10/12/2025
🟧 انیسویں صدی کے(سن 1865) وسط میں ہنزہ–نگر محاذ
🗡️ انیسویں صدی کے وسط میں جب ہمالیائی سرحدوں پر طاقتوں کا سیلاب اُمڈ رہا تھا، نگر کی ریاست نے بعض روایات کے مطابق ڈوگرا سرکار کی پوشیدہ شہہ یا خاموش رضامندی سے ہنزہ کی طرف ایک تعزیری لشکر روانہ کیا۔ اس کا مقصد ہنزہ کو تجارتی راستوں اور سرحدی گزرگاہوں پر اپنا اثر کم کرنے پر مجبور کرنا تھا۔
🛡️ نگر لشکر کی تعداد اور عسکری اندازہ
مختلف مقامی حوالوں اور اس زمانے کی فوجی روایت کے مطابق، نگر نے تقریباً 1800 سے 2000 سپاہی روانہ کیے، جن میں بندوقچی، تلوار باز، ڈھال بردار اور تیرانداز شامل تھے۔
ڈوگرا حمایت موجود تھی (روایتی بیانات میں اس کا ذکر ملتا ہے)، 800 تا 1200 مسلح اہلکار بطور کمک ساتھ تھے، زیادہ نہیں، کیونکہ ڈوگرا فوج عام طور پر چھوٹے دستوں کو اس سرد، دشوار گزار خطے میں بھیجتی تھی۔
💡 نگر کا لشکر دراصل زیادہ "حجم" نہیں بلکہ جرأت اور یقین پر قائم تھا، مگر انہیں ہنزہ کے جغرافیے اور دفاعی چالوں کا وہ ادراک نہ تھا جو گنش کے باشندوں کو نسلاً بعد نسل حاصل تھا۔
🛡️ نگر اور ڈوگرا فوج کے ہتھیار
نگر کی فوج:ہےڈ لاک بندوقیں (flintlock / matchlock)
لمبی تلواریں چمڑے کی ڈھالیں تیر و کمان پتھروں سے بھرے تھیلے (پہاڑی جنگ میں استعمال ہوتے)
ڈوگرا کمک:انگریزی طرز کی براؤن بیس بندوقیں
کچھ فوجیوں کے پاس چہرا ڈھکنے والی دھات کی ڈھالیں
سنگینیں (bayonets)ڈوگرا سپاہ میں نسبتاً بہتر بارود اور معیاری نال دار بندوقیں پائی جاتی تھیں، مگر تعداد کم تھی۔
🛡️ ہنزہ/گنش لشکر کی تعداد اور دفاعی چٹان
گنش کی قدیم قبائل نے حسبِ روایت فوری لشکر کھڑا کیا: اندازاً 1800 سے 2000 مقامی جوان جنگجو
ہتھیار:مقامی ساخت کی چقماقی بندوقیں
تلوار، خنجر، کرپا سنگریزے اور لٹکدار چٹانیں (ambush weapons)سرٹ، برپور اور گنش کے درّوں میں بنے سَنگَر (stone fortifications)
💡 ہنزہ کا اصل ہتھیار "مقام کا علم" تھا: یعنی کونسی گھاٹی کب بند کرنی ہے، کس پتھر کو کب گرانا ہے، کس گلی میں دشمن کی صف ٹوٹ سکتی ہے۔
🌄 حملے کی سمتیں – جنگ کا نقشہ
(الف) گنش قلعہ – مرکزی حملہ
نگر لشکر نے سب سے پہلے گنش قلعے کی سمت بڑھنے کی کوشش کی، کیونکہ یہ وادیِ ہنزہ کا قدیم ترین مضبوط نقطہ اور کاروانی راستے کی نگرانی کا محور تھا۔ دشمن دریا کے کنارے نیچے سے اوپر چڑھتا ہوا آیا۔ قلعے سے بلند مقامات پر بیٹھے تیرانداز اور بندوقچی مسلسل فائر کرتے رہے۔ تنگ موڑوں پر بڑے پتھر لڑھکائے گئے جنہوں نے دشمن کی صفیں توڑ دیں۔
(ب) سرٹ کی سمت – ثانوی محاذ
دوسرا دستہ غماسرٹ کی جانب سے اوپر آ رہا تھا تاکہ گنش کو گھیر لیا جائے۔ یہاں قبیلے کے جوان پہلے سے مورچہ زن تھے۔ سرٹ کی چٹانی پشتوں سے اوپر سے نیچے فائرنگ اور سنگ باری نے نگر لشکر کو زخمی، منتشر اور بدحواس کر دیا۔ پہاڑی جنگ میں "بلندی" وہ نعمت ہے جو پورے لشکر کی تعداد سے زیادہ فیصلہ کن ہوتی، یہی نعمت ہنزہ کے پاس تھی۔ رات کی تاریکی میں نگر لشکر گھات سے بچنے کی کوشش میں اوپر بڑھا، مگر گنش کی نگہبان میناروں سے ان کے قدموں کی آہٹ تک سن لی گئی۔ فجر سے پہلے ہنزہ کے جوان دو محاذوں پر پھیل چکے تھے۔ غمسرٹ کی بلندیوں سے پہلی گولیاں چلیں؛ پھر گنش قلعے کی دہلیز سے۔
⚔️ دشمن کی صفیں دو حصوں میں ٹوٹ گئیں
قلعے کے نیچے بنے سنگروں سے مسلسل تیر اور بارود کے دھوئیں نے نگر سپاہ کو آگے بڑھنے نہ دیا۔ چند مقامات پر ہاتھا پائی بھی ہوئی، ہنزہ کے لشکر نے دشمن کے سردار کے قریب تک رسائی حاصل کر لی، جس سے حملہ آور کمان میں شدید خلل پڑا۔
🟧 شکست – نگر اور ڈوگرا لشکر کی پسپائی
جنگ کے تیسرے پہر تک صورت حال صاف ہو چکی تھی: نگر لشکر کے زیادہ تر سپاہی زخمی اور کئی ہلاک ہوئے۔ کچھ قیدی بنا لیے گئے۔ ڈوگرا کمک سب سے پہلے بلند گھاٹیوں سے واپس مڑی کیونکہ انہیں پتھروں کی گولہ باری نے شدید نقصان پہنچایا۔ مرکزی نگر کمان پریشان حال، منتشر اور راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہوئی۔ جس لشکر نے فتح کے غرور میں قدم رکھا تھا، وہ پسپائی، تھکن اور خوف میں ڈوب کر نگر کی جانب لوٹ گیا۔
🟧 1865 کی جنگ کے بعد ہنزہ–نگر تعلقات میں تبدیلی
1865 کی گنش کی فتح محض ایک عسکری کامیابی نہ تھی؛ یہ وہ چنگاری تھی جس نے ہنزہ–نگر تعلقات کی پوری بساط بدل دی۔ اس معرکے کے بعد دونوں ریاستوں کے درمیان جو کیفیت پیدا ہوئی، اسے تاریخ چند بڑے عنوانات میں محفوظ کرتی ہے: باہمی اعتماد کا شیرازہ ٹوٹ گیا۔ اس جنگ سے پہلے دونوں ریاستوں کے تعلقات میں اگرچہ رقابت موجود تھی، مگر ایک ’’رسمی امن‘‘ بھی برقرار تھا۔ لیکن 1865 کے حملے نے ہنزہ کے دل سے نگر پر اعتماد کی آخری ڈالی بھی توڑ دی۔ ہنزہ کی سوچ میں یہ بات پتھر پر لکیر بن گئی:
"نگر پر بھروسا کرنا گویا اپنا گھر دشمن کے ہاتھ سونپ دینا ہے۔"
🟧 نگر کی نظر میں بھی ہنزہ
ہنزہ اب "سرکش و مزاحم" ریاست کے طور پر چمکنے لگا۔ دشمنی کا پردہ ہٹا، رقابت ’’علانیہ‘‘ ہو گئی۔ 1865 سے پہلے رقابت ’’خاموش‘‘ تھی؛ بعد میں یہ رقابت کھلی جنگی پالیسی میں بدل گئی۔ دونوں نے سرحدی مورچے مضبوط کیے، ایک دوسرے کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی، حالات ذرا بدلتے تو چھوٹی جھڑپیں شروع ہو جاتیں، دریا کے پار ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔
🦅 برطانوی سرحدی مبصرین کی نظر
برطانوی مبصرین نے لکھا:
"Hunza and Nagar have become two hawks sitting on one branch."
خراج، راستہ اور تجارت سب تنازعہ بن گئے۔ 1865 کے بعد: قافلوں کا گزر، چراگاہوں کی ملکیت، سرحدی گلیشیئر، خراج اور ٹیکس، چراؤ و پانی کے حقوق سبھی چیزیں سیاسی اسلحہ بن گئیں۔
🟧 نگر چاہتا تھا کہ ہنزہ جھکے
ہنزہ یہ ماننے کو تیار نہ تھا۔ یوں معاملہ ’’سلطنتِ سُلب و کشمکش‘‘ میں داخل ہو گیا۔ چھوٹی چھوٹی جھڑپیں بڑے معرکوں کا آغاز ہو گئیں۔ 1865 کے جھٹکے نے اگلے 20–25 سال میں مسلسل جھڑپوں کی راہ ہموار کی: چراگاہوں پر سرد رَسی، قافلوں پر حملے، نگرانی چوکیوں پر گولی باری، قیدیوں کا تبادلہ، قلعوں کی مستقل مرمت۔ یہی تسلسل بالآخر 1891 کی فیصلہ کن برطانوی مہم تک لے گیا۔ یوں 1865 دراصل آخری مقامی جنگ اور 1891 پہلی غیرملکی مداخلت کی بنیاد تھی۔
🟧 نفسیاتی برتری ہنزہ کی
1865 میں گنش کی فتح نے ہنزہ کے دلوں میں ’’اعتمادِ فاتح‘‘ پیدا کر دیا۔ ہنزہ والوں نے یہ باور کر لیا:
"اگر گنش کھڑا ہے، تو پورا ہنزہ ناقابلِ تسخیر ہے۔"
دوسری طرف نگر کو اس شکست نے اندر سے لرزا دیا؛ وہ آئندہ کسی بھی موقع پر ہنزہ کے مقابل تنہا کھڑا ہونے سے ہچکچانے لگا اور ڈوگرا سرکار کی مدد کا زیادہ محتاج ہو گیا۔ یہ نفسیاتی تبدیلی پورے خطے کی سیاست کا دھارا بدل گئی۔ برطانوی توجہ بڑھ گئی، دونوں states radar پر آ گئیں۔ 1865 کے بعد گلگت، ہنزہ، نگر، یاسین، پونیال وغیرہ سب Great Game کا حصہ بنتے جا رہے تھے۔
🌟 گنش کی فتح اور ہنزہ کی شہرت
گنش کی فتح نے ہنزہ کی شہرت کو برطانوی فوجی ریکارڈ میں یوں درج کروا دیا:
"Hunza is the only state that can defy its neighbours successfully."
برطانیہ نے دونوں ریاستوں کو اپنی سرحدی تزویراتی منصوبہ بندی میں ’’اہم کھلاڑی‘‘ کے طور پر دیکھنا شروع کیا۔ یہی وہ عمل تھا جس نے آخرکار 1891 میں Hunza–Nagar Expedition کو جنم دیا۔
🟥حرف آخر
تمام پڑھنے والوں کا شکریہ یہ میری تاریخ ہےجو انگریز نے لکھی۔۔۔۔۔ اور میرے حساب میں صرف تجزیہ و ترجمہ آیا۔
شکریہ !!!۔۔۔۔انگریز ❤️
#ذاتی کاوش
❤️❤️💌
📚 ہنزہ–نگر جنگی تاریخ پر بنیادی مراجع (Reference Books)
No. 1 — Gazetteer of Gilgit Agency
مصنف: برٹش انٹیلیجنس برانچ
سنِ اشاعت: 1897 (پہلا ایڈیشن)، 1907 (نظرثانی شدہ ایڈیشن)
اشاعت کی جگہ: کلکتہ، انڈیا
مطبوعہ: Superintendent of Government Printing, Calcutta
📌 ہنزہ–نگر کے تعلقات، قبائلی قوت، لشکر بندی، قلعے، ہتھیار، ڈوگرا تعلقات، وادی کے جغرافیے کا اولین تفصیلی ماخذ۔
No. 2 — A History of the Northern Areas of Pakistan
مصنف: احمد حسن دانی (A.H. Dani)
سنِ اشاعت: 1989 (پہلا ایڈیشن)، 2001 (بعد کے ایڈیشن)
اشاعت کی جگہ: اسلام آباد
مطبوعہ: National Institute of Historical and Cultural Research
📌 ہنزہ–نگر دشمنی، تجارت، شاہراہ قراقرم سے پہلے کی تاریخی کشمکش، ڈوگرا سیاست، 19ویں صدی کی فوجی فضا کا بہترین ریسرچ ماخذ۔
3 — The Gilgit Game: The Explorers of the Western Himalayas
مصنف: John Keay
سنِ اشاعت: 1979
اشاعت کی جگہ: لندن
مطبوعہ: Oxford University Press
📌 “گریٹ گیم”، ہنزہ–نگر، ڈوگرا قبضہ، برطانوی فوجی سروے، جنگی اسٹریٹجک پس منظر۔
4 — The Himalayan Gateway: History and Culture of Northern Pakistan
مصنف: سوزن لیمٹن (Hilda Susan L. Empson / S. H. Empson)
سنِ اشاعت: 1978
اشاعت کی جگہ: لندن
مطبوعہ: Oxford University Press
📌 ہنزہ–نگر کی روایتی دشمنی، دفاعی نظام، قلعے، گنش کی تاریخ، قبیلائی عسکری کردار۔
5 — Beyond the Oxus: Archaeology & History of the Northern Areas
مصنف: I.H. N. Evans / Aurel Stein references included
سنِ اشاعت: 1910–1940 کے درمیانی مختلف مخطوطات
اشاعت: لندن، کلکتہ
📌 پرانے لشکری راستوں، قلعوں، درّوں اور جھڑپوں کے آثار۔
6 — Hunza: Lost Kingdom of the Himalayas
مصنف: John Clark
سنِ اشاعت: 1956
اشاعت کی جگہ: نیویارک
مطبوعہ: Funk & Wagnalls
📌 ہنزہ کے عسکری روایات، لشکر، جغرافیائی برتری، قلعہ گنش، قدیم حملوں کے بیانات۔
No. 7 — The Northern Frontier of India
مصنف: C.E. Bates (Colonel Bates)
سنِ اشاعت: 1873 (اور بعد میں متعدد ایڈیشن)
اشاعت کی جگہ: کلکتہ
مطبوعہ: Government Press
📌 ہنزہ–نگر، ڈوگرا سیاست، فوجی کمک، ہتھیار، جنگی حرکیات (military dynamics)۔
No. 8 — History of Kashmir (Dogra Period)
مصنف: P.N.K. Bamzai
سنِ اشاعت: 1962
اشاعت: نئی دہلی
📌 ڈوگرا فوج کی عسکری پالیسی، گلگت–ہنزہ–نگر میں فوجی مداخلت اور باہمی اتحادی کارروائیاں۔
No. 9 — Tarikh-e-Dardistan
مصنف: مرزا غلام محمد
سنِ اشاعت: 1895 (اصل مخطوطہ)، 1923 (طباعت)
اشاعت کی جگہ: لاہور، کلکتہ
📌 ہنزہ–نگر خانہ جنگیاں، ڈوگرا اثر، مقامی فوجی تنظیمیں، 19ویں صدی کی جھڑپیں۔
10 — Hunza and Nagar Under the Raj
مصنف: John Mock & Kimmy Goodwin (تحقیقی مرکب)
سنِ اشاعت: 1990s–2000s
اشاعت: مختلف تحقیقی جرائد (not a single book but peer-reviewed papers)
📌 1891 سے پہلے کی فوجی صورتحال، ریاستی تعلقات، لشکر سازی، قبائلی دفاعی ماڈل۔
📌 مزید دو اہم مقامی ماخذ (ہنزہ–گنش–نگر کی جنگی روایات):
11 — Ganish: The Ancient Settlement of Hunza
مصنف: Dr. Aminullah Baig
سنِ اشاعت: 2011
اشاعت کی جگہ: کراچی / گلگت
📌 گنش قلعہ، قبائل، دفاعی نظام، جنگی راستے، سرٹ و گمہسرات کی حکمتِ عملی۔
12 — Shahnama-e-Hunza (مقامی تاریخی بیانیہ)
مصنف: مختلف مقامی اہلِ قلم (oral history compiled)
سنِ اشاعت: 1980–1990 کے درمیان
📌 1860–1890 کی جھڑپوں کے اصل مقامی واقعات۔
🔍 کون سی کتاب براہِ راست “1865 جنگ ہنزہ–نگر (گنش–غمیسراٹ)” سے متعلق ہے؟
درج ذیل 3 کتابیں سب سے زیادہ قریب مواد رکھتی ہیں:
✔ Gazetteer of Gilgit Agency (1897/1907)
✔ A History of the Northern Area A.H. Dani
✔ Ganish: The Ancient Settlement of Hunza Aminullah Baig
ان میں قلعہ گنش، سرٹ، گمیسرات، نگر کے حملے، ڈوگرا اثر، لشکر کی تعداد، ہتھیار، دفاعی