14/06/2026
شفافیت بولی ،سوالات خاموش رہے
کہتے ہیں کہ سرکاری اعلان بھی ایک فن ہوتا ہے ۔ لفظوں کو ایسے ترتیب دیا جاتا ہے کہ حقیقت بھی مطمئن دکھائی دے اور سوال بے آواز رہیں ۔
ڈپٹی کمشنر گوادر کا کہنا ہے کہ گریڈ 1سے 15 تک تمام بھرتیاں شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر مکمل ہوچکی ہیں ۔آج تک سمجھ نہیں آئی گوادر میں میرٹ کس موسم میں اگتا ہے ۔لوگ کہتے ہیں یہ کاغذ پر لکھا ایک خوبصورت لفظ ہے اور کچھ کا خیال ہے یہ صرف تقاریر میں زندہ رہتا ہے ۔
جب گریڈ 1 سے 15 تک ایک تحصیل کی بھرتیوں کی فہرست دیکھی تو یوں محسوس ہوا جیسے علم کی دیوی نے سفارش کا سہارا لے لیا ہو ۔ پہلے ہم سمجھتے تھے تعلیم ایک دروازہ ہے جو قابلیت سے کھلتا ہے مگر اب معلوم ہوا کہ چابی کبھی کبھی ناموں کی فہرست سے مل جاتی ہے ۔
شاید بدقسمتی ان قابل لوگوں کی ہے جو زمانہ سفارش میں پیدا ہوئے ہیں ۔ جہاں قابلیت سفارش کے دروازے پر دستک دے کر واپس آجاتی ہے اور نام اپنی ہی سفارش پر اندر داخل ہو جاتا ہے ۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ شفافیت اب ایک ایسا آئینہ بن چکی ہے جس میں صرف وہی چہرے صاف دکھائی دیتے ہیں جو پہلے ہی منتخب ہو چکے ہوتے ہیں ۔باقی سب اپنے عکس کو دھندلا سا دیکھ کر بھی یقین کرنے پر مجبور ہیں کہ شاید روشنی کم تھی چہرہ نہیں ۔ سرکاری فہرستیں بھی اب کسی ادبی شاہکار کی طرح ہیں جتنی خوبصورت ترتیب اتنا ہی گہرا ابہام ۔
اور پھر دلچسپ بات یہ ہے کہ میرٹ کے تقاضے بھی وقت کے ساتھ بدلتے رہے ہیں ؛ کبھی امتحان میں نمبر شرط تھے اب تعلقات میں نرمی کافی ہے ۔ یوں لگتا ہے جیسے نظام نے بھی ایک خاموش سا معاہدہ کر لیا ہو کہ سوال نہ اٹھیں تو جواب خود بخود درست مان لیے جائیں گے ۔
اگر تعلیم کو واقعی فروغ دینا مقصود ہے تو پھر علم کو آواز دی جائے نہ کہ آواز کے جاننے والوں کو علم دیا جائے ۔
ورنہ ڈر ہے کہ آنے والے وقت میں استاد بھی تقریر کے وقت یہ ضرور پوچھے گا " کیا میں قابل ہوں؟ یا بس قابلِ تعریف ؟
تحریر۔ رغد عارف