28/07/2026
انڈیا میں طلبہ کے احتجاج کے بعد پاکستان میں سات برس پرانی ویڈیو کی گونج:
’خود کو کمیونسٹ کہنے والے یہ نوجوان آج کہاں گم ہیں۔‘ اوریا مقبول جان
جہاں سابق وزیراعظم عمران خان، ماہ رنگ بلوچ، علی وزیر، کشمیر اور بلوچستان میں احتجاج کرنے والی جماعتیں ہیں۔
سرحدیں ضرور پھلانگیں لیکن
اپنی گریبان میں بھی نظر ڈالیں۔
عروج اورنگزیب
انڈیا میں طلبہ احتجاج کے بعد پاکستان میں نئی بحث: پاکستانی نوجوان سڑکوں پر کیوں نہیں نکلتے؟
انڈیا میں نوجوانوں کے احتجاج، امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے خلاف مظاہروں اور وزیرِ تعلیم کے استعفے کے بعد پاکستان میں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ جب سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال اور اب انڈیا میں نوجوان احتجاج کے ذریعے حکومتوں پر دباؤ ڈال سکتے ہیں تو پاکستان میں اسی نوعیت کی کوئی بڑی اور متحد نوجوان تحریک کیوں سامنے نہیں آتی؟
اسی بحث کے دوران 2019 کی ایک پرانی ویڈیو بھی دوبارہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس میں نوجوان ایک اجتماع کے دوران انقلابی شاعر بِسمل عظیم آبادی کے معروف اشعار ’’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے‘‘ پڑھتے اور طلبہ یونین کی بحالی کے حق میں نعرے لگاتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ ویڈیو لاہور میں معروف شاعر فیض احمد فیض کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران بنائی گئی تھی، جہاں طلبہ یونین پر عائد پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔
سابق بیوروکریٹ اور کالم نگار اوریا مقبول جان نے یہ ویڈیو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ خود کو کمیونسٹ کہنے والے یہ نوجوان آج کہاں ہیں؟
ویڈیو میں نعرے لگوانے والی عروج اورنگزیب نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب طلبہ یونین کی پابندی کے خلاف احتجاج کیا گیا اور ان کے ساتھیوں کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، اس وقت بھی ایک تحریک موجود تھی، مگر اس پر توجہ نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق پاکستان میں سیاسی اور سماجی مسائل پر آواز اٹھانے والوں کو مختلف نوعیت کے دباؤ اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
عروج اورنگزیب نے اپنے بیان میں ماہ رنگ بلوچ، علی وزیر اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری احتجاج سمیت مختلف معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں کو بیرونِ ملک ہونے والی تحریکوں میں دلچسپی لینے کے ساتھ اپنے ملک کے حالات پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
دوسری جانب جنوبی ایشیا کے امور کے ماہر مائیکل کوگلمین نے بھی سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا کہ پاکستان میں نوجوانوں کی قیادت میں ایسی بڑی عوامی تحریک کیوں سامنے نہیں آ رہی جیسی حالیہ برسوں میں سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال اور اب انڈیا میں دیکھی گئی؟
ان کے مطابق بدعنوانی، بے روزگاری، سیاسی دباؤ اور نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی جیسے عوامل پاکستان میں بھی موجود ہیں۔ تاہم ان کا خیال ہے کہ سیاسی ماحول، سماجی تقسیم، مختلف تحریکوں کے درمیان عدم اتحاد اور طلبہ یونینز پر طویل عرصے سے عائد پابندیاں ایسی کسی وسیع تحریک کے راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین نے اس سوال پر مختلف آرا کا اظہار کیا۔ بعض کے نزدیک پاکستانی نوجوان کئی مواقع پر بڑی تعداد میں احتجاج کا حصہ بن چکے ہیں اور انہیں دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ریاستی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اجتماعی قومی شناخت اور قابلِ اعتماد قیادت کا فقدان نوجوانوں کو کسی ایک پلیٹ فارم پر متحد نہیں ہونے دیتا۔
کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں بار بار حکومتوں کی تبدیلی اور سیاسی عدم استحکام نے بھی احتجاج کے تصور کو مختلف بنا دیا ہے، جبکہ بعض افراد کا خیال ہے کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اب اجتماعی تبدیلی کے بجائے انفرادی طور پر اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس پوری بحث میں طنز و مزاح بھی شامل ہو گیا۔ معروف کانٹینٹ کری ایٹر عون علی کھوسہ نے ایک طنزیہ ویڈیو کے ذریعے پاکستانی نوجوانوں کے احتجاج نہ کرنے پر تبصرہ کیا، جس میں انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ انڈیا میں طلبہ کو اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوتے دیکھ کر لگتا ہے کہ پاکستان میں بھی ایسا کرنے کا وقت آ گیا ہے، لیکن پھر طنزیہ طور پر جملہ مکمل کیا کہ یہاں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے، اس لیے گھر بیٹھ کر آرام کرنا چاہیے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی نوجوان واقعی خاموش ہیں، یا وہ مختلف سیاسی، سماجی اور معاشی حالات کے باعث اپنی آواز مختلف انداز میں اٹھا رہے ہیں؟
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا پاکستان میں بھی نوجوانوں کی قیادت میں ایک بڑی عوامی تحریک کی ضرورت ہے، یا پاکستانی نوجوان پہلے ہی مختلف سیاسی اور سماجی تحریکوں کا حصہ بن رہے ہیں؟