19/12/2025
گلگت بلتستان اور پورے پاکستان کا اصل محسن مجھے اس وقت ملا جب کسی بینک کے ملازم نے کہا این۔آر۔ایس۔پی۔جیسے بڑے بینک کا پریزیڈنٹ گلگتی ہے۔
NIBAF
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تربیتی
ادارہ میں مختلف بینکوں کے ملازمین گراس روٹ لیول کی تربیت حاصل کر رہے تھے اس دوران تعمیر بینک کیطرف سے بطور ریسرچ اینڈ ٹریننگ آفیسر میں بھی تربیت حاصل کرنے پورے ہفتے تک ادھر موجود تھا۔۔کسی دوسرے بینک کا ایک ملازم میری طرف محبت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا اسطرح تیسرے دن کے تیسرے سیشن کے بعد جب میں نے اس ملازم سے پوچھا آپکا تعلق کون سے بینک سے ہے اور تعلق کس علاقے سے ہے؟اپنی تعارف سے پہلے اس بندے نے عاجزی کیساتھ مجھ سے کہا کیا اپ گلگت کے ہو؟میں نے جواب دیا جی میرا تعلق گلگت بلتستان سے ہے،میری بات کو کاٹتے ہوئے اس نے کہا ہمارے بینک کا پریزیڈنٹ اور چیف ایگزیکٹیو افیسر بھی گلگتی ہیں۔۔یقین کریں یہ خبر سن کر میرے دل کے اندر ایک جزبہ پیدہ ہوگیا۔اس سے پہلے میں ڈیپریشن میں تھا کہ ہمارے لوگ پریزیڈینٹ یا ایگزیکٹیو لیول تک نہیں جاسکتے،میرے اندر ایک اعتماد پیدا ہونا شروع ہوگیا اور اس دوران مجھے ایسا لگا کہ میں بھی تعمیر بینک کا پریزیڈینٹ ہوں اور ہر ٹریننگ سیشن میں اتنا پارٹیسپیٹ کی یقین کریں سٹیٹ بینک کے ٹرینرز بھی مجھ سے متاثر ہوگیے اور یوں سیشن کے آخری میں سب سے قیمتی سرٹیفکیٹ مجھے ملا اور تعمیر بینک ٹریننگ ڈیپارٹمنٹ کا ٹرینر تھا تو ادارے کے اندر پورے تین سالوں تک سب سے بہترین ٹریننگ کی کلاسس میں کنڈیکڈ کرتا رہا اور ہر ٹریننگ سیشن کے بعد فیڈ بیک فارم میں ٹریننگ لینے والے ملازمین کمنٹس میں لکھتے ہمیں صنابر صاحب کی کلاس میں مزہ آیا اور معلومات ڈیلیور کرنے کا انداز بھی بہت آچھا لگا۔۔یہ کہانی نہیں ہے ایک موٹیویشن ہے جو میں نے راجہ ظہور صاحب سے ملے بغیر اتنا انسپائر ہوکر حاصل کی تھی کہ میرے پسماندہ علاقے کے سپوت بھی قومی اداروں کو لیڈ کر رہے ہیں اور ہزاروں لوگوں کو نوکریاں دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔۔ظہور صاحب کے بارے میں کلیر انفارمیشن دینے والا بھی ایک ریٹائرڈ کرنل تھا جسکے ساتھ میرا ای۔میلز میں بات چیت ہوتی رہتی تھی بلکہ ایک دفعہ این۔آر۔ایس۔پی بینک کے ہیومین ریسورس اور ایڈمن ہیڈ کرنل ریٹائرڈ سے بات کرنے کیلیے ڈائریکٹ نمبر ڈائل کیا تو انھوں نے شینا زبان میں جیک حال ہن لا صنابر بولا تو پھر دوبارہ حیران ہوگیا یہ کون ہے،؟ گپ شب ہوگئ تو کرنل صاحب بھی گلگتی نکلے۔
ان دونوں شخصیات سے خصوصی ملاقات کیلیے 2012 جون کے مہینے میں بہاولپور گیا تو پریزیڈینٹ صاحب مائیکروفنانس لیڈرز کی کنونشن کیلیے باہر کوئی افریقن ملک گیے ہوے تھے یوں ملاقات نہیں ہوسکی۔۔
ہم نے ڈھونڈا وہ نہیں ملا جب خومر کے مقام پر 2024 میں ایک پرائیویٹ بینک کا منیجر تھا تو این۔ار۔ایس۔پی بینک کے زونل ہیڈ صناور بھائی ایک حسین و جمیل شخص کیساتھ داخل ہوگیے اور آس پاس کرسیوں میں بیٹھ کر تعارف ہوگیا یوں 12 سال جس سے ملنے کیلیے ترس رہا تھا وہی راجا ظہور صاحب میرے پاس آکر ملے۔ این۔آر۔ایس پی بینک کے سابقہ دبنگ صدر سے ملاقات کرکے دل کو سکون ملا لیکن ساتھ تصویر لینے کا حوصلہ نہیں ہوا۔
راجہ صاحب وہ شخصیت ہیں جو مائیکروفنانس بینک کے سائنسدانوں میں شامل ہیں جنھوں نے 1983 سے مائکروفنانس کا ابتداء کیا تھا آج گلگت بلتستان سے نکل کر یہ ماڈل پورے پاکستان میں پھیلا ہوا ہے اور اج اسٹیٹ بینک نے ان بینکوں کیلیے الگ ریگولیشن بنایا ہے اور بڑے بڑے بینک اسٹیٹ بینک کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں ہیں ہمیں مائیکروفنانس کا لائسنس دے دیں۔
اس وقت ہمارا قومی ادارہ کوآپریٹیو بینک میں تجربہ کار انسان کی ضرورت ہے آگر ظہور صاحب کو پاور دیکر نگران بنادیا گیا تو یہ بینک مزید مظبوط بن سکتا ہے اور سٹیٹ بینک سے لائسنس حاصل کرنے کی کہانیاں سن کر ہمارے کان پک گئیے ہیں وہ بھی آسان ہوگی ۔۔
صنابر سکارو