23/08/2026
دلومل کی بستی اور کردار کا غازی۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر ۔۔۔ شمس الحق نوازش غذری
دنیا کی دس ہزار سالہ تاریخ کے طویل اور پیچیدہ سفر میں شاید یہ پہلا موقع ہے کہ برف پوش بقعۂ خاکی، تحصیل پھنڈر کی فلک بوس بستی دلومل کے ایک پشتنی باشندے کو اس خطے کی نمائندگی کا موقع میسر آیا ہے۔ یہ محض ایک سیاسی واقعہ نہیں، بلکہ ان بلند و بالا پہاڑوں کے دامن میں جنم لینے والی ایک نئی امید، ایک نئے شعور اور ایک نئے سیاسی مزاج کی علامت ہے۔
اگر کسی صاحبِ ذوق کے دل و دماغ میں کبھی دلومل کی سرزمین پر قدم رکھنے کا خواب انگڑائی لے تو خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے سے پہلے اپنے معصوم دل و دماغ میں جھانک کر یہ معلوم کرنے کی ضرور زحمت کر لے کہ دلومل تک پہنچنے کے لیے صرف سفر کا حوصلہ نہیں، ارم اسٹرانگ کا عزم چاہیے۔ کیونکہ جیسے ہی دلومل کی سرزمین شروع ہوتی ہے، اجنبی کو یوں محسوس ہونے لگتا ہے گویا وہ کسی عام گاڑی میں نہیں بلکہ خلائی شٹل میں بیٹھ کر آسمان کی سمت محوِ پرواز ہے۔ اس کی دشوار گزار چڑھائیوں پر وہی شخص بے خوف ہو کر نیچے دیکھ سکتا ہے جس کے سینے میں چیتے کا جگر اور شیر کا دل ہو۔
مگر اس داستان کا اصل حسن یہاں سے شروع ہوتا ہے۔
کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ستاروں کی ہمسائیگی میں رہنے والی اس بستی کا ایک فرزند سنہ 2026ء میں اس خطے کے لوگوں کو ایک ایسے شعور سے روشناس کرانے کی جدوجہد کرے گا جس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ عوام کے حقوق ان کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے کردار "درکار" ہوتا ہے، "اداکار" نہیں؛ عمل چاہیے، الفاظ کا جادو نہیں۔
اس خطے کی سیاسی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جس کے بس میں جتنا رہا، اس نے اتنا ہی یہاں کے مکینوں کو چوکوں اور چوراہوں میں لا کھڑا کیا، ان کے دکھوں کو اپنی شہرت کا زینہ بنایا اور ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے انہیں اپنی سیاست کا اشتہار بنا لیا۔۔۔۔
لوگوں کو ائے روز سڑکوں پر گھسیٹنا ، مصنوعی ہمدردی کا اظہار کرنا، خود کو ان کا خود ساختہ مسیحا قرار دینا اور پھر یہ باور کرانا کہ "ہم ہی آپ کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہیں"—یہ سب اس سیاسی رویے کا حصہ رہا ہے جس میں عوام مقصد نہیں، ذریعہ بن جاتے ہیں۔
اور جب اسی سرزمین کے حسن، اس کی وادیوں، اس کے وسائل اور اس کی سیاحتی کشش کو بھی مفادات کی منڈی میں لے جایا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر عوام کے حصے میں آتا کیا ہے؟
بدقسمتی سے گفتار کے غازیوں کو ہمیشہ ایسے مسائل درکار رہے ہیں جو کبھی حل طلب ہی نہ ہوں؛ کیونکہ جو مسئلہ حل ہو جائے، وہ ان کی سیاست کا موضوع نہیں رہتا۔ چنانچہ مسئلے زندہ رہتے ہیں، تقریریں زندہ رہتی ہیں، سوشل میڈیا کی پوسٹیں زندہ رہتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن تاریخ کا پہیہ ہمیشہ ایک ہی سمت میں نہیں گھومتا۔
اسی ماحول میں اگر کوئی ایسی قیادت سامنے آئے جو اقتدار کے ایوانوں سے زیادہ عمل کے میدان پر یقین رکھتی ہو؛ جو سمجھتی ہو کہ قیادت کا اصل منصب تصویریں بنوانا نہیں بلکہ مسائل کی بیخ کنی ہے؛ جو دنیا کے پسماندہ ترین خطوں، چھشی نالہ اور بتھریت جیسے دور افتادہ علاقوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا سے جوڑنے کی عملی کوشش کرے؛ جو اقتدار میں آنے سے پہلے ہی وہاں کے مکینوں کو حصولِ علم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے فرنیچر بھی مہیا کرے اور ٹیچر بھی۔۔۔۔۔۔۔
جو روڈ کے متاثرین کے معاوضوں کی یکمشت ادائیگی کے لیے اپنی تمام تر توانائی صرف کرے؛ جو بجلی کی قلت دور کرنے کے لیے نئے بجلی گھر کے قیام کی منصوبہ بندی کرے؛ جو پرانے بجلی گھروں کی لیکیجز اور دیگر تکنیکی خرابیوں کو بحران بننے سے پہلے ہنگامی بنیادوں پر درست کروانے کا اہتمام کرے؛
جو بے آب و گیاہ وادیوں کو سیراب کرنے کے لیے مثبت اور دیرپا حکمتِ عملی وضع کرے؛ جو پرانے پلوں کی بروقت مرمت اور نئے پلوں کی تعمیر کو ترجیح دے؛ جو جل جانے والے ٹرانسفارمرز کو بروقت تبدیل کر کے نئے ٹرانسفارمر نصب کروائے؛ جو شکستہ بجلی کے کھمبوں کو محض تصویروں میں نہیں بلکہ عملی طور پر تبدیل کروائے؛
اور جس محکمے میں کوئی خامی دکھائی دے، وہاں فائلوں کے پیچھے چھپنے کے بجائے متعلقہ محکمے کے سربراہ کو بنفسِ نفیس موقع پر لے جائے، مسئلے کا مشاہدہ کرے اور اس کے بروقت تدارک کو یقینی بنائے۔۔۔۔۔۔۔۔جوطوفان کی تندی ہو یا سیلاب کی یلغار مصیبت کی گھڑی میں متاثرین کے شانہ بشانہ کھڑا رہے۔۔۔۔۔جو دریائے غذر کی بےرحم موجوں میں ڈوب کر لاپتہ ہونے والے نوجوان کو محض ایک خبر یا حادثہ سمجھ کر فراموش نہ کرے بلکہ انسانی زندگی کی حرمت کو سیاست اور مصلحت سے بالاتر سمجھتے ہوئے اسلام آباد سے غوطہ خوروں کی ماہر ٹیم بلوا کر مرحوم کے لواحقین کی بے چینی دور کردے۔۔۔۔۔۔۔۔ جو جی بی کونسل کے سیکریٹری سے لیکر ڈپٹی کمشنر اور گلگت شندور روڈ کے پی ڈی تک کو مسائل کے اصل مقام،یعنی عوام کی دہلیز تک لے ائے۔۔۔۔۔۔ تاکہ فائلوں میں دفن مسلے زمین پر دیکھائی دیں۔۔۔۔۔۔ اور کاغذوں میں بننے والے منصوبے حقیقت کی دھول میں اپنا امتحان دے سکیں ۔۔۔۔۔۔اور جو اپنی بےشمار سیاسی،سماجی اور انتظامی مصروفیات کے باوجود کھیل کے میدان میں اترنے والے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے بھی وقت نکالے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیونکہ وہ جانتا ہے۔۔۔۔قومیں صرف سڑکوں،پلوں اور بجلی گھروں سے نہیں بنتیں بلکہ ان کے نوجوانوں کے خوابوں،حوصلوں اور صلاحیتوں سے تعمیر ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ سو جو شخص تعمیر سڑک سے لیکر تعمیر کردار تک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بجلی کے کھمبے سے لیکر نوجوان کے حوصلے تک۔۔۔۔۔۔۔۔ سیلاب زدہ انسان سے لیکر کھیل کے میدان میں موجود کھلاڑی تک ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر سطح پر انسان کو مرکز توجہ بنائے ۔۔۔۔۔۔۔ اسے محض سیاست دان کہنا شاید اس کے کردار کو ایک محدود تعریف میں قید کرنا ہوگا۔۔۔۔۔۔یہیں وہ مقام ہے ۔۔۔۔۔ جہاں گفتار سیاست سے کردار کی سیاست جنم لیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔