27/03/2026
کوئی بھی کاروبار
تحریر محمد شہباز
میں اکثر دوستوں سے یہ بات کہتا ہوں کہ جاب چاہے لاکھوں کی ہو ۔ چھوٹے سے چھوٹا کاروبار بھی لاکھوں کی جاب سے بہتر ہوتا ہے ۔ چند روز قبل میں ارشد الیکٹرک شاپ پر بیٹھا ہوا تھا ۔ وہاں ایک گاہک جو دینی مدرسے کیلئے سامان خریدنے آیا ہوا تھا ۔ اس گاہک سے کئی موضوعات پر باتیں ہوئیں ۔ انہوں نے ایک ایسی بات سنائی جو جاب اور کاروبار کے حوالے سے ہی تھی ۔
یہ کہانی جاوید چوہدری نے اپنے ایک کالم میں لکھی تھی ۔ کہانی کچھ یوں تھی کہ اسلام آباد کے ایک چوک کے فٹ پاتھ پر ایک نوجوان جس کے ہاتھ میں
ایک فاہل بھی تھی ۔ جاوید چوہدری نے نوجوان سے پوچھا کہ آپ کدھر جا رہے ہیں ۔ ریڈ لائٹ کی وجہ سے دونوں رکے ہوئے تھے ۔ نوجوان نے کہا کہ جاب کیلئے اپلائی کیا ہوا تھا ۔ انٹر ویو کیلئے بلایا گیا تو انٹر ویو دینے جارہا ہوں ۔ جاوید چوہدری نے پوچھاکہ
انٹر ویو اوکے ہو گیا تو ماہانہ کتنی تنخواہ ملے گی ۔
نوجوان نے کہا کہ 25 ہزار روپے ۔ اگلے چوک پر ایک ریڑھی والے سے چھلیاں لیں اور کھانے لگے ۔ چالیس روپے کی ایک چھلی تھی ۔ جاوید چوہدری نے چھلیاں بھیجنے والے سے پوچھا کہ روزانہ کتنا کما لیتے ہو ۔ ریڑھی والا بولا کہ اڑھائی سے تین ہزار روپے کما لیتا ہوں جاوید چوہدری نے پوچھاکہ یہ چھلی آپ کو کتنے کی پڑتی ہے ۔ ریڑھی والا بولا 5 روپے کی ۔
انہوں نے نوجوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔ سن لیا یہ ریڑھی پر چھلیاں بیچنے والا روزانہ کے کتنے روپے کما رہا ہے ۔ نوکری کو بھول جاؤ ۔ تم بھی چھلیاں بیچنا شروع کرو مگر اس ریڑھی والے سے ذرا مختلف طریقے سے ۔
تم نے چھلی کو پیک کرنا ہے اس میں نمک مرچ مصالحہ اور لیموں بھی رکھنا ہے اور تم نے یہ چھلی 50 روپے میں بیچنی ہے ۔ اس میں میں تمھاری ہیلپ بھی کروں گا ۔
تقریباً 3 سال گزرنے کے بعد جاوید چوہدری اپنی گاڑی لیکر ورشاپ میں گئے ۔ وہاں اور لوگ بھی اہنی گاڑیاں لیکر گئے ہوئے تھے ۔ میں اس انتظار میں تھا کہ مکینک او کے بولے اور میں گاڑی لیکر جاؤں ۔اسی دوران ایک نوجوان میرے پاس آیا اور سلام کیا ۔ میں نے جواب میں وعلیکم السلام بولا ۔نوجوان نے بولا ! مجھے پہچانا ۔ جاوید چوہدری نے کہا نہیں ۔نوجوا بولا ۔ میں وہی ہوں جسے آپ نے کوئی 3 سال قبل بولا تھا ۔ کہ نوکری کو بھول جاؤ اور چھلیاں بیچنا شروع کر دیں ۔ اور میں اپ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق چھلیاں ہی بیچ رہا ہوں ۔ آج میرے پاس گاڑی بھی ہے اور میں نے اپن گھر بھی بنا لیا ہے ۔ میری والدہ آپ کو یاد کر کے بہت دعائیں دیتی ہیں میں بھی آپ کا شکر گزار ہوں آپ نے مجھے اچھا مشورہ دیا ۔ جس نے میری زندگی ہی بدل دی اور آج میں ایک اچھی زندگی گزار رہا ہوں ۔