27/04/2026
“دیوار سے دستور تک انصاف کی نئی صبح”
یہ اشتہار محض دیوار پر چسپاں ایک کاغذ نہیں بلکہ ریاستی رویّے میں ایک واضح تبدیلی کی علامت ہے ایسی تبدیلی جس میں طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی کو عوامی شعور کا حصہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے
پولیس اسٹیشن جو ماضی میں خوف، دباؤ یا بے بسی کی علامت سمجھا جاتا تھا اب اسی جگہ پر یہ پیغام دینا کہ رشوت نہیں مقدمات کے اندراج کا دورانیہ واضح ہے اور عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے—یہ خود ایک بیانیہ کی تبدیلی ہے
اس کا سیدھا مطلب ہے کہ ادارہ اب خود کو جوابدہ سمجھنے لگا ہے اور کم از کم کاغذ پر ہی سہی اپنے عمل کو شفاف بنانے کا اعلان کر رہا ہے
اس اشتہار کی سب سے اہم بات اس کی وضاحت ہے عام آدمی کو یہ معلوم ہونا کہ:
ایف آئی آر کتنے وقت میں درج ہوگی
رپورٹ یا قانونی کارروائی کا دورانیہ کیا ہے
کن امور میں تاخیر قابلِ قبول نہیں
یہ معلومات طاقت کا توازن بدل دیتی ہیں جب شہری کو اپنے حق کا علم ہو جاتا ہے تو وہ محض درخواست گزار نہیں رہتا بلکہ ایک باشعور فریق بن جاتا ہے
اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں ریاستی اختیار اور عوامی حق میں توازن پیدا ہونا شروع ہوتا ہے
لیکن یہاں ایک سخت حقیقت بھی سمجھ لیں کہ اشتہار لگانا آسان ہے لیکن اس پر عمل کرنا مشکل
اگر یہ صرف دکھاوے کے لیے ہے تو یہ اعتماد مزید کم کرے گا مگر اگر واقعی اس پر عملدرآمد ہوتا ہے تو یہی چھوٹا سا قدم نظامی اصلاح کی بنیاد بن سکتا ہے
اصل امتحان یہ ہے کہ کیا ایک عام شہری واقعی 24 یا 48 گھنٹوں میں انصاف کے ابتدائی مراحل دیکھتا ہے؟
کیا رشوت کے بغیر کام ہو رہا ہے؟
کیا پولیس اہلکار خود کو اس ضابطے کا پابند سمجھتے ہیں؟
اگر جواب ہاں کی طرف جاتا ہے تو یہ اشتہار صرف ایک نوٹس نہیں بلکہ ایک خاموش انقلاب ہے
اگر نہیں تو یہ ایک خوبصورت جھوٹ سے زیادہ کچھ نہیں
اس لیے عوام کی ذمہ داری بھی کم نہیں صرف تعریف نہ کریں—مطالبہ کریں
صرف پڑھیں نہیں—اس پر عملدرآمد کی نگرانی کریں
اپنے حق کو جانیں اور اس کے حصول میں پیچھے نہ ہٹیں
کیونکہ قانون تبھی زندہ ہوتا ہے جب شہری اسے مانگتا ہے اور ریاست تبھی مضبوط ہوتی ہے جب وہ اسے فراہم کرتی ہے. بشکریہ جناب خالد محمود صاحب لوک چوپال۔