07/06/2026
ایبٹ آباد کے حالیہ افسوسناک واقعے میں شہید ہونے والا نوجوان معاذ اعوان قوم سے، زخمی ہونے والا اس کا بہنوئی حارث خان تنولی قوم سے جبکہ دوسرا فریق جدون قبیلے سے تعلق رکھتا ہے۔ لیکن باشعور لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ ایک انفرادی اور گھریلو تنازع ہے، کسی قوم، قبیلے یا برادری کی جنگ نہیں۔ افسوس کہ کچھ شرپسند عناصر حسبِ روایت اس سانحے کو قبائلی رنگ دے کر نفرت، انتشار اور فساد پھیلانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔
قابلِ احترام تنولی برادری کی جانب سے اب تک جس بردباری، سنجیدگی اور شعور کا مظاہرہ کیا گیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ یہی مہذب اقوام کا شیوہ ہوتا ہے کہ وہ چند افراد کے عمل کو پوری قوم پر مسلط نہیں کرتیں۔ مگر دوسری طرف کچھ زہریلے ذہن سوشل میڈیا پر پوری جدون قوم کو نشانہ بنا کر اپنی گھٹیا سوچ اور تربیت کا ثبوت دے رہے ہیں۔
یہ پہلی بار نہیں کہ جدون قبیلے کو اجتماعی طور پر بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہو۔ ماضی میں بھی مختلف واقعات کو بہانہ بنا کر ہمارے نام، تاریخ اور وقار پر حملے کیے گئے، مگر یاد رکھو… عزت دار قومیں فیس بک پوسٹوں اور پروپیگنڈوں سے نہیں گرتیں۔ ان کی پہچان ان کے کردار، غیرت، تاریخ اور اتحاد سے ہوتی ہے۔
ہم واضح الفاظ میں کہنا چاہتے ہیں کہ کسی ایک فرد کے عمل کو بنیاد بنا کر پوری جدون برادری پر کیچڑ اچھالنا صرف بددیانتی نہیں بلکہ کھلی بزدلی ہے۔ اختلاف کسی شخص سے ہو سکتا ہے، مگر پوری قوم کو نشانہ بنانا نفرت انگیزی اور اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔
یہ وقت اشتعال، نفرت اور قومیت کے نام پر تقسیم پیدا کرنے کا نہیں بلکہ ہوش، تحمل اور انصاف کا ہے۔ اگر ہر واقعے کو قوم، برادری اور قبیلے کی جنگ بنایا جاتا رہا تو معاشرے میں صرف نفرتیں جنم لیں گی۔ یاد رکھیں، جرائم افراد کرتے ہیں، قومیں نہیں۔ کسی ایک شخص کے عمل کی سزا پوری برادری کو دینا نہ انصاف ہے، نہ انسانیت۔ باشعور لوگ آگ بجھاتے ہیں، ہوا نہیں دیتے۔ اس لیے تمام اقوام، برادریوں اور نوجوانوں سے گزارش ہے کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز زبان، تضحیک اور اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور ایسے عناصر کو مسترد کریں جو ذاتی تنازعات کو قبائلی جنگ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
جدون قوم نہ کبھی جھکی ہے، نہ بکی ہے، نہ کسی کے پروپیگنڈے سے خوفزدہ ہوئی ہے۔ ہم عزت، غیرت اور وقار کے ساتھ جینے والے لوگ ہیں، اور اپنے نام، اپنی تاریخ اور اپنی برادری کے احترام کے دفاع کے لیے ہمیشہ ایک مضبوط دیوار بن کر کھڑے رہیں گے۔
یاد رکھو…
قومیں سوشل میڈیا کے شور سے نہیں، اپنے کردار، اتحاد اور شعور سے پہچانی جاتی ہیں۔