Rana Sohaib - RS

Rana Sohaib - RS Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Rana Sohaib - RS, Digital creator, Hadali.

Content Creator 🎥 | Editor | Learning About Digital Marketing And Digital Skills | Learning About Artificial Intelligence (AI) | Fan Of Artificial Intelligence (AI) 😊

20/08/2025

Ranghri Vlog 1 | Pata ni kesa banya ??

07/08/2025

A public message

سورہ فاتحہ کی ساتوں اور آخری آیت انکی نہیں جن پر غضب ( عذاب ) کیا گیا اور نہ گمراہوں کا سورہ فاتحہ کی اس آیت میں انسان ا...
14/01/2025

سورہ فاتحہ کی ساتوں اور آخری آیت
انکی نہیں جن پر غضب ( عذاب ) کیا گیا اور نہ گمراہوں کا
سورہ فاتحہ کی اس آیت میں انسان اللہ تعالیٰ کے سامنے اس بات کی وضاحت کرتا ہے
کہ یا اللہ مجھے ان لوگوں کے راستے پر نہ چلانا جن پر تیرا غضب یعنی عذاب ہوا
وہ کون لوگ تھے جن پر اللہ تعالیٰ نے عذاب نازل کیا وہ وہی لوگ تھے جو سب برائیاں کیا کرتے تھے جو آج ہم میں ساری موجود ہیں
پچھلی قوموں میں ایک ایک برائی پائی گئی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں نشان عبرت بنادیا جبکہ ہمارے اندر ان تمام برائیوں کی فہرست موجود ہے یہ تو پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دُعاؤں کا نتیجہ ہے کہ ہم بچے ہوئے ہیں
قرآن مجید قیامت تک انسانوں کے لئے آیا ہے اور اس میں موجود ایک ایک واقعے میں آج کے اور قیامت تک آنے والے انسانوں کے لئے نمونہ ہے یہ محض چسکے کے لئے نہیں ہیں بلکہ ہمیں چاہیے ہم ان واقعات سے عبرت حاصل کریں
گمران کون لوگ تھے
گمراہ وہ لوگ تھے جو ایک خدا کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے تھے پتھروں کے خدا بنائے ہوئے تھے پوجنے والے اتنے نہیں تھے جتنے انہوں نے خدا بنائے ہوئے تھے
کوئی آگ کو پوجتا ، تو کوئی سورج کو کوئی چاند کو تو کوئی ستاروں کو ۔۔۔
ہمیں بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم نے بھی اپنے الگ خدا تو نہیں بنائے ہوئے زبانی ہم اس بات کا اقرار نہ کریں کیا ہمارے عمل اس بات کو ظاہر تو نہیں کرتے
کیونکہ انسان کا عمل ہی اسکے حق پر ہونے یا ناحق ہونے کو ظاہر کرتا ہے
سورہ فاتحہ مکمل شد
دعاگو : محمد صہیب

سورہ فاتحہ کی چھٹی آیتان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا۔انسان اس آیت میں یہ دعا کررہا ہے کہ مجھے بھی ان لوگوں کے ر...
13/01/2025

سورہ فاتحہ کی چھٹی آیت
ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا۔
انسان اس آیت میں یہ دعا کررہا ہے کہ مجھے بھی ان لوگوں کے راستے میں شامل فرما اس سے آیت میں جو انسان نے دعا کی
کہ ہمیں سیدھی راہ دکھا
اور اس آیت میں یہ دعا مانگی اور وضاحت بھی کی کہ ان لوگوں کا راستہ جن پر تیرا انعام ہوا
اللہ تعالیٰ کا انعام کن لوگوں پر ہوا ؟
اس بات کی وضاحت اگر ہم قرآن مجید سے طلب کریں تو قرآن مجید ہماری رہنمائی اس طرح فرماتا ہے

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَۗ-وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ٘-وَّ مِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْرَآءِیْلَ٘-وَ مِمَّنْ هَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَاؕ-اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا(58)
ترجمہ:
یہ وہ انبیاء ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا ،جو آدم کی اولاد میں سے ہیں اوران لوگوں میں سے ہیں جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد میں سے ہیں اور ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں ہم نے ہدایت دی اور چن لیا۔ جب ان کے سامنے رحمٰن کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو یہ سجدہ کرتے ہوئے اور روتے ہوئے گر پڑتے ہیں ۔

قرآن مجید کی اس آیت مبارکہ میں صاف وضاحت موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ کا انعام کن لوگوں پر ہوا ۔۔۔۔
اگر ہم بھی انہیں لوگوں کی راہ اختیار کریں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا تو بیشک ہم سیدھے راستے کی طرف ہوں گے انشاء اللہ تعالیٰ ❤️
دعاگو : محمد صہیب

سورہ فاتحہ کی پانچویں آیت ہمیں سیدھی اور سچی راہ دکھاس آیت میں انسان اللہ تعالیٰ سے ایک بہت بڑی اور جامع دعا مانگتا ہے ک...
12/01/2025

سورہ فاتحہ کی پانچویں آیت
ہمیں سیدھی اور سچی راہ دکھا
س آیت میں انسان اللہ تعالیٰ سے ایک بہت بڑی اور جامع دعا مانگتا ہے کہ ہمیں پالنے والے رب ہمیں اس راستے پر چلا ہماری اس سچے راستے کے لئے رہنمائی فرمادے
جس راستے پر چل کر میں سیدھا تیرے تک پہنچ سکوں جو راستہ سیدھا تیری ہی طرف لیکر آتا ہو ۔۔۔درمیان میں کسی قسم کا کوئی موڑ نہ پڑتا ہو یہاں موڑ سے مراد ایسے جاہل لوگ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے مانگنے کے لئے کسی واسطے یا کسی وسیلے کی ضرورت ہے
اس آیت میں مستقیم کا ذکر کیا گیا ہے اور آج کل ہر انسان ہر عقلمند انسان یہ جانتا ہے کہ مستقیم اس خط کو کہا جاتا ہے کہ جس کے اندر کسی قسم کا کوئی موڑ یا تھوڑا سا بھی تیڑھا پن نہ آتا ہو بلکہ وہ بالکل سیدھا ہو
-------------------------------------------------
اس سیدھی لائن کی طرح جسکے اندر کوئی موڑ نہیں کوئی تیڑھا پن نہیں
اگر ایسے ہی سیدھے راستے پہ انسان چلے گا یہ راستہ اسے بالکل اللہ رب العزت کی طرف لے جائے گا
یہی دعا ہر نماز میں نمازی آدمی اپنے اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے
دعاگو: محمد صہیب

سورہ فاتحہ کی چوتھی آیت ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں اصل میں سورہ فاتحہ میں انسان اللہ تعالیٰ ...
11/01/2025

سورہ فاتحہ کی چوتھی آیت
ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں
اصل میں سورہ فاتحہ میں انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ گفتگو کررہا ہوتا ہے پہلے اسکی حمد و ثناء کرتا ہے
پھر اسکی تمام تعریفیں کرتا ہے سورہ فاتحہ کی اس آیت میں بھی انسان گویا یہ اقرار کررہا ہے کہ
اے اللہ دنیا میں صرف اور صرف تیری ہی بندگی کرتا ہوں اور تیرے ہی لئے اپنی تمام تر عبادات سر انجام دیتا ہوں
تیرے ہی سامنے کھڑا ہوتا ہوں ، تیرے ہی سامنے رکوع کرتا ہوں ، تیرے ہی سامنے سجدہ میں اپنی پیشانی کو زمین کو لفاتا ہوں پھر تیرے ہی سامنے دو زانوں ہوکر اتحیات میں بیٹھتے ہیں یعنی ہر قسم کی بندگی اور عبادت چاہے وہ قولی عبادت ہو یا فعلی بدنی عبادت ہو یا مالی عبادت۔۔۔۔
ہر قسم کی عبادت کا حقدار صرف اور صرف وہی ذات ہے جس نے یہ آسمان ، زمین ، سورج ، چاند ، ستارے ، سیارے ، جمادات ، نباتات ، حیوانات ، چار موسم ، دن ، رات غرض کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی جو بھی چیز موجود میں آسمانوں کی بلندیوں کو چھونے والے پہاڑ سب کچھ رب العالمین کا بنایا ہوا ہے ۔۔۔۔ساری عبادات کا حقدار وہی رب ہے جس نے اس انسان کو اتنا خوبصورت تخلیق کیا اور پھر اسے قلم کے ذریعے علم دیا ۔۔۔۔۔
تمام تعریفیں کرنے کے بعد اسی آیت ہے دوسرے حصے میں انسان رں سے عرض کرتا ہے کہ میری تمام عبادات کا حقدار توں ہی ہے تو یا اللہ میں پھر تجھ سے ہی ہر قسم کی مدد مانگتا ہوں چاہے وہ مدد دنیا کے کسی معاملے میں ہو
یا پھر آخرت اور قیامت کے دن مجھے ذلت و رسوائی سے بچانے کی ہو کیونکہ رب العالمین کی ذات اتنی بڑی ذات ہے کہ وہ ڈائریکٹ اپنے رب کی پکار کو سنتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے کسی بھی واسطے وسیلے کی ضرورت نہیں رب کو پکارنے کے لئے ۔۔۔۔بلکہ یہ واسطے اور وسیلے جاہل لوگوں کے بنائے ہوئے ہیں اللہ رب العزت کو پکارنے کے لئے نیت کا ہونا ضروری ہے کہ وہ کس نیت سے اپنے رب کو پکارہا ہے
اگر اسکی نیت کسی صاف ستھرے کام کی ہے تو رب العزت کی ذات بغیر کسی واسطے وسیلے کے اسکی پکار کو سن لیتا یے
اور اگر انسان اپنے ارادے سے کسی اور مسلمان یا انسان کو نقصان چاہتا ہے تو رب العالمین کی ذات کو یہ بالکل بھی گوارا نہیں کہ اسکے بندوں میں سے کسی بھی بندے کو تکلیف پہنچائی جائے
اس لئے رب نے قرآن مجید میں انسان کی اس گفتگو کو محفوظ فرمالیا ہے کہ انسان زبان سے تو اقرا کرتا ہے کہ وہ صرف عبادات اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے کرتا ہے لیکن حقیقت میں وہ تمام کام لوگوں کو دنیا والوں کو دکھانے کے لئے کررہا ہوتا ہے
اسی طرح اس بات کا بھی اقرار کرتا ہے کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہی مدد مانگتا ہے لیکن حقیقت میں انسان سمجھتا ہے کہ اسے فائدہ اسکا کاروبار اسکی دوکان اسکی تجارت پہنچا رہی ہے
انسان کو ان سب سے بچنے کی ضرورت ہے
دعاگو : محمد صہیب

سورہ فاتحہ کی تیسری آیتبدلے کے دن کا مالک یعنی قیامت کے دن کا مالک یہاں ہر سمجھ بوچھ رکھنے والا انسان جانتا ہے کہ یہاں م...
10/01/2025

سورہ فاتحہ کی تیسری آیت
بدلے کے دن کا مالک یعنی قیامت کے دن کا مالک
یہاں ہر سمجھ بوچھ رکھنے والا انسان جانتا ہے کہ یہاں مراد خدا تعالیٰ کی ذات واحد ہے
جو اکیلی قیامت کے دن کی مالک ہے قیامت کا دن یعنی ( بدلے کا دن )
عام طور پر دنیا میں بدلہ لینا اس چیز کو کہا جاتا ہے کہ جو کوئی شخص کسی دوسرے سے ظلم و زیادتی کرے تو مظلوم شخص یہ کہتا ہے کہ میں بھی تم سے اسکا بدلہ ضرور لوں گا
لیکن یہاں مراد دو ہیں اگر کوئی شخص دنیا میں اچھائیاں کرکے ایمان کی حالت میں اپنے اللہ کے حضور پیش ہوگا تو اسکو نیک بدلہ دیا جائے گا اور
اسکے مقابلے میں اگر کوئی شخص دنیا میں برے اعمال کرتا رہا اور ایسی ہی اسکی موت بھی آگئی تو اسکا بدلہ قیامت والے دن برا ہوگا
اگثر لوگ قیامت کے دن کو جھٹلادیتے ہیں کہ جب قیامت آئے گی تو دیکھی جائے گی یعنی ان لوگوں کا ایمان بھی قیامت کے بارے ان لوگوں جیسا ہے جو قیامت کے دن جو جھٹلایا کرتے تھے
قیامت کا ذکر اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں کافی مرتبہ فرمایا اور ساتھ ان لوگوں کو مخاطب بھی کیا جو دنیا میں ظالم جابر لوگ ہیں جو اپنے ماتحت لوگوں پر ظلم کرتے ہیں
اپنے ماتحت لوگوں کا حق مارتے ہیں اپنے ظلم کی چکی میں انہیں پیستے ہیں
انکے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد ہے
یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ ﳛ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌؕ-لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَؕ-لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ(16)
ترجمہ:
جس دن وہ بالکل ظاہر ہوجائیں گے۔ ان کے حال میں سے کوئی چیز اللہ پر پوشیدہ نہیں ہوگی۔ آج کس کی بادشاہی ہے؟ ایک اللہ کی جو سب پر غا لب ہے۔
اس دن کوئی بھی ظالم جابر اللہ تعالیٰ کے قہر سے نہیں بھاگ سکے گا بلکہ اس دن تو ساری کی ساری بادشاہی اللہ رب العزت کے ہاتھ میں ہوگی
اور سارے بڑے بڑے حکمران ظالم جابر جو اپنی اپنی رعایا پر ظلم کرتے آئے اپنی رعایا کو ستاتے آئے وہ اس دن بے بسی کے عالم میں کھڑے ہوئے ہوں گے
اور سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے ہوں گے پس یہی قیامت کا دن ہوگا
دعاگو : محمد صہیب

سورہ فاتحہ کی دوسری آیتآپ اکثر سنتے ہیں کہ اللہ رب العزت کی ذات بہت مہربانی اور بہت رحم کرنے والی ذات ہے کیا آپ نے اس با...
09/01/2025

سورہ فاتحہ کی دوسری آیت
آپ اکثر سنتے ہیں کہ اللہ رب العزت کی ذات بہت مہربانی اور بہت رحم کرنے والی ذات ہے
کیا آپ نے اس بات کا خود بھی تجربہ کیا ہے کبھی؟
اللہ رب العزت کی ذات اپنے بندے پر اپنی مخلوق پر بہت ہی زیادہ رحم کرنے والی ذات ہے
جب سے یہ دنیا وجود میں آئی ہے اللہ رب العزت نے جب سے انسان کو تخلیق کیا ہے لاکھوں کروڑوں لوگ اس رب العزت کی نافرمانیاں کرتے آرہے ییں لیکن آج تک رب العالمین کی ذات نے اپنے کسی بھی بندے کا رزق بند نہیں کیا
بلکہ اللہ رب العزت کی خود اپنے بندے سے فرماتی ہے کہ چاہے تمھارے گناہ تمھارے جرم زمین سے لیکر آسمان تک کیوں نہ بھرے ہوئے ہوں چاہے سمندروں کی جھاگ سے زیادہ کیوں ںہ ہوں بس ایک ندامت کا آنسو آکر میرے در پر بہادو تو میں تم سے راضی ہوجاؤں گا
نا صرف راضی ہوجاؤں گا بلکہ تمھارے گناہوں کو بھی نیکیوں میں بدل دوں گا
قرآن مجید میں فرعون کا واقعہ آیا ہے جس نے ساری زندگی اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر ظلم زیادتیاں کیں ساری زندگی اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو ستایا اپنے آپ کو خدا تک منوانا چاہا
لیکن جب وہی فرعون سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پیچھے دریائے نیل میں غرق ہونے لگا تو کہنے لگا کہ آج میں بھی اس اللہ پر ایمان لے آتا ہوں جس پر بنی اسرائیل ایمان لاتے ہیں تو فوراً ہی فرشتہ حاضر ہوا اور دریا کی مٹی اٹھا کر فرعون کے منہ میں ٹھونس دی کہ کہیں یہ آج کلمہ پڑھے اور اللہ رب العزت کی ذات کو رحم آجائے اور اسکی بخشش ہوجائے
یقیناً آپ اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کس قدر مہربان ذات ہے
اللہ رب العزت خود فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہوں
جو میری طرف چل کر آتا ہے میں اسکی طرف دوڑ کر جاتا ہوں جو میری طرف ایک بالست متوجہ ہوتا ہے میں اسکی طرف ایک ہاتھ متوجہ ہوتا ہوں
جو میرا ذکر دنیا کی محفلوں میں کرتا ہے میں اسکا ذکر سب سے بہترین محفل یعنی فرشتوں کی محفل میں کرتا ہوں
ایک ماں کو اپنی اولاد سے اس قدر محبت ہوتی ہے کہ ماں اپنی اولاد کے لئے سب کچھ کر گزرنے کو تیار ہوتی ہے
پھر اللہ تعالیٰ تو ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرنے والا ہے اپنے بندے سے ۔۔۔۔
اگر آپکے بھی گناہ ہیں انسان گناہوں کا پتلہ ہے گناہ گار ہونا شیوہ انسانی ہے
لیکن اچھا گناہ گار وہ ہوتا ہے جو گناہ کرنے کے بعد اپنے رب کے دربار میں جھک جائے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگ لے
اللہ تعالیٰ کی ذات ضرور اسکے گناہوں کو معاف کردیتی ہے اور اسکے گناہوں کو بھی نیکیوں میں بدل دیتی ہے
دعاگو : محمد صہیب

Address

Hadali

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rana Sohaib - RS posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share