16/07/2026
زندگی نے عجیب سبق سکھایا ہے...
آج اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ مجھے کس چیز سے نفرت ہے، تو میرا جواب صرف دو چیزیں ہوں گی۔
پہلی... چائے۔
کیونکہ کبھی یہی چائے اُس کے ساتھ گزارے ہوئے لمحوں کی گواہ تھی۔ ہر کپ میں اُس کی ہنسی، اُس کی باتیں اور اُس کی یادیں گھل جاتی تھیں۔ آج وہی چائے لبوں تک تو آتی ہے، مگر سکون دل تک نہیں پہنچتا۔
دوسری... وہ شخص، جس سے میں نے سچی محبت کی۔
جسے اپنی دعاؤں میں مانگا، اپنی خوشیوں سے بڑھ کر چاہا، اپنے ہر مشکل وقت میں نبھایا۔ مگر آخر میں احساس ہوا کہ محبت صرف میری طرف سے تھی، اُس کی طرف سے نہیں۔
نفرت شاید صحیح لفظ نہ ہو، مگر کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو انسان کو بدل دیتے ہیں۔ وہ نہ پہلے جیسا ہنسنے دیتے ہیں، نہ پہلے جیسا یقین کرنے دیتے ہیں۔
اب نہ کسی وعدے پر اعتبار رہا، نہ کسی تعلق سے امید۔ بس اتنا سیکھ لیا ہے کہ ہر اپنا، اپنا نہیں ہوتا، اور ہر محبت، محبت نہیں ہوتی۔
اب دل صرف ایک ہی دعا کرتا ہے...
یا اللہ! آئندہ کسی ایسے شخص سے واسطہ نہ پڑے جو محبت کا نام لے کر انسان کا سکون، اعتماد اور مسکراہٹ سب کچھ چھین لے۔ 🥀💔