Voice Of Baam E Dunya

Voice Of Baam E Dunya Educationist
Writer
Politician
Linguist
Literary Critic

23/08/2026
دلومل کی بستی  اور کردار کا غازی۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر ۔۔۔ شمس الحق نوازش غذری دنیا کی دس ہزار سالہ تاریخ کے طویل اور پیچیدہ سفر ...
23/08/2026

دلومل کی بستی اور کردار کا غازی۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر ۔۔۔ شمس الحق نوازش غذری
دنیا کی دس ہزار سالہ تاریخ کے طویل اور پیچیدہ سفر میں شاید یہ پہلا موقع ہے کہ برف پوش بقعۂ خاکی، تحصیل پھنڈر کی فلک بوس بستی دلومل کے ایک پشتنی باشندے کو اس خطے کی نمائندگی کا موقع میسر آیا ہے۔ یہ محض ایک سیاسی واقعہ نہیں، بلکہ ان بلند و بالا پہاڑوں کے دامن میں جنم لینے والی ایک نئی امید، ایک نئے شعور اور ایک نئے سیاسی مزاج کی علامت ہے۔
اگر کسی صاحبِ ذوق کے دل و دماغ میں کبھی دلومل کی سرزمین پر قدم رکھنے کا خواب انگڑائی لے تو خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے سے پہلے اپنے معصوم دل و دماغ میں جھانک کر یہ معلوم کرنے کی ضرور زحمت کر لے کہ دلومل تک پہنچنے کے لیے صرف سفر کا حوصلہ نہیں، ارم اسٹرانگ کا عزم چاہیے۔ کیونکہ جیسے ہی دلومل کی سرزمین شروع ہوتی ہے، اجنبی کو یوں محسوس ہونے لگتا ہے گویا وہ کسی عام گاڑی میں نہیں بلکہ خلائی شٹل میں بیٹھ کر آسمان کی سمت محوِ پرواز ہے۔ اس کی دشوار گزار چڑھائیوں پر وہی شخص بے خوف ہو کر نیچے دیکھ سکتا ہے جس کے سینے میں چیتے کا جگر اور شیر کا دل ہو۔
مگر اس داستان کا اصل حسن یہاں سے شروع ہوتا ہے۔
کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ستاروں کی ہمسائیگی میں رہنے والی اس بستی کا ایک فرزند سنہ 2026ء میں اس خطے کے لوگوں کو ایک ایسے شعور سے روشناس کرانے کی جدوجہد کرے گا جس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ عوام کے حقوق ان کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے کردار "درکار" ہوتا ہے، "اداکار" نہیں؛ عمل چاہیے، الفاظ کا جادو نہیں۔
اس خطے کی سیاسی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جس کے بس میں جتنا رہا، اس نے اتنا ہی یہاں کے مکینوں کو چوکوں اور چوراہوں میں لا کھڑا کیا، ان کے دکھوں کو اپنی شہرت کا زینہ بنایا اور ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے انہیں اپنی سیاست کا اشتہار بنا لیا۔۔۔۔
لوگوں کو ائے روز سڑکوں پر گھسیٹنا ، مصنوعی ہمدردی کا اظہار کرنا، خود کو ان کا خود ساختہ مسیحا قرار دینا اور پھر یہ باور کرانا کہ "ہم ہی آپ کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہیں"—یہ سب اس سیاسی رویے کا حصہ رہا ہے جس میں عوام مقصد نہیں، ذریعہ بن جاتے ہیں۔
اور جب اسی سرزمین کے حسن، اس کی وادیوں، اس کے وسائل اور اس کی سیاحتی کشش کو بھی مفادات کی منڈی میں لے جایا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر عوام کے حصے میں آتا کیا ہے؟
بدقسمتی سے گفتار کے غازیوں کو ہمیشہ ایسے مسائل درکار رہے ہیں جو کبھی حل طلب ہی نہ ہوں؛ کیونکہ جو مسئلہ حل ہو جائے، وہ ان کی سیاست کا موضوع نہیں رہتا۔ چنانچہ مسئلے زندہ رہتے ہیں، تقریریں زندہ رہتی ہیں، سوشل میڈیا کی پوسٹیں زندہ رہتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن تاریخ کا پہیہ ہمیشہ ایک ہی سمت میں نہیں گھومتا۔
اسی ماحول میں اگر کوئی ایسی قیادت سامنے آئے جو اقتدار کے ایوانوں سے زیادہ عمل کے میدان پر یقین رکھتی ہو؛ جو سمجھتی ہو کہ قیادت کا اصل منصب تصویریں بنوانا نہیں بلکہ مسائل کی بیخ کنی ہے؛ جو دنیا کے پسماندہ ترین خطوں، چھشی نالہ اور بتھریت جیسے دور افتادہ علاقوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا سے جوڑنے کی عملی کوشش کرے؛ جو اقتدار میں آنے سے پہلے ہی وہاں کے مکینوں کو حصولِ علم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے فرنیچر بھی مہیا کرے اور ٹیچر بھی۔۔۔۔۔۔۔
جو روڈ کے متاثرین کے معاوضوں کی یکمشت ادائیگی کے لیے اپنی تمام تر توانائی صرف کرے؛ جو بجلی کی قلت دور کرنے کے لیے نئے بجلی گھر کے قیام کی منصوبہ بندی کرے؛ جو پرانے بجلی گھروں کی لیکیجز اور دیگر تکنیکی خرابیوں کو بحران بننے سے پہلے ہنگامی بنیادوں پر درست کروانے کا اہتمام کرے؛
جو بے آب و گیاہ وادیوں کو سیراب کرنے کے لیے مثبت اور دیرپا حکمتِ عملی وضع کرے؛ جو پرانے پلوں کی بروقت مرمت اور نئے پلوں کی تعمیر کو ترجیح دے؛ جو جل جانے والے ٹرانسفارمرز کو بروقت تبدیل کر کے نئے ٹرانسفارمر نصب کروائے؛ جو شکستہ بجلی کے کھمبوں کو محض تصویروں میں نہیں بلکہ عملی طور پر تبدیل کروائے؛
اور جس محکمے میں کوئی خامی دکھائی دے، وہاں فائلوں کے پیچھے چھپنے کے بجائے متعلقہ محکمے کے سربراہ کو بنفسِ نفیس موقع پر لے جائے، مسئلے کا مشاہدہ کرے اور اس کے بروقت تدارک کو یقینی بنائے۔۔۔۔۔۔۔۔جوطوفان کی تندی ہو یا سیلاب کی یلغار مصیبت کی گھڑی میں متاثرین کے شانہ بشانہ کھڑا رہے۔۔۔۔۔جو دریائے غذر کی بےرحم موجوں میں ڈوب کر لاپتہ ہونے والے نوجوان کو محض ایک خبر یا حادثہ سمجھ کر فراموش نہ کرے بلکہ انسانی زندگی کی حرمت کو سیاست اور مصلحت سے بالاتر سمجھتے ہوئے اسلام آباد سے غوطہ خوروں کی ماہر ٹیم بلوا کر مرحوم کے لواحقین کی بے چینی دور کردے۔۔۔۔۔۔۔۔ جو جی بی کونسل کے سیکریٹری سے لیکر ڈپٹی کمشنر اور گلگت شندور روڈ کے پی ڈی تک کو مسائل کے اصل مقام،یعنی عوام کی دہلیز تک لے ائے۔۔۔۔۔۔ تاکہ فائلوں میں دفن مسلے زمین پر دیکھائی دیں۔۔۔۔۔۔ اور کاغذوں میں بننے والے منصوبے حقیقت کی دھول میں اپنا امتحان دے سکیں ۔۔۔۔۔۔اور جو اپنی بےشمار سیاسی،سماجی اور انتظامی مصروفیات کے باوجود کھیل کے میدان میں اترنے والے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے بھی وقت نکالے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیونکہ وہ جانتا ہے۔۔۔۔قومیں صرف سڑکوں،پلوں اور بجلی گھروں سے نہیں بنتیں بلکہ ان کے نوجوانوں کے خوابوں،حوصلوں اور صلاحیتوں سے تعمیر ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ سو جو شخص تعمیر سڑک سے لیکر تعمیر کردار تک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بجلی کے کھمبے سے لیکر نوجوان کے حوصلے تک۔۔۔۔۔۔۔۔ سیلاب زدہ انسان سے لیکر کھیل کے میدان میں موجود کھلاڑی تک ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر سطح پر انسان کو مرکز توجہ بنائے ۔۔۔۔۔۔۔ اسے محض سیاست دان کہنا شاید اس کے کردار کو ایک محدود تعریف میں قید کرنا ہوگا۔۔۔۔۔۔یہیں وہ مقام ہے ۔۔۔۔۔ جہاں گفتار سیاست سے کردار کی سیاست جنم لیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

(۔  الوداع عبدالحلیم شرر.                               آخری قسط۔بالآخر عبدالحلیم شرر کی وہ عیادت، جسے میں محض ایک معمول...
17/08/2026

(۔ الوداع عبدالحلیم شرر. آخری قسط
۔
بالآخر عبدالحلیم شرر کی وہ عیادت، جسے میں محض ایک معمولی ملاقات سمجھ کر لوٹا تھا، حیاتِ فانی میں ہماری آخری ملاقات ثابت ہوئی۔ انسان بھی عجیب مخلوق ہے؛ حقیقت سامنے کھڑی ہو تو بھی امید کے سراب میں پناہ ڈھونڈتا رہتا ہے۔ میں ہر بار اپنے دل کو انہی خیالی تسلیوں سے بہلاتا رہا کہ ابھی کوئی نہ کوئی امید افزا خبر ضرور آئے گی، ابھی حالات سنبھل جائیں گے، ابھی حلیم شرر پھر سے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ ہمارے درمیان موجود ہوگا۔
ایک روز سرِراہ جاوید اقبال المعروف جاوید دادو سے اچانک ملاقات ہوئی تو نہ جانے کیوں میرے اندر ایک عجیب بے چینی نے جنم لیا۔ میں اس کے چہرے کو غور سے دیکھتا رہا۔ دل میں ایک ہی سوال تھا کہ آج وہ عبدالحلیم شرر کی صحت کے بارے میں دل جوئی کی خبر سنائیں گے یا ایسی خبر دیں گے جو دل کو چیر کر رکھ دے۔
پوچھنے سے اس لیے گریز کیا کہ کہیں زبان سے ایسا لفظ نہ نکل آئے جسے سن کر اوسان خطا ہو جائیں۔ دلِ ناداں کو سمجھایا کہ شاید وہ خود ہی یوں کہہ دیں گے:
"پتا ہے، عبدالحلیم شرر کی صحت میں بہتری کے آثار نمودار ہونے لگے ہیں۔"
مگر میری اس خام خیالی کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب عبدالحلیم کا نام لینے سے پہلے ہی جاوید دادو کے چہرے پر افسردگی کی ایک گہری پرچھائیں اتر آئی۔ انہوں نے چند لمحوں کے لیے آنکھیں بند کیں اور انتہائی دکھی لہجے میں بولے:
"اب تو وہ ہسپتال منتقل ہوچکے ہیں۔ صحت روز بروز ابتری کی طرف جا رہی ہے۔ علمِ طب کے ماہرین تو پہلے ہی مایوس تھے، اب ہمیں بھی ان کی حالت کے بگڑنے کے آثار صاف دکھائی دے رہے ہیں۔"
تھوڑی دیر توقف کے بعد بولے:
"موت کا وقت کسی کے علم میں نہیں کہ کون کس لمحے اجل کے ہاتھوں لقمٔہ اجل ہوگا؛ مگر جو لوگ بستر پر پڑے کراہ رہے ہوں، جن کی نبضوں کو ٹٹولنے والے ماہرِ طِب بھی بے بسی سے سر ہلانے لگیں، ان کی زندگی کا ہر اگلا سانس، جانے کب آخری سانس بن جائے، کوئی نہیں جانتا۔"
یہ دس اگست کی سہ پہر تھی۔ میں جسمانی اور ذہنی طور پر پہلے ہی شدید تھکاوٹ کا شکار تھا۔ اوپر سے جاوید دادو کے الفاظ نے تھکے ہوئے بدن کو گویا خاک پر ڈھیر کر دیا۔
دل نے کہا:
"جوٹیال سے سٹی ہسپتال کون سا دور ہے؟ ابھی بھاگ کر حلیم کے پاس پہنچ جاؤں، اسے جی بھر کر دیکھوں، اس کے پاس کچھ دیر بیٹھوں۔"
مگر خواہش نے ابھی دل کے تہہ خانے میں پوری طرح آنکھ بھی نہ کھولی تھی کہ خود فریبی کا شیطان حسبِ معمول چہرے پر سنجیدگی اور معصومیت سجائے آن دھمکا۔ اس نے ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں اس نادان اور کاہل انسان کو یہ باور کرا دیا کہ:
"اس وقت عیادت ۔۔۔۔ مریض کے لیے سکون اور تسلی کے بجائے پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔"
پھر دل کو مزید فریب دیا:
"وہ کوئی عام مریض نہیں، جگری دوست ہے۔ اس کے پاس چند لمحوں کی نہیں، کئی گھنٹوں کی رفاقت درکار ہے۔ ویسے بھی تم اس کے سرہانے پہنچتے ہی 'بچے اکیلے ہیں' کا ورد شروع کر دو گے۔ کیا کبھی سوچا ہے کہ تمہارے یہ جملے اس کے دل و دماغ کو کس طرح چیر جائیں گے؟"
بس، اتنی سی دلیل کافی تھی۔ عیادت کا فیصلہ اگلے دن تک مؤخر کر دیا۔
کاش!
انسان کو معلوم ہوتا کہ بعض فیصلوں میں "کل" نام کی کوئی صبح نہیں ہوتی۔
عبدالحلیم شرر کی زیارت کی آرزو نے گیارہ اگست کی صبح مجھے معمول کے وقت سے پہلے ہی جگا دیا۔ صبح کے تقریباً نو بجے ہسپتال کی طرف روانہ ہوا تو موبائل انتہائی بے رحمی سے بجنے لگا۔ اسکرین پر جاوید دادو کا نام جگمگا رہا تھا۔
دل نے فوراً ایک خوش فہمی تراش لی:
"شاید جاوید دادو بھی آج میرے ہمرکاب بنیں گے۔ شاید وہ ہسپتال پہنچ چکے ہیں، یا شاید گھر سے نکلنے سے پہلے میرا مقام معلوم کر رہے ہیں۔"
سلام کے تبادلے کے فوراً بعد وہ اندوہناک جملہ میرے کانوں سے ٹکرایا جس نے پورے وجود کو اندر سے ریزہ ریزہ کر دیا:
"عبدالحلیم اب ہم میں نہیں رہا۔"
اس ایک جملے نے جیسے وقت کو روک دیا۔
اس کے بعد میں نے کتنی بار جاوید دادو کا نمبر ملایا، مجھے یاد نہیں؛ مگر ہر ڈائل نے امید کے بجائے مایوسی میں اضافہ کیا۔
ہانپتے، کانپتے جب اسی وارڈ میں پہنچا جہاں حلیم کئی دنوں سے زیرِ علاج تھا تو وہاں ایک عجیب سنّاٹا میرا منتظر تھا۔
وہاں کوئی حلیم نہیں تھا۔
کونے میں بیٹھے ایک سفید ریش بزرگ نے پوچھا:
"کس کی تلاش ہے؟"
میں نے ایک ہی سانس میں سارا ماجرا سنا دیا۔
بابا نے میری بے خبری پر سر ہلایا اور کہا:
"بابو! تمہاری فرصت کا کوئی اتنا انتظار نہیں کرتا۔ وہ آج طلوعِ سحر سے پہلے ہی جان، جانِ آفریں کے سپرد کر چکا۔ وہ دنیا سے تو رخصت ہوا ہی، آج اس ہسپتال سے بھی رخصت ہوگیا۔"
پھر دونوں ہاتھوں سے اپنے زانوؤں کا سہارا لے کر اٹھے، مجھے طنزیہ نظروں سے دیکھا اور بولے:
"ان دیواروں کو تکتے رہنے سے وہ واپس نہیں آئے گا۔ دوست تھا تو گھر کا پتا بھی معلوم ہوگا۔ چل... اس گھر کی راہ لے، جہاں اس کی جسدِ خاکی گئی ہے۔"
ان کی بات میرے لیے کسی تازیانے سے کم نہ تھی۔
دل چاہا کہ بابا کے ہاتھ میں موجود چھڑی وہیں میرے سر پر برس جائے۔ شاید اس سزا کے باوجود بھی میرا جرم معاف نہ ہو۔
میں سٹی ہسپتال کی سیڑھیاں اتر رہا تھا، مگر محسوس یوں ہو رہا تھا جیسے ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی سے نیچے کھسک رہا ہوں۔ ہسپتال کی ٹائلیں پاؤں تلے کانٹوں اور جھاڑیوں میں بدل گئی تھیں۔ سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا، مگر میرے لیے یہ دن گھپ اندھیرے میں تبدیل ہو چکا تھا۔
گلگت کے بازاروں میں اپنی ذات سے بے خبر، کبھی چلتا، کبھی گھسٹتا اور کبھی یوں محسوس ہوتا جیسے اپنے ہی وجود کو رینگتے ہوئے گھسیٹ رہا ہوں۔
بالآخر کوہِ ہندوکش کے دامن میں واقع اس گھر تک پہنچا جہاں عبدالحلیم نے علالت کے آخری دن گزارے تھے۔
وہاں بھی ہُو کا عالم تھا۔
پوچھنے پر معلوم ہوا:
"وہ یہاں سے بھی آگے نکل چکا ہے۔"
میں جتنا تیز چلتا، آج کا یہ سیاہ راستہ اتنا ہی طویل ہوتا جاتا۔ وقت جیسے میرے خلاف سازش کر رہا تھا۔
سونیار بازار کے شرقی حصے میں سیدھے ہاتھ U-Turn لیتے ہی یوں محسوس ہوا جیسے اب میں بے لوث دوستوں کی سرزمین میں داخل ہو رہا ہوں۔
دیکھتے ہی دیکھتے خوبصورت بستی ڈموٹ سامنے آ گئی۔
مگر آج ڈموٹ کی دودھ کی آبشار کی مانند بہتی ندی بھی جیسے سسکیاں لے رہی تھی۔ پانی بہہ رہا تھا، مگر اس کے بہاؤ میں بھی آج ایک سوگ تھا۔
ڈموٹ سے چند فرلانگ کے فاصلے پر واقع منوٹ کے بقعۂ خاک میں داخل ہوا تو ہر طرف انسانی سروں کا سمندر دکھائی دیا۔
عین اس وقت منوٹ کی جامع مسجد میں جماعت کھڑی تھی۔ مسجد کی بالائی منزل کے شمالی حصے میں ایک چھوٹے سے کمرے میں نماز کے لیے جگہ ملی۔ مقامی لوگوں نے ایک اجنبی مہمان کو دیکھتے ہی انتہائی اپنائیت سے دائیں بائیں جگہ بنائی۔
نمازِ ظہر ادا کرکے باہر نکلا تو اس ہجوم کا حصہ بن گیا جو مسجد کے شرقی حصے سے نیچے کی طرف ایک پگڈنڈی پر رواں تھا۔
اسی ہجوم کی اقتدا میں جب سبزہ زار کے بڑے دروازے تک پہنچا اور اوپر نگاہ اٹھائی تو دروازے کی پیشانی پر لکھا تھا:
"گورنمنٹ گرلز مڈل سکول منوٹ"
گرلز سکول منوٹ کا وسیع و عریض سبزہ زار انسانوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔
سکول کے برآمدے کے شمالی حصے سے عبدالحلیم شرر کے دوستوں کی آہوں اور سسکیوں کی بازگشت اٹھ رہی تھی۔ جاوید اقبال المعروف جاوید دادو، عارف عالم، اعجازِ احمد ،امتیاز احمد، جوہر خان، ایڈووکیٹ سرفراز احمد، شوکت علی انجم، میر افضل اور دوسرے احباب غم کی تصویر بنے کھڑے تھے۔
ان سب کے استاذ الاساتذہ مولانا نواب الدین برآمدے کے شمالی کونے میں دیوار سے ٹیک لگائے کھڑے تھے۔ لال و سفید رومال سے سر ڈھانپے، ہونٹ بھینچے، آنکھوں میں چھپے سیلاب کو روکنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔
برآمدے میں کھڑے دوستوں نے مجھے ہجوم میں سے کھینچا اور اپنے قریب کر لیا۔
ابھی گلے لگ کر ایک دوسرے کو تسلی دینے کا موقع بھی نہ ملا تھا کہ:
عبدالحلیم شرر انسانوں کے کندھوں پر سوار ہو کر مڈل سکول منوٹ کے گیٹ میں داخل ہوا۔
ان کے آمد کے ساتھ ہی صفیں سیدھی کرنے کی آواز نے دل کی دھڑکن مزید تیز کردی۔
چند ہی لمحوں میں نمازِ جنازہ کے لیے "اللہ اکبر" کی صدا بلند ہوئی۔
نماز مکمل ہوئی۔
دائیں جانب السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا، پھر اسی سلام کی ادائیگی کے واسطے بائیں جانب مڑا تو برمس کے اوپر کھڑا "ہین ایس" نام کا وہ دیوہیکل پہاڑ مجھے یوں دکھائی دیا جیسے صدیوں کا کوئی خاموش بزرگ اپنی بھنویں چڑھائے بزبانِ حال طنزیہ انداز میں کہہ رہا ہو:
"اگر دوستوں سے محبت کی لاج رکھنی ہے تو حیاتِ فانی میں رکھو؛ دنیا سے ہمیشہ کے لیے گزر جانے کے بعد جتنا ہاتھ مَلو گے، جتنا پچھتاؤ گے، جتنا آنسو بہاؤ گے... آخر اس سے حاصل کیا ہوگا؟"
سٹی ہسپتال کے ترش مزاج ضعیف بابا سے لے کر برمس کے اس دیوہیکل خاموش پہاڑ تک، ہر طرف سے آج میرے لیے سرزنش کا ایک ہی پیغام آ رہا تھا:
زندہ انسانوں کی قدر، ان کے مرنے کے بعد نہیں؛ ان کے جیتے جی کی جاتی ہے۔
میں اس احساس کے بوجھ تلے آخری زیارت کے لیے وہاں جا کر کھڑا ہوا جہاں آخری زائر کے گزرنے تک اسے جی بھر کر دیکھنے کی گنجائش تھی۔
وہ خاموش تھا۔
وہ مطمئن تھا۔
وہ اس دنیا کی بے قراریوں سے آزاد ہوچکا تھا۔
دائیں جانب شوکت علی انجم زار و قطار رو رہے تھے اور بائیں جانب جاوید دادو کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
میں حلیم کے چہرے کو دیکھتا رہا۔
وہ چہرہ جس سے کتنی باتیں اور یادیں وابستہ تھیں، آج ایک ایسی خاموشی میں ڈوبا تھا جس کا جواب اس دنیا میں کسی زبان کے پاس نہیں۔
وقت نے شاید اس لمحے کو بھی اپنے حساب میں درج کیا ہوگا، مگر مجھے تو وہ لمحہ سیکنڈ کے ہزارویں حصے سے بھی مختصر محسوس ہوا۔
دیکھتے ہی دیکھتے حیاتِ فانی کا یہ مسافر، حیاتِ جاودانی کی طرف روانہ ہوگیا۔
وہ پھر انہی انسانی کندھوں پر سوار ہوا اور مڈل سکول منوٹ کے گیٹ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے باہر نکل گیا۔
ہم آنسوؤں کے سمندر میں ڈوبے، اس کی چارپائی کو چھوتے ہوئے اس مقام تک پہنچے جہاں سے آج تک کوئی واپس نہیں آیا۔
عبدالحلیم شرر!
تمہارے جانے نے ہمیں ایک ایسا سبق دے دیا جسے شاید تمہاری زندگی بھر کی رفاقت بھی اتنی شدت سے نہ سکھا سکتی تھی:
زندگی مختصر ہے، محبت مؤخر نہیں کی جاتی؛ عیادت کل پر نہیں چھوڑی جاتی؛ دوستی کا حق بعدِ مرگ نہیں، حیاتِ فانی میں ادا کیا جاتا ہے۔
کیونکہ موت کے بعد باقی رہ جاتا ہے تو صرف پچھتاوا، یاد، آنسو اور ایک ایسا سوال جس کا جواب شاید انسان اپنی پوری زندگی میں تلاش کرتا رہے:
"کاش... میں کل نہیں، آج چلا جاتا۔"

ڈموٹ (جگلوٹ) کا عبد الحلیم شرر۔۔۔۔۔۔۔یہ پندرہ اور بیس جولائی کے درمیانی دنوں میں سے ایک جھلسا دینے والی دوپہر تھی۔ آسمان...
12/08/2026

ڈموٹ (جگلوٹ) کا عبد الحلیم شرر۔۔۔۔۔۔۔
یہ پندرہ اور بیس جولائی کے درمیانی دنوں میں سے ایک جھلسا دینے والی دوپہر تھی۔ آسمان سے سورج انگارے برسا رہا تھا، مگر تاریخ کون سی تھی اور دن کون سا—یہ دونوں باتیں اب حافظے کی گرفت سے نکل چکی ہیں۔ البتہ ہمارے دوست عبدالحلیم شرر کی وہ آخری گفتگو آج بھی دل و دماغ پر اس طرح ثبت ہے، جیسے وقت نے اسے مٹانے کے بجائے ہمیشہ کے لیے پتھر پر کندہ کر دیا ہو۔
محترم جاوید اقبال، المعروف "جاوید دادو" کی زبان سے جب پہلی مرتبہ ان کی بیماری کا نام سنا تو جسم و جان میں ایک عجیب سی کپکپی اور وحشت دوڑ گئی۔ بلاشبہ، جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے؛ زندگی اور موت کے فیصلے بہرحال اسی ذاتِ بےنیاز کے ہاتھ میں ہیں۔ مگر انسانی مشاہدات اور تجربات نے بعض بیماریوں کے نام ہی کو ایسا خوفناک بنا دیا ہے کہ ان کا ذکر سنتے ہی امید کے چراغ مدھم پڑنے لگتے ہیں۔
شاید انسان ہزاروں تجربات، مشاہدات، سائنسی تحقیقات اور نت نئی ایجادات کے باوجود قدرت کے سامنے آج بھی اسی حقیقت کا اسیر ہے کہ انسان تدبیر کر سکتا ہے، تقدیر نہیں لکھ سکتا۔
علم نے کائنات کے بےشمار راز افشا کر دیے، مگر زندگی اور موت کے آخری راز کے سامنے انسانی عقل آج بھی سرِتسلیم خم کیے کھڑی ہے۔
کراچی میں طالب علمی کے زمانے سے ایک طویل عرصے کی جدائی کے بعد آج پہلی بار ان کی زیارت کے لیے جاوید اقبال کی معیت میں کوہِ ہندوکش کے دامن میں واقع سکوار کے اس گھر کی طرف روانہ ہوئے، جس کی بالائی منزل میں عبدالحلیم انتہائی پُرسکون انداز میں آرام فرما رہے تھے۔
ہم پر نظر پڑتے ہی ان کی آنکھوں میں وہی روایتی چمک ابھری اور چہرے پر خلوص سے لبریز ایک مانوس مسکراہٹ پھیل گئی یہ منظر دیکھتے ہی یوں محسوس ہوا جیسے وقت نے اچانک اپنی رفتار روک دی ہو اور ہم برسوں پیچھے، کراچی کے گرین ٹاؤن میں واقع ایم سی 861 نامی اسی گھر میں جا پہنچے ہوں؛ جہاں دس بجے تک خوابِ نوشی کے مزے لوٹنے کے بعد یہ صاحب شرارت بھری مسکراہٹ کے ساتھ گویا ہم سے کہہ رہے ہوں:
"اب میرے ناشتے کا انتظام بھی تمہیں ہی کرنا پڑے گا، کیونکہ تم لوگ خود کو سحرخیزی کا بڑا مجاہد سمجھتے ہو!"
اسی اثنا میں میں خود کو گم شدہ خیالوں کا جبری اسیر محسوس کرنے لگا۔ دل نے ایک معصوم سی ضد کی کہ یہ حال نہیں، وہی ماضی ہے؛ یہ سکوار نہیں، وہی کراچی ہے؛ یہ بیماری نہیں، وہی بےفکری کے دن ہیں۔
میں اسی بچکانہ مگر دل فریب خیال میں گم سم اِدھر اُدھر دیکھتا رہا، شاید کسی لمحے ایم سی 861 کے عقبی دروازے سے آنکھیں ملتا ہوا جوہر خان نمودار ہو جائے؛ شاید لیٹے ہوئے عبدالحلیم اچانک اپنے روایتی انداز میں اٹھ بیٹھیں اور ایسے خوب صورت جملوں سے اس کا استقبال کریں کہ رونے والا بھی ہنسنے پر مجبور ہو جائے۔
شاید ہمارے دوست پیر افتخار احمد اور نبی اللہ، استادِ محترم مولانا نواب الدین سے ملنے کی غرض سے کڑک کی آواز کے ساتھ ایم سی 861 کا دروازہ کھولیں، اور ان کے اندر داخل ہوتے ہی وہ گھر قہقہوں کے ایک ایسے سمندر میں ڈوب جائے جس کی موجیں دیواروں سے ٹکرا کر واپس آئیں اور پھر دیر تک فضا میں تیرتی رہیں۔
اور جب ان قہقہوں کی بازگشت نائٹ ڈیوٹی سے تھکے ہوئے ایروشیا کمپنی کے ملازم اور اس گھر کے میرِکارواں غلام محمد کے کانوں تک پہنچے تو وہ ان قہقہوں کو اپنی گہری نیند کی بربادی کا سونامی تصور کرے۔ عین اسی وقت شمال مشرقی کمرے میں نائٹ ڈیوٹی کی تھکن سے چُور بدن کو آرام پہنچانے کی غرض سے استراحت فرمانے والے ایروشیا کمپنی کے دوسرے مجاہد، غلام نصیر کی آنکھ بھی پرندے کی طرح اُڑ جائے۔ وہ ان "مجرموں" کے کمرے کے دروازے پر "ہوشیار پوزیشن" میں کھڑے ہو کر پہلے ایک بھرپور لیکچر جھاڑیں اور پھر غیر ارادی طور پر خود بھی اسی کارِشِر میں شریک ہو جائیں۔
بالآخر، اپنی پُرکشش شخصیت کے مالک جاوید اقبال، المعروف جاوید دادو تشریف لاتے اور محفل کی صدارت سنبھال لیتے۔ اپنے علم کے منفرد اور خودساختہ اصطلاحی نظام کی روشنی پھیلاتے ہوئے سب کو ورطۂ حیرت میں مبتلا کر دیتے؛ مثلاً کیمسٹری کو "چیمسٹری"، فزکس کو "فز۔کس" اور ایئرپورٹ کو "ایئر۔پورٹ" قرار دیتے۔
پھر کیا تھا!
ایم سی 861 کا مشرقی کمرہ زعفران زار بن جاتا، قہقہے پھوٹتے، چہرے کھلتے، اور زندگی اپنے پورے جوبن کے ساتھ ان دیواروں میں رقص کرتی۔
مگر...
جونہی عبدالحلیم شرر نے میری وجۂ سکوت دریافت کی، ماضی کے یہ تمام رنگین خواب زلزلے کے ایک شدید جھٹکے کی طرح زمین بوس ہو گئے۔ وہ خیالات، جنہیں میں نے بڑی مشقت سے اپنے ذہن کے نصف سے زیادہ حصے میں آباد کر لیا تھا، یکایک بکھر گئے۔
میں نے اپنے گرد دیکھا تو خود کو ایک بار پھر حقیقت کے سامنے بےبس پایا۔
کوہِ ہندوکش کے دامن میں واقع اس گھر کی بالائی منزل پر دوزانو بیٹھا، کبھی عبدالحلیم کے چہرے کو دیکھتا، کبھی دیواروں پر نقش پھولوں کو، اور کبھی خاموشی کو پڑھنے کی ناکام کوشش کرتا رہا۔
جب جذبات قابو سے باہر ہونے لگے تو میں نے اپنی نگاہیں ان کے چہرے سے ذرا اوپر اٹھائیں۔
سامنے کوہِ قراقرم کے دیوہیکل پہاڑی سلسلے خاموشی سے ایستادہ تھے۔ چوٹیوں پر برف کی دبیز سفید چادر بچھی ہوئی تھی، جبکہ اس سفید چادر کے قدموں میں سیاہ بادل یوں منڈلا رہے تھے جیسے قدرت نے ان پہاڑوں کی سیاہی میں مزید گہرائی بھرنے کا عزم کر رکھا ہو۔ نہ جانے کیوں اس روز سورج بھی گھپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
میں نے اندر ہی اندر آنسوؤں کو جذب کرنے اور اپنے افسردہ دل کو بہلانے کی ایک بچکانہ کوشش کی، مگر کچھ بھی کارگر نہ ہوا۔
ایک طرف مکمل مایوسی کا عالم تھا، دوسری طرف عبدالحلیم ہمیں دوبارہ کراچی جانے کی منصوبہ بندی سمجھانے میں مگن تھے۔ ہم نے سوالیہ نگاہوں سے ان کی طرف دیکھا تو انہوں نے ہمارے تجسس کو بھانپ لیا۔ چہرے پر مسکراہٹ سجائی اور بولے:
"کراچی تو اپنا شہر ہے۔"
مگر اگلے ہی لمحے ان کی آنکھوں میں اداسی کی لہریں دوڑ گئیں۔ انہوں نے زیرین ہونٹ کو دانتوں تلے دبایا اور دھیمی آواز میں گویا ہوئے:
"میں نے کہہ دیا ہے، اگر مجھے کچھ ہوا تو اُدھر ہی سپردِ خاک کریں۔"
یہ کہتے ہوئے وہ فرطِ جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ آنکھوں سے آنسو نکلے، لکیر نما راستہ بناتے ہوئے خاکی زمین کی طرف لپکے، مگر راستے میں سلیٹی رنگ کی قمیض کا کالر حائل ہو گیا۔
اس لمحے میں اور جاوید دادو نے ان کی حیاتِ جاودانی کی گرتی ہوئی امیدوں کو سہارا دینے کی کوشش کی، مگر حقیقت یہ تھی کہ اسی لمحے ہمارے اپنے حوصلوں کی دیوار بھی دھڑام سے زمین بوس ہو چکی تھی۔
یہ دیکھ کر ان کی نظریں ہماری طرف اٹھیں۔
پلکیں بھیگی ہوئی تھیں، مگر چہرے پر نہ افسردگی کے آثار تھے، نہ مایوسی کے۔
انہوں نے اپنی مونچھوں کو اسی مخصوص روایتی انداز میں تاؤ دیا اور بڑے اطمینان سے بولے:
"دیکھیں! میں موت سے خوف زدہ نہیں ہوں، بلکہ موت کو گلے لگانے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوں۔ اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں جب ڈاکٹر کی زبان سے یہ خبر سنی کہ مجھے ایک جان لیوا موذی مرض لاحق ہے تو میں نے اسے سنی اَن سنی کر دیا۔ اس اندوہناک خبر کا نہ میرے حوصلے پر کوئی اثر ہوا، نہ میرے اعصاب پر۔"
ان الفاظ میں ایک ایسا عزم تھا جو شاید بیماری سے کہیں زیادہ طاقتور تھا۔
سامنے بیٹھے ماضی کے پُرکشش شخصیت کے مالک جوان جاوید دادو اب حقیقی معنوں میں سفید ریش جاوید دادا کا روپ دھار چکے تھے۔ وہ انتہائی پژمردہ اور رنجیدہ حالت میں جھکے بیٹھے تھے۔
ان کی آنکھوں میں آنسوؤں کا پیمانہ لبریز تھا۔
روکنے کی ہزار کوشش کے باوجود آنسو بالآخر سیلابی ریلے کی طرح بہہ نکلے۔
اس لمحے ہندوکش کے دامن میں واقع اس گھر کی بالائی منزل پر ایسا سکوت طاری تھا جیسے کمرے میں موجود تینوں انسانوں پر یکساں رقت اتر آئی ہو۔ الفاظ شاید ختم ہو چکے تھے اور خاموشی نے گفتگو کی جگہ لے لی تھی۔
عبدالحلیم نے صورتحال کی نزاکت اور ہمارے حوصلوں کی سکت کو پوری طرح بھانپ لیا۔ شاید وہ ہمیں مزید آزمائش میں مبتلا نہیں کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے ہمیں رخصت کرنے کا فیصلہ کیا۔
چہرے پر ایک بار پھر بھرپور مسکراہٹ سجائی، دوبارہ تشریف لانے کی دعوت دی اور الوداعی مصافحے کے لیے لیٹے لیٹے دونوں ہاتھ ہماری طرف بڑھا دیے۔ہماری بھی شاید یہی آخری اور سب سے بڑی آرزو تھی کہ ان کے خلوص، محبت اور اپنائیت سے لبریز ان نرم، ملائم اور نحیف ہاتھوں کو ایک بار چھو لیں۔
ان کے ہاتھوں سے میرے ہاتھ جدا ہوئے تو یوں محسوس ہوا جیسے کسی سیلاب کا بند اچانک ٹوٹ گیا ہو اور میں سر تا پا اس کی بےرحم موجوں میں ڈوب گیا ہوں۔
اس کے بعد ہم سیڑھیوں سے الٹے پاؤں اترے یا سیدھے—آج تک مجھے اس کا اندازہ نہیں۔
بس اتنا یاد ہے کہ ہم ایک ایسے گھر سے باہر نکل رہے تھے جہاں زندگی نے ہمیں ایک بار پھر یہ فلسفہ سمجھایا تھا کہ انسان کی اصل طاقت اس کی طویل عمر میں نہیں، بلکہ اس اندازِ زیست میں ہے جس کے ذریعے وہ اپنے بعد دلوں میں زندہ رہتا ہے۔
اور شاید بعض لوگ جسمانی طور پر رخصت ہونے سے پہلے ہی اپنی یادوں میں امر ہو جاتے ہیں۔
عبدالحلیم شرر بھی شاید انہی لوگوں میں سے ایک تھے۔
(جاری ہے...)

28/07/2026

اج 28 جولائی 2026 ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ملک کے مختلف حصوں، خصوصاً پنجاب اور خیبر پختونخوا میں شدید بارشوں کے باعث جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ حکام نے دریائے راوی اور چناب میں پانی کی بلند سطح کے پیش نظر الرٹ جاری کیا ہے، جبکہ مزید بارشوں کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں معمولی کمی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتوں کا اطلاق ہو چکا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کی جانب سے زرِ مبادلہ ذخائر کو مستحکم کرنے اور معیشت کو سہارا دینے کے لیے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کے مالیاتی تعاون کی درخواست سے متعلق خبریں عالمی سطح پر زیرِ بحث ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کویت نے پاکستان کے ساتھ پانچ سالہ دفاعی تعاون کے معاہدے کی منظوری دے دی ہے، جس سے دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

28/07/2026

اج 28 جولائی 2026 ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بین الاقوامی خبروں کا خلاصہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حالیہ دنوں میں جنگ بندی
اور سفارتی مذاکرات کی کوششوں میں کچھ پیش رفت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ قطر، پاکستان، عمان اور بعض دیگر ممالک ثالثی کے کردار میں سرگرم ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک طرف مذاکرات پر امید ظاہر کی ہے، جبکہ دوسری جانب خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایران کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیوں کا مقصد ایران کی فوجی اور جوہری صلاحیتوں کو محدود کرنا اور خطے میں اپنے مفادات کا تحفظ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عالمی اخبارات کے مطابق جنگ نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھا دی ہے، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث عالمی تیل منڈی اور توانائی کی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امریکہ کے اندر بھی اس جنگ پر اختلافِ رائے موجود ہے۔ تازہ سروے کے مطابق صرف تقریباً ایک تہائی امریکی اس جنگ کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ اکثریت جنگ کے مقاصد اور اس کے اخراجات پر سوالات اٹھا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایک طرف مذاکرات اور جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ دوسری طرف دونوں فریق عسکری دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس لیے خطے میں مکمل اور پائیدار امن کے امکانات کا انحصار آئندہ سفارتی مذاکرات کی کامیابی پر ہے۔

27/07/2026

گلگت بلتستان کی موسمی صورتحال ۔۔۔۔
گلگت، غذر، ہنزہ، نگر، استور، اسکردو، دیامر اور گانچھے کے بعض علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
پہاڑی اور گلیشیائی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ندی نالوں میں طغیانی اور اچانک سیلاب (Flash Flood) کا خطرہ موجود ہے، اس لیے غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔۔۔۔۔۔
پاکستان محکمۂ موسمیات نے گلگت بلتستان میں گلیشیائی جھیل پھٹنے (GLOF) کے خدشے کے پیشِ نظر بھی احتیاطی ہدایات جاری کر رکھی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

27/07/2026

اج 27 جولائی 2026 ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اہم ملکی خبریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلوچستان میں جاری آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کرنے اور ان کے ٹھکانے تباہ کردیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری رہیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مون سون بارشیں اور سیلاب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔ دریائے راوی اور چناب میں پانی کی سطح بلند ہونے پر فلڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے، جبکہ جانی و مالی نقصانات کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دفترِ خارجہ نے بھارت کے بعض حالیہ بیانات پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے انہیں اشتعال انگیز قرار دیا ہے اور کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے مؤقف کو دہرایا ہے۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وفاقی حکومت نے بھارت سے منسلک مبینہ ڈیجیٹل پروپیگنڈا نیٹ ورک کے خلاف کارروائی اور ایک مشتبہ شخص کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معاشی ماہرین نے اسٹیٹ بینک کو شرحِ سود میں فوری تبدیلی سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے، جبکہ مہنگائی اور معاشی استحکام پر بھی بحث جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خلاف کارروائ میں کئی کینسر ادویات کے مشکوک یا غیر معیاری ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے، جس پر متعلقہ ادارے تحقیقات کر رہے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

27/07/2026

اج 27 جولائی 2026 ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایران،امریکا جنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شدید جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک نے گزشتہ دو روز سے براہِ راست حملوں میں نمایاں کمی کی ہے۔ اگرچہ مکمل امن قائم نہیں ہوا، تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان اور عمان سمیت چند علاقائی ممالک اور دیگر ثالثی کردار ادا کرنے والے فریق کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ اہم اختلافی نکتہ اب بھی ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں سلامتی کے انتظامات ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہازرانی ابھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی۔ اس اہم بحری راستے میں رکاوٹ کے خدشات عالمی توانائی کی منڈیوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چونکہ حملوں میں عارضی کمی آئی ہے، اس لیے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی ہے، تاہم تجزیہ کار خبردار کر رہے ہیں کہ اگر دوبارہ کشیدگی بڑھی تو قیمتیں پھر تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مختلف رپورٹس کے مطابق دونوں جانب فوجی اور شہری نقصانات ہوئے ہیں، جبکہ خطے کی معیشت، تجارت اور توانائی کی ترسیل پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقوامِ متحدہ، آسیان اور متعدد ممالک نے جنگ کے مزید پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی اپیل کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

26/07/2026

تازہ ترین موسمی صورتحال ۔۔۔۔۔۔۔
گلگت بلتستان میں اس وقت مون سون کا فعال سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران متعدد علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گلگت، غذر، ہنزہ، نگر، استور، دیامر، اسکردو، گانچھے اور شگر میں کہیں کہیں ہلکی سے درمیانی جبکہ بعض مقامات پر موسلا دھار بارش متوقع ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ندی نالوں میں طغیانی اور اچانک سیلاب (Flash Flood) کا خطرہ موجود ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گلیشیئر والے علاقوں میں گلیشیائی جھیل پھٹنے (GLOF) کے خطرات کے پیش نظر احتیاط کی ہدایت کی گئی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درجہ حرارت گزشتہ دنوں کے مقابلے میں نسبتاً معتدل رہنے کی توقع ہے، تاہم نمی میں اضافہ محسوس ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ا
غیر ضروری طور پر پہاڑی اور لینڈ سلائیڈنگ والے راستوں پر سفر سے گریز کریں۔
برساتی ندی نالوں اور دریاؤں کے قریب جانے سے احتراز کریں۔
مقامی انتظامیہ اور محکمہ موسمیات کی تازہ ہدایات پر عمل کریں۔

Address

Concept Schools System GB
Hunza
15300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Voice Of Baam E Dunya posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share