GB Live

GB Live Your window to Gilgit-Baltistan. Daily news, culture, stories & breathtaking views — straight from the mountains.

GB Live is your trusted source for everything Gilgit-Baltistan — from local news and cultural stories to stunning landscapes, travel tips, and live updates from the northern frontier of Pakistan. Join us as we showcase the beauty, voices, and heartbeat of GB.
📍 Authentic | 📸 Visual | 🔔 Real-time

🟧 انیسویں صدی کے(سن 1865) وسط میں ہنزہ–نگر محاذ🗡️ انیسویں صدی کے وسط میں جب ہمالیائی سرحدوں پر طاقتوں کا سیلاب اُمڈ رہا ...
10/12/2025

🟧 انیسویں صدی کے(سن 1865) وسط میں ہنزہ–نگر محاذ
🗡️ انیسویں صدی کے وسط میں جب ہمالیائی سرحدوں پر طاقتوں کا سیلاب اُمڈ رہا تھا، نگر کی ریاست نے بعض روایات کے مطابق ڈوگرا سرکار کی پوشیدہ شہہ یا خاموش رضامندی سے ہنزہ کی طرف ایک تعزیری لشکر روانہ کیا۔ اس کا مقصد ہنزہ کو تجارتی راستوں اور سرحدی گزرگاہوں پر اپنا اثر کم کرنے پر مجبور کرنا تھا۔

🛡️ نگر لشکر کی تعداد اور عسکری اندازہ
مختلف مقامی حوالوں اور اس زمانے کی فوجی روایت کے مطابق، نگر نے تقریباً 1800 سے 2000 سپاہی روانہ کیے، جن میں بندوقچی، تلوار باز، ڈھال بردار اور تیرانداز شامل تھے۔

ڈوگرا حمایت موجود تھی (روایتی بیانات میں اس کا ذکر ملتا ہے)، 800 تا 1200 مسلح اہلکار بطور کمک ساتھ تھے، زیادہ نہیں، کیونکہ ڈوگرا فوج عام طور پر چھوٹے دستوں کو اس سرد، دشوار گزار خطے میں بھیجتی تھی۔

💡 نگر کا لشکر دراصل زیادہ "حجم" نہیں بلکہ جرأت اور یقین پر قائم تھا، مگر انہیں ہنزہ کے جغرافیے اور دفاعی چالوں کا وہ ادراک نہ تھا جو گنش کے باشندوں کو نسلاً بعد نسل حاصل تھا۔

🛡️ نگر اور ڈوگرا فوج کے ہتھیار
نگر کی فوج:ہےڈ لاک بندوقیں (flintlock / matchlock)
لمبی تلواریں چمڑے کی ڈھالیں تیر و کمان پتھروں سے بھرے تھیلے (پہاڑی جنگ میں استعمال ہوتے)
ڈوگرا کمک:انگریزی طرز کی براؤن بیس بندوقیں
کچھ فوجیوں کے پاس چہرا ڈھکنے والی دھات کی ڈھالیں
سنگینیں (bayonets)ڈوگرا سپاہ میں نسبتاً بہتر بارود اور معیاری نال دار بندوقیں پائی جاتی تھیں، مگر تعداد کم تھی۔

🛡️ ہنزہ/گنش لشکر کی تعداد اور دفاعی چٹان
گنش کی قدیم قبائل نے حسبِ روایت فوری لشکر کھڑا کیا: اندازاً 1800 سے 2000 مقامی جوان جنگجو
ہتھیار:مقامی ساخت کی چقماقی بندوقیں
تلوار، خنجر، کرپا سنگریزے اور لٹکدار چٹانیں (ambush weapons)سرٹ، برپور اور گنش کے درّوں میں بنے سَنگَر (stone fortifications)

💡 ہنزہ کا اصل ہتھیار "مقام کا علم" تھا: یعنی کونسی گھاٹی کب بند کرنی ہے، کس پتھر کو کب گرانا ہے، کس گلی میں دشمن کی صف ٹوٹ سکتی ہے۔

🌄 حملے کی سمتیں – جنگ کا نقشہ

(الف) گنش قلعہ – مرکزی حملہ
نگر لشکر نے سب سے پہلے گنش قلعے کی سمت بڑھنے کی کوشش کی، کیونکہ یہ وادیِ ہنزہ کا قدیم ترین مضبوط نقطہ اور کاروانی راستے کی نگرانی کا محور تھا۔ دشمن دریا کے کنارے نیچے سے اوپر چڑھتا ہوا آیا۔ قلعے سے بلند مقامات پر بیٹھے تیرانداز اور بندوقچی مسلسل فائر کرتے رہے۔ تنگ موڑوں پر بڑے پتھر لڑھکائے گئے جنہوں نے دشمن کی صفیں توڑ دیں۔

(ب) سرٹ کی سمت – ثانوی محاذ
دوسرا دستہ غماسرٹ کی جانب سے اوپر آ رہا تھا تاکہ گنش کو گھیر لیا جائے۔ یہاں قبیلے کے جوان پہلے سے مورچہ زن تھے۔ سرٹ کی چٹانی پشتوں سے اوپر سے نیچے فائرنگ اور سنگ باری نے نگر لشکر کو زخمی، منتشر اور بدحواس کر دیا۔ پہاڑی جنگ میں "بلندی" وہ نعمت ہے جو پورے لشکر کی تعداد سے زیادہ فیصلہ کن ہوتی، یہی نعمت ہنزہ کے پاس تھی۔ رات کی تاریکی میں نگر لشکر گھات سے بچنے کی کوشش میں اوپر بڑھا، مگر گنش کی نگہبان میناروں سے ان کے قدموں کی آہٹ تک سن لی گئی۔ فجر سے پہلے ہنزہ کے جوان دو محاذوں پر پھیل چکے تھے۔ غمسرٹ کی بلندیوں سے پہلی گولیاں چلیں؛ پھر گنش قلعے کی دہلیز سے۔

⚔️ دشمن کی صفیں دو حصوں میں ٹوٹ گئیں
قلعے کے نیچے بنے سنگروں سے مسلسل تیر اور بارود کے دھوئیں نے نگر سپاہ کو آگے بڑھنے نہ دیا۔ چند مقامات پر ہاتھا پائی بھی ہوئی، ہنزہ کے لشکر نے دشمن کے سردار کے قریب تک رسائی حاصل کر لی، جس سے حملہ آور کمان میں شدید خلل پڑا۔

🟧 شکست – نگر اور ڈوگرا لشکر کی پسپائی
جنگ کے تیسرے پہر تک صورت حال صاف ہو چکی تھی: نگر لشکر کے زیادہ تر سپاہی زخمی اور کئی ہلاک ہوئے۔ کچھ قیدی بنا لیے گئے۔ ڈوگرا کمک سب سے پہلے بلند گھاٹیوں سے واپس مڑی کیونکہ انہیں پتھروں کی گولہ باری نے شدید نقصان پہنچایا۔ مرکزی نگر کمان پریشان حال، منتشر اور راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہوئی۔ جس لشکر نے فتح کے غرور میں قدم رکھا تھا، وہ پسپائی، تھکن اور خوف میں ڈوب کر نگر کی جانب لوٹ گیا۔

🟧 1865 کی جنگ کے بعد ہنزہ–نگر تعلقات میں تبدیلی
1865 کی گنش کی فتح محض ایک عسکری کامیابی نہ تھی؛ یہ وہ چنگاری تھی جس نے ہنزہ–نگر تعلقات کی پوری بساط بدل دی۔ اس معرکے کے بعد دونوں ریاستوں کے درمیان جو کیفیت پیدا ہوئی، اسے تاریخ چند بڑے عنوانات میں محفوظ کرتی ہے: باہمی اعتماد کا شیرازہ ٹوٹ گیا۔ اس جنگ سے پہلے دونوں ریاستوں کے تعلقات میں اگرچہ رقابت موجود تھی، مگر ایک ’’رسمی امن‘‘ بھی برقرار تھا۔ لیکن 1865 کے حملے نے ہنزہ کے دل سے نگر پر اعتماد کی آخری ڈالی بھی توڑ دی۔ ہنزہ کی سوچ میں یہ بات پتھر پر لکیر بن گئی:
"نگر پر بھروسا کرنا گویا اپنا گھر دشمن کے ہاتھ سونپ دینا ہے۔"

🟧 نگر کی نظر میں بھی ہنزہ
ہنزہ اب "سرکش و مزاحم" ریاست کے طور پر چمکنے لگا۔ دشمنی کا پردہ ہٹا، رقابت ’’علانیہ‘‘ ہو گئی۔ 1865 سے پہلے رقابت ’’خاموش‘‘ تھی؛ بعد میں یہ رقابت کھلی جنگی پالیسی میں بدل گئی۔ دونوں نے سرحدی مورچے مضبوط کیے، ایک دوسرے کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی، حالات ذرا بدلتے تو چھوٹی جھڑپیں شروع ہو جاتیں، دریا کے پار ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔

🦅 برطانوی سرحدی مبصرین کی نظر
برطانوی مبصرین نے لکھا:
"Hunza and Nagar have become two hawks sitting on one branch."
خراج، راستہ اور تجارت سب تنازعہ بن گئے۔ 1865 کے بعد: قافلوں کا گزر، چراگاہوں کی ملکیت، سرحدی گلیشیئر، خراج اور ٹیکس، چراؤ و پانی کے حقوق سبھی چیزیں سیاسی اسلحہ بن گئیں۔

🟧 نگر چاہتا تھا کہ ہنزہ جھکے
ہنزہ یہ ماننے کو تیار نہ تھا۔ یوں معاملہ ’’سلطنتِ سُلب و کشمکش‘‘ میں داخل ہو گیا۔ چھوٹی چھوٹی جھڑپیں بڑے معرکوں کا آغاز ہو گئیں۔ 1865 کے جھٹکے نے اگلے 20–25 سال میں مسلسل جھڑپوں کی راہ ہموار کی: چراگاہوں پر سرد رَسی، قافلوں پر حملے، نگرانی چوکیوں پر گولی باری، قیدیوں کا تبادلہ، قلعوں کی مستقل مرمت۔ یہی تسلسل بالآخر 1891 کی فیصلہ کن برطانوی مہم تک لے گیا۔ یوں 1865 دراصل آخری مقامی جنگ اور 1891 پہلی غیرملکی مداخلت کی بنیاد تھی۔

🟧 نفسیاتی برتری ہنزہ کی
1865 میں گنش کی فتح نے ہنزہ کے دلوں میں ’’اعتمادِ فاتح‘‘ پیدا کر دیا۔ ہنزہ والوں نے یہ باور کر لیا:
"اگر گنش کھڑا ہے، تو پورا ہنزہ ناقابلِ تسخیر ہے۔"
دوسری طرف نگر کو اس شکست نے اندر سے لرزا دیا؛ وہ آئندہ کسی بھی موقع پر ہنزہ کے مقابل تنہا کھڑا ہونے سے ہچکچانے لگا اور ڈوگرا سرکار کی مدد کا زیادہ محتاج ہو گیا۔ یہ نفسیاتی تبدیلی پورے خطے کی سیاست کا دھارا بدل گئی۔ برطانوی توجہ بڑھ گئی، دونوں states radar پر آ گئیں۔ 1865 کے بعد گلگت، ہنزہ، نگر، یاسین، پونیال وغیرہ سب Great Game کا حصہ بنتے جا رہے تھے۔

🌟 گنش کی فتح اور ہنزہ کی شہرت
گنش کی فتح نے ہنزہ کی شہرت کو برطانوی فوجی ریکارڈ میں یوں درج کروا دیا:
"Hunza is the only state that can defy its neighbours successfully."
برطانیہ نے دونوں ریاستوں کو اپنی سرحدی تزویراتی منصوبہ بندی میں ’’اہم کھلاڑی‘‘ کے طور پر دیکھنا شروع کیا۔ یہی وہ عمل تھا جس نے آخرکار 1891 میں Hunza–Nagar Expedition کو جنم دیا۔

🟥حرف آخر
تمام پڑھنے والوں کا شکریہ یہ میری تاریخ ہےجو انگریز نے لکھی۔۔۔۔۔ اور میرے حساب میں صرف تجزیہ و ترجمہ آیا۔
شکریہ !!!۔۔۔۔انگریز ❤️

#ذاتی کاوش

❤️❤️💌

📚 ہنزہ–نگر جنگی تاریخ پر بنیادی مراجع (Reference Books)

No. 1 — Gazetteer of Gilgit Agency
مصنف: برٹش انٹیلیجنس برانچ
سنِ اشاعت: 1897 (پہلا ایڈیشن)، 1907 (نظرثانی شدہ ایڈیشن)
اشاعت کی جگہ: کلکتہ، انڈیا

مطبوعہ: Superintendent of Government Printing, Calcutta

📌 ہنزہ–نگر کے تعلقات، قبائلی قوت، لشکر بندی، قلعے، ہتھیار، ڈوگرا تعلقات، وادی کے جغرافیے کا اولین تفصیلی ماخذ۔

No. 2 — A History of the Northern Areas of Pakistan
مصنف: احمد حسن دانی (A.H. Dani)
سنِ اشاعت: 1989 (پہلا ایڈیشن)، 2001 (بعد کے ایڈیشن)
اشاعت کی جگہ: اسلام آباد
مطبوعہ: National Institute of Historical and Cultural Research
📌 ہنزہ–نگر دشمنی، تجارت، شاہراہ قراقرم سے پہلے کی تاریخی کشمکش، ڈوگرا سیاست، 19ویں صدی کی فوجی فضا کا بہترین ریسرچ ماخذ۔

3 — The Gilgit Game: The Explorers of the Western Himalayas
مصنف: John Keay
سنِ اشاعت: 1979
اشاعت کی جگہ: لندن
مطبوعہ: Oxford University Press
📌 “گریٹ گیم”، ہنزہ–نگر، ڈوگرا قبضہ، برطانوی فوجی سروے، جنگی اسٹریٹجک پس منظر۔

4 — The Himalayan Gateway: History and Culture of Northern Pakistan
مصنف: سوزن لیمٹن (Hilda Susan L. Empson / S. H. Empson)
سنِ اشاعت: 1978
اشاعت کی جگہ: لندن
مطبوعہ: Oxford University Press
📌 ہنزہ–نگر کی روایتی دشمنی، دفاعی نظام، قلعے، گنش کی تاریخ، قبیلائی عسکری کردار۔

5 — Beyond the Oxus: Archaeology & History of the Northern Areas
مصنف: I.H. N. Evans / Aurel Stein references included
سنِ اشاعت: 1910–1940 کے درمیانی مختلف مخطوطات
اشاعت: لندن، کلکتہ
📌 پرانے لشکری راستوں، قلعوں، درّوں اور جھڑپوں کے آثار۔

6 — Hunza: Lost Kingdom of the Himalayas
مصنف: John Clark
سنِ اشاعت: 1956
اشاعت کی جگہ: نیویارک
مطبوعہ: Funk & Wagnalls
📌 ہنزہ کے عسکری روایات، لشکر، جغرافیائی برتری، قلعہ گنش، قدیم حملوں کے بیانات۔

No. 7 — The Northern Frontier of India
مصنف: C.E. Bates (Colonel Bates)
سنِ اشاعت: 1873 (اور بعد میں متعدد ایڈیشن)
اشاعت کی جگہ: کلکتہ
مطبوعہ: Government Press
📌 ہنزہ–نگر، ڈوگرا سیاست، فوجی کمک، ہتھیار، جنگی حرکیات (military dynamics)۔

No. 8 — History of Kashmir (Dogra Period)
مصنف: P.N.K. Bamzai
سنِ اشاعت: 1962
اشاعت: نئی دہلی
📌 ڈوگرا فوج کی عسکری پالیسی، گلگت–ہنزہ–نگر میں فوجی مداخلت اور باہمی اتحادی کارروائیاں۔

No. 9 — Tarikh-e-Dardistan
مصنف: مرزا غلام محمد
سنِ اشاعت: 1895 (اصل مخطوطہ)، 1923 (طباعت)
اشاعت کی جگہ: لاہور، کلکتہ
📌 ہنزہ–نگر خانہ جنگیاں، ڈوگرا اثر، مقامی فوجی تنظیمیں، 19ویں صدی کی جھڑپیں۔

10 — Hunza and Nagar Under the Raj
مصنف: John Mock & Kimmy Goodwin (تحقیقی مرکب)
سنِ اشاعت: 1990s–2000s
اشاعت: مختلف تحقیقی جرائد (not a single book but peer-reviewed papers)
📌 1891 سے پہلے کی فوجی صورتحال، ریاستی تعلقات، لشکر سازی، قبائلی دفاعی ماڈل۔
📌 مزید دو اہم مقامی ماخذ (ہنزہ–گنش–نگر کی جنگی روایات):

11 — Ganish: The Ancient Settlement of Hunza
مصنف: Dr. Aminullah Baig
سنِ اشاعت: 2011
اشاعت کی جگہ: کراچی / گلگت
📌 گنش قلعہ، قبائل، دفاعی نظام، جنگی راستے، سرٹ و گمہ‌سرات کی حکمتِ عملی۔

12 — Shahnama-e-Hunza (مقامی تاریخی بیانیہ)
مصنف: مختلف مقامی اہلِ قلم (oral history compiled)
سنِ اشاعت: 1980–1990 کے درمیان
📌 1860–1890 کی جھڑپوں کے اصل مقامی واقعات۔

🔍 کون سی کتاب براہِ راست “1865 جنگ ہنزہ–نگر (گنش–غمیسراٹ)” سے متعلق ہے؟

درج ذیل 3 کتابیں سب سے زیادہ قریب مواد رکھتی ہیں:

✔ Gazetteer of Gilgit Agency (1897/1907)
✔ A History of the Northern Area A.H. Dani
✔ Ganish: The Ancient Settlement of Hunza Aminullah Baig

ان میں قلعہ گنش، سرٹ، گمیسرات، نگر کے حملے، ڈوگرا اثر، لشکر کی تعداد، ہتھیار، دفاعی

Gilgit: On International Anti Corruption Day, Judge Amna Zamir of the National Accountability Court Gilgit Baltistan urg...
09/12/2025

Gilgit: On International Anti Corruption Day, Judge Amna Zamir of the National Accountability Court Gilgit Baltistan urged young people, especially female students, to uphold integrity and stand firmly against corruption.

Referring to her judicial experience, Judge Amna Zamir said corruption does not always surface through major scandals. Even a delayed file, or depriving a deserving student of a scholarship due to connections, are forms of corruption that steal opportunities from the youth.

According to Media Lens, she highlighted weaknesses in the system, strongly criticising the plea bargain law, which she termed an “easy escape” for offenders. She also expressed concern over the recent amendment restricting NAB’s jurisdiction to cases above Rs 500 million, which has made action difficult in lower value but damaging corruption cases.

Judge Zamir said corruption never ends well. She added that the young generation can transform the country through truthfulness, questioning, courage, and rejecting shortcuts.

She urged the youth to make a personal pledge:
“I will rise clean, I will rise strong, and I will stand with truth, even when it is difficult.”

Sharing her own experience as a woman, she said she had to prove herself twice as much, but integrity empowered her and strengthened her professional reputation.

She said an informed and confident young generation cannot allow corruption to thrive. Young people must never compromise on their integrity, as it is the one strength no one can take away from them.

شہید ضمیر عباس چوک پر  مرکزی دھرنا جاری رہے گا جبکہ  گلگت، ہنزہ، نگر ، استور ،بلتستان اور دیگر علاقوں میں جاری دھرنے تین...
08/12/2025

شہید ضمیر عباس چوک پر مرکزی دھرنا جاری رہے گا جبکہ گلگت، ہنزہ، نگر ، استور ،بلتستان اور دیگر علاقوں میں جاری دھرنے تین دن تک موخر کرتے ہیں۔

07/12/2025
ہنزہ التت کی رہائشی خاتون س ایف کو مومن اباد چوک سے اغوا کیا گیا تفصیلات کے مطابق التت کی رہائشی خاتون نے ایک ماہ پہلے ن...
06/12/2025

ہنزہ التت کی رہائشی خاتون س ایف کو مومن اباد چوک سے اغوا کیا گیا تفصیلات کے مطابق التت کی رہائشی خاتون نے ایک ماہ پہلے نگر کے کسی لڑکے کے ساتھ شادی کی تھی اور ایک ماہ میں ایک دوسرے کے ساتھ اختلافات پیدا ہوئے جس کے بنا پر انھوں نے سول کورٹ علی اباد میں خولا کے لئے درخواست دی جب وہ التت سے کورٹ پیشی کے لئے اپنے بھائی کے ساتھ علی اباد کورٹ ا رہی تھی مومن اباد چوک پر ایک کار میں سوار ان کے شوہر اور دیگر ان نے دوستوں نے حملہ کیا اور انھوں نے اغوا کیا چوبیس گھن گزرنے کے باوجود پولیس نے ایف ائی ار نہی کی جب کورٹ نے حکم دیا تو ایف ائی ار کر دی چوبیس گھنٹے میں ان کو بازیاب نہ کرنا پولیس کے لئے سوالیہ نشان ہیں پر امن ہنزہ میں اس قسم کی غنڈا گردی افسوس کا مقام ہیں جبکہ این جی اوز اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو سوچنا چاہیں صوبائی حکومت مرکزی حکومت معاملے کا نوٹس لیں اور خاتون کو بازیاب کرائیں

* جج بینکنگ بینچ  کے جسٹس ملک عنایت الرحمن گلگت بلتستان چیف کورٹ کا محمد علی اختر، جاوید حسین ، شخ محمد اور اظہر حسین من...
06/12/2025

* جج بینکنگ بینچ کے جسٹس ملک عنایت الرحمن گلگت بلتستان چیف کورٹ کا محمد علی اختر، جاوید حسین ، شخ محمد اور اظہر حسین منوا ء سمیت دیگر نیشنل بینک کے نادہندگان کے خلاف سخت فیصلہ؛ نادہندگان کو بطور امیدوار انتخابی عمل سے روکنے کا حکم ۔۔۔۔ ڈپٹی کمشنرز کو جائیداد ضبط اور رپورٹ سمیت پیش کی ہدایت*

گلگت (پ ر)بینکنگ کورٹ گلگت بلتستان چیف کورٹ کے معزز جسٹس ملک عنایت الرحمٰن نے نیشنل بینک آف پاکستان کی جانب سے دائر درخواست پر اہم اور اصولی نوعیت کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے محمد علی اختر، جاوید حسین ، شخ محمد باقر،اظہر حسین منوا و دیگر متعدد نادہندگان کو آئندہ انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نگر اور گلگت کو نا ہندگان کی جائیداد ضبط کر کے رپورٹ سمیت 23 فروری2026 کو از خود عدالت میں پیش ہونے کا بھی حکم دیدیا تفصیلات کمطابق فاضل عدالت نے سنگل بینچ میں نیشنل بینک آف پاکستان کے وکیل محمد قاسم شہزاد ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے حکم دیتے ہوئے کہا کہ جن افراد کے ذمے نیشنل بینک کے واجبات واجب الادا ہیں اور جو اپنے قرضہ جات کی ادائیگی میں قصداً غفلت یا ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں، وہ انتخابی قوانین اور مالی شفافیت کے ناگزیر تقاضوں پر پورا نہیں اترتے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسے افراد کا انتخابی عمل میں شریک ہونا قانون، انصاف اور انتخابی نظام کی تطہیر کے منافی ہے۔ معزز عدالت نے چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کو یہ احکامات صادر کیے گئے کہ نادہندگان *محمد علی اختر، جاوید _حسین_ ، محمد باقر، اظہر حسین* منوا اور دیگر متعلقہ اشخاص کے خلاف قرضہ جات کی عدم ادائیگی کے باعث انتخابی اہلیت کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے اور انہیں مقدمہ درج التوا ہونے کی صورت میں انتخابی عمل میں حصہ لینے سے روک دیا جائے۔ عدالت نے مزید ہدایت کی کہ ان افراد کے خلاف متعلقہ قوانین اور الیکشن رولز کے تحت کارروائی کو فوری اور مؤثر بنایا جائے۔دوران سماعت نادہندگان کی جانب سے اورنگزیب خان اور زاہد علی بیگ نے اپنے موکلان کا دفاع کرتے ہوئے جوابی دلائل پیش کیے، تاہم عدالت نے ریمارکس دیے کہ نیشنل بینک کے واجبات کی عدم ادائیگی ایک مالی بدعنوانی کے زمرے میں آتی ہے جسے انتخابی معیار کے تحت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ فاضل عدالت نے بینک کے موقف کو قانونی طور پر قابلِ بھروسا، وزنی اور قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے درخواست گزار کے حق میں حکم صادر کر دیا۔
عدالت نے اپنے تحریری حکم میں قرار دیا کہ انتخابی عمل میں اہلیت کا معیار وہی امیدوار پورا کریں گے جو مالی شفافیت، قانونی ذمہ داریوں کی تکمیل اور قرضہ جات کی بروقت ادائیگی جیسے بنیادی اصولوں سے مطابقت رکھتے ہوں۔ چیف الیکشن کمشنر کو ہدایت کی گئی کہ معاملے کی سنگینی کے پیش نظر مطلوبہ قانونی کارروائی کو فوری طور پر بروئے کار لایا جائے۔
جاری کردہ
بہادر جمیل
پبلک ریلیشن آفیسر
گلگت بلتستان چیف کورٹ 👍

Ina lillah
06/12/2025

Ina lillah

یہ لڑکا جگلوٹ گورو کے قریب ایک ایکسیڈنٹ میں زخمی حالت میں روڈ پر پایا گیا۔ ہنزہ کے ایک بھائی نے انسانی ہمدردی کے تحت اسے...
06/12/2025

یہ لڑکا جگلوٹ گورو کے قریب ایک ایکسیڈنٹ میں زخمی حالت میں روڈ پر پایا گیا۔ ہنزہ کے ایک بھائی نے انسانی ہمدردی کے تحت اسے اپنی گاڑی میں ڈی ایچ کیو اسپتال سکندارآباد نگر پہنچایا۔

اس کے پاس کسی قسم کا شناختی کارڈ یا کوئی اور شناختی ثبوت موجود نہیں ہے۔
تمام بھائیوں سے گزارش ہے کہ اس اطلاع کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ اس کے لواحقین تک یہ خبر پہنچ سکے۔

05/12/2025

ہنزہ کریم آباد ، پانی کے لاین سے چوہے برآمد ۔ 🫡

چھل گنش ہنزہ میں بجلی کا سنگین بحران  عوام شدید مشکلات کا شکارچھل گنش ہنزہ میں گزشتہ کئی دنوں سے بجلی کی فراہمی مکمل طور...
04/12/2025

چھل گنش ہنزہ میں بجلی کا سنگین بحران عوام شدید مشکلات کا شکار

چھل گنش ہنزہ میں گزشتہ کئی دنوں سے بجلی کی فراہمی مکمل طور پر معطل ہے۔ پہلے بھی علاقے میں صرف ڈیڑھ گھنٹہ بجلی فراہم کی جاتی تھی، تاہم اب وہ بھی کئی دنوں سے غائب ہے۔ علاقے کے مکینوں کے مطابق محکمہ برقیات کی جانب سے نصب کردہ 50 KVA ٹرانسفارمر بار بار خراب ہو جاتا ہے اور شام ہوتے ہی کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔

اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ چھل گنش ایک اہم کمرشل ایریا ہے جہاں پیٹرول پمپ، متعدد ہوٹلز اور کاروباری مراکز موجود ہیں، اس لیے 50 KVA ٹرانسفارمر سراسر ناکافی ہے۔ عوام کے مطابق یہاں کم از کم 100 KVA یا اس سے بڑا ٹرانسفارمر نصب کیا جانا انتہائی ضروری ہے۔

بجلی کی مسلسل بندش سے کاروبار بری طرح متاثر ہو رہے ہیں جبکہ بچوں کے جاری امتحانات بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں، جس پر عوام میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔

اہلِ علاقہ نے سیکریٹری واٹر اینڈ پاور گلگت بلتستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس اہم مسئلے کا فوری نوٹس لے کر ٹرانسفارمر کی بروقت تبدیلی اور بجلی کی بحالی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے

بچیاں چل بسیں.....!بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد آصف ریکی کے بیٹے نے رات کے 1:30 بجے سیکر...
04/12/2025

بچیاں چل بسیں.....!
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد آصف ریکی کے بیٹے نے رات کے 1:30 بجے سیکرٹریٹ میٹرو اسٹیشن، اسلام آباد کے قریب 2 بچیوں بلتستان کی معصوم بیٹی تابندہ بتول اور اس کی سہیلی کو کچلا، پولیس پہنچ گئی مگر بگڑے نواب کو گرفتار نہیں کیا گیا، پھر تھوڑی دیر بعد جسٹس محمد آصف ریکی بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور اطلاعات کے مطابق بچے کو گھر بھیج دیا گیا حیران کن طور پر 15 سے 20 منٹ گزر گئے ایمبولینس نہیں پہنچ سکی، ہسپتال لیکر جایا گیا تو دوسری بچی بھی دم توڑ گئی یوں بگڑے نواب کی گرفتاری رات کے 4 بجے کے بعد عمل میں لائی گئی اوروہ بھی فرمائشی گرفتاری۔
جسٹس محمد آصف ریکی کے بیٹے سے جس وقت ایکسیڈنٹ ہوا تو وہ تنہا نہیں تھا بلکہ دو دوست بھی ہمراہ تھے، پولیس نے جج صاحب کے بیٹے کو گرفتار نہیں کیا کیونکہ اس نے پہلے ہی بتا دیا کہ وہ "جج کا بیٹا" ہے اور جسٹس آصف موقع پر خود پہنچے بیٹے کو گھر بھیجا، اس کے دوستوں کو بھگایا اور کمزور ایف آئی آر کے بعد صبح بیٹے کو پولیس کے حوالے کیا، باقی دونوں دوستوں کا ایف آئی آر میں تذکرہ ہے نا پولیس نے کیا۔
اہم بات یہ بھی ہے کہ جس وقت جج صاحب موقع پر پہنچے ایک لڑکی دم توڑ چکی تھی جبکہ دوسری کی سانسیں چل رہی تھیں، لیکن ایمبولینس تاخیر سے آنے کی وجہ سے دونوں وفات پا گئیں لیکن جج صاحب نے اپنے بیٹے کو فرار کرا کر معاملہ سنبھالنا بہتر جانا۔

چیف سیکرٹری گلگت بلتستان نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر خپلو ڈاکٹر محمد حامد کو غیرقانونی بھرتیوں اور ڈائریکٹر ہیلتھ بلتستان ریجن...
02/12/2025

چیف سیکرٹری گلگت بلتستان نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر خپلو ڈاکٹر محمد حامد کو غیرقانونی بھرتیوں اور ڈائریکٹر ہیلتھ بلتستان ریجن کے ساتھ جھگڑا کرنے پر ملازمت سے فارغ کردیا

Address

Hunza

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GB Live posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share