Inside Gwadar

Inside Gwadar 'This Plateform Most Famous For Publishing The Authentic News, Documentaries & Interesting Videos.
(1)

25/05/2026

سبق
جب تم دوسروں کے فون نہیں اٹھاؤگے تو ضرورت پڑنے پر لوگ تمھارا فون بھی نہیں اٹھائیں گے۔۔۔
نتیجہ پھر یہ ہوگا کہ گیارہ بندوں کے ساتھ گزارہ کرنا پڑے گا۔

حق دو تحریک کے  مرکزی چیئرمین  حسین واڈیلہ کے فرزند  حمل حسین واڈیلہ کے گمشدگی پر ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمن و ...
25/05/2026

حق دو تحریک کے مرکزی چیئرمین حسین واڈیلہ کے فرزند حمل حسین واڈیلہ کے گمشدگی پر ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمن و حق دو تحریک کی کال پر گوادر میں احتجاجی دھرنا جاری ہے

گوادر : نجی ایئرلائن کمپنی ساؤتھ ایئر نے گوادر میں اپنی سروس کا آغاز کردیا۔  ساؤتھ ایئر کی پہلی آزمائشی فلائیٹ نمبر Z8, ...
25/05/2026

گوادر : نجی ایئرلائن کمپنی ساؤتھ ایئر نے گوادر میں اپنی سروس کا آغاز کردیا۔
ساؤتھ ایئر کی پہلی آزمائشی فلائیٹ نمبر Z8, 905 کراچی سے گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ لینڈ کر گیا۔۔

24/05/2026

وائس چانسلر گوادر یونورسٹی

24/05/2026

اہم خبر

گوادر یونیورسٹی کے مغوی وائس چانسلر پروفیسر عبدالرزاق صابر اور ان کے دیگر تین ساتھی بازیاب ہوگئے۔
وائس چانسلر اور دیگر دو پروفیسرز اور ڈرائیور بازیاب ہو چکے ہیں تاہم ابھی تک گھروں میں نہیں پہنچے ہیں. فیملی زرائع۔

واضع رہے کہ گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ان کے ساتھیوں کو 13 مئی کو مستونگ کے علاقے سے اغوا کیا گیا تھا۔

24/05/2026

دو سال کی مدت

باخبر زرائع کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں درج ذیل ڈویلپمنٹ سامنے آئے ہیں۔

1.کنٹانی کے تقریبا 380 ٹوکن (بغیر بوٹس کے) ایک نمائندے کو سونپ دیئے گئے۔

2. کلانچی پاڈہ گوادر کے 98 ایکڑ رقبے پر مشتمل 486 ناموں کے مالکانہ حقوق والی لسٹ میں سے اپنے 81 ایسے اضافی ناموں کو شامل کروانا جس کا کلانچی پاڑہ کے رہائشی یا زمینوں سے دور دور کا بھی واستہ نہیں ہے۔ یاد رہے کہ اس لسٹ میں مذید بوگس نامیں ڈلوانے کیلیئے متعلقہ افسران کو دباؤ جاری ہے۔
3. دو بیست پنجاہ بارڈر کی اراضیات سمیت دیگر تحصیلوں کی سٹلمنٹ ریکارڈ کیلیئے فرنٹ مین رکھے گئے ہیں جو کمیشن کی ادائیگی کا ڈیمانڈ کر رہے ہیں اور کمیشن نہ دینے کی صورت میں راستے میں روڑے اٹھکانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں.
4. ڈیمز سمیت ترقیاتی کاموں کے بجٹ پر بھاری کمیشن (رشوت) طلب کیا جا رہا ہے۔
5. ایک خاص پرائیویٹ بلڈنگ کی تیاری کی زمہ داری ایک سرکاری ٹھیکدار کو سونپ دی گئی ہے۔

نوٹ : چار سالہ بلدیاتی بجٹس کے حساب کتاب آنا ابھی باقی ہے۔

نوت یہ تحریر گوادر پریس کلب کے صدر نور محسن صاحب کا لکھا ہوا ہے جوکہ انہوں نے اپنے حالیہ دورہ کوئیٹہ کے موقع پر ایم پی ا...
23/05/2026

نوت یہ تحریر گوادر پریس کلب کے صدر نور محسن صاحب کا لکھا ہوا ہے جوکہ انہوں نے اپنے حالیہ دورہ کوئیٹہ کے موقع پر ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمن صاحب کا اپنے ساتھ پیش آنے والے رویئے سے متعلق لکھا ہے.

*کتنا بدل گیا انسان*


*تحریر: نور محسن*

حسبِ سابق امسال بھی گوادر پریس کلب گوادر کا دو رکنی وفد پریس کلب کے معاملات (سالانہ گرانٹ، پریس کالونی، بلڈنگ) کے سلسلے میں کوئٹہ جانا تھا۔ لہٰذا بحیثیتِ صدر گوادر پریس کلب میری ذمہ داری تھی کہ میں کسی دوسرے ممبر کے ہمراہ کوئٹہ جا کر متعلقہ افسران، سیکریٹریز، وزراء یا وزیرِاعلیٰ بلوچستان سے ملوں اور گوادر پریس کلب کے بنیادی اور حل طلب مسائل کے بارے میں کوشش کروں اور صحافیوں کی آواز متعلقین تک پہنچاؤں، تاکہ حکومتِ بلوچستان کو گوادر کے صحافیوں کے بنیادی مسائل سے آگاہی ہو اور اگر چاہے تو اُنہیں حل یا کم کرے۔
لہٰذا گوادر پریس کلب کے سینئر ممبران کی مشاورت سے طے ہوا کہ گوادر سے منتخب ممبر صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن سے ملاقات کی جائے اور اپنے کوئٹہ جانے کے مقاصد بیان کرنے کے ساتھ ساتھ مولانا صاحب سے رہنمائی (وزیرِاعلیٰ سے ملاقات کرانے) کی درخواست کی جائے کہ بحیثیتِ منتخب عوامی نمائندہ گوادر ہم آپ سے امید رکھتے ہیں کہ گوادر کے ایک عوامی ادارے (پریس کلب) اور صحافیوں کے مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کریں۔

*کار نہ انت کواروکیں کواٹانی*

جس کے بعد گوادر میں مولانا ہدایت الرحمٰن صاحب سے ملاقات کی گئی اور اپنے کوئٹہ جانے کا مقصد بتایا گیا۔ مولانا صاحب نے اس کوشش کی تعریف کی اور بخوشی ادارے (پریس کلب) کی مالکی قبول کرتے ہوئے تعاون کرنے کو اپنے لیے اعزاز قرار دیتے ہوئے حامی بھر لی۔
گوادر پریس کلب کا وفد، راقم الحروف کی سربراہی میں، 10 مئی 2026 کو کوئٹہ روانہ ہوا اور اسی شام کوئٹہ پہنچ گیا۔ اگلی صبح 11 مئی کو مولانا صاحب سے رابطہ کرنے کیلئے کئی بار فون کیا، لیکن مولانا صاحب سے رابطہ نہ ہو سکا (فون نہیں اٹھایا)۔ ہم بلوچستان سیکریٹریٹ آئے، اتفاقاً مولانا صاحب سے سرِ راہ ملاقات ہو گئی۔ سلام و علیک کے بعد مولانا صاحب ہم سے گویا ہوئے: آپ آگئے؟
ہم نے ہاں میں جواب دیا اور فون نہ اٹھانے کا گلہ کیا، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ آپ دوسروں کو طعنہ دیا کرتے تھے کہ سابق نمائندے لوگوں کا فون نہیں اٹھاتے تھے، فون تو آپ بھی نہیں اٹھاتے۔
انہوں نے میری بات کو ٹال دیا اور کہا کہ میں ہر قسم کی مدد کرنے کو تیار ہوں، آج شام آپ سے رابطہ کروں گا، ملیں گے، بات چیت کریں گے اور آنے والے کل میں وزیرِاعلیٰ سے ملاقات کراؤں گا۔

*(لیکن وہ کل آج تک نہیں آیا، مولانا صاحب نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا)*

ہم نے شام تک کافی انتظار کیا، نہ مولانا صاحب کا فون آیا اور نہ ہی اُن کے پی اے کا۔ ہم نے کئی بار فون کیے، لیکن مولانا صاحب نے فون رسیو نہیں کیا۔ ہم مولانا صاحب سے ناامید ہو کر اپنی رسائی تک بھاگ دوڑ شروع کی۔ ڈی جی پی آر آفس، سیکریٹری انفارمیشن آفس، سیکریٹری فنانس آفس، ایس ایم بی آر آفس، الغرض جہاں ہم جا سکتے تھے اور جس سے شناسائی تھی، ہم ملتے رہے، اور کام بنتے گئے۔
تیسرے دن ایس ایم بی آر آفس کے سامنے دوبارہ اچانک مولانا صاحب سے آمنا سامنا ہوا۔

*مولانا تم بدل گئے*

انہوں نے ازخود کہا کہ کام بہت ہیں، مصروف ہوں، اس لیے رابطہ نہ کر سکا۔ لہٰذا رات کا کھانا ایک ساتھ میرے ہاسٹل (ایم پی اے ہاسٹل) میں کھائیں گے، مل بیٹھ کر بات چیت کریں گے، اور کل آپ لوگوں کی سی ایم صاحب سے ملاقات کراؤں گا۔ ایم پی اے ہاسٹل میں میرا فلیٹ نمبر سی 5 ہے۔
ہم نے کہا کہ مولانا صاحب، کھانا پینا کوئٹہ کے کسی ہوٹل میں مل سکتا ہے، ہم خود کھا لیں گے۔ ہم اپنے کام کے معاملے میں فکر مند ہیں، آپ ہماری ملاقات کرا دیں تاکہ پریس کلب کے معاملات آگے بڑھ سکیں۔ جہاں تک ہماری رسائی تھی ہم جا چکے ہیں۔ اہم معاملات سی ایم سے متعلق ہیں، ہماری مدد کریں تاکہ سی ایم صاحب تک پہنچ پائیں، اور بحیثیتِ ممبر صوبائی اسمبلی و نمائندہ گوادر، پریس کلب و صحافیوں کے حل طلب مسائل حل کرانے کی سفارش کریں۔
مولانا صاحب نے پُرعزم حامی بھری اور کہا: "رات کا کھانا ضرور میرے ساتھ کھائیں، صبح سی ایم صاحب سے ملواؤں گا۔"
ہم بادلِ نخواستہ مان گئے۔

*شِز ستر مزن بہ بیت بلے آئی ءَ ساھگ نہ بیت کہ کاروان وتئ وتئ گرم ءَ سرد بکنت*

اور ہم رات 9 بجے ایم پی اے ہاسٹل، سی 5 پہنچ گئے۔ دروازہ کھٹکھٹایا، ایک بندہ باہر نکلا۔ اُس نے ہماری شناخت پوچھی۔ ہم نے بتا دیا اور دیگر معاملات بھی بتائے کہ ہم مولانا صاحب کے مہمان ہیں، آپ کو یقیناً بتایا ہوگا کہ مہمان آ رہے ہیں، کھانے کا انتظام کیا ہوگا؟
جواب ملا کہ نہ مجھے مہمان آنے کا کہا گیا ہے، نہ کھانا بنانے کا، مولانا صاحب رات 12 بجے آتے ہیں۔

*مردے پہ نام مریت ءُ مردے پہ نان*

ہمارے تو گویا پیروں تلے زمین نکل گئی۔ دو سالوں میں مولانا اتنا بدل گیا کہ اپنی روایت بھی بھول گئے؟
میں نے مولانا صاحب کے پی اے (شعیب جی آر) کو فون کیا، لیکن انہوں نے فون رسیو نہیں کیا۔ میں نے وائس میسج چھوڑا کہ ہم آئے تھے، آپ میں سے کوئی ہاسٹل میں موجود نہ تھا، اور نہ ہی دوسرا کوئی ایسا انتظام تھا جس سے ہم یہ سمجھتے کہ ہمیں بیٹھنا چاہیے۔ لہٰذا کھانے پینے کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، اگر ہو سکے تو کل سی ایم صاحب سے ہماری ملاقات کرا دیں۔
انہوں نے صبح کا وعدہ کیا اور کہا کہ “گڈا اواریں”، لیکن وہ صبح آج تک نہیں آئی، اور شاید آئے گی بھی نہیں۔

*واہ رے اقتدار، کتنا بدل گیا انسان۔۔*

23/05/2026

گوادر (نمائندہ خصوصی ) مکران کی قبائلی، سیاسی و سماجی شخصیت میر فدا حکیم رند نے گوادر پریس کلب میں منعقدہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز مند سے کیا اور انتہائی مشکل و شورش زدہ حالات کے باو جود ہمیشہ اپنے عوام سے رابطہ قائم کئے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر دکھ، درد، غم اور خوشی میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ مند میں تعلیم، صحت اور بجلی کا نظام مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، جبکہ بارڈر کے کاروبار کی بندش کے باعث عوام شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں جبکہ علاقے کے باسی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب بھی وہ ان مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں اور میڈیا کے ذریعے علاقے کے حقیقی مسائل اجاگر کرتے ہیں تو یہ بات علاقے کے سلیکٹڈ نمائندے کو ناگوار گزرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل انہوں نے مند ہسپتال کا دورہ کیا، وہاں موجود مسائل کا جائزہ لیا اور ذاتی طور پر ہسپتال کیلئے سولر انورٹر فراہم کیے، مگر اس فلاحی اقدام پر بھی انہیں ڈی ایچ او کے ذریعے نوٹس جاری کیے گیے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ علاقے کے فرزند ہیں اور 2024ء کے انتخابات میں عوام نے انہیں بھرپور حمایت دی، یہ الگ بات ہے کہ کچھ لوگ پیراشوٹ کے ذریعے سیاست میں داخل ہوئے۔میر فدا حکیم رند نے کہا کہ حال ہی میں انہوں نے دوبارہ آر ایچ سی مند کا دورہ کیا اورہسپتال کیلئے فرنیچر اور صوفہ سیٹ فراہم کرنے کا اعلان کیا، مگر اس پر بھی انہیں نوٹس جاری کیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جب بھی وہ کسی ادارے کے افسران سے ملاقات کرتے ہیں یا فلاحی کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کے مخالفین متعلقہ افسران پر دباؤ ڈال کر رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نہ خود کوئی کام کیا جا رہا ہے اور نہ دوسروں کو کام کرنے دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ دو بجٹوں میں مند اور دشت کیلئے کوئی نمایاں ترقیاتی منصوبہ نہیں دیا گیا، جبکہ عوامی فلاح و بہبود کے بجائے کرپشن، کمیشن اور ٹھیکیداری کی سیاست کو فروغ دیا گیا۔”انہوں نے محکمہ فشریز کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ محکمہ اس وقت کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے۔ غیر قانونی ٹرالنگ نے سمندر کے وسائل کو تباہ کر دیا ہے اور غریب ماہی گیروں کا معاشی قتل عام جاری ہے، جبکہ منتخب نمائندے صرف بیانات اور نمبر بنانے میں مصروف ہیں۔ میر فدا حکیم رند نے کہا کہ وہ مند کے فرزند ہیں اور علاقے کی پسماندگی انہیں برداشت نہیں۔ شورش زدہ حالات کے باوجود وہ ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، مگر کچھ عناصر نہیں چاہتے کہ چالیس سالہ پرانے مسائل کو اجاگر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی عوامی مسائل پر آواز اٹھاتا ہے تو سلیکٹڈ نمائندہ مداخلت کرتا ہے۔ آخر میں انہوں نے پریس کانفرنس کے توسط سے مند کے غیور عوام سے اپیل کی کہ وہ علاقے کی ترقی، خوشحالی اور بنیادی حقوق کے حصول کیلئے ان کا ساتھ دیں تاکہ مند کو مسائل کے اندھیروں سے نکال کرترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔

22/05/2026

گوادر یونیورسٹی کے مغوی پروفیسرز اور ڈرائیور کی عدم بازیابی پر گوادر میں بہت بڑی ریلی۔۔۔ قرارداد بھی منظور۔ وائس چانسلر سمیت چاروں مغویان کی فوری اور باحفاظت بازیابی کا مطالبہ۔



21/05/2026

کنٹانی ھور ڈپوز۔۔۔ عدالتی حکم

اسسٹنٹ کمشنر گوادر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن نمبر 274-78 مؤرخہ 14-03-2026 بعنوان “بدایات برائے ڈیپو رجسٹریشن” کے خلاف موضع چشلت / کنٹانی ہور، تحصیل جیوانی کے جدّی، پشتی اور مقبوضہ مالکان نے آج سول عدالت گوادر میں قانونی چارہ جوئی کرتے ہوئے دعویٰ دائر کیا۔

سائلین کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ سعید فیض بلوچ اور ایڈووکیٹ محمد صدیق زعمرانی عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ متنازعہ اراضی قدیم آبائی اور موروثی ملکیت ہے، جس پر مقامی مالکان قابض و متصرف ہیں، لہٰذا حکومتی سطح پر ڈیپو رجسٹریشن اور زمین الاٹمنٹ کا عمل غیر قانونی اور مالکان کے حقوق کے منافی ہے۔

عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد حکمِ امتناعی جاری کرتے ہوئے کنٹانی کے تقریباً تین کلومیٹر پر مشتمل علاقے میں ڈیپو مالکان کو زمین الاٹ کرنے کا عمل فوری طور پر روک دیا۔

عدالتی حکم کے مطابق آئندہ سماعت تک متعلقہ اراضی میں کسی بھی قسم کی نئی الاٹمنٹ، رجسٹریشن یا مداخلت نہیں کی جا سکے گی۔

یاد رہے کہ مذکورہ نوٹیفکیشن اسسٹنٹ کمشنر گوادر کی جانب سے 14 مارچ 2026 کو جاری کیا گیا تھا، جس میں کنٹانی کے ساحلی علاقے میں ڈیپو رجسٹریشن اور حد بندی کے اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم مقامی مالکان نے اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کر دیا ہے

21/05/2026

گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول پراہگ محلہ کی طالبات کا پسنی پریس کلب کا مطالعاتی دورہ،،

پسنی: گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول پراہگ محلہ، ریکپشت پسنی کی طالبات اور اساتذہ نے پسنی پریس کلب کا مطالعاتی دورہ کیا، جہاں صحافت، سوشل میڈیا اور اے آئی سے متعلق آگاہی سیشن منعقد ہوا۔
پریس کلب کے صدر سخی کریم نے وفد کا استقبال کیا، جبکہ صحافی ساجد نور اور زر خان بزنجو نے طالبات کو صحافت، پریس کلب کے کردار اور سوشل میڈیا کے مثبت و ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق بریفنگ دی۔
نوجوان محقق بادل بلوچ نے طالبات کو اے آئی ٹولز، تحقیق، تعلیم اور اپنی ثقافت و زبان سے جڑے رہنے کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل علم، تحقیق اور اعتماد کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔
اس موقع پر طالبات نے صحافیوں سے مختلف سوالات کیے اور مطالعاتی دورے کو ایک مفید اور خوشگوار تجربہ قرار دیا۔

Address

Gwadar

Telephone

+923222185114

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Inside Gwadar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share