ISAKHEL DIARY

ISAKHEL DIARY مقامی معلومات ٫اہم اعلانات٫ سیاسی ٫سماجی سرگرمیاں ٫حقیقت پر مبنی نیوز کیلئے عیسی خیل ڈائری کو فالو کریں

05/09/2026

ایک مریضہ کو آج +A خون کی اشد ضرورت ہے نوجوان ہمت کریں #لوکیشن: عیسٰی خیل
03442887166 - 03460767262

عیسی خیل ضلع میانوالی  #5ستمبر موسم اپڈیٹ آج عیسی خیل میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت تقریباً 33°c رہیگاآج میانوالی عیسی خ...
05/09/2026

عیسی خیل ضلع میانوالی #5ستمبر موسم اپڈیٹ

آج عیسی خیل میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت
تقریباً 33°c رہیگا

آج میانوالی عیسی خیل کہ مختلف حصوں میں گرج چمک تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان کل شام سے رات کے دوران میانوالی کے مختلف جنوبی اور شمالی مغربی حصوں میں تیز بارش ہوئی ہے جن میں پپلاں کندیاں، میانوالی سٹی کالاباغ غنڈی سوانس پائی خیل داؤد خیل سمیت مختلف حصوں میں بارش ہوئی جن حصوں میں فلحال بارش نہیں ہوئی ہے مزید آج دن کو اور شام رات بارش کے اچھے امکان موجود ہیں ۔

گرمی سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں
پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں ۔
غیر ضروری دھوپ میں نکلنے سے پرہیز کریں۔
بچوں اور بزرگوں کا خاص خیال رکھیں۔
5 September ²026

ربیع الاول٫ فرمانِ آخری نبیﷺ مجھ پر یہ وحی کی گئی ہے کہ تم لوگوں کو قبروں میں آزمایا جائے گا، دجال جیسی آزمائش یا اس کے ...
05/09/2026

ربیع الاول٫ فرمانِ آخری نبیﷺ

مجھ پر یہ وحی کی گئی ہے کہ تم لوگوں کو قبروں میں آزمایا جائے گا، دجال جیسی آزمائش یا اس کے قریب قریب.

(مسلم: حدیث ٫ 2098)

تحصیل عیسی خیل آج رات 11 سے 12 بجے کی موسمی صورتحال تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ شدید ترین بارش کا امکان !ہم صرف اندازہ...
04/09/2026

تحصیل عیسی خیل آج رات 11 سے 12 بجے کی
موسمی صورتحال تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ شدید ترین بارش کا امکان !

ہم صرف اندازہ اور پیش گوئی کر سکتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہی ہوگا جو ربِ کریم چاہے گا۔ بے شک ہر چیز کا اصل اختیار اس ذات پاک کے پاس ہے

ایک زمانے میں عیسیٰ خیل کی پورے برصغیر میں پہچان تھی، لیکن آج ڈویژن میں بھی اس کی شناخت نہیں رہی۔ عام لوگوں کو یہ بھی مع...
04/09/2026

ایک زمانے میں عیسیٰ خیل کی پورے برصغیر میں پہچان تھی، لیکن آج ڈویژن میں بھی اس کی شناخت نہیں رہی۔

عام لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ عیسیٰ خیل صوبہ پنجاب میں ہے یا خیبرپختونخوا کا حصہ ہے۔

عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کی وجہ سے عیسیٰ خیل شہر کی تشہیر ہوئی ہے، وہ بھی صرف نام کی حد تک، کیونکہ یہاں پر نہ کوئی انڈسٹری ہے، نہ علاقہ زرعی لحاظ سے ترقی یافتہ ہے اور نہ اس علاقے کی کوئی ثقافتی پہچان ہے۔

حالانکہ یہ علاقہ پانچ سو سالہ پرانی تاریخ رکھتا ہے اور 165 سالہ پرانی تحصیل ہے۔ جبکہ سکھوں اور انگریز دور سے پہلے عیسیٰ خیل ایک ریاست تھی، لیکن جاگیرداروں، وڈیروں اور سرمایہ داروں کی باہمی چپقلش اور اقتدار کی رسہ کشی کی وجہ سے یہ علاقہ ترقی کرنے کی بجائے تنزلی کا شکار چلا آ رہا ہے۔

جغرافیائی لحاظ سے تحصیل عیسیٰ خیل کے شمال میں صوبہ خیبرپختونخوا کا ضلع کوہاٹ، مغرب میں ضلع کرک اور لکی مروت، اور جنوب میں ڈیرہ اسماعیل خان ہے، جبکہ مکھڈ شریف، شکردرہ سے درہ تنگ کنڈل تک پہاڑی سلسلہ ہے جو بے پناہ معدنیات، لوہا، جپسم، تانبا، نمک، کوئلہ، سلیکان وغیرہ سے بھرا پڑا ہے۔ اس کے علاوہ سروے کے مطابق عیسیٰ خیل میں تیل کے ذخائر بھی موجود ہیں۔

آبی ذخائر کے لحاظ سے تحصیل عیسیٰ خیل دو دریاؤں کے کنارے آباد ہے، دریائے کرم اور دریائے سندھ، لیکن بدقسمتی سے نہ تو یہاں کے کھیت سیراب ہوتے ہیں، نہ پینے کا پانی دستیاب ہے اور نہ ہی کوئی ڈیم بنائے گئے۔

قیامِ پاکستان سے پہلے عیسیٰ خیل کو ہندوؤں اور جاگیرداروں کی وجہ سے برصغیر میں بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ یہاں پر ضرورت کی ہر چیز ملتی تھی، علاوہ ازیں کئی مصنوعات بھی اس کی پہچان تھیں۔

قیامِ پاکستان کے بعد بھی 1905 تک لوگ اپنی مدد آپ کے تحت درہ تنگ سے زمینوں کو سیراب کرنے کے لیے پانی لاتے تھے اور آج تک روایت چلی آ رہی ہے۔

1847 میں سکھوں کو انگریزوں نے شکست دے کر برصغیر سمیت وزیرستان تک قبضہ کیا۔ عیسیٰ خیل کو تحصیل کا درجہ دے کر ضلع بنوں میں شامل کر دیا گیا۔

میجر ایڈورڈ ضلع بنوں کے پہلے ڈپٹی کمشنر بنے، جنہوں نے ضلع بنوں کا نام ایڈورڈ آباد رکھا، جو ان کے جانے کے بعد قائم نہ رہ سکا۔

بعد ازاں نوابینِ کالا باغ و عیسیٰ خیل نے انگریز حکومت سے کہہ کر تحصیل عیسیٰ خیل اور میانوالی کو ضلع بنوں سے الگ کرکے تحصیل بھکر کو شامل کرکے 1901 میں ضلع میانوالی بنا کر پنجاب میں شامل کر دیا۔

اس طرح پنجاب میں شامل ہونے سے نیازی پٹھانوں کی شناخت ختم ہوگئی۔ چنانچہ انگریزوں نے اپنی حکومت کو وسعت دینے اور افغانستان پر دباؤ قائم رکھنے کے لیے ماڑی انڈس تا بنوں روڈ ٹانک تک چھوٹی ریلوے لائن بچھائی، جس کا تمام بڑے شہروں تک دہلی، ملتان، لاہور، پشاور، راولپنڈی تا کراچی تک رابطہ قائم ہوا، بلکہ شمالی و جنوبی وزیرستان تک رسائی حاصل ہوگئی۔

چنانچہ انگریز حکومت میں ماڑی انڈس سے کالاباغ، خدوزئی، کمرمشانی، ترگ، عیسیٰ خیل، چوکی جنڈ، لکی مروت، سرائے گمبیلا، سرائے نورنگ اور بنوں میں ریلوے اسٹیشن بنائے گئے، جن کو شمالی وزیرستان تک رسائی حاصل تھی، جبکہ چوکی جنڈ سے لکی مروت، پیزو، ٹانک تک ریلوے اسٹیشن بنائے گئے، جو مسافروں کے علاوہ سازوسامان کی ترسیل جنوبی وزیرستان تک ہوتی تھی۔

اگر اس ریلوے لائن کو براستہ گل کچھ ژوب ،سمبازہ سے ملا دیا جاتا تو کوئٹہ بلوچستان تک رابطہ قائم ہو سکتا تھا۔ لیکن اس علاقے کی عوام کی بدقسمتی ہے کہ 1997 میں دورِ نواز شریف میں ماڑی تا بنوں اور ٹانک تک ریلوے لائن اکھاڑ کر نام و نشان مٹا دیا گیا۔

حالانکہ 1985 میں ضیاء الحق دور میں ماڑی بنوں اڑھائی فٹ ریلوے لائن کو اپ گریڈ کرکے پانچ فٹ لائن بچھانے کا منصوبہ بنایا گیا، جس کے تحت ماڑی تا بنوں راستے میں آنے والے ریلوے اسٹیشن اور پلیوں کی ازسرنو تعمیرات کی گئیں۔

ریلوے اسٹیشن اور پلیاں تیار ہونے کے بعد نادیدہ قوتوں کی مداخلت سے مزید کام روک دیا گیا۔ 1997 میں کبیر خان کو لائن اکھاڑنے کا ٹھیکہ دیا گیا۔ کبیر خان نے ریلوے لائن اکھاڑ کر سکریپ میں نواز شریف کی فیکٹری اتفاق فاؤنڈری کو فروخت کردی۔ اس طرح ریلوے کا سفر اختتام پذیر ہوا۔

آج ریلوے اسٹیشن تقریباً ختم ہوچکے، گرچکے ہیں۔ جو بچے تھے، ان پر افغان مہاجرین اور خانہ بدوشوں نے قبضہ کیا ہوا ہے، جبکہ ریلوے ٹریک سے ملحقہ زمینداروں نے اپنے رقبے میں شامل کرلیا ہے۔

اس طرح انگریزی دور میں ریلوے نظام کو ذاتی مفادات کے تحت ملیا میٹ کردیا گیا، جس سے اربوں کھربوں روپے کا نقصان ہوا، بلکہ مسافروں کی آمد و رفت اور سازوسامان کی ترسیل میں عوام کو الگ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لیے آج سرمایہ دار اور ٹرانسپورٹر تو خوش ہیں، لیکن اس علاقے کی عوام سر پیٹ رہی ہے۔

1960 میں عیسیٰ خیل "شہرت" نامی فلم کی شوٹنگ ہوئی، جس میں ملک کے نامور فنکاروں کے علاوہ مقامی افراد نے نیزہ بازی، ریچھ کتا لڑائی، کتاریس وغیرہ میں حصہ لے کر فلم بندی کروائی تھی۔ اس فلم میں ایک گانا تھا:

"چل چلیۓ عیسیٰ خیل، جہاں پر چلتی ہے چھوٹی ریل"

آج نہ وہ ریل رہی، نہ ریلوے پٹڑی اور نہ وہ چہل چل رہی

تحریر و تحقیق: حاجی رفیع اللہ خان نیازی

04/09/2026

بوندا باندی جاری
موسم خوشگوار گرمی
کا زور ٹوٹ گیا

صاحبزادہ بشیر احمد چشتی نظامی دامت برکاتہم العالیہ کی پاکستان واپسیجامعاتُ الازہر سے سندِ فراغت اور زیاراتِ مصر و عمرۂ ...
04/09/2026

صاحبزادہ بشیر احمد چشتی نظامی دامت برکاتہم العالیہ کی پاکستان واپسی

جامعاتُ الازہر سے سندِ فراغت اور زیاراتِ مصر و عمرۂ مبارک کی سعادت حاصل کرنے کے بعد حضرت علامہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب چشتی نظامی دامت برکاتہم العالیہ خیریت و عافیت کے ساتھ پاکستان واپس پہنچ گۓ

حضرت علامہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب چشتی نظامی دامت برکاتہم العالیہ اپنے آستانۂ عالیہ پر پہنچ چکے ہیں۔

اس بابرکت موقع پر ہم دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مرشدِ کریم کو جامعاتُ الازہر سے سندِ فراغت، زیاراتِ مصر اور عمرۂ مبارک کی عظیم سعادتیں حاصل ہونے پر ڈھیروں مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

اللہ پاک حضرت علامہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب چشتی نظامی دامت برکاتہم العالیہ کو مزید کامیابیوں، عزتوں اور برکتوں سے نوازے، ان کا سایۂ شفقت ہمارے سروں پر تادیر قائم و دائم رکھے اور ان کی دینی و روحانی خدمات کو مزید وسعت عطا فرمائے۔آمین

6 ستمبر یومِ دفاع پاکستان  #تقریبمہمان خصوصی: اسسٹنٹ کمشنر عیسی خیل خلیل احمد بقمام : گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 1 بوقت: صبح...
04/09/2026

6 ستمبر یومِ دفاع پاکستان #تقریب
مہمان خصوصی: اسسٹنٹ کمشنر عیسی خیل خلیل احمد

بقمام : گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 1
بوقت: صبح 8:00 بجے بروز اتوار

04/09/2026

آج شام اور رات کہ
دوران عیسی خیل میں موسلا دھار بارش کا
امکان

Address

Isa Khel

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ISAKHEL DIARY posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share