19/03/2026
سوشل میڈیا کی رش میں عید مبارک کارڈ کا رواج بھی دم توڑ گیا۔
بلاگ راشد لغاری حیدرآباد۔
آپ تصور کریں ایک ایسی چیز آپ کے آنکھوں سے ایسی غائب ہوگئی ہے۔ جس کا آپ کو گمان تک نھیں تھا۔
اس چیز سے جینزی پوری زندگی محروم رہے گا۔ چلیے اس ختم ہونے والے چیز کا بھی پتہ لگا کر آپ اس مارکیٹ میں لئے چلتے ہیں
شھروں میں رمضان کا مہینہ شروع ہوتی ہئی کمپیوٹر پر نوجوان ورکر نت نئے عید مبارک والے کارڈ ڈیزائن کرنے میں لگ جاتے تھی۔ جس میں رشتیدار۔ آپس کے دوستوں۔ عشقیہ اور محبت کارڈ ڈیزائن کی جاتے۔ جو لوگ سے پھنچے سے پھلے ریل کی طرح چلنے والی پرنٹنگ مشینوں میں چلے جاتے۔
مجھے یاد ہے حیدرآباد کے پریس کلب ہال میں ایک بڑا عید کارڈ کا اسٹال لگایا جاتا تھا۔ ایک اسٹال کریمی بک ھائوس صدر بازار میں سجایا جاتا۔
جس میں محبت والے شاعری۔ انگریز میں محبت کا اظھار۔ مہندی کے رنگ اور دل ❤️ والے نشان میں آئی لو یو بھی لکھا ملتا تھا۔ یے عید کے لیے محبت بھرے کارڈ زیادہ تر محبوب ۔ عاشق خرید تھے۔ پھر اپنے ہاتھ سے بھی شاعری لکھ کر اور عید کے پیغامات بھیجے جاتے تھے۔
کارڈ کے اسٹال پورے پاکستان کے چھوٹے بڑئے شھروں میں لگ جاتے تھے۔ خاص طور پر پوسٹ آفیس کے معرفت یے کارڈ لوگ دور بیٹھے اپنے پیاروں کو عید مبارک کا پیغام بھیجتے تھے۔۔ اس 2026 کی عید پر اب آپ کو عید کارڈ یا کارڈ کا اسٹال ڈھونڈنے نھیں ملے گا۔
یے سب کجھ جدید ٹیکنالوجی۔ واٹس اپس۔ فیس بک اور دیگر میسجنگ کے انجن نے آڑئے ہاتھوں لئے لیا ہے۔
حیدرآباد کی پوسٹ آفیس میں تو عید نزدیک آتے ہی بیکنگ بند کر دی جاتی تھی۔ تاکہ عید کارڈ وقت پر ان کے پیاروں تج پھنچ سکیں۔۔
اب یے کارڈ ایک ماضی کا قصہ بن کر رہ گئے ہیں۔
پرنٹنگ پریس تک بھی نھیں پھنچتے۔ لوگ وہ ئی پیغام سوشل میڈیا کی معرفت سیکنڈوں میں بھیج کر اپنی موجوگو اور محبت کا احساس دلاتے ہیں۔