25/08/2026
آج ہمارے معاشرے میں ایک معصوم پانچ سالہ بچی کے اغوا، زیادتی اور قتل کی خبر نے ہر حساس دل کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک ننھی سی جان، جو ابھی دنیا کو سمجھنے کی عمر میں بھی نہیں تھی، اگر ظلم کا شکار ہو جائے تو یہ صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کے لیے ایک سوال بن جاتا ہے۔
اسلام نے بیٹی کو بوجھ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور امانت قرار دیا ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں بعض لوگ بیٹی کی پیدائش کو باعثِ شرمندگی سمجھتے تھے، مگر قرآنِ کریم نے اس سوچ کی سخت مذمت کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ غم سے بھرا ہوتا ہے۔”
(سورۃ النحل: 58)
اسلام نے اس جاہلانہ سوچ کو ختم کیا اور بیٹی کو عزت، محبت، وراثت، تعلیم اور حفاظت کے حقوق عطا کیے۔
رسول اللہ ﷺ نے بیٹیوں کی پرورش اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کو بہت بڑی نیکی قرار دیا۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص اپنی دو بیٹیوں کی پرورش کرے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے، وہ قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کے بہت قریب ہو گا
بیٹی کو کمزور نہ سمجھیں، اسے محفوظ بنائیں۔
اسے خوفزدہ نہ کریں، اسے آگاہ کریں۔
اسے خاموش نہ کریں، اسے بولنے کا حوصلہ دیں۔
اور اگر کسی بچے کے ساتھ ظلم ہو تو اسے چھپائیں نہیں، فوراً مدد حاصل کریں۔
ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس معصوم بچی کی مغفرت فرمائے، اس کے والدین کو صبر عطا فرمائے، ظالم کو دنیا اور آخرت میں اس کے جرم کی سزا دے، اور ہمارے معاشرے کی تمام بیٹیوں، بہنوں اور بچوں کو ہر قسم کے ظلم سے محفوظ فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
@