LH TV UPDTE

LH TV UPDTE human being are never satisfied from their present if you give them one thing they demond somthing m Luqman media services

02/06/2026
مظفرآباد میں ٹریفک پولیس اور کوسٹر ڈرائیور کے درمیان تنازع سنگین صورتحال اختیار کر گیا، جہاں پانچ ہزار روپے کا چالان کیے...
27/05/2026

مظفرآباد میں ٹریفک پولیس اور کوسٹر ڈرائیور کے درمیان تنازع سنگین صورتحال اختیار کر گیا، جہاں پانچ ہزار روپے کا چالان کیے جانے پر مشتعل ڈرائیور نے مسافر کوسٹر دریائے جہلم میں پھینک دی۔ واقعے میں ڈرائیور اور کوسٹر میں موجود ٹریفک اہلکار معجزانہ طور پر محفوظ رہے، تاہم مسافر گاڑی دریا کے تیز بہاؤ میں بہہ گئی۔
ٹریفک پولیس کی جانب سے گاڑی ضبط کرنے کے لیے ایک اہلکار کوسٹر میں سوار تھا، جس پر ڈرائیور اور اہلکار کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ صورتحال اس وقت خطرناک رخ اختیار کر گئی جب ڈرائیور نے مبینہ طور پر احتجاجاً گاڑی سیدھی دریائے جہلم میں اتار دی۔
واقعے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی جبکہ ڈرائیور کے ورثا اور مقامی افراد نے ٹریفک پولیس کے رویے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مرکزی شاہراہ چھتر چوک پر ٹریفک معطل کر دی۔ مظاہرین نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

نہ زین بدمعاش تھا اور نہ سراج : چند گھنٹے کے فرق سے دونوں افسوسناک انجام کو کیسے پہنچے ۔۔۔۔؟؟ ایک محلے دار نے پہلی بار ا...
17/05/2026

نہ زین بدمعاش تھا اور نہ سراج : چند گھنٹے کے فرق سے دونوں افسوسناک انجام کو کیسے پہنچے ۔۔۔۔؟؟ ایک محلے دار نے پہلی بار اصل کہانی بتا دی ۔۔۔۔ اس نوجوان کے بقول ۔۔ زین اور میں بچپن کے دوست تھے ، سراج 6 سال سے اسی محلہ میں دکانداری کرتا تھا زین بھی عام سے ایک نوجوان تھا اور سراج بھی کاروباری اور امن پسند آدمی تھا ۔۔۔ معاملہ صرف 1370 روپے کا تھا ۔ ان پیسوں کا زین کے گھر سے کوئی تعلق نہ تھا محلے دار ہونے کی وجہ سے زین کبھی یار دوستوں کے ساتھ یا خود آجاتا بوتل چپس بسکٹ کھا لیتا اور پیسے لکھوا دیتا تھا ۔۔۔وقوعہ کےروز جب زین دکان پر آیا تو اس نے سراج کو کہا خان بھائی: کچھ کھانے کو دینا اور ایک بوتل ۔۔۔ سراج نہ جانے کس موڈ میں تھا اس نے صاف انکار کردیا کہ تمہارے 1370 روپے ہو گئے ہیں پہلے وہ دو اسکے بعد ہی اب کوئی چیز ملے گی ۔۔۔ دو چار بندوں کے سامنے سراج کی اس بات پر زین نے برا منایا ۔۔ شیطان نے غصہ زین کے دماغ میں داخل کردیا اس نے کہا اگر لے سکو تو لے لینا 1370 ۔۔۔ یہ سن کر سراج بھی بھڑک گیا ۔ حالانکہ دکاندار آدمی تحمل والا ہوتا ہے ۔۔ وہ باہر آیا اور اسکے اور زین کے درمیان منہ ماری ہوئی جھگڑا اتنا نہ ہوا ساتھی دکانداروں نے زین اور سراج کو چھڑا لیا اور زین گھر چلا گیا وہاں جاکر اس نے پنڈی وال نوجوانوں کی طرح غصے میں اپنے دوستوں کو فون کردیا ۔یہ سب اکٹھے ہو کر سراج کی دکان پر آئے اور اسے دو چار تھپڑ مکے مارے ۔اسی دوران زین کی والدہ بھی پہنچ گئی اس نے اپنے بیٹے کو منہ پر تھپڑ بھی مارا اور کہا چلو دفع ہو اپنے گھر۔۔ ماں نے زین کے دوستوں کو بھی بھگا دیا اور خود سراج کو کہنے لگی بیٹا تم بھائیوں جسے ہو ، ایک محلے میں رہتے ہو ، چند سو روپے کے لیے لڑنا تمہیں زیب نہیں دیتا ۔۔۔ شاید معاملہ یہاں ختم ہو جاتا مگر شیطان اس محلے میں موجود تھا ۔۔سراج نے بھی دکان بند کرنا شروع کی اور اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو فون کر دیے ۔ زین نے ایک آدھ گھنٹہ گھر گزارا اور موقع پاکر دوبارہ دوستوں کے ساتھ سراج کی دکان پر پہنچ گیا جب وہ دکان بند کررہا تھا ۔وہاں پھر جھگڑا ہوا ۔۔۔ لڑائی کے دوران سراج نے زین کو ڈنڈا مارا تو زین کے ایک دوست نے فا۔ئیر کر دیا جو سراج کو لگا اور وہ گر گیا اور موقع پر دم توڑ گیا اور یہ لوگ بھاگ کر گھر آگئے ۔۔۔ اب یہ پشیمان تھے کہ ق۔ت۔ل کا ارادہ نہ تھا مگر انکے ہاتھوں ق۔ت۔ل ہو چکا تھا ۔۔۔ آدھا یا پونا گھنٹہ گزرا تو ایک ہجوم زین کے گھر کے دروازے پر اکٹھا ہو گیا ۔۔۔ ظاہری سی بات ہے جنکا جوان بھائی ق۔ت۔ل ہوا ہو انکی ذہنی کیفیت کیا ہوتی ہے ۔۔۔ غصہ اور انتقام کی آگ سراج کے بھائی اور دوستوں پر حاوی ہو چکی تھی کافی دیر زین کی والدہ نے انہیں دروازہ نہ کھولنے دیا لیکن ہر طرح کی گا۔لیاں سن کر زین پھر جوش میں آگیا اور زبردستی دروازہ کھول کر باہر نکل آیا اسکے دوست بھی پیچھے آگئے مگر سراج کے بھائی اور یاردوست یا رشتہ دار بہت زیادہ تھے انہوں نے زین کو پکڑا اور زبردستی ساتھ لے گئے ۔۔۔ 2 گھنٹے بعد سراج کی دکان کے قریب ہی ایک گراؤنڈ میں زین کی زخموں اور چوٹوں سے چور لا۔ش مل گئی ۔۔۔۔۔یہ کسی قسم کا پٹھان پنجابی کا جھگڑا نہ تھا یہ کئی سالوں سے پنڈی میں رہنے والے ایک دکاندار اور اسکے گاہک کا جھگڑا تھا دونوں نے برداشت سے کام نہ لیا اور دونوں افسوسناک انجام کو پہنچ گئے ۔نوٹ کریں کہ قتل نہ زین نے کیا اور نہ سراج نے ۔۔یاری دوستی نے دونوں گھر برباد کردیے ۔ اب اگر اس افسوسناک واقعہ سے کوئی سبق سیکھنا مقصود ہے تو حکام اور پولیس کو سراج اور زین دونوں کے اصل قا۔تلوں کو گرفتار کرنا چاہیے اور انہیں کیفرکردار تک پہنچانا چاہیے تاکہ مستقبل میں کوئی ایسا گھناؤنا جرم کرنے سے پہلے سو بار سوچے ۔۔۔۔ لیکن اگر قا۔تلوں کو پیش کرنے کی بجائے نفرتیں بڑھائی گئیں اور لا۔شوں پر سیاست کی گئی تو اس روایت کا انجام خوفناک ہو گا ،، اللہ کریم ہم سب کو ہمیشہ حق اور سچ کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔۔ آمین ۔ ش س م ۔ ۔

15/05/2026

اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سمری وزیراعظم شہباز شریف کو بجھوا دی

پٹرول کی قیمت میں 71.40روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 56.46 پیسے بڑھانے کی تجاویز ذرائع

12/05/2026

خیبرپختونخوا کے علاقے نوشہرہ میں فائرنگ کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق ہوگئے، مرنیوالوں میں 4 سگے بھائی شامل ہیں۔

نوشہرہ میں زمین کے تنازع پر فائرنگ کردی گئی، واقعے میں 7 افراد جاں بحق ہوگئے۔

پولیس کے مطابق جاں بحق افراد میں 4 سگے بھائی بھی شامل ہیں، ملزمان فائرنگ

11/05/2026

🚨 اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید 42 روپے اضافہ کی سمری ارسال کر دی۔

حکومت پاکستان کی طرف سے پاکستان کی عوام کے لئیے برداشت کارڈ کا اجراء کر دیا گیا ہے کارڈ ایکٹیوٹ کرنے پر آپکو روزانہ (میر...
11/05/2026

حکومت پاکستان کی طرف سے پاکستان کی عوام کے لئیے برداشت کارڈ کا اجراء کر دیا گیا ہے کارڈ ایکٹیوٹ کرنے پر آپکو روزانہ
(میری قوم برداشت کرو) کا میسج آئے گا جس سے غریب عوام کو حوصلہ ملے گا 🫴

آفتاب احمد خان شیرپاؤ، جن کی پیدائش 20 اگست 1944 کو پشاور میں ہوئی، سابق رسالہ آفیسر بھی رہے ہیں۔ انہوں نے سیاست میں آنے...
10/05/2026

آفتاب احمد خان شیرپاؤ، جن کی پیدائش 20 اگست 1944 کو پشاور میں ہوئی، سابق رسالہ آفیسر بھی رہے ہیں۔ انہوں نے سیاست میں آنے کے لیے میجر کے عہدے پر پاکستان آرمی چھوڑ دی۔
انہوں نے 1964 میں Pakistan Military Academy کے 34th Long Course میں شمولیت اختیار کی۔ 1965 میں پاکستان ملٹری اکیڈمی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد وہ Pakistan Army میں شامل ہوئے، جہاں انہوں نے 12 سال خدمات انجام دیں اور میجر کے عہدے تک پہنچے۔ فوج میں رہتے ہوئے انہوں نے Indo-Pakistani War of 1965 اور Indo-Pakistani War of 1971 میں حصہ لیا۔
وہ حیات شیرپاؤ کے بھائی ہیں اور تنگی کے سبحان علی خان کے ہم خیال سمجھے جاتے ہیں۔
سیاسی کیریئر
آفتاب شیرپاؤ نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1975 میں Pakistan Peoples Party سے کیا۔ انہوں نے اپنے بڑے بھائی حیات شیرپاؤ کی پشاور میں ایک بم دھماکے میں شہادت کے بعد، اُس وقت کے وزیر اعظم Zulfikar Ali Bhutto کے مشورے پر فوج سے ریٹائرمنٹ لے کر سیاست میں قدم رکھا۔
وہ پہلی مرتبہ 1977 کے پاکستانی عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے حلقہ NA-3 سے منتخب ہوئے۔
انہوں نے 1985 کے عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔
بعد ازاں وہ 1988 کے عام انتخابات میں دوبارہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
1988 میں وہ Khyber Pakhtunkhwa کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے اور 2 دسمبر 1988 سے 8 اگست 1990 تک اس عہدے پر فائز رہے۔
1990 کے انتخابات کے بعد وہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف بنے۔
1993 کے عام انتخابات کے بعد وہ دوبارہ 1994 میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا منتخب ہوئے۔
وہ 1993 سے 1997 تک دوبارہ صوبائی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف رہے۔
1997 کے عام انتخابات میں وہ ایک بار پھر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
وہ 1997 سے 1999 تک پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر نائب چیئرمین رہے، اور اسی دوران خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارٹی کے قائد بھی رہے۔
1999 میں ان کے Benazir Bhutto سے اختلافات پیدا ہوگئے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ اختلافات 1997 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی شکست کے بعد سامنے آئے۔
1999 کے پاکستانی فوجی انقلاب (کُو) کے بعد وہ خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرتے ہوئے United Kingdom چلے گئے۔
وہ 2002 کے عام انتخابات میں دوبارہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ نومبر 2002 میں انہیں وفاقی کابینہ میں وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی مقرر کیا گیا، ساتھ ہی بین الصوبائی رابطہ کی اضافی ذمہ داری بھی دی گئی۔
دسمبر 2002 میں انہیں کشمیر امور، شمالی علاقہ جات، اور ریاستی و سرحدی امور کی اضافی وزارت بھی سونپی گئی۔
2004 میں انہیں وفاقی کابینہ میں وفاقی وزیر داخلہ مقرر کیا گیا۔
2008 کے عام انتخابات میں اپنے آبائی حلقہ NA-8، چارسدہ سے دوبارہ کامیابی کے بعد انہوں نے Qaumi Watan Party کی بنیاد رکھی۔
وہ 2013 کے عام انتخابات میں بھی دوبارہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، اور آج تک قومی سیاست میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
نوٹ: تصویر بشکریہ بریگیڈیئر میاں خالد حبیب (ریٹائرڈ)، 32 کیولری — اس تصویر میں بائیں جانب کھڑے ہیں۔

Address

Mohlla Islam Abad
Islam Abad
19200

Telephone

+923469470994

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when LH TV UPDTE posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to LH TV UPDTE:

Share

Category