Inside Gwadar

Inside Gwadar 'This Plateform Most Famous For Publishing The Authentic News, Documentaries & Interesting Videos.

23/09/2026

پوچھنا یہ تھا کہ تحریک انصاف نے جو چندے کی اپیل کی ہے اس میں شہباز گل، عمران ریاض، وقار ملک ،ڈاکٹر معید پیرزادہ اور صابر شاکر نے کتنا کتنا حصہ ڈالا ہے؟





Inside Gwadar

20/09/2026

گومازی نہنگ کور ءٗ مردماں اے گانڈو گپتگ ،
مردماں چے درخواست ایں کہ اے ساہ دار ابرم ءِ زیبائی انت ، اشاں مجن ات ءُ گار مکن ات۔



Inside Gwadar

19/09/2026

ڈسٹرکٹ وائس چیئرمین گوادر ھوت نعمت اللہ کی گاڈی پر دشت کے مقام پر فائرنگ کی اطلاع ہے۔
اطلاعات کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں گاڈی کو شدید نقصان پہنچا ہے تاہم ھوت نعمت اللہ خود محفوظ رہے ہیں ۔

19/09/2026

گوادر میں موبائل نیٹورک سروسس کی تباہ حالی پر شہریوں کی جانب سے ڈپٹی کمشنر گوادر و ڈویژن کمانڈر کو مداخلت کرنے کی اپیل

اپیل بنام ڈپٹی کمشنر صاحب گوادر
جی او سی صاحب گوادر،

*گوادر میں موبائل نیٹ ورک و انٹر نیٹ کی ناقص کارکردگی پر سرزنش کی درخواست*

مودبانہ گزارش ہے کہ گوادر میں عرصہ دراز سے ٹیلی کام کمپنیوں (جیز/یوفون/زونگ و دوسرے نیٹ ورکس کی من مانیاں عروج پر ہیں،
نیٹ و نیٹ ورک استعمال کرنےکیلئے ہمیں کسی اونچی جگہ پر چڑھ کے اپنی باتیں مکمل کرنی پڑتی ہیں،
سابقہ اے سی گوادر میر جواد زہری صاحب نے ڈپٹی کمشنر گوادر کے حکم سے ٹیلی کام کمپنیوں کی ناقص کارکردگی پر پی ٹی اے کو ایک مراسلہ بھی لکھا تھا،
اس کے ساتھ موبائل کمپنیوں کے فرنچائز مالکان کو اپنے دفتر میں طلب کرکے نیٹ و نیٹ ورکس بہتر بنانے کی ہدایات بھی جاری کی تھیں ،
لیکن حوصلہ افزاء نتائج گوادر کے شہریوں کو نہیں ملے،
آپ حضرات سے گزارش ہے کہ گوادر میں موبائل کمپنیوں کی سرزنش کرکے نیٹ و نیٹ ورکس بہتر بنانے کا پابند بنا کر ہمیں اس زہنی اذیت سے چھٹکارا دلانے میں اپنا رول پلے کریں،

آپ حضرات سے گوادر واسیوں کو بہت ساری امیدیں وابسطہ ہیں،
ہمیں امید قوی ہے آپ ہماری درخواست پر غور فرمائینگے،،

"اہلیان گوادر"

Inside Gwadar

18/09/2026

“تعزیت اور بےبس نظام”

ڈاکٹر اقبال بلوچ

میں چونکہ خود ایک انٹرنل میڈیسن فزیشن ہوں، اس لیے اپنے 12 سالہ کیریئر میں مختلف بیماریوں کے کئی مریضوں کو انتہائی نازک اور Critical Stage میں دیکھ چکا ہوں۔ Critical Care دراصل وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں انسان کی زندگی بچانے کے لیے جدید مشینوں، ICU سیٹ اَپ، وینٹی لیٹر، تربیت یافتہ ICU اسٹاف اور ایک مکمل ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے، جو 24 گھنٹے مریض کی سانس سے لے کر الیکٹرولائٹس تک ہر چیز کو مانیٹر اور مینیج کر رہی ہو۔

ایک مشہور و معروف بچھو، جسے مقامی زبان میں "کَش" کہا جاتا ہے، اب تک سینکڑوں جانیں لے چکا ہے۔ تربت اور دشت کے علاقوں میں یہ بچھو خاص طور پر پایا جاتا ہے۔ یہ دنیا کے خطرناک اور زہریلے بچھوؤں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے کاٹنے پر عموماً بہت کم درد ہوتا ہے اور اکثر مریض کو فوری طور پر معلوم بھی نہیں ہوتا، لیکن چند گھنٹوں بعد اس کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور مختلف پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جن میں شدید Hemolysis یعنی خون کے سرخ خلیوں کا تیزی سے ٹوٹنا، Acute Kidney Injury، Acute Myocarditis یعنی دل کے پٹھوں میں شدید سوزش، اور پھیپھڑوں میں پانی بھر جانا، جسے Pulmonary Edema کہا جاتا ہے، شامل ہیں۔

اس جان لیوا بچھو کے علاج کے لیے ہمارے Teaching Hospital Turbat میں بدقسمتی سے مکمل Critical Care یا ICU کی سہولت موجود نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ایک مکمل تربیت یافتہ اسٹاف اور 24 گھنٹے دستیاب ٹیم بھی موجود نہیں، جبکہ جو محدود سہولت موجود ہے وہ بھی ہر وقت دستیاب نہیں ہوتی۔

میری بچی جب صبح سو کر اٹھی تو اس کا بستر جالی کے اندر تھا، لیکن بدقسمتی سے وہ بچھو اپنا کام کر چکا تھا۔ شروع میں، جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا، کوئی خاص تکلیف نہیں تھی۔ میں اسے اپنے ایک قریبی کولیگ، جو بچوں کے مشہور ڈاکٹر ہیں، کے پاس لے گیا۔ ہم نے ابتدائی تحقیقات اور معائنہ کیا تو میرا شک درست ثابت ہوا کہ اسے بچھو نے کاٹا ہے، لیکن اس وقت معاملہ اتنا سنگین محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ ہم نے فوری طور پر علاج شروع کر دیا۔

لیکن شام تک میری بچی کے پیشاب میں خون آنا شروع ہوگیا۔

شام تقریباً 8 بجے میں اسے Teaching Hospital Turbat لے کر گیا۔ وہاں ایک HDU یونٹ بنایا گیا ہے، لیکن اس کی سہولت ایک عام وارڈ جیسی تھی، جہاں صرف دو AC اور دو اسٹاف ممبران موجود تھے۔

ہم نے FFP اور خون لگایا اور پوری رات اپنی طرف سے جو کچھ ممکن تھا، وہ سب کرتے رہے۔ میں ایک بے بس باپ اور ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے کبھی اپنی اعصاب کو سنبھالتا رہا اور کبھی اپنی بچی کی بدلتی ہوئی پیچیدگیوں کو مینیج کرتا رہا۔ کبھی اس کی نبض 200 تک پہنچ جاتی، کبھی آکسیجن Saturation 90 تک آ جاتی۔

خیر، صبح تقریباً 9 بجے جب ایک ڈاکٹر کولیگ وہاں پہنچے تو یہی مشورہ دیا گیا کہ اسے کراچی لے جایا جائے تاکہ ICU کی مکمل سہولت میں اس کا علاج ہو سکے۔

میں اپنی انتہائی نازک حالت میں موجود بچی کو ایک کرائے کی گاڑی میں لے کر کراچی کے لیے روانہ ہوگیا۔ لیکن راستہ طویل تھا اور حالت انتہائی مشکل تھی۔ میں راستے میں اپنے ایک ذاتی اسٹاف ممبر کی مدد سے FFP اور ضروری ادویات دیتا رہا۔

تقریباً ایک گھنٹے کے سفر کے بعد میری بچی کو سانس لینے میں شدید دشواری ہونے لگی اور اچانک وہ Collapse کر گئی۔

ہم نے فوراً CPR شروع کی۔ تقریباً 30 منٹ سے ایک گھنٹے تک، مجھے صحیح وقت کا اندازہ نہیں، میں اسے سانس دینے اور زندگی بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتا رہا۔

اور پھر تقریباً 30 منٹ کے اندر مجھے اندازہ ہوگیا کہ میری بچی اب اس دنیا میں نہیں رہی۔

میں ایک بے بس باپ بھی تھا اور ایک ڈاکٹر بھی۔ میں اپنی بچی کی زندگی کو ایک کرائے کی گاڑی کی پچھلی نشست پر واپس لانے کی کوشش کر رہا تھا۔

بدقسمتی سے میں خود بھی اسی نظام کا حصہ ہوں اور اسی نظام کی ناکامی کا شکار ہوا، جس نے مجھے اپنی ایسی بچی، جسے وینٹی لیٹر کی ضرورت تھی، تقریباً 800 کلومیٹر دور لے جانے پر مجبور کر دیا۔

میں ناکام اور مایوس اپنی بچی کی جسدِ خاکی لے کر واپس گھر پہنچ گیا۔

میں کسی ایک ڈاکٹر، اسٹاف یا ایڈمنسٹریٹر پر الزام نہیں لگا رہا۔ میں مجموعی طور پر اس نظام کی ناکامی اور بے بسی کو اس واقعے کا ذمہ دار سمجھتا ہوں۔

میں اسے صرف اللہ پاک کی آزمائش نہیں سمجھتا، کیونکہ اللہ پاک نے انسان کو عقل اور علم عطا کیا ہے۔ اب یہ ریاست اور نظام کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو وہ بنیادی اور جدید طبی سہولیات فراہم کی جائیں جو ان کی جان بچانے کے لیے ضروری ہیں۔

Scorpion Antivenom دنیا میں دستیاب ہے، لیکن ہمارے پاس یہ سہولت موجود نہیں، حالانکہ سب جانتے ہیں کہ ہر سال ایسے زہریلے بچھوؤں کے کاٹنے سے ہمارے علاقوں میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔

خیر، آخر میں اللہ پاک سے دعا ہے کہ مجھے صبر عطا فرمائے، میری بچی کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہم سب کی اور ہمارے بچوں کی حفاظت فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

اورماڑہ : عوامی شکایات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر اورماڑہ ڈاکٹر ماہ نور برکت نے مکران کوسٹل ہائی وے کے زیرو...
17/09/2026

اورماڑہ : عوامی شکایات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر اورماڑہ ڈاکٹر ماہ نور برکت نے مکران کوسٹل ہائی وے کے زیرو پوائنٹ پر قائم ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس پر اچانک چھاپہ مار کارروائی کی۔

اس دوران کھانے پینے کی اشیاء کے معیار، صفائی ستھرائی، حفظانِ صحت، واش رومز اور مقررہ نرخوں کا سختی سے جائزہ لیا گیا معائنہ میں چار ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کی مکمل چیکنگ کی گئی، جبکہ غیر معیاری اشیائے خورونوش اور دیگر خلاف ورزیوں پر متعلقہ ہوٹل مالکان کو جرمانے کیے گئے۔

اسسٹنٹ کمشنر نے ہوٹل مالکان کو سختی سے ہدایت کی کہ شہریوں اور مسافروں کو صاف ستھرا، معیاری اور محفوظ کھانا فراہم کیا جائے اور حفظانِ صحت کے تمام اصولوں پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

ڈاکٹر ماہ نور برکت نے واضح کیا کہ عوام کی صحت اور جانوں سے کھیلنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ ناقص، غیر معیاری یا زائدالمیعاد اشیائے خورونوش کے استعمال، صفائی میں غفلت اور مقررہ نرخوں کی خلاف ورزی پر آئندہ مزید سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ان کو کہنا تھا کہ عوامی شکایات کا فوری ازالہ اور شہریوں و مسافروں کو محفوظ خوراک کی فراہمی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اس حوالے سے اچانک معائنوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

Inside Gwadar

17/09/2026

تازہ ترین

گوادر شہر اور گردونواح کے ایرانی پٹرول پمپس کے سیل ہوجانے کے بعد پاک ایران بارڈر ٹو ففٹی کے بھی تیل کی تمام دکانیں و پمپس کو سیل کئے جانے کی اطلاعات آ رہی ہیں

دشت ملائی نگور میں پانی کا سنگین بحران، عوام نقل مکانی پر مجبورنیشنل پارٹی کے سینئر کارکن ملا عبدالخالق دشتی کا حکومت سے...
17/09/2026

دشت ملائی نگور میں پانی کا سنگین بحران، عوام نقل مکانی پر مجبور

نیشنل پارٹی کے سینئر کارکن ملا عبدالخالق دشتی کا حکومت سے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ

نیشنل پارٹی کے سینئر کارکن ملا عبدالخالق دشتی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دشت ملائی نگور کے عوام کے لیے پانی کا مسئلہ اب صرف بنیادی ضرورت کا معاملہ نہیں رہا بلکہ زندگی اور بقا کا سوال بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب بارش کے بعد علاقے کے چھوٹے چھوٹے تالاب، جنہیں مقامی زبان میں "کند" کہا جاتا ہے، دشت کے لوگوں کے لیے امید اور زندگی کا سہارا ہوا کرتے تھے۔ بارش ہوتی، تالاب بھر جاتے اور انہی ذخائر سے لوگ کئی ماہ تک اپنی ضروریات پوری کرتے تھے۔

مگر گزشتہ 3، 4 سال سے بارشوں کی مسلسل کمی کے باعث صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔ بیشتر پرانے تالاب خشک ہو چکے ہیں جبکہ زیرِ زمین پانی کی سطح بھی تقریباً 1200 فٹ تک نیچے جانے کی اطلاعات ہیں۔ پانی کی شدید قلت نے لوگوں کو اپنے آبائی گھروں، زمینوں اور روزگار کو چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے۔

ملا عبدالخالق دشتی نے کہا کہ یہ محض پانی کی کمی نہیں بلکہ ایک پورے علاقے کی زندگی، معیشت اور مستقبل کا بحران ہے۔ اگر فوری طور پر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو دشت ملائی نگور کے مزید خاندان اپنے آبائی علاقوں سے مستقل طور پر دور ہونے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چند سال قبل حاجی فدا حسین دشتی صاحب کی جانب سے ٹریکٹر ٹینکی فراہم کرکے علاقے کے عوام کی مدد کی گئی تھی، جو قابلِ تحسین اقدام تھا۔ ایسے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مشکل حالات میں اگر حکومت، منتخب نمائندے اور مخیر حضرات مل کر کردار ادا کریں تو عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت صرف افسوس اور بیانات کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے۔

فوری مطالبات

ملا عبدالخالق دشتی نے ضلعی انتظامیہ کیچ، محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE)، محکمہ آبپاشی بلوچستان اور PDMA سے مطالبہ کیا کہ دشت ملائی نگور میں پانی کے بحران کو ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے اور:

1. پرانے "کند" تالابوں کی صفائی، گہرائی اور بحالی کی جائے۔
2. بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے نئے چھوٹے ڈیم اور واٹر ہارویسٹنگ منصوبے شروع کیے جائیں۔
3. بارش کے پانی کو ضائع ہونے سے روکنے کے لیے مناسب بند اور حفاظتی پشتے تعمیر کیے جائیں۔
4. گھروں کی سطح پر بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کے لیے چھوٹے واٹر ٹینک فراہم کیے جائیں۔
5. مستقل حل تک واٹر ٹینکروں کی باقاعدہ اور مستقل فراہمی یقینی بنائی جائے۔
6. میرانی ڈیم یا دیگر دستیاب ذرائع سے فراہم کیے جانے والے پانی کے ٹینکروں میں دشت ملائی نگور کو بھی باقاعدہ شامل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ دشت کے لوگ کسی عیش و آرام کا مطالبہ نہیں کر رہے، وہ صرف پینے کے پانی اور اپنے آبائی گھروں میں زندہ رہنے کا حق مانگ رہے ہیں۔

اگر حکومت آج ایک تالاب بحال کر دیتی ہے تو ممکن ہے کل ایک خاندان کی ہجرت رک جائے؛ اگر آج پانی پہنچا دیا جائے تو شاید کل ایک پورا گاؤں آباد رہ سکے۔

دشت ملائی نگور کے عوام کی آواز سنی جائے۔
پانی پہنچائیں، تالاب بحال کریں، دشت کو ہجرت سے بچائیں۔

آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ دشت کے عوام پر رحم فرمائے، بارانِ رحمت نازل فرمائے اور ان کے خشک تالابوں، زمینوں اور بستیوں کو دوبارہ آباد فرمائے۔ آمین۔ 🤲

Inside Gwadar

17/09/2026
گوادر شہر میں ایرانی تیل کے متعدد پٹرول پمپس اور تیل کی دکانیں سیل کردی گئی ہیں
17/09/2026

گوادر شہر میں ایرانی تیل کے متعدد پٹرول پمپس اور تیل کی دکانیں سیل کردی گئی ہیں

Address

Gwadar

Telephone

+923222185114

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Inside Gwadar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share