Civic lens

Civic lens Civic lens is dedicated platform to educate the masses about civic rights and freedoms

https://www.facebook.com/share/p/1ESkAk9AMw/
05/08/2026

https://www.facebook.com/share/p/1ESkAk9AMw/

ایبٹ آباد جیل میں ہنرمند بننے والے قیدیوں میں اسناد تقسیم کرنے کی تقریب منعقد

ایبٹ آباد : سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل ایبٹ آباد، سید جنید بخاری نے بدھ کے روز قیدیوں پر زور دیا کہ وہ موتیوں سے دستکاری (بیڈز کرافٹ) کی تربیت سے حاصل کردہ مہارت کو اپنے خاندانوں کی معاشی بہتری اور مستقبل میں دوبارہ جرائم سے بچنے کے لیے استعمال کریں۔

انہوں نے یہ بات ڈسٹرکٹ جیل ایبٹ آباد میں منعقدہ تقریبِ تقسیمِ اسناد سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس میں ان قیدیوں کو اسناد دی گئیں جنہوں نے ہیومن ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (HDO) کے مالی تعاون سے موتیوں کی دستکاری کی تین ماہ پر مشتمل مہارتی تربیت کامیابی سے مکمل کی۔

اس موقع پر جیل افسران، وارڈرز، تدریسی عملہ، قیدی اور HDO کے نمائندے بھی موجود تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سید جنید بخاری نے کہا کہ دورانِ قید اور رہائی کے بعد قیدیوں کو باعزت روزگار کے قابل بنانا انسپکٹر جنرل آف پریزنز خیبر پختونخوا ریحان گل خٹک کا وژن ہے، جو چاہتے ہیں کہ قیدی معاشرے میں قانون پسند اور ہنر مند افراد کے طور پر واپس جائیں۔

انہوں نے جیل محکمہ کی مختلف اصلاحی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے بھر کی جیلوں میں مختلف فنی و پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں کا آغاز اور فروغ قیدیوں کی اصلاح اور بحالی کے عمل کا اہم حصہ ہے۔

انہوں نے قیدیوں پر زور دیا کہ رہائی کے بعد وہ موتیوں کی دستکاری کی اپنی مہارت کو مارکیٹ سے منسلک کریں، کیونکہ اس ہنر سے تیار کی جانے والی مصنوعات کی مقامی اور بین الاقوامی سطح پر بھرپور طلب موجود ہے۔

انہوں نے ہیومن ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (HDO) کی کوششوں کو بھی سراہا، جو قیدیوں کو نفسیاتی و سماجی معاونت اور روزگار سے متعلق بحالی کی سہولیات فراہم کر کے انہیں معمول کی زندگی کی طرف واپس لانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل نے خواتین قیدیوں میں حفظانِ صحت کے کٹس بھی تقسیم کیے۔ خواتین قیدیوں میں یہ کٹس تقسیم کرنا HDO کے قیدیوں کی جامع بحالی کے پروگرام کا حصہ تھا۔

ہیومین ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن HDO نے قیدیوں کی معاشی بحالی اور ذہنی صحت کی بہتری کے منصوبے کے تحت خیبر پختونخوا کی مختلف جیلوں میں موتیوں کی دستکاری کی مہارتی تربیت کا آغاز کیا ہے، اور اس وقت مختلف نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے 50 سے زائد نوجوان اور بالغ قیدی اس تربیت سے مستفید ہو رہے ہیں۔

ہیومین ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن HDO کے فیلڈ کوآرڈینیٹر عبدالمعیز خان نے شرکاء کو جیل کے قیدیوں کے لیے ادارے کی خدمات سے آگاہ کیا، جن میں رسمی و غیر رسمی تعلیم، کمپیوٹر ٹریننگ، موتیوں کی دستکاری کی تربیت، نفسیاتی مشاورت اور طبی معاونت شامل ہیں۔

“دیوار سے دستور تک انصاف کی نئی صبح”یہ اشتہار محض دیوار پر چسپاں ایک کاغذ نہیں بلکہ ریاستی رویّے میں ایک واضح تبدیلی کی ...
27/04/2026

“دیوار سے دستور تک انصاف کی نئی صبح”

یہ اشتہار محض دیوار پر چسپاں ایک کاغذ نہیں بلکہ ریاستی رویّے میں ایک واضح تبدیلی کی علامت ہے ایسی تبدیلی جس میں طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی کو عوامی شعور کا حصہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے
پولیس اسٹیشن جو ماضی میں خوف، دباؤ یا بے بسی کی علامت سمجھا جاتا تھا اب اسی جگہ پر یہ پیغام دینا کہ رشوت نہیں مقدمات کے اندراج کا دورانیہ واضح ہے اور عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے—یہ خود ایک بیانیہ کی تبدیلی ہے
اس کا سیدھا مطلب ہے کہ ادارہ اب خود کو جوابدہ سمجھنے لگا ہے اور کم از کم کاغذ پر ہی سہی اپنے عمل کو شفاف بنانے کا اعلان کر رہا ہے
اس اشتہار کی سب سے اہم بات اس کی وضاحت ہے عام آدمی کو یہ معلوم ہونا کہ:
ایف آئی آر کتنے وقت میں درج ہوگی
رپورٹ یا قانونی کارروائی کا دورانیہ کیا ہے
کن امور میں تاخیر قابلِ قبول نہیں
یہ معلومات طاقت کا توازن بدل دیتی ہیں جب شہری کو اپنے حق کا علم ہو جاتا ہے تو وہ محض درخواست گزار نہیں رہتا بلکہ ایک باشعور فریق بن جاتا ہے
اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں ریاستی اختیار اور عوامی حق میں توازن پیدا ہونا شروع ہوتا ہے
لیکن یہاں ایک سخت حقیقت بھی سمجھ لیں کہ اشتہار لگانا آسان ہے لیکن اس پر عمل کرنا مشکل
اگر یہ صرف دکھاوے کے لیے ہے تو یہ اعتماد مزید کم کرے گا مگر اگر واقعی اس پر عملدرآمد ہوتا ہے تو یہی چھوٹا سا قدم نظامی اصلاح کی بنیاد بن سکتا ہے
اصل امتحان یہ ہے کہ کیا ایک عام شہری واقعی 24 یا 48 گھنٹوں میں انصاف کے ابتدائی مراحل دیکھتا ہے؟
کیا رشوت کے بغیر کام ہو رہا ہے؟
کیا پولیس اہلکار خود کو اس ضابطے کا پابند سمجھتے ہیں؟
اگر جواب ہاں کی طرف جاتا ہے تو یہ اشتہار صرف ایک نوٹس نہیں بلکہ ایک خاموش انقلاب ہے
اگر نہیں تو یہ ایک خوبصورت جھوٹ سے زیادہ کچھ نہیں
اس لیے عوام کی ذمہ داری بھی کم نہیں صرف تعریف نہ کریں—مطالبہ کریں
صرف پڑھیں نہیں—اس پر عملدرآمد کی نگرانی کریں
اپنے حق کو جانیں اور اس کے حصول میں پیچھے نہ ہٹیں
کیونکہ قانون تبھی زندہ ہوتا ہے جب شہری اسے مانگتا ہے اور ریاست تبھی مضبوط ہوتی ہے جب وہ اسے فراہم کرتی ہے. بشکریہ جناب خالد محمود صاحب لوک چوپال۔

09/04/2026

Speakers highlight obstacles related to access to information

کیا ہری پور والوں کو بھی کیتھ لیب   catherization Labortary کی ضرورت ہے؟ کیتھ لیب بنیادی طور پر دل کے مریضوں کی تشخیص او...
08/04/2026

کیا ہری پور والوں کو بھی کیتھ لیب catherization Labortary کی ضرورت ہے؟ کیتھ لیب بنیادی طور پر دل کے مریضوں کی تشخیص اور علاج کے لئے استعمال ہوتی ہے ۔اس کےذریعے آ رٹریز کی بلاکج، دل کے والوز کی صورتحال کو جانچنے، انجوگرافی، سٹنٹس ڈالنے کے پروسیجرز کیے جاتے ہیں۔جب کہ یہی کیتھ لیب پیشاب کی نالی سے متعلق پیچیدگیوں کو دور کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے ۔ ہماری معلومات کے مطابق یہ لیب صوبہ کے ایک بڑے ریونیو جنریٹ کرنے والے ضلع ہری پور کے کسی گورنمنٹ اسپتال میں نہیں ہے ۔جبکہ ماہانہ سینکڑوں ایسے مریض جنھیں خاص طور پر دل کے امراض کی تشخیص اور سٹنٹس ڈالنے کی ضرورت درپیش ہوتی ہے انھیں دیگر پرائیویٹ اور پبلک سیکٹر کے اسپتالوں میں ریفر کیا جاتا ہے۔ اس میسج کے ساتھ انگلش کی ایک نیوز کو دیکھ کر کوئی راہنمائی فرمائےکہ اگر ڈی آئی خان میں دو اور صوابی میں ایک لیب دی جا سکتی ہے تو کیا ہری پور میں اس کی ضرورت نہیں؟ اگر ہے تو پھر بار زمہ داری کس کے سر ہے؟

PESHAWAR: The Khyber Pakhtunkhwa government has approved Rs1932 million for three catheterisation laboratories , two each in Dera Ismail Khan and Bacha Khan Medical Complex in Swabi.Dera Ismail Khan...

Address

Haripur KPK
Haripur
22620

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Civic lens posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share