11/04/2026
حیدرآباد میں ڈی پارک منصوبے سے متعلق ایک بڑا مالی اسکینڈل سامنے آیا ہے، جس نے مقامی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق این آئی ٹی نمبر 540 کے تحت جاری کیے گئے منصوبے میں بھاری مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ اس معاملے پر شروع کی گئی انکوائری بھی مبینہ سیاسی دباؤ کے باعث روک دی گئی۔
اطلاعات کے مطابق متنازع زمین، جو طویل قانونی کارروائی کے بعد عوامی پارک میں تبدیل کرنے کے لیے مختص کی گئی تھی، اسی منصوبے کے تحت استعمال کی جا رہی ہے۔ تاہم، الزام ہے کہ منصوبے کے ٹینڈر کے اجرا میں شفافیت کو نظر انداز کیا گیا اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی۔
ذرائع یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ تقریباً 40 کروڑ روپے کا ٹھیکہ مشکوک طریقے سے جاری کیا گیا، جبکہ منصوبے کے مختلف حصوں میں اخراجات کو غیر معمولی حد تک بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ مثال کے طور پر، ایک قومی پرچم کی خریداری کے لیے مبینہ طور پر 7 کروڑ روپے مختص کیے گئے، حالانکہ اس کی اصل قیمت اس سے کہیں کم بتائی جا رہی ہے۔ اسی طرح دیگر تعمیراتی اخراجات میں بھی بڑے فرق کی نشاندہی کی گئی ہے۔