AQIL AI official

AQIL AI official Empowering people with meaningful AI tools -from Pakistan, for the ummah.

14/09/2025

چلی کے ڈکٹیٹر صدر پنوشے نے ایک دفعہ کہا تھا “اس دیس میں ایک بھی ایسا پتہ نہیں ہے جو میری مرضی کے بغیر ہلتا ہو”۔

ڈاکٹر سلوا ڈور آلندے صدارتی انتخاب جیت کر چلی کا پہلا مارکسسٹ صدر منتخب ہوا تھا۔ اور پھر چلی ڈیپ سٹیٹ نے عدلیہ کو آلندے سے دو دو ہاتھ کرنے کے لیے اکھاڑے میں اتارا اور جب اس نے کہا کہ میری پالیسیوں پر ریفرنڈم کروا کے جھگڑا طے کر لیتے ہیں تو امریکی صدر نکسن نے بذریعہ کیسنجر اور کیسنجر نے بذریعہ سی آئی اے سربراہ رچرڈ ہیلمز چلی کی فوج کے سربراہ جنرل پنوشے سے کہا تھا کہ کام تمام کر دو۔۔(ہنری کیسنجر نے اپنی کتاب “وائٹ ہاؤس ائیرز” میں تمام تفصیل خود لکھ رکھی ہے)۔

آلندے کی خوابگاہ میں گھس کر اور اس کی کھوپڑی اور بدن کو گولیوں سے نشانہ بنانے کے بعد پنوشے اقتدار میں آ گیا۔پھر دنیا نے دیکھا کہ چلی کے مزاحمتکاروں سے قبرستان بھر گْئے ،پھر یکایک زندہ لوگوں کی جبری گمشدگیوں کا دور شروع ہوا۔آرٹسٹوں، لکھاریوں اور دانشوروں کے قلم اور گیت پھر ایک لمبے عرصے تک چلی کی گلیوں میں پنوشے کی بم بندوق اور گولی سے دست و پا ہوتے رہے۔سنہ 74 سے سنہ 90 تک وہ چلی کا ایسا مطلق العنان حکمران رہا جس کے دور میں اس کے مخالفین کی تین ہزار جبری گمشدگیاں ہوئیں۔ عوام کا سمندر جب باہر نکلا تو پنوشے نظر بند کر دیا گیا اور بلآخر اس کی موت یہ صدمہ نہ سہتے ہوئے دل کے دورے سے ہوئی۔

شہنشاہ روم نیرو نے محل سے دیکھا کہ شہر سے دھواں اٹھ رہا ہے۔ دیکھ کر بولا “ یہ کون بدتہذیب لوگ ہیں جو املاک کو آگ لگا رہے ہیں ؟”۔ وزیر با تدبیر بولا “ حضور یہ آگ تو آپ کو لگانا چاہتے ہیں مگر اللہ کا شکر ہے کہ ان کی آپ تک رسائی ممکن نہیں”۔ پھر نیرو عوامی غصے کے سامنے ٹھہر نہ سکا اور بھاگ نکلا۔رومی سینٹ نے اسے پھانسی کی سزا سنائی لیکن وہ برداشت نہ کر سکا اور اسی غم میں اس نے بلآخر خودکشی کر لی۔

سابق آئی جی پنجاب چوہدری سردار محمد مرحوم نے اپنی سوانح حیات “جہانِ حیرت” میں لکھا ہے کہ سقوط ڈھاکہ کے بعد جنرل یحییٰ خان کو کھاریاں کے نزدیک بنگلہ ریسٹ ہاؤس میں قید رکھا گیا تھا۔ اسے ہیلی کاپٹر پر راولپنڈی لایا جاتا تھا۔ ٹریبونل میں پیش کیا جاتا اور اسے ہیلی کاپٹر کے ذریعے واپس بنگلہ ریسٹ ہاؤس پہنچا دیا جاتا۔ ایک دن یحییٰ خان نے ضد لگا لی کہ وہ بذریعہ سڑک واپس جائے گا۔ گاڑی منگوائی جائے۔آئی جی پنجاب چوہدری سردار محمد سیکیورٹی انچارج تھے۔ انہوں نے جنرل یحییٰ خان کو کہا “سر لوگ آپ پر حملہ کر دیں گے۔ آپ کی جان کو خطرہ ہے”۔ جنرل یحییٰ نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور غصے سے کہا “ کیوں؟ میں نے کیا کیا؟ لوگ مجھ پر کیوں حملہ کریں گے۔”

جنرل یحییٰ خان کی مہربانی سے مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن چکا تھا۔ہمارے نوے ہزار فوجی بھارت کی قید میں تھے مگر فوج کا سابق کمانڈر انچیف اور سابق صدر پوچھ رہا تھا کہ لوگ میرے خلاف کیوں ہیں؟۔ خیر، آئی جی نے جنرل یحییٰ خان کو کار میں بٹھایا اور سیکیورٹی جیپس کے ساتھ کھاریاں کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ سہالہ کے مقام پر ریلوے کا پھاٹک بند ملا۔ پھاٹک کے ساتھ چائے کا کھوکھا تھا۔کھوکھے میں بیٹھے کسی شخص نے جنرل یحییٰ خان کو پہچان لیا اور اس نے آواز لگائی “وہ دیکھو گاڑی میں یحییٰ خان بیٹھا ہے”۔ یہ آواز لگانے کی دیر تھی کہ لوگوں نے پتھر اٹھائے اور یحییٰ خان کی گاڑی کی طرف دوڑ پڑے۔جنرل لوگوں کی وحشت دیکھ کر ڈر گیا ۔ قسمت اچھی تھی ریلوے پھاٹک کھل گیا اور پولیس اسکواڈ نکل گیا۔ یحییٰ خان نے اس کے بعد کبھی گاڑی کے ذریعے ٹریبونل میں جانے کی خواہش نہیں کی۔

دنیا کے ہر آمر کا یہی خیال ہوتا ہے عوام اس سے محبت کرتے ہیں اور یہ جب بھی دروازہ کھولے گا عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اس کی دہلیز پر کھڑا ہو گا مگر درحقیقت عوام اس کی پرچھائیوں سے بھی نفرت کررہے ہوتے ہیں۔ آپ روم کے نیرو سے لے کر اٹلی کے میسولینی تک اور چلی کے جنرل پنوشے سے لے کر لیبیا کے کرنل قذافی تک تمام آمروں کا انجام دیکھ لیجیے۔

اٹلی کے آمر میسولینی نے کہا تھا “آمروں کو اقتدار کی کرسی پر مرنا چاہیے کیونکہ اقتدار چلا جائے تو پھر موت بھی آمروں کی لاش اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔”

جنریشن زی جو سنہ 2000 کے آس پاس پیدا ہوئی اور جو آجکل بنگلہ دیش تا نیپال تا سری لنکا حکومتوں کے تخٹے اُلٹ رہی ہے جس کے نتیجے میں وہاں فوجی حکمران اقتدار سنبھالتے جا رہے ہیں یا اس کی آڑ میں مضبوط ہوتے جا رہے ہیں، ان سے بالخصوص اپنے ملک کی جنریشن زی سے گزارش کرنا چاہوں گا آپ موبائل، سوشل میڈیا پیتے اور جیتے ہیں۔ اللہ دا واسطہ تاریخ کی کتابیں بھی پڑھ لیا کریں۔ موبائل اور سوشل میڈیا سے لایا گیا “انقلاب” ایک سراب ہے دھوکہ ہے۔ ہمارے ہاں بھی یہی تو مسئلہ ہے کہ ایک پوری نوجوان نسل موبائل پر تیار ہوئی ہے جس کے اندر سماجی گھٹن، نفرت اور پروپیگنڈا ٹھونس کے بھرا گیا ہے۔ یہ چلتے پھرتے سماجی بم ہیں۔ ہر وہ نظام جو بتدریج یا ارتقائی عمل کے پراسس سے گزرے بنا یکایک لایا جائے گا وہ تباہی کا دوسرا نام ہے۔ انقلاب نہیں۔

ایک گزارش کرتے دھرتوں سے بھی کرتا چلوں کہ سماج کو کھڑکیاں دیں۔ کھڑکیاں دروازے بند نہ کریں، ورنہ یہ گھٹن بڑھے گی اور کسی نہ کسی صورت کبھی نہ کبھی عیاں ہو گی۔ اس تحریر پر چاہیں تو بطور حساس پاکستانی غور فرمائیں اور چاہیں تو ایک دیوانے کا نعرۂ یاہو سمجھ کر درگزر فرمائیں۔

طاقت یا اختیار ہمیشہ نہیں رہتا۔ایک دن ختم ہونا ہے۔ یہ فیصلہ صاحبانِ اختیار کا ہے وہ اس کو کس موڑ پر وداع کرنا چاہیں گے۔ میرے بس میں اگر ہوتا میں اعلیٰ سول و عسکری بیوروکریسی پر ہر جمعہ قبرستان کا دورہ ان کی ڈیوٹی کا حصہ بنا کر لازم سروس قرار دیتا۔آفیسرز جائیں گے تو انہیں احساس ہو گا کہ طاقت و اختیار و دانائی و دولت کا آخری ٹھکانہ یہ ہے۔

03/08/2025

Share your videos with friends, family, and the world

03/08/2025
01/07/2025

13.1K likes, 79 comments. “ ”

Address

Bhirri Chattha
Hafizabad
52110

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AQIL AI official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share