Gilgit River TV

Gilgit River TV Sanabar

30/12/2025

2025 آخری مہینے کے آخری دن ٹسل استاد ہراموشی کیساتھ۔۔حفیظ الرحمان کی تعریف کرنے لگا۔

26/12/2025

آرمی مظبوط نہ ہوتی تو گلگت بلتستان طالبان کا دوسرا گھر ہوتا۔۔اسکے علاوہ کچھ سیاست دان ایٹم بم کو بھی بیجھ کر کھا جاتے۔
حق حاکمیت کا نعرہ لگانے والوں نے کام کرکے دکھایا۔
پی۔آئی۔اے پرائیویٹ ہوگئ مزہ آیے گا اب۔گلاب شاہ سماجی و سیاسی رہنماء

23/12/2025

پنجابی کھوکھر کے بعد اب گلگت بلتستان سکوار گاوں کا کھوکھر جو مہنگی مہنگی 9 گاڑیاں رکھتا اور اب بلدیہ اور ڈسٹرکٹ سے الیکشن لڑنے کیلیے کمر کس لی۔۔ماشااللہ

گلگت بلتستان اور پورے پاکستان کا  اصل محسن مجھے اس وقت ملا جب کسی بینک کے ملازم نے کہا این۔آر۔ایس۔پی۔جیسے بڑے بینک کا پر...
19/12/2025

گلگت بلتستان اور پورے پاکستان کا اصل محسن مجھے اس وقت ملا جب کسی بینک کے ملازم نے کہا این۔آر۔ایس۔پی۔جیسے بڑے بینک کا پریزیڈنٹ گلگتی ہے۔

NIBAF
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تربیتی
ادارہ میں مختلف بینکوں کے ملازمین گراس روٹ لیول کی تربیت حاصل کر رہے تھے اس دوران تعمیر بینک کیطرف سے بطور ریسرچ اینڈ ٹریننگ آفیسر میں بھی تربیت حاصل کرنے پورے ہفتے تک ادھر موجود تھا۔۔کسی دوسرے بینک کا ایک ملازم میری طرف محبت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا اسطرح تیسرے دن کے تیسرے سیشن کے بعد جب میں نے اس ملازم سے پوچھا آپکا تعلق کون سے بینک سے ہے اور تعلق کس علاقے سے ہے؟اپنی تعارف سے پہلے اس بندے نے عاجزی کیساتھ مجھ سے کہا کیا اپ گلگت کے ہو؟میں نے جواب دیا جی میرا تعلق گلگت بلتستان سے ہے،میری بات کو کاٹتے ہوئے اس نے کہا ہمارے بینک کا پریزیڈنٹ اور چیف ایگزیکٹیو افیسر بھی گلگتی ہیں۔۔یقین کریں یہ خبر سن کر میرے دل کے اندر ایک جزبہ پیدہ ہوگیا۔اس سے پہلے میں ڈیپریشن میں تھا کہ ہمارے لوگ پریزیڈینٹ یا ایگزیکٹیو لیول تک نہیں جاسکتے،میرے اندر ایک اعتماد پیدا ہونا شروع ہوگیا اور اس دوران مجھے ایسا لگا کہ میں بھی تعمیر بینک کا پریزیڈینٹ ہوں اور ہر ٹریننگ سیشن میں اتنا پارٹیسپیٹ کی یقین کریں سٹیٹ بینک کے ٹرینرز بھی مجھ سے متاثر ہوگیے اور یوں سیشن کے آخری میں سب سے قیمتی سرٹیفکیٹ مجھے ملا اور تعمیر بینک ٹریننگ ڈیپارٹمنٹ کا ٹرینر تھا تو ادارے کے اندر پورے تین سالوں تک سب سے بہترین ٹریننگ کی کلاسس میں کنڈیکڈ کرتا رہا اور ہر ٹریننگ سیشن کے بعد فیڈ بیک فارم میں ٹریننگ لینے والے ملازمین کمنٹس میں لکھتے ہمیں صنابر صاحب کی کلاس میں مزہ آیا اور معلومات ڈیلیور کرنے کا انداز بھی بہت آچھا لگا۔۔یہ کہانی نہیں ہے ایک موٹیویشن ہے جو میں نے راجہ ظہور صاحب سے ملے بغیر اتنا انسپائر ہوکر حاصل کی تھی کہ میرے پسماندہ علاقے کے سپوت بھی قومی اداروں کو لیڈ کر رہے ہیں اور ہزاروں لوگوں کو نوکریاں دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔۔ظہور صاحب کے بارے میں کلیر انفارمیشن دینے والا بھی ایک ریٹائرڈ کرنل تھا جسکے ساتھ میرا ای۔میلز میں بات چیت ہوتی رہتی تھی بلکہ ایک دفعہ این۔آر۔ایس۔پی بینک کے ہیومین ریسورس اور ایڈمن ہیڈ کرنل ریٹائرڈ سے بات کرنے کیلیے ڈائریکٹ نمبر ڈائل کیا تو انھوں نے شینا زبان میں جیک حال ہن لا صنابر بولا تو پھر دوبارہ حیران ہوگیا یہ کون ہے،؟ گپ شب ہوگئ تو کرنل صاحب بھی گلگتی نکلے۔
ان دونوں شخصیات سے خصوصی ملاقات کیلیے 2012 جون کے مہینے میں بہاولپور گیا تو پریزیڈینٹ صاحب مائیکروفنانس لیڈرز کی کنونشن کیلیے باہر کوئی افریقن ملک گیے ہوے تھے یوں ملاقات نہیں ہوسکی۔۔
ہم نے ڈھونڈا وہ نہیں ملا جب خومر کے مقام پر 2024 میں ایک پرائیویٹ بینک کا منیجر تھا تو این۔ار۔ایس۔پی بینک کے زونل ہیڈ صناور بھائی ایک حسین و جمیل شخص کیساتھ داخل ہوگیے اور آس پاس کرسیوں میں بیٹھ کر تعارف ہوگیا یوں 12 سال جس سے ملنے کیلیے ترس رہا تھا وہی راجا ظہور صاحب میرے پاس آکر ملے۔ این۔آر۔ایس پی بینک کے سابقہ دبنگ صدر سے ملاقات کرکے دل کو سکون ملا لیکن ساتھ تصویر لینے کا حوصلہ نہیں ہوا۔
راجہ صاحب وہ شخصیت ہیں جو مائیکروفنانس بینک کے سائنسدانوں میں شامل ہیں جنھوں نے 1983 سے مائکروفنانس کا ابتداء کیا تھا آج گلگت بلتستان سے نکل کر یہ ماڈل پورے پاکستان میں پھیلا ہوا ہے اور اج اسٹیٹ بینک نے ان بینکوں کیلیے الگ ریگولیشن بنایا ہے اور بڑے بڑے بینک اسٹیٹ بینک کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں ہیں ہمیں مائیکروفنانس کا لائسنس دے دیں۔
اس وقت ہمارا قومی ادارہ کوآپریٹیو بینک میں تجربہ کار انسان کی ضرورت ہے آگر ظہور صاحب کو پاور دیکر نگران بنادیا گیا تو یہ بینک مزید مظبوط بن سکتا ہے اور سٹیٹ بینک سے لائسنس حاصل کرنے کی کہانیاں سن کر ہمارے کان پک گئیے ہیں وہ بھی آسان ہوگی ۔۔
صنابر سکارو

19/12/2025

گلگت سٹی دبنگ ڈی ایس پی جعفری صاحب چارج سنبھالتے ہی چارج ہونا شروع۔۔۔گڈ جعفری ماموں اپ نے جٹیال ہیلی چوک سے پبلک چوک تک غلط پارکنگ کرنے والوں کو سبق سکھانا ہے۔۔۔کل میری چھوٹی سی کار ایک کلو میٹر تین گھنٹے میں طے کرنے میں کامیاب ہوئ تھی یوں صرف 2000 کا پیٹرول خرچ ہوا۔

شہنشاہ تعمیرات گلگت بلتستان کے سارے منصوبوں پر عملی جامہ پہنانے والے ایف اے پاس سلطان سے جب میری ملاقات ہوگی تو سارے پڑھ...
16/12/2025

شہنشاہ تعمیرات گلگت بلتستان کے سارے منصوبوں پر عملی جامہ پہنانے والے ایف اے پاس سلطان سے جب میری ملاقات ہوگی تو سارے پڑھے لکھے انجینئرز سے اعتبار اٹھ گیا۔۔اسطرح یونیورسٹی میں معاشیات کے مشکل ترین تھیوریز اور اکاونٹنگ پڑھانے والے پروفیسرز صاحبان سے بھی اعتبار اٹھ گیا۔۔بنگالی پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس سے پوچھا گیا کہ آپ کو نوبل پرائز انعام سے کیوں نوازا گیا تو جواب ملا کہ میں چٹانگ گانگ یونیورسٹی میں معاشیات کی خوبصورت خوبصورت تھوریس پڑھا رہا تھا لیکن قوم غربت کی چکی میں پس رہی تھی اسلیے عملی کام کا اغاز کرکے ایک ادارہ بنایا اور بنگالی بے روز گار عورتوں اور مردوں کو چھوٹے چھوٹے قرضے دیکر بنگلادیش کو پاکستان جیسی زرعی دیش سے زیادہ ترقی دلادی اج گرامین بینک کو غربت ختم کرنے کیلیے ترقی پزیر ممالک رول ماڈل کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔۔
گلگت کے سلطان محمود نام سے سب واقف ہونگے انھون نے ایف۔اے پاس کرکے پی۔ائی۔اے کی نوکری کیلیے درخواست نہیں دی بلکہ اپنے ہی کام کا آغاز کیا آج 300 ملازمین کو دیسی طریقے سے تنخواہ دیتے ہوے دیکھ کر سب سائنسدانوں سے اعتبار اٹھ گیا۔۔بینک کے اعلئ آفیسرز بینک میں اکاونٹ کھلوانے کیلیے اس مصروف ترین عاجز انسان کے پاس ایسے کھڑے تھے جیسا کہ اس نے کوئی بینک کھولا ہو۔۔آج کل اربوں کے وفاقی اور صوبائی پروجیکٹ مکمل کرنے کے بعد فنڈ نہ ملنے کے باوجود یہ شہنشاہ تعمیرات سر جھکا کر ہسپتالوں اور سڑکوں اور تعلیمی اداروں پر نان سٹاف کام ایسے کر رہا ہے جیسے سرکاری خزانے کا دروازہ صرف ان کیلیے کھلا ہو۔۔سلطان محمود سے جب میں نے سوال کیا وفاق سے ریلیز نہیں ملے ہیں اتنے سینکڑوں پروجیکٹ میں انجینیرز اور مزدور کیسے ہما وقت محو نظر ارہے جواب ملا میرا ساتھ دینے والا میرا رب ہے جس نے مجھے توفیق دی ہے کہ سریے سے بجری والا بھروسے کی بنیاد پر سپلای دیتے اور کام جاری ہے۔۔
300 ملازمین کو تنخواہ دینے والا اس انسان سے پوچھا آپکی تعلیم کیا ہے جواب ملا ایف۔اے پاس ہوں۔
سلطان محمود صاحب سے جب پوچھا گیا کہ ضرورت مند آتے ہونگے جواب ملا اللہ جانتا ہے۔
ہمارے گلگت بلتستان میں کچھ لوگ جو ائ۔بی۔اے اور این ای ڈی یونیورسٹی سے کوالٹی ایجوکیشن حاصل کرکے ادھر اتے تو ہیں لیکن سرکاری یا غیر سرکاری اداروں کے اندر نوکری حاصل کرکے بینک سے ایڈوانس سیلری لیکر ایک عدد گاڑی خرید کر سیر سپاٹے کرتے اور آج تک ان قابل لوگوں نے اپنا کوئی کاروبار کا اغاز کرکے سماج کے لیے کوئی Contribution نہیں کی ہے۔۔ ہمارے علاقے میں سب سے نالائق انسان وکیل ہوتا ہے جو اپنے فیلڈ میں ناکام ہوکر ایک اضافی ڈگری لیکر کنوداس یا سکردو کے حمید گڑھ میں ڈیرے لگا کر سادہ لوں انسانوں کو لوٹتے ہیں اور بروقت انصاف دلانے میں ناکام ہوتے۔۔
ہزاروں کے حساب سے لڑکے اور لڑکیاں پی۔ایچ۔ڈی کرنے کیلیے بیرون ملک جاکر منی آرڈر تو بیجھتے لیکن کوئی قومی سطح کا ایک سائنس دان نہیں بن سکا جو کوئی جدت دے سکے اور چھوٹے سے علاقے کے اندر کوئی نیا کام کا اغاز کرسکے۔۔مجھے سلطان محمود سے محبت اسلیے ہوگئی کیونکہ انھوں نے ایک سائنس دان سے زیادہ اپنے حصے کی ایک شمع جلادی اور یہ شمع کئ گھروں کو آنے والے وقت میں بھی روشنی دے گی GMN Urdu
صنابر سکارو۔۔

قبول ہے قبول ہے پھر کیا ہوا؟عورت مظلوم ہے۔۔گلگت بلتستان کا پر امن ڈسٹرکٹ ہنزہ کے مومن آباد چوک سے ایک مومن شوہر اپنی موم...
07/12/2025

قبول ہے قبول ہے پھر کیا ہوا؟
عورت مظلوم ہے۔۔

گلگت بلتستان کا پر امن ڈسٹرکٹ ہنزہ
کے مومن آباد چوک سے ایک مومن شوہر اپنی مومنہ بیوی کو اٹھا کر لیکر جاتا ہے اور ساتھ ساتھ مختلف سوشل میڈیہ پیجز سے لڑکی کو مظلوم اور شوہر کو ظالم بناکر پیش کیا جارہا ہے۔اکثر و بیشتر ہر کوئی مرد کو ظالم بنا کر اور عورت کو مظلوم پیش کرکے ہمارے گلگت بلتستان کے چھوٹے سے علاقے کے اندر مزید بہن اور ماؤں کو مکمل آزادی کی ڈگری دی جا رہی ہے ایک وقت ایسا آیے گا لڑکے والوں کیطرف سے رشتہ نہیں جایے گا بلکہ لڑکی کے رشتے کیلیے گھر والے پسند کے لڑکے کے گھر جائینگے۔
کچھ عرصہ پہلے کراچی میں مقیم ایک گلگت کی ڈاکٹر لڑکی شوہر سے ناراض ہوکر گھر سے نکلی ہے اور ابھی تک دوبارہ واپس نہیں آئی ہے یوں پورے گلگت بلتستان کی عزت کا جنازہ نکل گیا ہے۔
آخیر ہمارے لوگ سوشل میڈیہ کی سرخیوں میں آنے کا شوق کیوں رکھتے ہیں؟
ایک خون کے رشتے اور ان پہاڑوں کے اندر پیدا ہونے والے لوگ ایک دوسروں سے اتنا نفرت کیوں کرتے ہیں؟۔۔
ہنزہ کے راجہ اور نگر کے راجہ تو آپس میں خونی رشتے سے منسلک ہیں اسکے علاوہ پنیال کے راجہ اور گلگت کے راجہ اسطرح المختصر استور کے راجہ تعارف حسین جو شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ان کی شادی گلگت کے راجہ کی ڈاکٹر سنی پوتی سے سرینہ ہوٹل میں انجام پائی تو اس وقت غریب لکھاری نے پہلی دفعہ ایک ہزار کا برتاوا مطلب پندر دے دیا تھا۔ گلگت کے نواحی گاوں ہراموش کی ایک تحصیل دار شیعہ لڑکی نے پنیال کے اسماعیلہ لڑکے سے شادی کی تو بن بلاے مہمان بن کر برمس کے مقام پر جاکر کھانا کھالیا۔
غریب ہنزائی کی شادی غریب نگر چھپروٹ والے سے ہوگئی تو سارے غریبوں کو آگ لگ گئی۔۔ایک غریب سنی لڑکی کی شادی غریب شیعہ کیساتھ انجام پائی تو لڑکا زندگی بھر روپوش ہوکر زندگی گزاری۔۔ نکاح سے پہلے کسی کو گن پوئنٹ پر اٹھانا دہشت گردی ہے اسلامی اصطلاع میں بیوی کو گن اور راکٹ لانچر کے زور پر اٹھانا لڑکی کیلیے اور اس کے شوہر کیلیے عزت ہے۔۔
پڑھا لکھا گلگت بلتستان کے اندر احماقانہ گفتگو سے پرہیز کی جائے۔۔
اگر لڑکے نے زبردستی شادی کی ہے تو قصور وار ہے اگر یونیورسٹی کی تعلیم میں معاشی معاونت کرکے جائز طریقے
نکاح کیا ہے تو قبول ہے قبول ہے۔گلگت کے اندر ہی ہماری بیٹی محفوظ ہے نہ کی دیامر اور کے پی کے اور سندھ میں۔راولپنڈی سے کئی روتی ہوئی ماں بہنوں کیساتھ گلگت کیطرف ہم نے سفر کی ہے اور کئی لڑکیاں تو اپنے چھوٹے بچوں کو چھوڑ کر دوبارہ گلگت بلتستان میں اکر بھابیوں کے طعنے برداشت کر رہی ہیں ان سب گناہوں کے زمہ دار ہم خود ہیں۔
صنابر حسین سکارو

ہنزہ میں رانی کی راج اور پورے گلگت بلتستان پر دیامر اور استوری کی راج ؟گلگت بلتستان پاکستان کا وہ آخری حصہ ہے جسکو بین ا...
29/11/2025

ہنزہ میں رانی کی راج اور پورے گلگت بلتستان پر دیامر اور استوری کی راج ؟

گلگت بلتستان پاکستان کا وہ آخری حصہ
ہے جسکو بین الاقوامی برادری متنازعہ خطہ کہتی ہے اور پاکستان کے کئی ذمہ دار شخصیات تو واضع طور پر کہتے ہوے آرہے اور حقیقت بھی ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگ پاکستان کے دیگر شہری کیطرح نہیں ہیں۔
جب ٹاٹ والی میڈل سکول ،گاوں سکوار سے میڈل پاس کرکے جٹیال کی ہائی سکول کا طالب علم بنا تو میرے اندر شعور پیدا ہونا شروع ہوگیا کہ ہمارے لوگ قومی اسمبلی اور سینٹ کے ممبر نہیں بن سکتے حالانکہ 1999 سے پہلے میں محمد موسی ماموں کو ایم۔این۔اے سمجھ کے بیٹھا تھا حالانکہ وہ بے چارہ خود بلدیہ کے ٹھیکیدار سے زیادہ اثر و رسوخ نہیں رکھتے۔یوں وقت کے حساب سے آرمی کے جنرل مشرف نے ترس کھا کر چھوٹی سی اسمبلی کی شکل تو دی لیکن اندر بیٹھے ہوے مینڈکوں کی شکلیں لاہور اور کراچی کے بلدیہ ممبرز کی طرح بھی نہیں تھی۔۔
زرداری نے ایک ضرب لگا کر صدر بنا اور ماضی کے جیل کے گلگتی ساتھیوں کی فرمائش پر گلگت بلتستان کا نام لگا کر پہچان تو دی لیکن پنجاب سے آیے ہوے اے۔سی اور پولیس ایس پی وزیر اعلی کی کالیں ریسیو نہ کرنے کے کئی شہادتیں میرے پاس موجود ہیں۔
المختصر کہانی لمبی نہ لکھوں گلگت بلتستان کا تیسرا عبوری وزیر اعلی سیٹ پر بیٹھایا گیا اچھی بات ہے لیکن فیس بکی خرگوش اور نام نہاد صحافی حضرات کے تبصرے چلے گیے بھاڑ میں اب ایک استوری بھائی سیٹ پر بیٹھا ہوا ہے جبکہ راجہ نظیم اور وقار مندوق کوئی مشیر بھی نہیں بن سکے۔
وزیر اعلی کو بھی پتہ نہیں ایک لمبی لسٹ اس کی ٹیبل پر رکھی گئی ہے اور اس سال نیو ملازمین کی سردیوں کا اسلام آباد کا خرچہ نکل جایے گا۔
یہ لسٹ دینے والے کون ہیں؟کیا گلگت بلتستان صرف دیامر استور ریجن پر مشتمل ہے؟ وہاں سے وزیر اعلی سمیت چھے بندوں کو نوکری مل گی۔

کیا رانی عتیقہ کے علاوہ ہنزہ میں کوی
سماجی کارکن اور پڑھا لکھا نہیں تھا؟
بلتستان ایک بڑا ریجن ہے کیوں اس علاقے کیساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جاتا ادھر سے کیا صرف ایک انسان ملا؟۔
ڈسٹرکٹ گلگت میں کھا کر اور دادی جواری کے دونوں نالیوں کو گندہ کرکے اس ڈسٹرکٹ سے صرف ایک کا چناو کرنا گلگت کے ساتھ زیادتی ہے؟
غزر شہداء کی سر زمین سے ایک زمیندار کو نہیں ایک پراپرٹی ڈیلر کو وزیر بنانے کی تیاری کس نے کی ہے؟
نگر کا نام تو شامل ہی نہیں حالانکہ وہ وزیراعلی کیلیے کوشش کر رہے تھے۔
خدا کی قسم مجھے اس پروٹوکول سے محمد موسی اور فدا محمد ناشاد کا دور ہی اچھا لگا۔۔

گلگت بلتستان کے اندر 10 ڈسٹرکٹ اسلیے بنایے گیے ہیں تاکہ پنجاب اور سندھ سے مطالعہ پاکستان حفظ کرنے والوں کو گلگت بلتستان کے خزانے سے تنخواہ ملے اور ویگو گاڑی ملے تاکہ ادھر سے ٹور پر آنے والے رشتے داروں کو گاڑی ملے باقی گلگت اور بلتستان کے لوگ فری لانسنگ سے کمالے اور بارڈرز میں رکھوالی کرکے یا شہید ہو جایے یا غازی بن کر جنرل اسٹور کھول کر اپنی بقایا زندگی گزارے۔کوئی انسان حق کی بات کرتا ہے تو 16 ایم۔پی۔او لگا کر
مجسٹریٹ مناور جیل بیجھوا دیتا ہے۔
میرا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے لیکن اس
کھیل میں میرا سربراہ شہنشاہ تعمیرات حافظ حفیظ الرحمان بھی شامل ہے تو اس غریب خطے کی غریب عوام کی بدعا لگے گی۔۔حق پر بولنے والے یا جیل میں ہوتے یا پیرا ہوٹل میں بیٹھ کر نمکین چائے پی کر اپنی زندگی گزار رہے ہوتے۔
ختم شدہ ۔ازقلم صنابر سکارو

افغانیوں کو پناہ دیکر چند حکمرانوں نے بہت غلطی کی تھی۔۔اپنوں میں موجود منافق دشمن سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتے۔۔المختصر افغ...
26/11/2025

افغانیوں کو پناہ دیکر چند حکمرانوں نے بہت غلطی کی تھی۔۔اپنوں میں موجود منافق دشمن سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتے۔۔
المختصر افغانیوں کو بھائی کہنے والے بھی دشمن ہیں۔

اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن۔
ایک اور بیٹی وطن پے قربان ۔
ڈاکٹر کیپٹن کنول بیگپاک افغان بارڈر پے خوارج کے حملے میں شہید کیپٹن کنول کی نماز جنازہ ان کے آبائی علاقے راولپنڈی میں ادا کی جاے گی۔

سندھ گورنمنٹ کہاں مرگئی ہے؟قومی اسمبلی اور سینٹ کے اندر اگر کوی گلگت بلتستان کا نمائندہ ہوتا تو ڈاکٹر صاحبہ اج اپنے گھر ...
25/11/2025

سندھ گورنمنٹ کہاں مرگئی ہے؟
قومی اسمبلی اور سینٹ کے اندر اگر کوی گلگت بلتستان کا نمائندہ ہوتا تو ڈاکٹر صاحبہ اج اپنے گھر میں ہوتی۔

ضروری اعلان

میرا ہر ایک گھنٹہ مار کر زندہ ہونے کی کیفیت میں گزرتا ہے۔ آج 69 دن ہو گئے لیکن اب تک میری بیگم مشعل کا کچھ پتہ نہیں۔

اسی رات ہماری آپس میں تلخ کلامی ہوئی تھی، جس کے بعد میں کزن کے گھر چلا گیا تھا۔ میرا موبائل فون بھی مشعل کے پاس تھا، جس کی وجہ سے مجھے بروقت کسی بات کا علم نہ ہو سکا۔

رات کے قریب 3 بجے میرا چھوٹا بھائی کھانے کا سامان لے کر گھر پہنچا تو چچی نے بتایا کہ "مشعل نے نالے میں چھلانگ لگا دی ہےکیونکہ اُس وقت گھر میں مشعل اور اُس کی چچی ہی موجود تھیں۔" وہاں کھڑے کچھ لڑکوں نے بھی یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔

یہ سنتے ہی میرا بھائی وہیں بے ہوش ہو گیا، اور ہوش میں آتے ہی روتے ہوئے ایدھی والوں کے ساتھ نالے میں اسے تلاش کرتا رہا۔ صبح ہوتے ہی وہ مجھے بھی اسی مقام پر لے گیا… وہ منظر، ، وہ بے بسی—میری روح آج تک کانپ جاتی ہے۔

اسی دوران پولیس نے مجھے نالے سے گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں سوشل میڈیا پر میرے خلاف جھوٹی اور من گھڑت باتیں پھیلائی گئیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

جو لوگ سوشل میڈیا پر میرے خلاف جھوٹی اور بے بنیاد باتیں پھیلا رہے تھے، ان کے خلاف سائبر کرائم کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی، کیونکہ ان کی ان حرکات سے میری ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
نالے میں 10 دن سے زیادہ مسلسل آپریشن کیے گئے، لیکن وہاں سے کچھ بھی نہیں ملا۔ پولیس اور ریسکیو ٹیموں کا کہنا ہے کہ مشعل نالے میں نہیں ہے۔

اور آج تک سوال یہ ہے: اگر نالے میں نہیں ہے، تو کہاں ہے؟ اور اب تک کیوں نہیں ملی؟
ہم نے جہاں ممکن ہوا، ہر جگہ تلاش کیا—ہر دروازہ کھٹکھٹایا، ہر نشانی دیکھی—لیکن مشعل کا کچھ پتا نہیں چل سکا۔
میری درخواست ہے کہ:

جن لڑکوں نے سب کا دھیان نالے کی طرف لگایا،

اور وہ لڑکے جو میرے بھائی کے پہنچنے سے پہلے وہاں موجود تھے،

ان سب کو شاملِ تفتیش کیا جائے۔

نالے کے قریب موجود گھروں میں بھی تلاش اور مکمل تحقیقات کی جائیں۔

اسی مقصد کے لیے میں نے سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست (CP) دائر کی ہے تاکہ میری بیگم مشعل کی جلد از جلد بازیابی ممکن ہو سکے۔

💔 میرے عزیز، گلگت کے لوگ، اور وکیل حضرات — براہِ کرم میرے ساتھ کھڑے ہوں اور میری بیگم کی بازیابی میں مدد کریں۔

براہِ کرم یہ پوسٹ جہاں ممکن ہو شیئر کریں تاکہ قانون حرکت میں آئے اور تفتیش جلد مکمل ہو۔

اللہ کے واسطے دعاؤں میں یاد رکھیں… میری بیگم کی صحت، حفاظت اور جلد واپسی کے لیے دعا کریں۔

اللہ کرے کہ میری بیگم مشعل کی جلد از جلد صحت مند اور محفوظ بازیابی ہو جائے۔

یہ دکھ، یہ انتظار… میری ہمت توڑ رہا ہے۔

25/11/2025

گلگت کے ایک نواحی گاوں میں ایک چھوٹا زمیندار صرف ڈالڈہ اور کپڑے بازار سے خریدتا باقی سب کچھ اسکا اپنا ہوتا
۔بچت بینک میں نہیں رکھتا، ہنزہ کے کاروباری پر بھروسہ کرکے بچت پیسے اسکے پاس رکھتا۔

Address

Hunza

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gilgit River TV posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Gilgit River TV:

Share