Paradise Gwadar

Paradise Gwadar Gwadar Paradise Property
Gwadar mein behtareen plots aur investment opportunities 🌴
Mehfooz deals | Munasib rates | Behtareen location

✈️ SOUTH AIR – NEW ROUTE ANNOUNCEMENT ❤️PESHAWAR ✈️ GWADAR ✈️ TURBAT📅 Starting from 17 July 2026💸 Introductory Fare: Onl...
12/07/2026

✈️ SOUTH AIR – NEW ROUTE ANNOUNCEMENT ❤️

PESHAWAR ✈️ GWADAR ✈️ TURBAT

📅 Starting from 17 July 2026
💸 Introductory Fare: Only PKR 29,800

✅ Travel conveniently from Peshawar to Gwadar & Turbat
🎫 Book your seat today!

Fly Smart, Fly South Air ✈️

🚢 Gwadar Achieves a Historic Maritime Milestone!For the first time, NLC–Vitol has successfully completed a bunkering ope...
12/07/2026

🚢 Gwadar Achieves a Historic Maritime Milestone!

For the first time, NLC–Vitol has successfully completed a bunkering operation at Gwadar Port, supplying 2,500 metric tons of IMO-compliant Very Low Sulfur Fuel Oil (VLSFO)—refined by Cnergyico Pakistan Ltd.—to the UAE-owned LNG carrier ENUGU.

This landmark achievement marks a major step forward for Pakistan's maritime fuel supply and bunkering industry.

Thanks to its strategic location, Gwadar Port is rapidly emerging as a reliable international bunkering hub, offering global shipping a strong alternative amid rising geopolitical tensions affecting regional sea trade routes.

A proud moment for Pakistan and another sign of Gwadar's growing role in global maritime commerce.

12/07/2026
گوادر کی ترقی کا انحصار ٹیکس مراعات اور خصوصی معاشی پیکیج پر ہے، ٹیکس فری زون بننے سے چند ماہ میں 50 سے 100 صنعتیں قائم ...
05/07/2026

گوادر کی ترقی کا انحصار ٹیکس مراعات اور خصوصی معاشی پیکیج پر ہے، ٹیکس فری زون بننے سے چند ماہ میں 50 سے 100 صنعتیں قائم ہو سکتی ہیں: ڈائریکٹر GIEDA وقاص احمد لاسی

گوادر: نجی ٹی وی کے پروگرام "دنیا میری نظر سے" میں گوادر کی صنعتی ترقی، سرمایہ کاری اور مستقبل کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے گوادر انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (GIEDA) کے ڈائریکٹر وقاص احمد نے کہا ہے کہ گوادر میں صنعتوں کے فروغ کے لیے بنیادی ضرورت ٹیکس مراعات اور خصوصی معاشی پیکیج کی فراہمی ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت گوادر کو ٹیکس فری زون قرار دے دے تو صرف تین سے چار ماہ کے اندر 50 سے 100 نئی صنعتیں قائم ہو سکتی ہیں، جس سے نہ صرف گوادر بلکہ پورے بلوچستان میں روزگار اور معاشی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ GIEDA کے قیام کے بعد گوادر میں مجموعی طور پر 3 ہزار ایکڑ، گبد میں 1500 ایکڑ اور تربت میں ایک ہزار ایکڑ اراضی ادارے کو الاٹ کی گئی۔ گوادر انڈسٹریل اسٹیٹ کے پہلے مرحلے میں 500 ایکڑ پر مکمل بنیادی انفراسٹرکچر تیار کیا جا چکا ہے، جہاں پانی سور ڈیم کے ذریعے جبکہ بجلی قومی گرڈ سے 24 گھنٹے فراہم کی جا رہی ہے۔

وقاص احمد نے بتایا کہ ترقیاتی کام مکمل ہونے کے بعد الاٹیز کو پلاٹس کا قبضہ دیا گیا، جس کے نتیجے میں اب تک 9 صنعتوں نے تعمیراتی کام شروع کر دیا ہے، جن میں زیادہ تر مقامی سرمایہ کار شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گوادر کی پہلی پلاسٹک انڈسٹری باقاعدہ فعال ہو چکی ہے، جبکہ گیلوانائزڈ وائر پلانٹ، وائٹ سیمنٹ پلانٹ اور فش پیکیجنگ اینڈ ایکسپورٹ پلانٹ بھی مختلف مراحل میں ہیں، جن میں سے فش ایکسپورٹ پلانٹ آئندہ چند ماہ میں پیداوار شروع کر دے گا۔

انہوں نے کہا کہ گوادر کے مقامی سرمایہ کاروں نے محدود سہولیات کے باوجود سرمایہ کاری کا عملی مظاہرہ کیا ہے، تاہم ملک کے دیگر شہروں سے بڑے صنعتی سرمایہ کار اس وقت تک گوادر منتقل نہیں ہوں گے جب تک انہیں واضح معاشی مراعات اور ٹیکس میں چھوٹ فراہم نہیں کی جاتی۔ ان کے مطابق سرمایہ کار ہمیشہ اس مقام کا انتخاب کرتا ہے جہاں اسے زیادہ منافع اور بہتر کاروباری ماحول میسر ہو۔

ڈائریکٹر GIEDA نے کہا کہ چین نے دور دراز علاقوں میں خصوصی اقتصادی زونز قائم کرکے صنعتی انقلاب برپا کیا، جبکہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گوادر کے قیام کو دو دہائیاں گزرنے کے باوجود مقامی سرمایہ کاروں کے لیے مؤثر ٹیکس مراعات کا نظام متعارف نہیں کرایا جا سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ گوادر میں موجود فری زون چینی انتظامیہ کے تحت قائم ہے، جبکہ مقامی صنعت کاروں کے لیے ایسی سہولتیں تاحال دستیاب نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ GIEDA نے متعدد بار وفاقی حکومت سے گوادر کو ٹیکس فری زون قرار دینے کا مطالبہ کیا، تاہم حالیہ عرصے میں یہ مؤقف سامنے آیا کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے (IMF) کی بعض پابندیوں کے باعث نئے اسپیشل اکنامک زونز کے قیام میں مشکلات درپیش ہیں۔

وقاص احمد نے مزید انکشاف کیا کہ گبد کے مقام پر پاکستان اور ایران کے درمیان مشترکہ فری ٹریڈ زون کے قیام کے حوالے سے وفاقی حکومت کے تعاون سے بات چیت جاری ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو دونوں ممالک کے درمیان ٹیکس مراعات کے ساتھ سرحدی تجارت، صنعتی سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

پروگرام کے دوران اینکر منیر حسین نے سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ملک بھر میں روڈ شوز، سیمینارز اور سرمایہ کاروں سے براہِ راست رابطوں کی ضرورت پر زور دیا، جس پر وقاص احمد نے بتایا کہ لاہور، کراچی اور بین الاقوامی سطح پر متعدد سیمینارز منعقد کیے جا چکے ہیں، تاہم اصل کامیابی اس وقت ممکن ہوگی جب حکومت گوادر کے لیے ایک مؤثر اور پرکشش معاشی پیکیج متعارف کرائے گی۔

اینکر نے اس موقع پر کہا کہ اگر ٹیکس مراعات کے ذریعے گوادر میں صنعتوں کا جال بچھایا جائے تو بلوچستان میں بے روزگاری، غربت اور دیگر بنیادی مسائل کے حل میں نمایاں پیش رفت ممکن ہے۔ اس پر وقاص احمد نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار ترقی اور امن کا راستہ روزگار، سرمایہ کاری اور صنعت کاری سے ہو کر گزرتا ہے، اس لیے گوادر کے لیے روایتی پالیسیوں کے بجائے "آؤٹ آف دی باکس" فیصلوں کی ضرورت ہے تاکہ شہر اپنی حقیقی معاشی صلاحیت کے مطابق ترقی کر سکے۔

05/07/2026

گوادر، پاکستان کی مستقبل کی تجارتی معیشت کا مرکزی مرکز بننے کی جانب گامزن ہے۔حکومت چین کے اشتراک سے گوادر پورٹ کو جدید علاقائی تجارتی مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے اہم اقدامات کر رہی ہے۔

✅فری زون کی صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے اضافی بجلی کی فراہمی،
✅ڈی سیلینیشن پلانٹ کے ذریعے پانی کی دستیابی، اور
✅ مستقبل کی ضروریات کے پیشِ نظر گوادر پورٹ کی گہرائی میں اضافے کی فیزیبلٹی پر کام جاری ہے۔
وسطی ایشیا کے ساتھ علاقائی روابط مضبوط ہونے کے بعد گوادر کو ایک مؤثر ٹرانس شپمنٹ پورٹ کے طور پر ترقی دی جائے گی، جو تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی نمو کے نئے مواقع پیدا کرے گی۔

پروفیسر احسن اقبال
ماہانہ ترقیاتی اپڈیٹ (June 2026) کی تقریب سے میڈیا سے گفتگو

02/07/2026

Address

Gwadar Balochistan
Gwadar
0921

Telephone

+923320669988

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Paradise Gwadar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Paradise Gwadar:

Shortcuts

Share