔ سائیں انور صاحب سے سلام دعا کے بعد میں دوسری چارپائی پر بیٹھ گیا ۔
سائیں جی نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے پیر سے پوچھا انہیں جانتے ہو پیر نے یاں میں سر ہلایا ۔ سائیں صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ اسے کوئی پیسے دئیے تھے ۔ میں نے کہا جی 100 روپے اور سونے کی بالیاں بھی دی تھیں ۔ پیر فورآ بولا 100 روپے تو لئے تھے مگر بالیاں نہیں لی تھیں ۔ مگر وہ تو دو سو نے کی بالیاں بھی کہہ رہا ہے ۔ جی میں نے والیاں نہیں لیں۔
سائیں انور صاحب نے پیر سے پو چھا کہ اسے 100 روپے دو بالیوں کا بعد میں دیکھ لیں گے ۔ پیر نے کہا کہ کل یہ پیسے میں انہیں دے دوں گا ۔ اگلے روز میں پیر کے گھر جا کر ان سے 100
روپے واپس لیکر وزیر آباد جا کر اپنے ماموں کو دے دئے ۔ ایک بات اور بتاتا جاؤں کچھہ روز بعد میرا دوست خالد محمود عرف مودا مجھے ملا اور کہنے لگا پیر صاب سے ملا تھا اس نے مجھے کہا ہے کہ آدھ پاؤ فیم ( افیون ) لیکر آؤ میں اس سے تجھے ایسی دوا بنا کر دوں گا جو ساری عمر یاد کرو گے ۔ میں نے اسے اپنی ساری کہانی سنائی اورکہا کہ پیر نے کوئی دوائی شوائی نہیں بنانی اس نے خود کھانی ہو گی ۔
اج اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس جھوٹے پیر کہ وجہ سے میری فیملی سبھی بچے اور بچوں کے بچے اس پیری مریدی ، جن بھوت ، عالم بابوں اور تعویز گنڈوں سے بہت دور ہیں ۔

تیسری بیٹی          محمد شہباز 1976 میں میری شادی ہوئی اور شادی کے تقریباً ایک سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے مُجھے بیٹی سے ن...
07/11/2025

تیسری بیٹی
محمد شہباز
1976 میں میری شادی ہوئی اور شادی کے تقریباً ایک سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے مُجھے بیٹی سے نوازا ۔ بیٹی کی پیدائش پر خوشی کے ساتھ اللہ کا شکر بھی ادا کیا ۔ اور اپنے عزیز و اقارب
کو مٹھائی بھی کھلائی ۔ بچی کی پیدائش سے پہلے بھی اور بجی کی پیدائش کے بعد بھی ہفتے میں ایک بار ضرور اپنے سسرال وزیر اباد کا چکر لگتا ۔ ہماری بیٹی بھی ہمارے ساتھ ہوتی ۔ میری شادی میرے ماموں کی بیٹی سے ہوئی تھی ۔ بیٹی کی پیدائش کے ایک سال بعد ہی جب ہم وزیر آباد جاتے تو واپسی پر سسرال والے کہتے کہ بیٹی جسکا نام کنول شہزادی رکھا گیا تھا ۔ آپ جاہیں کنول بیٹی کو ہمارے پاس ہی رہنے دیں ۔ ہم اسے سنبھال لیں گے اگر کوئی پریشانی ہوئی تو اسکا ماموں اسے آپ کے پاس لیکر آ جائے گا ۔ ایک دو بار تو کنول بیٹی نے اپنے نانکے والوں کو پریشان کیا ۔ اور پھر نانا ۔ نانی اور ماموں اور خالہ کے پیار اور محبت کی وجہ سے ایک یا دو روز تک رہ لیتی اور پھر اسکے ماموں کنول کو ہمارے گھر گجرات چھوڑ جاتے
پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کنول بیٹی وزیر آباد ہی رہنے لگی اور وزیر آباد سکول میں ہی داخلہ لے لیا ۔ اسی دوران ہماری دوسری بیٹی بھی دنیا میں آ گئی ۔ ہم نے اسکا نام ثمینہ گل رکھا مگر سکول میں تعلیم کے دوران کلاس میں ایک اور طالبہ کا نام ثمینہ ہونے کی وجہ سے ثمینہ گل کا نام تمینہ چوہدری ہو گیا ۔
ثمینہ چوہدری کے بعد ہماری تیسری بیٹی نے
جنم لیا ۔ پیدائش کے فوری بعد جب میں نے اسے اپنے ہاتھوں میں لیا تو میں نے بیگم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیٹی تو بہت پیاری اور خوبصورت ہے ۔ اپنا چہرہ آسمان کی طرف اٹھاتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کیا ۔ تیسری بیٹی کی پیدائش پر بھی مجھے اتنی ہی خوشی ہوئی جتنی پہلی بیٹی کنول کی پیدائش پر ہوئی تھی

تین بیٹیوں کی پیدائش کے بعد مجھے اللّٰہ تعالیٰ
نے یک بعد دیگرے 3 بیٹوں سے بھی نوازا ۔ کنول بیٹی نے میٹرک کیا تو میرے ماموں جو میرے سسر بھی تھے نے کہا کہ بس تعلیم اتنی ہی کافی ہے . مگر ہم سب کے کہنے پر اسے کالج میں داخل کروا دیا گیا ۔ انٹر کیا تو کہا گیا کہ اب بس مزید اور نہیں پڑھایا جائے گا ۔ اب اسکی شادی کر دی جائے گی ۔ ہم سب نے مل کر ماموں جان کو اگلی کلاس میں داخل کرانے کیلئے منانے کی کو شش کی مگر ماموں جان فوری شادی کے خواہش مند تھے ۔
ہم نے ماموں جان کو مشروط طور پر بی اے کی
کلاسز میں داخل کرانے کیلئے راضی کرلیا کہ ۔ آپ کنول کیلئے رشتہ تلاش کریں ، جب رشتہ ہو جائے اور شادی کی تاریخ مقرر ہو جائے تو کنول
کالج چھوڑ دے گی ۔ مگر اس کی شادی بی اے
مکمل کرنے کے بعد ہی ہوئی ۔
دوسری بیٹی ثمینہ چوہدری کو پرائمری سکول میں داخل کروایا تو تو وہ سکول سے گھر آ کر ہمیں سکول کا سبق ایک بار نہیں بار بار سناتی
ہم نے اسے گھر کی دیوار پر بلیک بورڈ بنا کر دیا تو وہ سبق سنانے کے ساتھ ساتھ اس بلیک بورڈ پر لکھتی بھی بار بار ۔ میٹرک کرنے کے بعد اسے گورنمنٹ کالج برائے خواتین فوارہ چوک میں داخل کروادیا ۔ وہ شاید سیکنڈ ائیر یا تھرڈ ائیر میں تھی ایک روز کالج سے واپس آنے کے بعد مجھ سے کہنے لگی ۔ ابو ہمارے کالج کا ٹرپ جا رہا ہے ۔ میں نے بھی جانا ہے ۔ میں نے اجازت نہ
دی ۔ بی اے کرنے کے بعد جب وہ ماسٹر کلاسسز میں گئی تو ثمینہ بیٹی نے کالج کے ٹرپ کی بات کی اور جانے کی اجازت چاہی تو میں نے کہا کہ چلے جانا ۔ اس نے بڑی خوشی کا اظہار کیا اور وہ مقررہ دن کالج گروپ کے ساتھ ٹور پر چلی گئی ۔ ٹرپ سے واپسی کے دو تین روز بعد مجھے سوالیہ نظروں سے کہنے لگی ابو جی ایک بات تو بتائیں جب میں بیچلر کلاسز میں پڑھ رہی تھی ۔اس وقت آپ نے ٹرپ پر جانے کی اجازت نہیں دی تھی ۔ ماسٹر کلاسز میں گئی تو آپ نے اجازت دے دی ۔
میں نے اسے کہا میری بیٹی پہلی بار میں نے اس لئے اجازت نہیں دی تھی ۔ اس وقت تم چھوٹی تھی ۔ اور جب ماسٹر کلاسسز میں تھی تو اس وقت تم باشعور اور اچھے برے کی تمیز کر سکتی تھی ۔ ثمینہ چوہدری پت اچھی ڈوبیٹر تھی ۔ وہ گورنمنٹ زمیندارہ کالج کی بیسٹ ڈوبیٹر کے ساتھ ساتھ ڈسٹرکٹ کے مقابلے میں بھی بیسٹ ڈوبیٹر کا اعزاز لے چکی ہے ۔ کالج پروگراموں کی ہوسٹ اور پنجابی گیت سنانے کی بھی ماسٹر تھی ۔ ایف ایم ریڈیو 105 گجرات اور لاہور کے پرائیویٹ ریڈیو میں بطور ہوسٹ فرائض سر انجام دیتی رہی ۔
پولیٹیکل سائنس میں ماسٹر کرنے کے بعد اس نے پنجاب یونیورسٹی لاہور میں داخلہ لے لیا ۔ ایم فل کرنے کے بعد میں چاہتا تھا کہ وہ پی ایچ ڈی کرے ۔ مگر شادی کے بندھن میں باندھے جانے کے بعد یہ خواہش پوری نہ ہو سکی ۔ اب وہ بیکن ہاؤس آف سکول میں بطور ٹیچر فرائض سر انجام دے رہی ہیں ۔
تیسری بیٹی کا نام قرآت العین شہباز رکھا ۔ اور اسے عینی کے نام سے پکارتے میٹرک کے بعد اسے خواجگان روڈ پر واقع ہومیو پیتھک کالج میں داخل کروا دیا ۔ 3 سالہ ڈگری کے بعد ایک روز گھر میں کسی کو انجکشن لگانا تھا ۔ عینی کو اجکشن لگانے کا کہا گیا تو بولی ۔ میں تے نہیں لاواں دی ۔ میں نے کہا تم اب ہومیو پیتھی ڈاکٹر ہو اور تم انجکشن لگانے سے انکار کر رہی ہو ۔ عینی بولی ابو میں نے تو آپ کے کہنے پر ہومیو پیتھک کالج میں داخلہ لیا تھا ۔ مجھے تو یہ بالکل پسند نہیں ۔ مجھے کسی ریگولر ایجوکیشن کالج میں داخلہ لیکر دیں ۔ پھر ایسا ہی کیا ۔ ہومیوپیتھی کی ڈکری دھری کی دھری رہ گئی ۔ بیٹیاں تو پرایا دھن ہوتی ہیں ۔ پھر یہ بھی پیا گھر سدھار گئی ۔
یہ کہانی لکھنے کی بڑی وجہ تیسری بیٹی تھی
تیسری بیٹی کی پیدائش کے دو چار روز بعد میں اپنے ہی آبائی محلے ، محلہ چاہ کھولے گجرات میں رہائش پذیر اپنے ایک عزیز کے گھر گیا تو اس گھر کی سب سے بڑی بیٹی سے ملاقات ہوئی تو وہ مجھے دیکھتے ہی کہنے لگی ۔ تیری تیسری بیٹی دی پیدائش دا بڑا ہی افسوس ہویا اے ۔ انتہائی غصّے میں اسے جواب دیا ۔ تمھیں تو ڈوب کر مر جانا چاہئے ۔ تو بھی اپنے ماں باپ کی پہلی بیٹی تھی اور تیرے بعد بھی دو بیٹیاں ہی پیدا ہوئی تھیں ۔ یہ کہہ کر میں وہاں سے باہر نکل آیا ۔ کچھ دنوں کے بعد پتہ چلا کہ اس نے میری ماں کو یہ ساری بات بتائی تو میری والدہ اللہ تعالیٰ انکی مغفرت فرمائے آمین ، نے سبھی قریبی رشتےداروں سے کہہ دیا کے شہباز سے اس طرح کی کوئی بات نہ کرے ۔
شکر الحمد اللہ تین بیٹیوں کے بعد اللہ تعالٰی نے مجے یک بعد 3 ہی بیٹے بھی دئیے . تین بیٹوں کے بعد اللہ نے ایک اور بیٹی سے نوازا اسکا نام کرن شہباز ہے اور وہ امریک سے کونسلنگ میں ماسٹر کرنے کے بعد امریکہ کے ہی سکول میں جاب کر رہی ہیں ۔ کرن بیٹی کے بعد میرا چوتھا بیٹا ہوا ۔ اس بیٹے کی پیدائش سے قبل ہی بچوں کی خالہ جو گوجرانولہ رہتی ہیں ۔ اسکی کوئی اولاد نہیں تھی ۔ اس مجھے کہا کہ بیٹا ہوا تو وہ مجھے دے دینا ۔ اسکی آنکھوں میں آنسوں دیکھ کر کر بولا بیٹا ہوا تو وہ آپ ہی کا ہو گا ۔ اس چوتھے بیٹے کی پیدائش کے چند گھنٹوں کے بعد ہی یہ بیٹا اسکی خالہ کے حوالے کردیا ۔

سورج ، زمین سے کتنا بڑا ہے ؟        محمد شہباز      روزنامہ جزبہ والارقبہ کے لحاظ سے سورج ہماری زمین سے کتنا بڑا ہے ۔ عا...
18/10/2025

سورج ، زمین سے کتنا بڑا ہے ؟
محمد شہباز روزنامہ جزبہ والا
رقبہ کے لحاظ سے سورج ہماری زمین سے کتنا بڑا ہے ۔ عام آدمی اسکا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔جب مجھے معلوم ہوا تو میری حیرانگی کی بھی انتہا ہو گئی ۔ ہماری زمین کا مجموعی رقبہ 51 کروڑ مربع کلومیٹر سے زائد ہے ۔ زمین کے دو تہائی حصّے پر پانی جبکہ صرف ایک تہائی حصہ پر خشکی ہے ۔ 36 کروڑ 11 لاکھ مربع کلومیٹر سے زائد حصہ پر پانی جبکہ خشکی صرف اور صرف 14 کروڑ 89 لاکھ مربع کلومیٹر سے قدر زائد ہے ۔
آئیے سورج زمین سے کتنا بڑا ہے ہم آپ کو بتاتے ہیں ۔ سور ج رقبے کے لحاظ سے اتنا بڑا ہے کہ اس میں 13 لاکھ زمینیں سما سکتی ہیں ۔ اسکا مجموعی رقبہ 6 ارب مربع کیلومیٹر سے زائد ہے

زمین سورج کے گرد 365 دنوں میں اپنا ایک چکر مکمل کرتی ہے ۔ سورج نظام شمسی کے مرکز میں ہے زمین اور چاند سمیت نظام شمسی کے باقی سیارے سورج کے گر د گھومتے ہیں ۔ ان
میں عطارد ، زہرہ ، مریخ ، مشتری ، زحل یورینس اور نیپچون ہیں ۔ چاند زمین کے مقابلے میں کہیں چھوٹا ہے ۔ اسکا کل رقبہ 3.79 کروڑ مربع کلومیٹر ہے ۔ چاند زمین سے 38 لاکھ 6 ہزار کلومیٹر دوری پر ہے جبکہ سورج زمین سے
14 کروڑ 60 لاکھ کلو میٹر دوری پر ہے ۔
سورج کا ٹیمپریچر ! سورج کی سطح کا ٹیمپریچر ساڑھے 5 ہزار سینٹی گریڈ جبکہ اسکا اندرونی ٹیمپریچر 15 کروڑ ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے ۔
سورج کا طلوع اور غروب سال بھر میں بدلتا رہتا ہے ۔ سورج سب سے پہلے مشرقی ممالک بحر الکاہل کے جزیروں کریبانی اور سموا میں طلوع ہوتا ہے گرمیوں میں دنیا کے بعض ممالک جن میں ناروے اور سویڈن شامل ہیں میں 24 گھنٹے سور ج کی روشنی رہتی ہے ۔ یوں سمجھئے کہ ان علاقوں میں سورج غروب نہیں ہوتا ۔ اور سردیوی کے موسم یعنی ستمبر سے فروری تک یہی سورج نظر نہیں اتا اور دن بھی رات کی طرح کا ہوتا ہے ۔

نیٹو ؟ پاکستان اور سعودی دفاعی معاہدہ گزشتہ کئی سالوں سے اپنے دوستوں کو ایشیا بلاک میں نیٹو طرز کے معائدے کی بات کرتا آ ...
18/09/2025

نیٹو ؟ پاکستان اور سعودی دفاعی معاہدہ

گزشتہ کئی سالوں سے اپنے دوستوں کو ایشیا بلاک میں نیٹو طرز کے معائدے کی بات کرتا آ رہا
ہوں ۔ دوست ایشیا میں ایشیائی اکانومی بلاک کی بات تو کرتے مگر نیٹو طرز کے کسی معائدے کی نفی کرتے رہے ۔ کہ ایسا ممکن ہی نہیں ۔

اسرائیل کی جانب سے فلسطین کے علاقے غزہ میں جو دہشتگردی کی انتہا کر دی ہے اور غزہ اور غزہ کے عوام پر مسلسل زمینی اور فضائی
حملوں سے نہتے عوام پر حملے کر نے کے ساتھ
غزہ کے رہائشیوں کو نیست و نابود کرنے کی دھمکییاں دینے کے ساتھ ساتھ غزہ پر مکمل قبضہ کرنے کے ساتھ ساتھ گریٹر اسرائیل کی باتیں کر رہا ہے ۔ اسرائیل کے ایسے تمام اقدامات کی امریکہ اور کئی یورپی ممالک بھی اسرائیل کی پشت پناہی کر رہے ہیں ۔

اسرائیل نے قطر جیسے اسلامی ملک جو غیر جانبدار اور دیگر ایک دوسرے سے الجھتے ممالک کو باہمی مزاکرات کی میزبانی کی سہولت فراہم کرنے میں پیش پیش رہا ہے پر فضائی حملہ کر کے اسلامی ممالک کو فکرمند اور اپنے مستقبل اور اپنے عوام اور سر زمین کو
محفوظ بنانے کے لیے فکر مند کر دیا ہے ۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان نیٹو طرز کا جو معاہدہ ہوا ہے ۔ اس معاہدے کے بعد ترکی اور ایران پر نظریں لگ گئی ہیں کہ کیا ۔یہ دونوں اور دیگر اسلام ممالک بھی مستقبل قریب میں اس معاہدے میں شامل ہو جائیں گے ۔
یہاں ایک بات بتانا ضروری ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں پاکستان میں ہونے
والی اسلامی سر براہی کانفرنس ہوئی تھی ۔
اس اسلامی سربراہ کانفرنس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو سمیت دیگر اسلامی مملک جن میں سعودی عرب ، لیبیا ، مصر ، عراق ، تیونس ، مراکش ، یمن ، بحرین ، عمان ، کویت ، لبنا ن اور دیگر عرب ممالک کے سر براہان کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا ۔ عرب سپرنگ کے نام سے امریکہ اور یورپی ممالک نے عوام کے جذبات کو ابھارتے ہوئے قتل و غارتگری میں حکومت مخالف لوگوں کو حکومتیں گرانے میں بھرپور ساتھ دیا ۔ یہی سبھی ممالک اور اسکی عوام خوب آگاہ ہیں کہ عرب سپرنگ کے نام سے لائے جانے والے انقلاب سے نہ تو انکے ممالک کو اور نہ ہی عوام کو کوئی فاہدہ ملا ہے ۔ تاریخ اس کی گواہ ہے ۔ اور تاریخ پر نظر رکھنے والے خوب جانتے ہیں ۔
امریکہ اور یورپی ممالک پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے نیٹو طرز کے معاہدے کو پسند تو نہیں کریں گے تاہم سبھی اسلامی ممالک کو سابقہ تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اختلافات ختم کر کے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے معاہدے میں شریک ہو جانا چاہیے ۔
میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ اب نہ صرف اسلامی ممالک بلکہ پورے ایشیائی ممالک میں مستقبل قریب میں نیٹو طرز کا معاہدہ ہونا چاہیے اور یہ ضرور ہو گا ۔
چین میں ہونے والی ایشیائی کانفرنس میں ورلڈ بنک کے مقابلے میں ایشیائی بنک بنانے کا اعلان کر دیا ہے ۔جو یورپی یونین کی کے طرز کے ایشیائی بلاک کی بنیاد ہو گا ۔
اور اس کی امید کی جاتی ہے
آگر کوئی تیسری عالمی جنگ ہونی ہے تو پھر یہ یقینی بات ہے کی تیسری عالم جنگ سے قبل ایشیاء بلاک بن چکا ہو گا ۔

کوڑا ، کچرا                        شہباز جذبہ والا . یہ اس دور کی بات ہے ۔ جب چوہدری محمد طفیل بلدیہ گجرات کے چئیرمن تھے...
14/09/2025

کوڑا ، کچرا
شہباز جذبہ والا .

یہ اس دور کی بات ہے ۔ جب چوہدری محمد طفیل بلدیہ گجرات کے چئیرمن تھے ۔ میں بطور
صحافی معمول کے مطابق بلدیہ گجرات میں گیا ہوا تھا ۔ پتہ چلا کہ مرکزی انجمن تاجران اور مسلم بازار کے تاجر بلدیہ آفس آ رہے ہیں ۔ ایک روز قبل ہی تاجروں نے بازار میں پرا پر صفائی نہ ہونے کی وجہ سے چیئرمین بلدیہ کو ہڑتال کی دھمکی دی تھی ۔ ہڑتال کی دھمکی پر چوہدری محمد طفیل نے تاجروں کو جناح ہاؤس بلدیہ میں آنے کی دعوتِ دی اور کہا کہ اس مسلئے کے حل کیلئے مل بیٹھتے ہیں ۔
تاجر نمائندے جناح ہاؤس پہنچے تو چیئرمین بلدیہ چوہدری محمد طفیل اور اس وقت کے چیف آفیسر بلدیہ اور دیگر متعلقہ سٹاف جناح ہاؤس میں آ گئے ۔ میں بھی بطور صحافی جناح ہاؤس میں ایک بینچ پر جا کر بیٹھ گیا ۔ تلاوت کلام پاک اور نعت پاک کے بعد انجمن تاجران کے نمائندوں اور تاجروں کو شہر اور بالخصوص مسلم بازار کی صفائی کے مسائلِ پر بات کرنے کیلئے بلایا جانے لگا ۔
اس دوران حیران کن انداز میں سٹیج سیکٹری
کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ روزنامہ جزبہ کے چیف رپورٹر محمد شہباز سے گزارش کی جاتی ہے کہ وہ سٹیج پر آ کر اپنے خیالات کا اظہار کریں ۔ مجھے نہیں معلوم تھا ۔ کہ مجھے بھی اس ٹاپک پر بات کرنے کے لئے سٹیج پر بلایا جائے گا ۔ مگر جب بلا لیا گیا ۔ تو میں سٹیج پر چلا گیا ۔ میں نے سینیٹیشن برانچ کے بعض اہلکاروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ۔ سبھی ورکر نہیں ۔ مگر بعض ورکر اپنی زمہ داریوں کو ٹھیک طور پر نبھانے میں غیر زمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ اور بلدیہ گجرات کے پاس بھی وہ سبھی سہولتیں اور اتنے فنڈز نہیں
کہ وہ گجرات کے شہریوں کو وہ تمام سہولتیں انکی خواہش کے مطابق اور بروقت فراہم کر سکیں ۔ جہاں بلدیہ گجرات کی سینیٹیشن ٹیم کی شہر بھر میں صفائی کے کام میں کوتاہیاں ہیں ۔ وہیں ہم شہری بھی نہ صرف اپنی زمہ داریاں نبھانے میں بری طرح ناکام ہوتے ہیں ۔
بلکہ شہر کے گلی کوچوں اور سڑکوں پر گند ڈالنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہیں ۔
میں آپ کو اپنے محلے ، محلہ چاہ کھولے کی کی مثال پیش کرتا ہوں ۔ ہمارے محلے میں نزیر مسیح عرصہ دراز سے بطور سینٹری ورکر کام کر رہا ہے ۔ محلے میں ایک دیہاتی ماحول ہونے کے باوجود محلے کے کسی بھی گھر ڈے کوڑا کچرا گھر سے باہر گلی میں نہیں پھینکا جاتا ۔ ہر گھر کےباہر یا بیرونی دروازے کے اندر کسی ٹوکری یا کریٹ میں کوڑا پڑا ہوتا ہے ۔ سینٹری ورکر محلے کے ہر دروازے کے باہر یا دروازے کے اندر رکھے کوڑے دان کو اٹھا کر کوڑا اپنے ہتھ ریڑھی میں ڈال کر کوڑے دان کو وہیں رکھنے کے بعد گھروں سے اُٹھائے گئے اس کوڑے اور کچرے کو
محلے سے باہر کوڑی ( ڈمپ ) میں پھینک دیتا ہے ۔
اب میں شہر کے تاجروں اور بالخصوص مسلم بازار کے تاجروں سے بات کرنا چاہونگا ۔ سینٹری ورکرز عمومی طور پر سورج نکلنے سے پہلے ہی اپنے اپنے علاقوں میں صفائی کیلئے پہنچ جاتے ہیں ۔ اور عمومی طور پر صبحِ کے 9 بجنے سے پہلے ہی علاقے کی صفائی کا کام مکمل کر لیتے ہیں ۔ اور آپ دوکاندار جب اپنی دکانیں کھولتے ہیں ۔ سینٹری ورکرز اس وقت تک صفائی کا کام جیسا تیسا بھی ہو کر کے جا چکے ہوتے ہیں ۔
اب میں ایک چیلینج کی بات کرنے لگا ہوں ۔
دوکانیں کھولنے کے بعد فوجان کے اندر کی صفائی کرنے کے بعد جو کوڑا یا کچرا ہوتا ہے ۔ آپ میں سے کوئی ایک بھی دوکاندار دعواہ کر سکتا ہے کہ میں اپنی دوکان کا کوڑا کچرا کسی ٹوکری یا کریٹ میں رکھتا ہوں تو کہ علاقے کا سینٹری ورکر یہ کوڑا اٹھا کر لے جائے ۔ نہیں ایسا نہیں ہوتا بلکہ ہر دوکاندار خود یا انکا ملازم
اس کوڑے اور کچرے کو اپنے جھاڑو سے دوکان کے باہر ہی پھینکتا ہے اور یہ کوڑا اور کچرا کچھ دوکان کے باہر سڑک پر اور کچھ دوکان کے باہر نالیوں میں چلا جاتا ہے ۔ اس کے بعد سیک خاموشی چھا گئی اور میں واپس اپنی سیٹ پر آ کر بیٹھ گیا ۔ میٹنگ ختم ہوئی تو تاجر برادری
بلدیہ کے گیٹ سے باہر جانے لگے اور سینٹری سٹاف کے لوگ میرے ہاتھ پکڑ کر شکریہ شکریہ کے لفظ بولنے لگے ۔ میں نے انہیں کہا کہ میں نے نہ آپ کی کوئی حمایت کی ہے اور نہ ہی تاجروں
کے خلاف کوئی بات کی ہے ۔ میں نے تو ایک حقیقت بیان کی ہے ۔

Address

Al-Nabi Colony, Jalalpur Jattan Road
Gujrat
50700

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ask News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Ask News:

Share