Syeda Jaweria Shabbir Offical

Syeda Jaweria Shabbir Offical Novels, Novelet, Afsana , Mukalma, and etc.......

چوبیسویں قسط۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"نہیں تم صرف وہ کرسکتی ہو جو میں کرنے دے سکتا  ہوں۔۔ اگر تم سات ماہ می...
16/05/2026

چوبیسویں قسط
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"نہیں تم صرف وہ کرسکتی ہو جو میں کرنے دے سکتا ہوں۔۔ اگر تم سات ماہ میرے نام سے منسوب نا ہوتیں تو میں ہرگز بھی تم سے یہ شادی نا کرتا۔۔۔۔ مگر اس شادی سے حاصل ہونے والی اذیت تمھیں بتادے گی کہ یہ ضد تمہارے لئے کتنی خطرناک ہے۔۔، میں عورتوں کے معاملے میں نرم رویہ رکھنے کا مزاج ہوں ۔۔ مگر تم اس قابل نہیں ہو انعم ۔۔۔ تم چاہتیں تو پیچھے ہوجاتیں اپنے لئے کسی دوسرے شخص کو چنتیں۔۔۔۔ مگر نہیں تمھیں زندگی ایک چارم لگتی ہے نا ٹھیک ہے پھر ہنس کر انجوائے کرو اس چارم کو۔۔۔۔"
وہ اپنے اندر کی تمام تر وحشتیں الفاظوں کے ذریعہ سے اتارتا اسٹیڈی سے نکل گیا۔۔۔۔
ارحم تیار ہو کر نیچے آیا تو پورچ خالی تھا۔۔۔ ارشبہ اس کاانتظار کئے بنا ہی چلی گئی تھی۔۔۔۔۔
وہ الٹے قدموں اندر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔۔

MUKAMAL EPISODE PARHNAY KA LIYA LINK VISIT KARAYN OR COMENTS NAHI KARTAY TO LIKE TO KARDYA KARAYN YEH KIA KHAMOSHI SE EPI PARH KAR GUZAR JATAYN HAIN, BHYI APNAY HONAY KA SABOOT DAYN LIKE KARYN COMMENTS KARYN OR SHARE BHI .....

https://syedaofficialwriter.blogspot.com/2026/05/novel-wo-jo-mera-muqaddar-tehra-episode_01443109699.html

ناول وہ جو میرا مقدر ٹہرا از سیدہ جویریہ شبیر چوبیسویں قسط۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"نہیں تم صرف وہ کرسکتی ہ...
16/05/2026

ناول وہ جو میرا مقدر ٹہرا از سیدہ جویریہ شبیر
چوبیسویں قسط
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"نہیں تم صرف وہ کرسکتی ہو جو میں کرنے دے سکتا ہوں۔۔ اگر تم سات ماہ میرے نام سے منسوب نا ہوتیں تو میں ہرگز بھی تم سے یہ شادی نا کرتا۔۔۔۔ مگر اس شادی سے حاصل ہونے والی اذیت تمھیں بتادے گی کہ یہ ضد تمہارے لئے کتنی خطرناک ہے۔۔، میں عورتوں کے معاملے میں نرم رویہ رکھنے کا مزاج ہوں ۔۔ مگر تم اس قابل نہیں ہو انعم ۔۔۔ تم چاہتیں تو پیچھے ہوجاتیں اپنے لئے کسی دوسرے شخص کو چنتیں۔۔۔۔ مگر نہیں تمھیں زندگی ایک چارم لگتی ہے نا ٹھیک ہے پھر ہنس کر انجوائے کرو اس چارم کو۔۔۔۔"
وہ اپنے اندر کی تمام تر وحشتیں الفاظوں کے ذریعہ سے اتارتا اسٹیڈی سے نکل گیا۔۔۔۔
ارحم تیار ہو کر نیچے آیا تو پورچ خالی تھا۔۔۔ ارشبہ اس کاانتظار کئے بنا ہی چلی گئی تھی۔۔۔۔۔
وہ الٹے قدموں اندر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔۔

MUKAMAL EPISODE PARHNAY KA LIYA LINK VISIT KARAYN OR COMENTS NAHI KARTAY TO LIKE TO KARDYA KARAYN YEH KIA KHAMOSHI SE EPI PARH KAR GUZAR JATAYN HAIN, BHYI APNAY HONAY KA SABOOT DAYN LIKE KARYN COMMENTS KARYN OR SHARE BHI .....

"SYEDA JAWERIA SHABBIR"  NOVELS PUBLISHE IN MANY WEB & BLOGS. THIS NOVEL PUBLISH IN SYEDA COLLECTIONS & NOVELISTIC WEB ERA......

ناول وہ جو میرا مقدر ٹہرا از قلم سیدہ جویریہ شبیر تئیسویں قسط-------------------------------------------- ارحم کا رویہ س...
15/05/2026

ناول وہ جو میرا مقدر ٹہرا از قلم سیدہ جویریہ شبیر
تئیسویں قسط
--------------------------------------------
ارحم کا رویہ سارے فنکشن میں اکھڑا، اکھڑا رہا۔۔
اسی لمحے ارحم کی جیب میں رکھا موبائل مسلسل وائبریٹ ہونے لگا۔۔۔
اس نے ایک سرسری نظر اسکرین پر ڈالی۔۔۔
اگلے ہی لمحے اس کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔۔۔
"IG Sir Calling۔۔۔
حرا آنے والی بھابھی کی آؤ بھگت میں کوئی کمی نہیں چھوڑ رہی تھی۔۔، کبھی اسے جوس پلا رہی تھی۔۔ کبھی اس کا ڈوپٹہ ٹھیک کررہی تھی۔۔۔

وہ خاموشی سے سب کو ایسکیوز کرتا ہال کے شور شرابے سے دور نکل آیا۔۔۔
کوریڈور نسبتاً سنسان تھا۔۔۔
"Yes Sir۔۔۔"
دوسری طرف سے آنے والی آواز غیر معمولی سنجیدہ تھی۔۔۔
.COMPLETE EPISODE PARHNAY KA LIA LINK VISIT KARYN SHUKRYA

https://syedaofficialwriter.blogspot.com/2026/05/novel-wo-jo-mera-muqaddar-tehra-episode_01136332232.html?m=1

"SYEDA JAWERIA SHABBIR"  NOVELS PUBLISHE IN MANY WEB & BLOGS. THIS NOVEL PUBLISH IN SYEDA COLLECTIONS & NOVELISTIC WEB ERA......

وہ جو میرا مقدر ٹہرا از سیدہ جویریہ شبیربائیسویں قسط--------------------------------------------قریبی ریستورینٹ کے باہر ...
14/05/2026

وہ جو میرا مقدر ٹہرا از سیدہ جویریہ شبیر
بائیسویں قسط
--------------------------------------------
قریبی ریستورینٹ کے باہر موسم خاصہ گرم تھا۔۔ اس سے کئی زیادہ ارشبہ کا دماغ
بھنیا ہوا تھا۔۔۔۔باہر آتے ہی اس نے ارحم کی مضبوط گرفت سے اپنی کلائی جھٹکی۔۔۔۔
ارحم نےگردن موڑکر اسے دیکھا، جس کے چہرے کاتاثرات نہایت سخت تھے۔۔
کیا ہوا۔۔؟
یہ سب آپ نے کیوں کیا۔۔۔؟؟
ارشبہ کی نگاہوں سے خفگی واضح جھلک رہی تھی۔۔ ارحم نے اس کی آنکھوں میں براہ راست جھانکا۔۔۔۔
"تاکہ جو وہ کررہی ہے نا کرے۔۔" ارحم نےگھنبیر لہجے میں کہا؛
"وہ آپ دونوں کا مسئلہ تھا۔۔۔ مجھے بیچ میں لانے کا کوئی حق نہیں تھا آپ کو۔۔۔"
ارشبہ روکھے انداز سے بولی۔۔۔۔
سڑک پر گزرتی گاڑیوں کا شور جیسے ان دونوں کے درمیان کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔
ارحم نے آہستہ سے گہرا سانس لیا۔۔۔
"غلط۔۔۔"
ارشبہ نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔۔۔
"وہ صرف میرا اور انعم کا مسئلہ نہیں تھا۔۔۔"

MUKAML EPISODEPARHNAY KA LIYA LINK VISIT KARYN....

https://syedaofficialwriter.blogspot.com/2026/05/novel-wo-jo-mera-muqaddar-tehra-episode_0695919734.html

وہ جو میرا مقدر ٹہرا از سیدہ جویریہ شبیراکیسویں قسط------------------------------------تپتی دھوپ اپنی پوری شدت کے ساتھ ز...
08/05/2026

وہ جو میرا مقدر ٹہرا از سیدہ جویریہ شبیر
اکیسویں قسط
------------------------------------
تپتی دھوپ اپنی پوری شدت کے ساتھ زمین پر برس رہی تھی۔۔۔
آسمان پر بادل کا ایک ٹکڑا تک موجود نہ تھا۔۔۔
سورج جیسے آگ کے گولے کی صورت سروں پر معلق تھا۔۔۔
سڑک کی پگھلتی تارکول سے اٹھتی گرمی فضا کو مزید بھاری بنا رہی تھی۔۔۔
درختوں کے پتّے بھی بے جان سے لگ رہے تھے۔۔۔
ہوا کہیں گم ہوگئی تھی جیسے۔۔،
فضا میں ایک عجیب سی گھٹن بسی ہوئی تھی۔۔۔

دور سڑک کنارے کھڑا فقیر اپنے ماتھے سے بہتا پسینہ بار بار آستین سے صاف کررہا تھا۔۔۔
جبکہ راہ گیر جلدی جلدی قدم اٹھاتے سایہ ڈھونڈنے میں مصروف تھے۔۔۔
شدید گرمی کے باوجود بازار میں ہلکی ہلکی چہل پہل قائم تھی۔۔۔
ٹھنڈے مشروبات کی دکانوں پر رش بڑھتا جارہا تھا۔۔۔
آنکھوں پر لگےبراؤن شیڈڈگلاسس کے پار سے جھانکا۔۔۔
"آج تو سورج جیسے انتقام لینے نکلا ہے۔۔۔"
حرا نے دوپٹہ پنکھے کی طرح ہلاتے ہوئے بے زاری سے کہا۔۔۔ارشبہ نے ہنکارا بھر کر حامی بھری۔۔۔۔
گنے کا رس پینا چاہو گی۔۔۔؟ ارشبہ کو سامنے ہی چھوٹی سی شاپ پر گنے کا جو س والا دکھا۔۔۔
حرا نے فوراً گردن موڑ کر باہر دیکھا۔۔۔

COMPLETE EPISODE PARHNY KA LIYA LINK VISIT KARAYN

https://syedaofficialwriter.blogspot.com/2026/05/novel-wo-jo-mera-muqaddar-tehra-episode.html

ناول وہ جو میرا مقدر ٹہرا از سیدہ  جویریہبیسویں قسط۔۔-------------------------------------------"انعم یہ سراسر بے وقوفی ...
04/05/2026

ناول وہ جو میرا مقدر ٹہرا از سیدہ جویریہ
بیسویں قسط۔۔
-------------------------------------------
"انعم یہ سراسر بے وقوفی ہے یار۔۔، تم اپنے آپ کو یوں ایک ایسے شخص کیلئے بے مول کرنے جارہی ہو، جسے شاید تم نظر بھی نہیں آتیں۔۔۔"
انعم نے اسے تعجب سے دیکھا:
"تم تو یوں کہہ رہی ہو جیسے مجھے جانتی نہیں۔۔ انعم کو اپنی اہمیت جتانا بہت اچھے سے آتا ہے ڈئیر۔۔ میں اس سے شادی بھی کروں گی اور اسے اپنا گرویدہ بھی بناؤں گی میں انعم دانش ہوں۔۔ جھکنا نہیں سیکھا میں نے۔۔۔'،گردن اکڑائے وہ بڑے تفاخر سے بولی۔۔۔۔
میرے نزدیک صرف جنون ہے یہ ، محبت ایسی نہیں ہوتی انعم۔۔۔؟؟؟
بینش کی بات پر انعم کی تیوری چڑھی۔۔۔
تم جانتی ہی کیا ہو میری محبت کے بارے میں۔۔۔، اور مجھے تم سے یہ بلکل جاننے کی ضرورت نہیں ہے۔۔"
انعم کے ناگواری سے کہنے پر اس نے لب بھینچ لئے۔۔ بینش نے کن انکھیوں سے اس کا سپاٹ چہرہ دیکھا:
'صحیح کہہ رہی ہو تم اپنے بارے میں مجھ سے بہتر جانتی ہو۔۔۔" بینش کہہ کر کھڑی ہوئی۔۔
"میں چلتی ہوں۔۔" انعم نے اس کی جانب دیکھے بنا موبائل میں مصروف ہوگئی۔۔ بنیش بوجھل سانس کھینچ کر انعم کے روم سے نکل گئی۔۔۔۔۔
اس کے جاتے ہی انعم نے تنفر سے سر جھٹکا۔۔۔
تم تو بلکل یہ نہیں چاہتیں کہ ارحم سے میری شادی ہو۔۔ !!!
انعم بڑبڑا کر چت لیٹ گئی۔۔۔۔۔
اس نے مام کو بتانے کا ارادہ ترک کردیا ۔۔۔
اسے ڈر تھا ارحم کے نکاح کا سن کر مام یہ شادی ختم کردیں گی۔۔۔ اور ڈیڈ تو بلکل بھی اس شادی کے حق میں نہیں رہیں گے۔۔۔۔"

پولیس اسٹیشن میں سب ہی اپنی ڈیوٹی پر موجود نظر آئے۔۔ ارحم کسی حد تک یہاں کے ماحول کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوچکا تھا۔۔۔
مگر وہ ہر مہاذ پر کامیابی کے جھنڈے گاڑے ایسا لازمی تو نہیں۔۔۔
ٹیبل پر پھیلی فائلوں کے درمیان وہ اپنے کیبن موجود انتہائی انہماک نظر آیا۔۔
میں آسکتا ہوں۔۔۔؟؟؟
آؤ۔۔ عادل۔۔" وہ آواز پہچان کر بولا۔۔۔
عادل کرسی کھینچ کر اس کے سامنے بیٹھ گیا۔۔۔
کچھ لمحے وہ خاموشی سے ارحم کو دیکھتا رہا جو اب بھی فائل میں جھکا ہوا تھا۔۔۔

"کیا بات ہے سر۔۔۔؟ کچھ زیادہ ہی سنجیدہ لگ رہے ہو آج کل۔۔۔"
عادل نے نیم مسکراہٹ کے ساتھ بات چھیڑی۔۔۔
ارحم نے قلم بند کیا، فائل بند کرکے ایک طرف رکھی اور کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔۔۔
گہری سانس خارج کی۔۔۔
"یہ کیس ایک معمہ سا بنتا جارہا ہے میرے لئے۔۔ جو بھی ثبوت ملتا ہے اس کا سرا نعمان تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہوجاتا ہے۔۔۔ اس ایک کیس نے میری زندگی کو درہم برہم کرکے رکھ دیا۔۔۔۔ "
عادل نے محسوس کیا ارحم کچھ زیادہ ہی تھکا ہوا اور مایوس لگا۔۔۔۔
"مگر اس کیس کی ایک بات قابلِ ستائش ہے اس نے آپ کو ایسا ہمسفر دیا جو آپ کیلئے ہر طرح سےبہترین ہے۔۔۔"
عادل نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
ارحم خاموش رہا ۔۔ کیوں کہ فلوقت اس بات کا جواب اس کے پاس نا تھا۔۔۔۔
میں آپ کا یہ تحفہ رکھ لیتی ہوں مگر پہنوں گی نہیں۔۔۔"
اسے آج صبح کی گفتگو یاد آئی۔۔۔ ارحم نے سر جھٹک کر سراسر ارشبہ کے کہے الفاظوں کو ذہن سے جھٹکنے کی سعی کی۔۔۔۔

خیر یہ فائل کون سی ہے۔۔؟ؕعادل کے ہاتھ میں لال رنگ کے کور والی فائل دیکھ کر استفسار کیا۔۔۔
سر یہ فائل ایک عورت کی ہے۔۔ دو دن پہلے اس نے ایف آئی آر درج کروائی ہے۔۔ اب کورٹ میں تین دن بعد اس کی پیشی ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ کوئی وکیل اس عورت کا کیس لینے کو تیار نہیں ہے۔۔ اور بڑے، بڑے وکلوں کو دینے کیلئے اس کے پاس فیس نہیں ہے۔۔۔۔"
ارحم تھوڑی پر ہاتھ رکھے بغور سنتا رہا۔۔۔۔
کیس نا لینے کی وجہ۔۔؟؟؟
جس کے خلاف کیس درج ہے وہ شخص علاقے کا مئیر ہے۔۔ عورت کی بیٹی کو اغوا کرنے، بعد از قتل کردیا ۔ مزید یہ کہ اس واقع سے اس کے شوہر نے غیرت کے نام پر خود کشی کرلی۔۔۔"
عادل کی بات ختم ہوئی، ارحم نے کیپ اتار کر افسوس سے میز پر رکھ کر مٹھیاں بھینچیں۔۔۔۔ کمرے میں ایک بھاری سی خاموشی چھا گئی۔۔۔
ارحم کی آنکھوں میں اب سنجیدگی نہیں، سختی اتر آئی تھی۔۔۔
اس نے فائل کو آہستہ سے بند کیا۔۔۔
"اور اسی لیے کوئی وکیل کیس نہیں لے رہا۔۔۔؟"
اس کی آواز غیر معمولی طور پر ٹھہری ہوئی تھی۔۔۔
عادل نے گہری سانس لی۔۔۔
"جی سر۔۔۔ وجہ صرف ایک نہیں ہے۔۔۔"
وہ انگلیوں پر گنواتے ہوئے بولا۔۔۔
"پہلی وجہ وہ شخص علاقے کا مئیر ہے۔۔۔ سیاسی اثر و رسوخ،"

"دوسری پولیس پر دباؤ۔۔۔ گواہان کو پہلے ہی ڈرایا جاچکا ہے۔۔۔"

'جس نے بھی پہلے ایسے کیسز اٹھائے۔۔۔ یا تو خاموش ہوگئے یا پیچھے ہٹ گئے، تیسری وجہ۔۔۔"
وہ رکا۔۔۔ پھر دھیرے سے بولا۔۔۔
"اور چوتھی وجہ سب سے بڑی ہے سر۔۔۔"
ارحم نے نظریں اٹھائیں۔۔۔
"لوگوں کو اپنی جان عزیز ہوتی ہے۔۔۔"
یہ جملہ سیدھا فضا میں معلق ہوگیا۔۔۔

ارحم نے کرسی کی پشت سے ٹیک ہٹا دی۔۔۔
اس کے جبڑے بھنچ گئے۔۔۔
"اور اس عورت کی جان؟"
اس نے آہستہ مگر کاٹ دار لہجے میں کہا۔۔
عادل خاموش ہوگیا۔۔۔

"اس کی بیٹی۔۔۔ جسے اغوا کیا گیا۔۔۔ پھر قتل۔۔۔"
ارحم کے الفاظ میں اب دبایا ہوا غصہ شامل تھا۔۔۔

"اس کا شوہر۔۔۔ جو اس صدمے کو برداشت نہ کر سکا۔۔۔"

اس نے مٹھی بھینچ لی۔۔۔

"اور ہم کہتے ہیں انصاف ہوگا۔۔۔؟"
وہ تلخ ہنسی ہنسا۔۔۔
عادل نے نظریں جھکا لیں۔۔۔
"سر۔۔۔ سسٹم ایسا ہی ہے۔۔۔"
ارحم اچانک کھڑا ہوگیا۔۔۔
کرسی پیچھے سرک گئی۔۔۔
"سسٹم خود نہیں بدلتا عادل۔۔۔"
اس کی آواز اب مضبوط تھی۔۔۔
"کسی کو بدلنا پڑتا ہے۔۔۔"
کمرے میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔۔۔
میں جانتا ہوں یہ کیس کون لڑ سکتا ہے۔۔؟؟
ارحم کچھ توقف کے بعد بولا تو عادل کے چہرے پرچھایا ملال دور ہوا۔۔
کون سر۔۔۔؟؟
لائر مس ارشبہ سحر۔۔۔"
عادل چونک کر اسے دیکھنے لگا۔۔ "سر یہ کیس عام نہیں ہے۔۔۔ لڑنے والے وکیل کو جان کا خطرہ ہے۔۔۔"
ارحم نے آنکھیں چھوٹی ، ماتھے پر بل ڈال کر عادل کودیکھا۔۔
عادل دوبارہ مت دہرانا یہ بات۔۔!!
ارحم نے اسے تنبیہہ کی۔۔۔
"وکالت، آرمی، پولیس لائن ، نیوی اور جتنی بھی اس طرح کی فیلڈ ہیں اس میں سب سے پہلے یہ ہی سکھایا جاتا ہے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر سچ کا ساتھ دیتے ہوئے میدان جنگ میں اترنا ہوتا ہے۔۔۔۔ "
ارحم نےتائیدی نگاہوں سے دیکھا تو عادل نے سر جھکا لیا۔۔"سوری سر۔۔"
عادل معذرت کرتا کیبن سے نکل گیا۔۔۔۔
جب کہ ارحم فائلیں سمیٹنے لگا۔۔۔
اسلام و علیکم۔۔۔!!
وہ لاونج میں داخل ہوتے ساتھ بولی۔۔
وسلام۔۔ اجاؤ بچے۔۔۔"
فاروق صاحب اکیلے لاونج میں موجود تھے انہوں نے ارشبہ کو بیٹھنے کا اشارہ دیا۔۔۔۔
کیسا رہا پہلا دن انٹرنشپ کا۔۔۔؟؟
صحیح تھا انکل مگر کوئی اپنا کیس دینے کو تیار نہیں ہے۔۔۔"
اس کا چہرہ اترا ہوا تھا۔۔۔
کوئی بات نہیں، ابتداء ہے کام کی، پہلا قدم ہے آپ کا۔۔ '
انکل میں کیسے لوگوں سے کہوں کہ وہ مجھے اعتماد کرکے اپنا کیس مجھے دیں۔۔۔ ؟ ایسے تو کوئی بھی مجھے اپنا کیس نہیں دے گا ۔۔ ناہی میں اس فیلڈ میں آگے بڑھ سکوں گی۔۔"
ارشبہ کے بازو پر سیاہ گاؤن ڈلا ہوا تھا۔۔۔۔
فاروق صاحب نے اس کے گاؤن کو دیکھا۔۔۔۔
"اعتماد مانگا نہیں جاتا بچے۔۔۔ کمایا جاتا ہے۔۔۔"
انہوں نے نرم مگر پُراثر لہجے میں کہا۔۔۔
ارشبہ خاموشی سے سنتی رہی۔۔۔
"کسی بھی فیلڈ میں قدم رکھنے کیلئے آپ کو موقع ڈھونڈنا پڑتاہے۔۔ ہزاروں لوگوں میں سے کوئی تو ایسا ہوگا جو آپ کی بات سے قائل ہوسکے۔۔۔۔"
وہ دھیمے لہجے میں بولے۔۔۔ارشبہ سوچ میں پڑگئی۔۔۔
اسی لمحے دروازہ کھلا۔۔۔
ارحم اندر آیا۔۔۔ اس کی نگاہ سیدھی ارشبہ اور فاروق صاحب پر جا کر رکی۔۔۔
چند لمحوں کیلئے خاموشی چھا گئی۔۔۔
دونوں نے ہی اس کی آمد پر سر اٹھا کر دیکھا:
اسلام و علیکم۔۔۔"
وسلام۔۔"
فاروق صاحب کے بلکل برابر میں جاکر بیٹھ گیا۔۔۔۔
سب کہاں ہیں بابا۔۔۔؟ؕؕ
تمہاری ماں اور حرا شاپنگ پر گئیں ہیں۔۔۔"
ارحم نے سمجھ کر سر ہلایا۔۔۔
بابا میں فریش ہوجاؤں۔۔۔"
ارشبہ کہہ کر اٹھنے لگی۔۔۔
"ارشبہ میں آپ کو ایک کیس دینا چاہتا ہوں۔۔۔"
ارحم نے بغیر کسی تمہید کے کہا۔۔۔
ارشبہ چونکی، فاروق صاحب بھی سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگے۔۔۔
"مجھے۔۔۔؟"
جی آپ کو۔۔"
ارحم کا لہجہ کافی مضبوط تھا۔۔۔۔
ارشبہ نے فاروق صاحب کو دیکھا :
فاروق صاحب نے دونوں کو باری باری دیکھا۔۔۔ جیسے سب کچھ سمجھ رہے ہوں۔۔۔
پھر فاروق صاحب ہولے سے مسکرائے۔۔۔
یہ ہی وہ موقع ہے ۔۔"
اور پختہ لہجے میں بولے۔۔۔

وہ ان دونوں کے درمیان سے اٹھ کر چلے گئے۔۔ لاونج میں اب وہ دونوں آمنے ، سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔ ارشبہ فلور کشن پر جبکہ ارحم صوفے پر براجمان تھا۔۔۔
اگر انٹریسٹڈ ہیں تو اسٹیڈی میں آجائیں، باقی باتیں وہیں بتاؤں گا۔۔۔"
وہ اس کو سوچوں میں الجھا دیکھ کر کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا اور
اپنے کمرے میں چلا آیا۔۔۔۔۔
ارشبہ کو کیس لینا تھا انکار کی تو کوئی گنجائش نہیں تھی۔۔۔۔

وہ پیاز کاٹتے ہوئے گاہے بگاہے انھیں مسکراتا دیکھ کر کر خود بھی مسکرا دیتی۔۔۔
وہ ہشاش، بشاش سی کچن کاونٹر کے سامنے کھڑیں چاول ابال رہیں تھیں۔۔۔
کیوں ہنس رہی ہو نورا۔۔؟ ان کی نگاہ پڑی تو ٹوکے بنا نا رہ سکیں۔۔۔۔
آپ کی خوشی پر خوش ہورہی ہوں میں تو مہر بی بی۔۔۔"
وہ سر سے سرکتا ڈوپٹا درست کرتے ہوئے بولی۔۔۔
کتنی بے غرض لڑکی ہو تم نورا ، مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں ہے۔۔"
مہر ماہ نے خلوصِ دل سے کہا:
شکریہ مہر بی بی۔۔ میں نے اپنی ماں کو اپکی تعریفوں میں زمین، و آسماں کے قلابے ملاتے سنا ہے۔۔ مگر جب سے آپ کو قریب سے جانا، تو میری ماں درست ہی کہتی تھی شاید ہی اس دنیا میں آپ جیسا کوئی ہو۔۔"
مہر کٹی ہوئی پیازوں کی پلیٹ لے کر سنگ کے پاس آئی۔۔ مہر ماہ نے پلٹ کر اسے دیکھا:
سرخ آنکھوں سے بہتا پانی۔۔ سوں ، سوں کرتی نورا اب سنگ میں نل کھولے کھڑی ہوئی۔۔۔۔
"نورا میں ارش کی شادی کروا چکی ہوں۔۔۔"
مہر کی اطلاع پر نورا اچھل پڑی۔۔۔
سچ کہہ رہی ہیں آپ۔۔۔؟؟ وہ بے یقینی سے بولی۔۔۔۔
بلکل سچ۔۔"
میں کل سے اپنے آپ کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کررہی ہوں نورا۔۔"
شاید یہ کام مجھے اسی وقت کرلینا چاہیے تھا جب وہ میرے پاس تھی۔۔۔"
مہر نے دیگچی میں چمچ چلاتے ہوئے آنچ دہیمی کی۔۔۔۔
اس کام کا وقت وہ ہی تھا بی بی۔۔،
نورا سادگی سے بولی تو مہر نے گردن اثبات میں ہلائی۔۔
بڑے صاحب کو پتا چلا تو۔۔؟؟ وہ خائف ہو کر بولی۔۔۔۔
تو کیا ہوا۔۔۔ وہ کچھ نہیں کرسکتے نورا۔۔۔"
مہر ماہ جو پچھلے سات مہینوں سے خوف زدہ رہتیں تھیں۔۔ وہ خوف ان کے چہرے سے مکمل غائب ہوچکا تھا۔۔۔۔۔۔
روشی بی بی کب تک آئیں گی۔۔۔؟؟
شام تک اس کی فلائیٹ پہنچ جائے گی کھانا ہم گھر پر ہی کھائیں گے۔۔ تم سب کچھ تیار رکھنا۔۔۔"
مہر ماہ ہدایت دیتے ہوئے بولی۔۔۔۔ تو نورا جلدی جلدی ہاتھ چلانے لگی۔۔۔ تین گھنٹوں میں اسے سب کچھ مکمل کرنا تھا۔۔۔

قریب بیس منٹ بعد وہ اسٹیڈی روم کی جانب آئی تو ملازمہ کو بھی اسی طرف آتے دیکھا:
ارش باجی یہ آپ ارحم صاحب کو دے دیں گی۔۔۔؟؟
اس نے اس کی طرف چائے سے بھرا کپ اور سینڈوچ سے سجی ٹرے سامنےکی۔۔۔
ہمم۔۔ وہ سر ہلا کر ٹرے پکڑ کر دستک دے کر اندر چلی گئی۔۔۔۔۔
وہ سربراہی صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ چرھائے گردن بیک سے ٹیک لگائے آنکھیں موندا بیٹھا تھا اسے آتے دیکھ سیدھا ہو۔۔
ارشبہ کا سفید سوٹ تبدیل ہوچکا تھا۔۔ وہ جامنی رنگ کے قمیض شلورا پہنے ہوئے تھی۔۔۔۔ ڈوپٹہ سلیقے سے اوڑھا ہوا تھا۔۔
اس نے سائیڈ ٹیبل پر ٹرے رکھی۔۔۔
اور خود میز کے ساتھ رکھے صوفے پر بیٹھ گئی۔۔
ارحم اٹھ کر صوفوں میں سے ایک پر اکر بیٹھا۔۔۔ ارشبہ اس کے عین سامنے بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
گردن گھما کر اسٹیڈی کا جائزہ لینے لگی۔۔۔ارحم کا کام ک وقت اس کمرے کی نظر ہوجاتا۔

"یہ کیس آسان نہیں ہے۔۔۔"
ارحم نے سنجیدگی سے گفتگو شروع کی۔۔۔
ارشبہ کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔۔۔
"کیسا کیس۔۔۔؟"
ارحم نے فائل اس کی طرف بڑھائی۔۔۔
"اغوا۔۔۔ قتل۔۔۔ اور طاقت کے غلط استعمال کا کیس۔۔۔"
ارشبہ کے ہاتھ خودبخود فائل کی طرف بڑھے۔۔۔
"کس کے خلاف۔۔۔؟"
ارحم نے ایک لمحہ اسے دیکھا۔۔۔ پھر آہستہ سے بولا۔۔۔
"شہر کے مئیر کے خلاف۔۔۔"
ارحم کے بتانے پر اس نے فائل کا سرورق پلٹا۔۔۔
"یہ وہی کیس ہے نا۔۔۔ جسے کوئی وکیل لینے کو تیار نہیں۔۔۔؟"
اس نے دھیرے سے پوچھا۔۔۔
"ہاں۔۔۔"
ارحم کا جواب مختصر تھا۔۔۔ مگر اس میں وزن تھا۔۔۔
'آپ کیوں چاہتے ہیں میں یہ کیس لڑوں۔۔"
"میں نہیں چاہتا۔۔۔"
ارحم نے فوراً کہا۔۔۔
ارشبہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔
کیوں کہ اس کیس کو آپ جس طرح سے لڑیں گی کوئی اور نہیں لڑ سکتا۔۔"
ارشبہ اس کے بے حد یقین پر اسے دیکھتی رہ گئی۔۔۔
آپ کو مجھ پر یقین کیوں ہے۔۔ حالانکہ اس کیس کو بڑے سے بڑا وکیل بہت اچھی طرح لڑسکتا ہے بلکہ جیت بھی سکتا ہے۔۔۔"
"نامور وکیل، اثرور رسوخ رکھنے والے لوگوں کے کیس لیتے ہیں ارشبہ۔۔ مگر میں چاہتا ہوں یہ کیس آپ ہی لڑیں کیوں کہ
"میں یقین رکھتا ہوں کہ آپ اسے حل کرلیں گی۔۔۔"
یہ جملہ ارشبہ کے دل کی دل گہرائیں میں اترتا چلا گیا۔۔۔۔
کمرے میں خاموشی پھیل گئی۔۔۔
ارشبہ نے نظریں جھکا کر فائل پڑھنے لگی۔۔۔
چند سطریں پڑھتے ہی اس کا چہرہ سنجیدہ ہوگیا۔۔۔
ایک معصوم لڑکی۔۔۔
ظلم۔۔۔
بے بسی۔۔۔
اور ایک ماں کی ٹوٹی ہوئی فریاد۔۔۔
اس نے فائل بند کردی۔۔۔
"اگر میں یہ کیس ہار گئی تو۔۔۔؟"
ارحم نے بغیر توقف کے جواب دیا۔۔۔
"تو بھی آپ جیتیں گی۔۔۔"
"کیونکہ آپ نے کوشش کی ہوگی۔۔۔"
ارشبہ نے آہستہ سے سر اٹھایا۔۔۔
ان دونوں کی نظریں ملیں۔۔۔
یہ پہلی بار تھا جب ان کے درمیان کوئی رشتہ سا محسوس ہوا۔۔۔
کوئی ایسا رشتہ جو لفظوں سے نہیں۔۔۔ مقصد سے جڑتا ہے۔۔۔
اس نے گہری سانس لی۔۔۔
"میں یہ کیس لڑوں گی۔۔۔"
وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔۔۔
مگر اس کی آنکھوں میں پہلی بار ایک واضح سا یقین تھا۔۔۔
جیسے اسے معلوم ہو۔۔۔
یہ لڑکی صرف کیس نہیں لڑے گی۔۔۔
تاریخ رقم کرے گی۔۔۔۔"
ارحم نے پلیٹ میں رکھا سینڈ وچ اٹھا کر اس کی جانب بڑھایا۔۔۔۔
ارشبہ نے اسے دیکھا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے سینڈوچ لے لیا۔۔۔
جاری ہے؛۔

Sneak peak For up comming novel    FarooqWritten By syeda Jaweria shabbir...______________________آپ مجھے کسی بھی بات کی...
02/05/2026

Sneak peak For up comming novel


Farooq
Written By syeda Jaweria shabbir...
______________________
آپ مجھے کسی بھی بات کیلئے مجبور نہیں کرسکتے۔۔۔"
ارشبہ دو ٹوک انداز میں بولی تو ارحم اس کے لب ولہجے پر حیران زدہ رہ گیا۔۔۔۔
پہلے تو وہ بات بھی کرلیتی تھی، مگر جس دن سے اس کی انعم کے ساتھ شادی ہوئی تھی، تب سے وہ اس سے کنارہ کئے ہوئے تھی۔۔۔۔
ارحم اس کے اس انداز سے کافی بے چین و بے قرار رہنے لگا تھا۔۔۔
"میں شوہر ہوں آپ کا ارشبہ ارحم صاحبہ۔۔۔۔"
ارحم ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔
"میں آپ کی اکلوتی اور من پسند بیوی نہیں ہوں۔۔ شاید آپ یہ بھول رہے ہیں کہ انعم سے آپ کی شادی میرے آنے سے پہلے ہی طے کردی گئی تھی۔۔۔۔۔۔"
ارحم نے ارد گرد کے ماحول پر غور کیا۔۔۔ یہ ایک پبلک پلیس تھا یہاں بات کرنا مناسب نہیں تھا۔۔۔۔۔
ارحم نے کلائی میں بندھی گھڑی دیکھی۔۔۔ اسے پولیس اسٹیشن جانا تھا۔۔۔ مگر ارشبہ کو وہ نہیں چھوڑ سکتا تھا گھر میں وہ سامنے آتی نہیں تھی۔۔۔ یہاں بائے چانس اس سے سامنا ہوا تھا اس بار وہ اس سے بات کئے بنا کہیں نہیں جائے گا۔۔۔۔
"چلو کیفے چلتے ہیں مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔۔۔۔"
اس نے کچھ توقف کے بعد کہا:
ارشبہ نے عجیب نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔ ارحم اس کی نگاہوں کا مفہوم بھانپ کر ماتھے پربل ڈالے سیاہ گلاسس کے پار سے گھورنے لگا۔۔۔۔
ایسے مت دیکھو محرم ہو میری ۔۔۔ رشتہ ہے ہمارے درمیان۔۔۔۔۔"
ارحم نے دوبارہ باور کروایا۔۔۔۔ارشبہ نے سر جھٹکا۔۔۔ وہ ان سب باتوں سے متاثر نہیں ہوسکتی تھی۔۔۔۔
مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی مجھے کورٹ جانا ہے۔۔۔۔"
وہ کندھے پر اپنا ہینڈ بیگ درست کرتی سائیڈ سے نکل کر جانے لگی، ارحم نے اچانک اس کا بازو پکڑا۔۔۔۔ ارشبہ اس کی حرکت پر سن ہوگئی۔۔۔۔
ارشبہ کیا ہوگیا ہے آپ کو چھوٹی سی بات سمجھ نہیں آرہی دیکھو میں یونیفارم میں ہوں لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بن رہا ہوں۔۔۔ خوامخواہ بد اخلاقی ہوگی بہت آرام سے کہہ رہا ہوں آپ چلیں میرے ساتھ۔۔۔۔۔"

ارحم بے حد ضبط سے بولا۔۔۔ وہ چاہتا تو اسے زبردستی اپنے ساتھ لے جاتا۔۔۔ مگر کھینچا تانی، یا کسی بھی قسم کی جبلت اس کی فطرت میں شامل نا تھی۔۔۔۔۔۔
وہ صرف ارشبہ کو قائل کرنا چاہتا تھا کہ وہ کم از کم اس سےبات تو کیا کرے، یوں دامن بچائے نہ پھرا کرے۔۔۔۔
_________________________

ناول وہ جو میرا مقدر ٹہراانیسویں  قسط-----------------------------------------گود میں دھری ہتھیلی پر نگاہیں ٹکائے خالی ا...
27/04/2026

ناول وہ جو میرا مقدر ٹہرا
انیسویں قسط
-----------------------------------------

گود میں دھری ہتھیلی پر نگاہیں ٹکائے خالی اذہنی کی کیفیت میں مبتلا سر جھکائے بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔
آن ہی آن میں اس کی زندگی کا اہم فیصلہ ہوچکا تھا۔۔۔ کچھ منٹ ہی تو گزرے تھے نکاح ہوئے۔۔۔زندگی کا سب سے بڑا رسک لیا تھا اس نے۔۔۔ یہ جانتے بوجھتے، وہ شخص کسی اور سے کمٹڈ ہے۔۔ عام حالات میں وہ یہ فیصلہ کبھی نا لیتی۔۔۔ مگر اس کی زندگی سے عام حالات اب نکل چکے تھے۔۔ جب سے اس نے اپنے بابا کیلئے انصاف لینے کا عزم اٹھایا تھا تب سےاس کی زندگی میں کچھ نارمل نہیں رہا تھا۔۔۔۔۔
سامنے بیٹھا وہ شخص جو اب اس کا شوہر کہلائے گا۔۔ اسے سر اٹھا کر دیکھنے کی ہممت اس میں باقی نہیں رہی تھی۔۔ مگر اس کی نگاہوں کا ارتقاذ وہ خود پر بخوبی محسوس کررہی تھی۔۔۔
طوفانی قسم کی محبت۔۔، ٹھاٹے مارتے جذبات جیسا کوئی بھی عنصر دونوں کے درمیان نا پید تھا۔۔۔ دونوں ہی پریکٹیکل سے انسان تھے۔۔ حقیقت پسند۔۔۔، کھرے اور صاف دل۔۔
ارحم کے ذہن میں اس لمحے بہت کچھ چل رہا تھا۔۔۔مگر ارد گرد ہونے والے اس مبارکباد کے شور میں وہ کہیں دب سا گیا تھا۔۔
اس نے گردن موڑ کر دیکھا : بابا ،ڈی آئی جی صاحب سے نجانے کون سے راز و نیاز میں مصروف تھے کہ وہ چاہ کر بھی سن نہ سکا۔۔۔
مہر ماہ ۔۔ جھکی ہوئی سی اس سے کچھ کہہ رہیں تھیں جس کا جواب وہ محض سر ہلا کر دے رہی تھی۔۔۔۔۔
جیب میں رکھا موبائل تھرتھرایا تو وہ چونکا۔۔۔
موبائل نکال کر اسکرین پر بلنک ہونے والا نام دیکھ کر اس کا چہرہ تاریک ہوگیا۔۔۔ یہ ہی وہ پل تھا جب ارشبہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا موبائل کان سے لگائے وہ باہر جارہا تھا۔۔۔۔
نگاہیں پلٹ آئیں۔۔۔۔۔

مجھے آپ سے بات کرنی ہے آپی۔۔۔؟ؕاسے جیسے کچھ یاد آیا تھا۔۔۔
ہاں کہو۔۔" نعمان بھائی آپ کو خوش رکھتے ہیں۔۔۔؟ؕمہر ماہ کے لبوں سے مسکراہٹ ایک دم معدوم ہوئی۔۔۔
مگر بروقت وہ اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے بولیں۔۔۔
"یہ سوال کچھ دن بعد مجھے تم سے کرنا ہے۔۔۔ میری شادی کو پانچ سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔۔" وہ اس کی بات کو مذاق میں اڑاتے ہوئے بولیں۔۔۔
آپی آپ جانتی ہیں میں کیوں پوچھ رہی ہوں۔۔؟ؕ اس کی نگاہیں جتاتی ہوئیں تھیں۔۔ مہر ماہ اس کی بات کا مطلب سمجھ کر نگاہیں پھیر گئیں۔۔
"میری فکر نا کرو۔۔ وہ مجھے ناقابلِ تلافی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔۔۔ آخر کار میں ان کے بچوں کی ماں بھی تو ہوں۔۔"
ان کے چہرے پر مانوس سی مسکان کو دیکھ کر ارشبہ نے خلوصِ دل سے انھیں دعا دی۔۔۔۔
گھر چلیں ارشبہ۔۔۔؟ ارحم عین اس کے سامنے اکر رکا۔۔۔
ارشبہ نے اس کے طرز تخاطب پر غور کرتے ہوئے اسے دیکھا۔۔
لبوں پر مطمئن سی مسکان ٹہری ہوئی تھی مگر آنکھیں الجھن بھری تھیں۔۔۔
...Complete episode parhnay ka liya pdf link per visit karayn
https://syedaofficialwriter.blogspot.com/2026/04/novel-wo-jo-mera-muqaddar-tehra-episode.html

"انعم میں نکاح کرچکا ہوں۔۔۔"ارحم کے منہ سے ادا ہونے والے جملوں پر سامنے بیٹھی سٹائلش سی لڑکی نے اپنے منگیتر کو بے یقینی ...
26/04/2026

"انعم میں نکاح کرچکا ہوں۔۔۔"
ارحم کے منہ سے ادا ہونے والے جملوں پر سامنے بیٹھی سٹائلش سی لڑکی نے اپنے منگیتر کو بے یقینی سے دیکھا:

گرے رنگ کی پینٹ شرٹ پہنے، آستینوں کے کف بازو تک مڑے ہوئے تھے۔۔ چہرے سے غیر معمولی نرمی جھلک رہی تھی۔۔ اس کا چہرہ عاداتاً ہی سپاٹ اور سنجیدہ رہتا۔۔۔ مگر آج ایسا نہیں تھا۔۔

انعم سیدھی ہوئی۔۔۔ انکھیں چھوٹی کرکے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
"ایسا کیسے ہوسکتا ہے ہماری شادی تو ایک ہفتے بعد ہے نا۔۔۔"
وہ مصنوعی مسکراہٹ سے بولی۔۔۔ دل جیسے ڈھڑکنا بھول گیا تھا۔۔ یہیی وہ خدشہ تھا جو نجانے کب سے اس کے دل میں خوف پیدا کررہا تھا۔۔۔۔ مگر یہ خدشہ ختم ہوگیا تھا ہاں کل رات تو مام نے اسے شادی کی خوشخبری دی تھی اور اس شخص کے راضی ہونے کی بھی یقین دہانی کروائی تھی۔۔۔۔۔
"میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ تم بھی یقینا اب یہ شادی نہیں کرنا چاہو گی۔۔۔ دوسری بیوی بننا تو تمہارے لئے بھی ناقابل قبول ہی ہوگا۔۔۔۔۔"
ارحم اگے ہوکر دونوں ہاتھوں کو میز کی سطح پر رکھ کر ایک ایک لفظ کو بہت سوچ اور سمجھ کر بول رہا تھا۔۔۔
انعم نے اپنا سر پکڑ لیا۔۔۔۔
ارحم نے بے اختیار لب بھینچ لئے۔۔۔ وہ جانتا تھا اگر وہ چیخے گے یا چلائے گی تو اسے یہ سب بڑے صبر سے برداشت کرنا ہوگا۔۔۔۔۔
مگر وہ اب شادی کیلئے حامی نہیں بھرے گی۔۔۔۔۔۔ اس بات کا اسے سو فیصد یقین تھا۔۔۔۔۔

کس سے نکاح کیا ہے ؟؟
انعم کے لب کپکارہے تھے۔۔۔ وہ دونوں ہاتھوں کو اپس میں ملتے ہوئے ضبط کے آخری زینے پر کھڑی تھی۔۔۔۔۔

ارشبہ سحر ہے اس کا نام تم نہیں جانتیں۔۔۔۔"
ارحم نے زیادہ تعارف کروانا مناسب نا سمجھا۔۔۔۔
جب میرے پیرینٹس بات پکی کرنے آئے تھے تو تب انکار کردیتے۔۔۔۔۔"

دیکھو انعم نکاح جلد بازی میں ہوا تھا۔۔۔ اس نکاح کے پیچھے کئی وجوہات تھیں۔۔۔
"مگر اب۔۔۔ وہ لڑکی نکاح میں ہے میرے میں تمھیں کسی قسم کے دھوکے میں نہیں رکھنا چاہتا تھا اس لئے یہاں سب کچھ کلئیر کرنے آگیا۔۔۔۔ میرے پاس تمہارے لئے سوائے معذرت کے اور کوئی الفاظ نہیں ہیں۔۔۔۔۔"

ارحم کہے کر چپ ہوا۔۔۔ انعم کتنی ہی دیر تک پانی کے گلاس کو گھورتی رہی۔۔۔۔ دونوں کے درمیان بوجھل سی خاموشی در آئی۔۔۔۔۔۔
میں تمہارے جواب کا منتظر ہوں۔۔۔۔؟؟
ارحم نے گلہ کھنکھار کر آہستگی سے کہا:
انعم نے شکوہ کناہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔
فلور پر رکھا اپنا ہینڈ بیگ اٹھایا۔۔۔
تمھیں مزید اور انتظار کرنے پڑے گا۔۔۔۔"
وہ اس کا اب تک کا سکون ان مختصر الفاظوں سے غارت کرتی ہوئی کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔۔

ارحم کا چہرہ پل بھر میں متغیر ہوا۔۔۔
جھٹکے سے مڑ کر اس کے بولنے کا انتظار کئے بنا ہی داخلی دروازے کی جانب مڑ گئی۔۔۔۔۔
اس نے کیسے سوچ لیا تھا انعم ہمیشہ کی طرح اس کیلئے مشکلات پیدا نہیں کرے گی۔۔۔ وہ انعم تھی سحر نہیں۔۔۔ اس کی طبیعیت میں ایمپیتھائز Empathyize کرنا نہیں تھا۔۔۔ وہ کیسے اسے سمجھ سکتی تھی۔۔۔۔ سات ماہ منگنی جیسا رشتہ رہا تھا ان کے درمیان ۔۔۔۔،اپنے فیصلے اوپر رکھنا اس کی خصلت میں شامل تھا۔۔ عادتیں پھر بھی بدل جایا کرتیں ہیں ،خصلتیں نہیں بدلتیں۔۔۔ یہ انسان کے ساتھ جنم لیتیں ہیں ، کونسٹینٹ رہتیں ہیں، اور پھر انسان کے ساتھ ہی ختم ہوجاتیں ہیں۔۔۔۔۔

# sneak peak

ناول : وہ جو میرا مقدر ٹہرااز سیدہ جویریہ شبیر، آٹھارہویں قسط--------------------------------------سیدھی چلتی راہداری ک...
18/04/2026

ناول : وہ جو میرا مقدر ٹہرا
از سیدہ جویریہ شبیر، آٹھارہویں قسط
--------------------------------------
سیدھی چلتی راہداری کے دائیں جانب بنے تیسرے کمرے کا دروازہ بے حد آہستگی سے کھولا گیا۔۔۔۔گردن نکال کر دائیں بائیں جانب دیکھا:ٹیرس کی کھلی چھت سے ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے کو چھو کر گزری۔۔۔۔
کمرے سے نکل کر ہاتھ میں پکڑا بیگ کندھے پر ڈالا نوب گھما کر دروازہ بنا آواز بند کرکے لاکڈ کر چکا تھا۔۔۔ چابی اس نے نیلی رنگ ، ٹخنوں سے اوپر پہنی پینٹ کی جیب میں رکھی۔۔۔
دبے قدم اٹھاتا، ارد، گرد دیکھتا آگے بڑھا۔۔ مگر پھر رک کر ایک نگاہ بائیں جانب بنی ریلنگ کے پار سے نیچے جھانکا۔۔ نیچے کا لونگ روم اور ڈائنگ ایریا یہاں سے واضح دیکھائی دے رہا تھا۔۔۔
ملازمہ چائے کے خالی برتن سمیٹ رہی تھی۔۔۔ امی ، ابو۔۔ اور ارحم کے درمیان کوئی بحث چھڑی ہوئی تھی۔۔ جسے یکسر نظر انداز کرتا وہ بنا چاپ کے آگے بڑھا۔۔
راہداری ختم ہوتے ہی ٹیرس شروع ہوجاتا۔۔۔، اور پیچھے سے نکلنے والا زینہ لان سے ہو کر گزرتا۔۔۔
ٹیرس سے ہوکر گزرا تو وہ سامنے کھڑی نظرآئی۔۔ فائز کے چہرے پر بے زاری سی جھلکی۔۔۔ اسے اس وجود سے کوئی دلچسبی نہیں تھی۔۔ اس کی وجہ ارحم کی ذات تھی یا ان دنوں وہ ہر کسی سے بےزار رہنے لگا تھا۔۔۔ گھر کی چار دیواری اسے کھانے کو دوڑتی۔۔۔۔
بنا آہٹ کئے سیڑھیاں پھلانگتا اترتا چلا گیا۔۔۔۔

ارشبہ نماز کے بعد دوبارہ یہاں چلی آئی تھی۔۔ کمرے میں عجیب سی مایوسی پھیلی محسوس ہورہی تھی۔۔۔حرا پڑھائی میں مگن ہوگئی تھی۔۔۔ کافی کا خالی مگ تھامے وہ آسمان میں نجانے کیا کھوج رہی تھی۔۔
تبھی دبی دبی آواز پر چونک کر سر جھکایا۔۔۔
سیاہ ہیولہ لان کی مدہم روشنی میں جلدی، جلدی چلتا ہوا مین گیٹ کی جانب آپہنچا۔۔۔ارشبہ کی چھٹی حس نے الارم دینا شروع کیا۔۔۔
وہ آنکھیں چھوٹی، چھوٹی کرکے اس ہیولے کو بغور دیکھنے لگی۔۔۔ وہ دبلے، پتلے جسامت والا فائز تھا۔۔ وہ پہچان گئی تھی اسے۔۔۔ مگر۔۔ وہ کہاں جارہا تھا۔۔؟؟
ارشبہ زیر لب بڑبڑا کر کپ منڈیر پر رکھ کر نیچے کی جانب بھاگی۔۔۔۔
فائز کے پیچھے جانا ، لمحوں میں ہونے والی سنگین حماقت تھی۔۔ وہ اگر رک کر سوچتی تو فائز گیٹ پار کرجاتا۔۔۔۔۔
فائز نے گردن موڑ کر سر اونچا کیا۔۔۔ ٹیرس خالی ہوگیا تھا۔۔ سیڑھیوں کے اختتام پر ہم رنگ ڈوپٹہ لہرایا۔۔۔وہ کامیاب مسکراہٹ اچھال کر آہنی گیٹ سے نکل کر گھم ہو گیا۔۔۔ اس کے پیچھے بھاگتی ہوئی ارشبہ بھی گیٹ کے باہر نکل گئی۔۔۔
دو گھنٹے سے چھڑی بحث پر آخر کار فاروق صاحب اکتاگئے۔۔
یار بس کرو اب تم دونوں ۔۔ شادی تین ماہ بعد ہو یا ایک ہفتے بعد کیا فرق پڑے گا۔۔۔؟؟ وہ زچ ہوکر بولے۔۔
فرق پڑے گا کیا۔۔ تین ماہ بعد بھی شادی تمہاری انعم سے ہی ہوگی۔۔ اگر ایک ہفتے بعد ہورہی ہے تو مسئلہ کس بات کاہے۔۔۔؟؟
ارحم اور راجدہ بیگم خاموشی سے ان کا منہ تکنے لگا۔۔۔
ارحم نے لب بھینچ لئے۔۔۔ بہت فرق ہے ہمیں تیاریاں کرنے میں وقت مل جائے گا۔۔ ارحم بھی چھٹی لے لے گا۔۔۔ میرج ہال کی بھی تو بکنگ کرنی ہوگی۔۔۔"
راجدہ بیگم کی پریشانی بجا تھی مگر ان سب باتوں کے بعد بھی فاروق صاحب مطمئن نظر آئے۔۔۔۔۔
یہ سب ہوجائے گا ۔۔۔ مگر یہ شادی اب مزید ڈیلے نہیں ہوگی۔۔۔ سن لو تم دونوں ارحم۔۔ انعم کا خیال کرو وہ تمہارے نام پر پچلھے سات ماہ سے بیٹھی ہوئی ہے اب اور دیر کرنا اچھا نہیں ہے۔۔۔ بیٹا سمجھا کرو یہ معمالات بہت حساس ہوتے ہیں جتنی مشکلات سے طے پاتے ہیں اتنی آسانی سے ٹوٹ بھی جاتے ہیں۔۔ میں ہر گزیہ نہیں چاہتا کہ میرے اور دانیال کےبزنس ریلیشن میں پرسنل ریشلنز انٹر فئیر کریں۔۔۔۔"
ارحم نے ان کی جانب دیکھا۔۔۔ ان کا لہجہ دو ٹوک تھا۔۔ اس کے پاس بھی اب بہانہ بنانے کو کوئی جواز نہیں رہ گیا تھا۔۔۔ یہ گھونٹ تو گلے میں اتارنا ہی تھا۔۔۔۔
فاروق صاحب اٹھ کر گئے تو ارحم نے ماں کی شکل دیکھی۔۔۔
تمہارے بابا نے کبھی پوچھا ہے کوئی فیصلہ لینے سے پہلے۔۔ جو من میں آتا ہے وہ کرتے ہیں۔۔ ایک کام نہیں ہوتے دس کام ہیں کرنے والے انہوں نے تو فیصلہ سنادیا اور یہ جا وہ جا ۔۔۔!
راجدہ بیگم نہایت غصے سے بولنے لگیں ارحم نے طویل سانس بھرا۔۔۔
امی ارشبہ آپی کہاں ہے۔۔۔؟ؕ حرا عجلت میں وہاں آئی تھی۔۔ گہر گہرے سانس بھرتی ہوئی بولی۔۔
۔۔ میں تو انعم کی ماں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔۔ اوپر دیکھو وہیں ہوگی۔۔
امی میں نے ٹیرس میں دیکھ لیا وہاں بھی نہیں ہے۔۔۔۔
حرا کے چہرے پر پریشانی در آئی۔۔۔
فاروق صاحب غصے کے عالم میں لونگ روم میں داخل ہوا ہے۔۔۔
کہاں ہےتمہارا خبیث و نالائق بیٹا۔۔۔؟؟
جب سے فائز حوالات میں رات کاٹ کر آیا تھا تب سے وہ رات گئے تک فائیز کے کمرے کو چیک کرتے ، اس کی موجودگی کا یقین ہوجاتا پھر ہی اپنے کمرے میں جاتے۔۔۔۔
وہ آتے ساتھ ہی بلند آواز سے بولے۔۔۔۔۔۔
"کمرے میں ہے سو جاتا ہے اس وقت تک۔۔" راجدہ بیگم شوہر کے غصے کو خاطر میں لائے بغیر بولیں۔۔۔
نہیں ہے کمرے میں ۔۔۔"
وہ ہاتھ پیچھے باندھ کر چکر کاٹنے لگا۔۔۔
ارحم نے موبائل نکال کر فائز کو کال ملائی نمبر بزی جارہا تھا۔۔۔ بارہا ملانے پر کال کاٹ دی گئی۔۔۔
میری کال نہیں اٹھارہا۔۔۔" ارحم نے موبائل رکھتے ہوئے کہا:
یہ کوئی وقت ہے گھر سے باہر جانے کا رات کے تین بج رہے ہیں نا بتایا۔۔ نا کچھ کہا ،منہ اٹھا کر چلتا بنا۔۔۔"
فاروق صاحب کا غصہ اب سوا نیزے پر پہنچ رہا تھا۔۔۔
میں دیکھتا ہوں اسے ۔۔حرا تم پورے گھر میں ارشبہ کو دیکھو گڑیا مل جائے تو کال کر دینا۔۔"
وہ حرا سے کہہ کر عادل کو نمبر ملانےلگا۔۔۔ آج اس کی نائٹ شفٹ تھی تھانے میں۔۔۔
ہیلو عادل ہاں یار وہ فا۔۔۔۔
اتنے میں فائز سامنے والے لکڑی کے دروازے سے اندر آتا ہوا دیکھائی دیا۔۔ اسے دیکھ کر ارحم کے پیشانی پر پڑے بل سیدھے ہوئے۔۔
ہاں میں بعد میں بات کرتا ہون۔۔"
وہ عادل سے کہہ کر کال کاٹتا فائز کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
کہاں گئے تھے تم اتنی رات کو۔۔۔؟؟ ارحم نے درشتگی سے کہا: ارحم کی آواز پر وہ دونوں بھی کمرے سے کل آئے تھے۔۔۔۔
کہاں سے آرہے ہو اتنی رات کو۔۔؟؟ راجدہ بیگم جلدی سے بولیں اس سے پہلے کہ فاروق صاحب اسے کچھ کہتے۔۔۔
میں آئس کریم لینے گیا تھا۔۔" اس نے ہاتھ میں پکڑی شاپر ان کے آگے کی۔۔۔ کندھے پر بیگ موجود نہیں تھا۔۔۔۔
بھائی ، ارشبہ کہیں نہیں ہے۔۔؟ حرا نے سارا گھر چھان ، مارا تھا۔۔۔ مگر ارشبہ کا کہیں کچھ پتا نہیں چلا۔۔۔
میری فکر چھوڑیں ارشبہ میڈم کی فکر کریں ایسا ناہو اپنے ساتھ وہ آپ کا کئیریر بھی لے ڈوبے۔۔" وہ استہزائیہ انداز میں کہتا کندھے جھٹک کر اپنے کمرے میں چل دیا۔۔اتنی رات کو کہاں جاسکتی ہے بچی۔۔ وہ تو دن میں بھی باہر نہیں نکلتی۔۔؟؟
فاروق صاحب نے تھوڑی کھجا کر کہا: کہیں اسے اغوا تو نہیں کرلیا۔۔۔؟؟
امی کیسی باتیں کررہی ہیں گھر کے اندر سے کون اغوا کرے گا۔۔ آپ پریشان ناہوں میں دیکھتا ہوں پتا چل جائے گا۔۔ "
ان تمام باتوں کے درمیان فائیز کے جملے پر کسی نے غور کرنے کی کوشش نہیں کی۔۔۔۔
ارحم ماں کو تسلی دے رہا تھا یا حقیقتاً خود کو۔۔ اب تک جتنے بھی حادثے ارشبہ کے ساتھ پیش آئے تھے ایک لمحے کی کوتاہی جان لیوا ثابت ہوسکتی تھی۔۔
رات کا آدھا پہر شروع ہوچکا تھا۔۔۔ کشادہ، پختہ سڑک پر خاموشی کا راج تھا۔۔ اسٹریٹ لائٹ کی روشنی مدہم تھی۔۔ کتوں کے بھونکنے کی آواز پر اس کے تیز ، تیز چلتے قدموں کو بریک لگا۔۔۔
رفتار سے ڈھڑکتا ہوا دل تمام پہرے توڑ کر سینے سے باہر نکلنے کو تھا۔۔۔ ارشبہ نے کندھے پر لٹکتے ڈوپٹے سےچہرے اور سر کو ڈھانپا۔۔
فائز کسی جن کی طرح غائب ہوگیا تھا۔۔ وہ گھر سے دور نکل آئی تھی۔۔۔
ایسا نہیں تھا وہ راستوں سے انجان تھی مگر یہ وقت مناسب نا تھا۔۔۔۔۔
عادل ارشبہ غائب ہے یار گھر سے۔۔۔؟ؕ ارحم کے ذہن میں مہر ماہ کے الفاظوں کی بازگشت جاری تھی۔۔۔ دوسری جانب عادل نے اسے تحمل اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔۔
ابھی کہاں ہے آپ۔۔؟ؕ میں گھر کے ساتھ والی سڑک پرہوں ۔۔۔ اچھا میں آتا ہوں تم اس کا موبائل ٹریس کرو ۔۔۔ وہ موبائل گھر پر ہی چھوڑ گئی ہے۔۔ لمحہ بالمحہ ارحم کا سکون ختم ہورہا تھا۔۔۔
عادل سے بات کرکے وہ دائیں، بائیں دیکھتاسڑک پر چلنے لگا۔۔۔۔۔۔۔

سڑک پر پھیلی وحشت ارشبہ کے اندر پھیلنے لگی۔۔۔
ارد گرد دیکھا ، آدم نا آدم ذات تھی۔۔۔،
ابھی تو بلکل یہیں تھا کہاں چھپ گیا اچانک۔۔؟
وہ بڑبڑاتی قطار در قظار بنے گھروں کےبند کواڑوں کودیکھنے لگی۔۔۔ حد نگاہ سڑک بلکل خالی تھی۔۔۔
اس نے آگے جانے کا ارادہ ترک کردیا۔۔۔ مجھے واپس جانا چاہیے۔۔"
اسے اپنے رات گئے سڑک پر اکیلے ہونے کا احساس ہوا تو سوچتی ہوئی فاروق ہاؤس کی طرف جاتی سڑک پر مڑ گئی۔۔۔
تبھی کسی نے اس کا بازو دبوچ کر پیچھے کی جانب کھینچا۔۔۔ وہ چیختی کہ کسی کی مضبوط ہتھیلی اس کے لبوں پر جما دی گئی۔۔۔
خاموش رہو۔۔ چیخو گی تو نقصان تمہاری بہن مہر ماہ کو ہوگا۔۔۔""
کانوں میں گھستی، دل کو چیرتی سرسراتی مردانہ آواز سے اس کی آنکھیں ابل پڑیں۔۔۔
"مہر ماہ کا نام سن کر اس کے جسم سے جان نکلتی محسوس ہوئی۔۔۔"
ارحم کچھ دور اور چلا تو وہ سڑک کے بیچ و بیچ کھڑی دیکھائی دی۔۔ ارحم کی جان میں جان آئی ۔ وہ بھاگ کر اس تک پہنچا۔۔۔
اسے سامنے آتے دیکھ۔۔ ارشبہ نے اڑے ہوئے حواسوں پر قابو پایا۔۔۔

مس ارشبہ آپ ٹھیک ہیں۔۔؟؟ ارحم نے فکر مندی سے اسے سر تا پا دیکھا:
ممیں ٹھیک ہوں۔۔" آواز بمشکل نکلی سوکھے لبوں پر زبان پھیری۔۔ یہاں کیسے آئیں۔۔۔؟
ارحم نے ایک نظر اس کے چہرے پر ڈالی—
اس کی حالت غیر معمولی تھی۔۔، چہرہ وحشت زدہ، آنکھوں میں پہناں خوف،
"کیا ہوا ہے۔۔؟
اس نے دھیمی مگر سنجیدہ آواز میں پوچھا۔
"کچھ… کچھ نہیں…"
ارشبہ نے نظریں چرا لیں۔
گھر چلو فوراً۔۔۔"
وہ دائیں بائیں۔۔ طائرانہ نگاہ ڈال کر اس کا پہلو میں گرا ہاتھ پکر کر گھر کی طرف چلنے
لگا۔۔۔ ارشبہ خاموشی سے اس کے ساتھ چلنے لگی۔۔ ؂
ان دونوں کوساتھ گھر کے اندر داخل ہوتے ہوئے دیکھا تو فاروق صاحب نے بے اختیار سکھ کا سانس لیا۔۔، حرا لپک کر آگے بڑہی۔۔۔
کہاں چلی گئیں تھیں آپ بغیر کسی کو بتائے۔۔۔؟؟؟
راجدہ بیگم اس سب کے دوران چپ رہیں۔۔۔ ٹٹولتی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگیں۔۔۔
بیٹا آپ ٹھیک ہو۔۔؟؟ ہنوز خاموش دیکھ کر فاروق صاحب مدہم لہجے میں بولے۔۔۔
جی میں ٹھیک ہوں۔۔۔"
اسے کمرے میں لے جاؤ۔۔، فاروق صاحب نے کہا تو حرا سر ہلا کر اسے اپنے ساتھ لے گئی۔۔۔۔
حرا اسے کمرے کی طرف لے جا رہی تھی مگر راجدہ بیگم کی آواز پر دونوں رک گئیں۔

"ایک منٹ…"
ارشبہ کے قدم جیسے زمین میں جم گئے۔
یہ سب کیا تھا؟؟…بغیر بتائے گھر سے باہر جانا"
ان کا لہجہ سخت نہیں تھا۔۔۔۔
مگر اس میں چھپا سوال بہت گہرا تھا۔
ارشبہ نے ایک لمحے کو آنکھیں بند کیں،
پھر دھیرے سے بولی—
"وہ۔۔میں نیچے آئی تھی۔۔"
"مجھے لگا… کوئی گیٹ کے پاس کھڑا ہے…"

کمرے میں ایک دم خاموشی چھا گئی۔

"کون؟" ارحم نے فوراً پوچھا۔

ارشبہ نے ہلکا سا سر نفی میں ہلایا۔

" کوئی سایہ سا دکھائی دیا تھا
تو میں دیکھنے چلی گئ۔۔"
حرا نے پریشانی سے کہا،
"آپی! آپ اکیلی کیوں چلی گئیں؟"
ارشبہ نے بمشکل لب کھولے—
مجھے لگا شاید فائز باہر گیا ہے۔۔"نپے تلے الفاظ کہے۔۔۔
ارحم چونک گیا۔۔۔مگر وہ گھر میں ہے۔۔" راجدہ بیگم ناسمجھی سے بولیں تو ارشبہ حیرت زدہ رہ گئی۔۔ کیا فائز گھر میں ہے۔۔۔؟؟؟
اس نے ارحم کی جانب دیکھا:
چلو بھئی بچی تو خیریت سے آگئی نا۔۔، اب سونے کی کرو کیا صبح تک رت جگا کرنا ہے حرا تمہارا بھی تو ایگزیم ہے چلو جاؤ سب اپنے اپنے کمرے میں۔۔۔"
فاروق صاحب نے کہا تو حرا سر ہلا کر زینوں کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔
فاروق اور راجدہ وہ بھی اپنے کمرے میں چلے گئے۔۔ وہ ان دونوں کے پیچھے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔۔۔ مجھے فائیز سے بات کرنی ہے۔۔؟
حرا نے رک کر اسے دیکھا :
کیا بات کرنی ہے۔۔۔؟؟
ارحم پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے استفسار کرنے لگا۔۔۔ ارشبہ کا انداز الجھا ہوا تھا۔۔ ارحم سمجھ گیا تھا بات معمولی نہیں ہے۔۔۔
میں آپ کو بتادوں گی آپ میرے ساتھ فائز کے کمرے تک چلیں۔۔۔" ارشبہ نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا:
حرا گڑیا آپ آرام کرو۔۔۔" ارحم نے حرا کو دیکھا تو اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔
دستک دینے کے کچھ منٹ بعد اس نے دروازہ کھولا۔۔۔

اپنے سامنے ارشبہ سحر کو دیکھ کر فائز کے چہرے کا رنگ بھک سے اڑا۔۔ ارحم کی نگاہوں نے واضح اس کے پھیکے پڑتے چہرے کو دیکھا۔۔ اسے یقین ہوگیا تھا کہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے۔۔۔۔
میں اندر آسکتی ہوں۔۔۔" اسے دیوار کی مانند کھڑے دیکھ کر ارشبہ گھورتی ہوئی سختی سے بولی۔۔
کیوں کیا کام ہے۔۔۔؟؟اس کے اڑیل انداز پرارحم نے ماتھا رگڑا۔۔۔
سامنے سے ہٹو فائز۔۔۔" ارحم نے قدرے سنجیدگی اور بھاری آواز سے کہا تو وہ ناچار پیچھے ہوا۔۔۔۔
کیا تم آئس کریم لینے گئے تھے۔۔؟ؕحرا نے نگاہیں ڈورائیں توآئس کریم جوں کی توں گول چھوٹی میز پر دیکھائی دی۔۔۔۔۔۔
آپ کون ہوتیں ہیں مجھ سے یہ سب پوچھنے والیں۔۔۔؟
وہ آواز اونچی کرکے غرایا۔۔۔
جس شخص سے تم ملے ہو، جانتے وہ کتنے خطرناک لوگ ہیں۔۔۔؟؟ کس شخص کی بات کررہیں ہیں آپ۔۔۔؟؟ ارحم ٹھٹک کر گویا ہوا۔۔ نعمان چنگیزی کے غنڈے تھے وہ جن سے ملنے فائز اتنی رات کو بنا کسی کو بتائے گھر سے نکلا تھا۔۔۔'
ارحم کا چہرہ غصے سے سرخ ہوا۔۔۔
وہ فائز کے سر پہ پہنچا۔۔۔۔
می٘۔۔میں نہیں جانتا کسی شخص کو بھا۔۔ بھائی یہ جھوٹ بول رہی ہے۔۔۔"
ارحم لب بھینچے اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھ کر بولا۔۔۔
تو پھر اتنی رات کو باہر جانے کا کیا مقصد تھا۔۔؟ؕ
میں آئس ۔۔۔جھوٹ بولنا بند کرو تمھیں گھر آئے پندرہ منٹ سے زیادہ گزر چکیں ہیں آئس کریم لینے گئے تھے تو کھائی کیوں نہیں۔۔۔؟ؕؕ
بھائی اب غیر لڑکی کیلئے مجھ پر شک کررہے ہیں میں نہیں جانتا نعمان کون ہے اور یہ کس شخص کی بات کررہی ہیں۔۔۔ ہاں میں نے آئس کریم کا بہانہ کیا تھا۔۔ میں انعم بھابھی سے ملنے گیا تھا وہ گھر نہیں آنا چاہتیں تھیں اس لئے میں باہر گیا تھا۔۔۔۔"
ارشبہ اس کے یوں صاف صاف بولنے پر الجھی۔۔۔۔
میں اپنی غلطی کی معافی مانگتی ہوں فائز مجھے شبہ ہوا تھا۔۔۔۔"
ارشبہ کے بیان پلٹنے پر ارحم ہقہ بقہ رہ گیا۔۔۔
دیکھا بھائی ! آپ کبھی تو میرے سگے بھائی بن کر دکھائیں۔۔۔۔"
فائز کی ٹون یک دم بدلی۔۔۔ ارحم نے ناگواری سے پلٹ کر ارشبہ کو دیکھا:
اور کمرے سے نکلتا چلا گیا۔۔۔۔۔
ارشبہ نے فائز کو دیکھا جس کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ تھی۔۔۔۔
وہ پلٹ کر ارحم کے پیچھے بڑہی۔۔۔۔
بات سنیں ۔۔۔، وہ لمبے لمبے ڈگ بھر کر آگے چل رہا تھا جب ارشبہ بھاگ کر اس کی راہ میں حائل ہوئی۔۔ پلیز میری بات سن لیں۔۔۔؟
کیا بچپنہ ہے یہ۔۔۔؟؟ اس کا چہرہ سرخ تھا۔۔۔۔
میں وثوق سے کہہ رہی ہوں نعمان چنگیزی فائز کو مہرہ کی طرح استعمال کررہا ہے۔۔"
میں ایسا ہونے نہیں دوں گا۔۔۔ مگر یہ بات کس برتے پر کہہ رہی ہیں۔۔؟؟
وہ دونوں ہاتھ کمر کے پیچھے باندھ کر ابرو اچکا کر انتہائی سنجیدگی سے پوچھا:
مجھے سڑک پر ملنے والا وہ شخص اور کوئی نہیں بلکہ نعمان کا مشیرِخاص تھا۔۔۔"
مگر تعجب کی بات یہ ہے کہ آپ بھی بہت کچھ چھپارہے ہیں مجھ سے حالانکہ اس کیس میں جتنی مدد میں آپ کی کرسکتی ہوں کوئی نہیں کرسکتا۔۔۔"
ارشبہ سینے پر ہاتھ باندھ کر چھبتے ہوئے لہجے میں بولی۔۔۔
کس بارے میں کہہ رہی ہو۔۔؟ گردن کو حرکت دیتا ہوا بولا۔۔۔
مہر آپی سے ملے تھے آپ۔۔۔؟ؕؕارحم متحیر ہوگیا۔۔۔۔۔
سینٹرل آفس میں ہونے والی گفتگو کا علم ارشبہ کو کیسے اور کیوں کر ہوسکتا ہے۔۔؟؟

آپ سچ کہہ رہی ہیں مام آئی کانٹ بلیودس آپ نے کر دکھایا مام۔۔۔ "
وہ خوشی سے جھومتے ہوئے ان کے گرد طواف کرتی چیخ چیخ کر بولی۔۔۔
بلکل کیا تمھیں لگا تھا کہ میں اسے تمہاری زندگی سے ایسے ہی جانے دوں گی۔۔۔ اور ارحم صرف تمہارا ہے۔۔۔ وہ تم ہی سے شادی کرنا چاہتا ہے۔۔۔ تم اس لڑکی کے بارے میں سوچ سوچ کر خود کو ہلقان کرنے کی بیوقوفی مت کرو۔۔۔"
اوہ مام فائنلی ایک ہفتہ۔۔۔
وہ ہشاش بشاش چہرہ لئے اپنے بیڈ پر جابیٹھی۔۔ جبکہ تفاخر سے گردن اکڑا کر ساڑھی کا پلو سنبھالتی اس کے روم سے نکل گئیں۔۔۔
دانیال نے بیوی کو آتے ہوئے دیکھا؛
بتا تو دیتیں۔۔، کیا سارے فیصلے تم نے خود نے کرنے ہیں۔۔؟؟ دانیال صاحب ان ہی کے منتظر تھے بیوی کو آتے دیکھا تو چڑھ دوڑے۔۔۔۔
کیا آپ نے اس اجنبی لڑکی کواس گھر میں نہیں دیکھا : کون ہے اچانک کہاں سے آگئی اس سے پہلے تو ہم نے نہیں سنا اس کا ذکر۔۔۔؟؟
بتایا تو بھابھی نے کہ رشتے دار ہے۔۔۔
اللہ ہی جانے ایسے اچانک پیدا ہونے والے رشتے دار کو۔۔ میری بیٹی کا سسرال ہے۔۔ اب میں مزید اس معاملے میں دیر نہیں کرنا چاہتی۔۔۔"
وہ جیولری اتارتے ہوئے بولنے لگیں۔۔۔
جبکہ دانیال صاحب سگار سلگا کر کھڑکھی کے قریب آکھڑے ہوئے۔۔۔۔۔

اگلے دن بڑے ہنگامی صورتحال میں ارحم کو سینٹرل آفس طلب کیا۔۔۔ڈی آئی جی صاحب نے جب ارشبہ کو آنے کا کہا تو ارحم کو ناچاہتے ہوئے بھی عمل کرنا پڑے گا۔۔۔۔
وہ مجھے کیوں بلوارہے ہیں۔۔؟؟ گاڑی میں ارشبہ حد سے زیادہ نروس تھی۔۔۔۔
آپ کی بہن آپ سے ملنا چاہتیں ہیں۔۔۔" ارحم کا چہرہ سپاٹ تھا۔۔
ڈی آئی جی آپ کے خالو ہیں۔۔۔؟
ارحم کے سوال پر کرنٹ کھاکر ارشبہ نے اسے دیکھا:
آپ کو کیسے پتا۔۔؟؟ ارحم مسکرا دیا بڑی تلخ مسکراہٹ تھی ارشبہ شرمندگی کے سمندر میں غوطہ زن ہوئی۔۔۔۔
ڈی آئی جی صاحب سے فیلڈ سے ہٹ کر بھی واقفیت ہے میری۔۔۔"
یہ کیس سب سے پہلے میں ان کے پاس ہی لیکر گئی تھی۔۔۔، انہوں نے لینے سے انکار کردیا تھا۔۔۔"
ارشبہ سر جھکا کرہاتھ ملتے ہوئے دلگرفتی سےبولی تو ارحم اس کی طرف دیکھنے پر مجبور ہوگیا۔۔۔۔
انکار کی بہت سی وجوہات ہوسکتیں ہیں۔۔۔،ایک سبب پر تکیہ کرنا درست نہیں ہوتا۔۔"
بس میں اتنا جانتی ہوں کہ انہوں نے مدد کرنے کی بجائے آپ تک پہنچا دیا تھا۔۔"
آنکھوں کےکنارے نم ہو اٹھے۔۔۔۔
ارحم خاموش رہا۔۔۔۔ گاڑی فراٹے بھرتی موڑ کاٹتے ہوئے برق رفتاری سےرواں دواں تھی۔۔۔۔۔

ڈی آئی جی کےآفس میں مہر ماہ کے علاوہ وہ فاروق صاحب کو دیکھ کر دنگ رہ گیا۔۔۔۔
مگر جلد اپنے تاثرات پر قابو پاکر سلامی دیتا وہ اندر داخل ہوا۔۔۔
وسلام ایس پی صاحب۔۔۔!!!
ارشبہ مہر ماہ کو دیکھ کررو پڑی۔۔۔ ارش میری جان ۔۔۔!!!
ارشبہ اپنے آپ پر قابو نا رکھ سکی۔۔۔۔
تو تیار ہیں آپ۔۔۔؟؟ؕ
ڈی آئی جی صاحب مسلسل مسکرارہے تھے۔۔۔
سر یہ ناممکن سی بات ہے ایمشیور بابا کبھی نہیں مانیں گے۔۔۔، میری شادی فکس ہوگئی ہے اگلے ہفتےجمعہ کے دن ہے نکاح۔۔۔"
ارحم نے اپنی طے شدہ شادی کا ذکر جان بوجھ کر کیا۔۔۔۔۔
دیکھو ارحم میں ایک افیسر سے نہیں بلکہ ایک شخص سے بات کررہا ہوں میں نے ارشبہ کو تمہارے پاس اس لئے نہیں بھیجا تھا کہ یہ کیس پھر سے بند ہوجائے۔۔۔ میں جانتا تھا کہ تم اس کیس کو کبھی بند ہونے نہیں دو گے ، جب تک کوئی حتمی فیصلہ صادر نا ہوجائے۔۔، مجھے اوپر سے پریشر آرہا ہے پچھلے تین ماہ سے بتاؤ میں کیسے ارشبہ کو نعمان کے حوالے کردوں۔۔۔؟؟
آپ نے یہ مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔۔ؕ؟
ارحم جھٹ بولا۔۔۔ میں چاہ رہا تھا اس بات کو اہمیت نا دوں ، تمہاری اپنی بھی پرسنل لائف ہے ارشبہ کیلئے مجھے کوئی اور بھی مل جائے گا مگر یہ کیس پھر کورٹ تک نہیں پہنچ سکے گا۔۔ بات صرف شادی یا تحفظ کی نہیں ہےبلکہ بات کیس کی بھی ہے ارشبہ تمہاری طرح نڈر اور ثابت قدم ہے وہ جس سے بھی شادی کرے گی نعمان کو اسے مروانے میں کچھ دقت نہیں ہوگی۔۔۔ مگر وہ تم پر براہ راست ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔۔۔۔"
ارحم کے برابر میں موجود فاروق صاحب سنجیدگی سے ڈی آئی جی صاحب کی بات سننے لگے۔۔۔۔
میں آپ کی بات ماننے کو تیار ہوں ۔۔ مگر ارحم کو دوسری شادی کرناپڑے گی۔۔ اس کی منگیتر پچھلے سات ماہ سے اس کے نام پر بیٹھی ہوئی ہے۔۔ کیا میں ایک بچی کیلئے دوسری بچی کا دل توڑدوں۔۔ نہیں ڈی آئی جی صاحب ، معذرت بہت معذرت میں ایسا نہیں کرسکتا ۔۔۔ "
ارحم نے اپنے بابا کو دیکھا :
کچھ لمحے گہری خاموشی چھاگئی۔۔۔
دوسری جانب مہر ماہ کی بات پر ارشبہ پریشان ہوگئی۔۔۔
یہ درست نہیں ہے ان کی شادی ہونے والی ہے میں اس کیس سے ان سے جڑی ہوئئ ہوں شادی کرنا ناممکن ہے۔۔۔"'
شادی اسی کیس کی بنیاد پر ہئ ہورہی ہے۔۔۔" مہر ماہ نے اسے یاد دلایا۔۔۔۔
شادی دو فریقین کے مابین طے ہونے والا تعلق ہے یہ کسی مجبوری یا کسی غرض سے نہیں کی جاتی۔۔۔ آپ نےبڑا بودہ حل نکالا ہے آپی۔۔۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپ اپنے شوہر کا ساتھ نا دے کر سچ کا ساتھ دیتیں۔۔'
وہ ان کا ہاتھ جھٹک کر کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔۔
اس کے باہر نکلنے پر ڈی آئی جی صاحب نےمہر ماہ کی جانب دیکھا جس کے چہرے پر مایوسی رقم تھی۔۔۔۔۔
انہوں نے فکر مندی سے خالی چوکھٹ کو دیکھا؛
ارحم فاروق تمھیں فیصلہ لینا ہوگا ، مجھے مہر ماہ کے حوالے کرنا ہوگا ارشبہ تمہارے گھر نہیں رہ سکتی۔۔۔ مہر ماہ اس کی والی وارث ہے بڑی بہن ہے اس کی۔۔۔۔
اب تک یہ بات پوشیدہ تھی سب ٹھیک تھا مگر اب بات کھل چکی ہے۔۔۔'
وہ ہر پوائنٹ ان کے سامنے رکھنے لگے۔۔۔۔۔

بابا میں ارشبہ کو ہر گز بھی نعمان کے حوالے نہیں کروں گا وہ اسے جان سے مار دے گا۔۔۔ اس کی بڑی بہن بھی کچھ نہیں کرسکے گی۔۔ میں یہ خطرہ مول نہیں لوں گا چاہے مجھے یہ شادی کرنی پڑے۔۔"
فاروق صاحب بھی ارشبہ کو یوں نعمان کے حوالے کرنے کے حق میں ناتھے۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے ڈی آئی جی صاحب میں اجازت دیتا ہوں اس نکاح کی۔۔۔"
فاروق صاحب کا فیصلہ آتے ہی نکاح کی تیاری شروع کردی گئی۔۔۔۔
وہ مان گیا ہے ارش۔۔۔؟؟
مہر ماہ چمکتے چہرے سے اس کے پاس اکر بولیں۔۔

وہ کیوں مان گئے۔۔؟
ارشبہ حیرتوں کے سمندر میں غوطہ زن ہوئی۔۔۔
مہر ماہ کا چہرہ کھلا ہوا تھا۔۔۔۔۔

حالات کے پیشِ نظر یہ ہی صحیح فیصلہ ہے ارش۔۔۔"
انہوں نے گرمجوشی سے اس کا ہاتھ پکڑا۔۔۔
" اور حالات ساز گار ہوگئے پھر۔۔ پھر کیا وہ چھوڑ دیں گے۔۔۔؟ؕؕ
نہیں۔۔۔۔" عقب سے آتی مردانہ آواز پردونوں نے پلٹ کر دیکھا؛ مہر ماہ اندرونی جانب بڑھ گئی۔۔ ارشبہ اور وہ تنہا رہ گئے۔۔۔۔
"میں یہ نکاح ختم کرنے کیلئے نہیں کررہا ، میری غیرت یہ گوارہ نہیں کرے گی کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دوں۔۔ ہاں اگر جب تک تم علیحدگی کا مطالبہ نا کردو۔۔۔یہ حق تمہارے پاس محفوظ ہے۔۔۔"
ارحم سیدھا کھڑا اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک ایک لفظ پر زور ڈالتے ہوئے بولا۔۔۔
سورج کی سنہری کرن دونوں کے وجود پر پڑ رہی تھی۔۔ یہ سینٹرل آفس کا بیرونی حصہ تھا۔۔ سپاہی اہلکار جگہ، جگہ پہرہ دیتے دیکھائی دئیے۔۔۔۔
فرش پر گھاس اگی ہوئی تھی۔۔۔ بڑے بڑے پتوں کے پودے جابجا لگے ہوئے تھے۔۔۔۔۔
ارشبہ کچھ توقف کے بعد سر جھکا کر بولی۔۔۔ مجھے آپ کی انعم سے شادی سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔۔۔"
وہ ہاتھوں کو دیکھ کر بولی۔۔ اور اس کے قریب سے گزر کر اندر چلی گئی۔۔ ارحم کے چہرے پر ایک تاثر آرہا تھا اور دوسرا جارہا تھا۔۔۔
مگر کیا وہ دوسری شادی کرے گا یہ فیصلہ اسے ہی کرنا تھا۔۔۔۔۔
کیا انعم اس نکاح پر واویلا نہئں کرے گی۔۔۔ اور کیا بابا کے اپنے دوست سے معملات ساز گار رہیں گے۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
♤♤♤♤♤♤♤♤♤♤♤♤♤♤♤♤♤

جاری ہے؛
اگلی قسط کا کس کو انتظار ہے،

Address

GHOSIA QUATER HOUSE NO 121 BLOCK C/2 UNIT #O8 LATIFABAD HYDREABAD
Hyderabad
71800

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Syeda Jaweria Shabbir Offical posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Syeda Jaweria Shabbir Offical:

Share

Category