04/09/2026
1994 میں پولینڈ کے شہر وارسا کی ایک کھلی اور کچی منڈی میں، خون جما دینے والی سردی کے دوران دو اسکول کے دوست لکڑی کی ایک پرانی میز لگا کر کھڑے تھے۔
اُن کے پاس بیچنے کے لیے صرف چند سی ڈیز (CDs) تھیں جن پر کمپیوٹر گیمز موجود تھیں۔ پولینڈ اُس وقت کمیونزم کے سائے سے تازہ تازہ نکلا تھا، ملک میں غربت تھی، کوئی باقاعدہ گیمنگ یا سافٹ ویئر انڈسٹری موجود نہیں تھی، اور پائریسی اتنی عام تھی کہ کوئی بھی شخص اوریجنل سافٹ ویئر خریدنے کا تصور بھی نہیں کرتا تھا۔
اُن دو نوجوانوں کے نام مارسن ایونسکی (Marcin Iwiński) اور مائیکل کیکینسکی (Michał Kiciński) تھے۔
لوگ اُنہیں محض سڑک پر سی ڈیز بیچنے والے عام دکاندار سمجھتے تھے، لیکن ان کے ذہن میں ایک بڑا خواب پل رہا تھا۔ انہوں نے سوچا: "اگر ہمارے ملک میں کوئی گیمنگ انڈسٹری نہیں ہے، تو کیوں نہ ہم خود اس کی بنیاد رکھیں؟
انہوں نے روایتی پائریسی کو مات دینے کے لیے ایک انوکھا طریقہ اپنایا۔ انہوں نے بین الاقوامی گیمز کے مالکان سے باقاعدہ قانونی لائسنس لیے، اپنے ملک کے مشہور اداکاروں سے ان گیمز کی اپنی زبان (پولش) میں ڈبنگ کروائی، اور خوبصورت ڈبوں میں نقشوں اور تحائف کے ساتھ فروخت کرنا شروع کیا۔ لوگوں نے پہلی بار شوق سے اوریجنل گیمز خریدنا شروع کر دیں۔
جب تھوڑا سرمایہ جمع ہوا، تو انہوں نے زندگی کا سب سے بڑا جوا کھیلا۔ انہوں نے اپنی ساری جمع پونجی داؤ پر لگا دی اور خود کا گیمنگ اسٹوڈیو CD Projekt Red بنایا۔ انہوں نے اپنے ملک کی ایک مقامی لوک کہانی پر مبنی گیم The Witcher بنانا شروع کی۔
بڑی بین الاقوامی کمپنیوں نے ان کا مذاق اڑایا کہ مشرقی یورپ کے سڑک پر سی ڈیز بیچنے والے کبھی ہالی ووڈ کی سطح کی گیم نہیں بنا سکتے۔
لیکن ان دونوں دوستوں نے برسوں رات دن ایک کر کے وہ شاہکار تیار کیا جس نے پوری دنیا کے ہوش اڑا دیے۔
آج CD Projekt یورپ کی سب سے بڑی اور قیمتی ویڈیو گیم اور ٹیک کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے جس کی مالیت اربوں ڈالرز ہے۔ ان کی بنائی ہوئی گیم The Witcher 3 دنیا کی تاریخ کی سب سے زیادہ ایوارڈز جیتنے والی گیمز میں سے ایک بنی اور نیٹ فلکس نے اس پر ہٹ سیریز بنائی۔
ہم میں سے اکثر لوگ یہ سوچ کر ہمت ہار دیتے ہیں کہ "ہمارے ملک میں ماحول نہیں ہے"، "ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں"، یا "لوگ یہاں اچھی چیز کی قدر نہیں کرتے.
یاد رکھیں، حالات کبھی بھی کسی بڑے خواب کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ مارسن اور مائیکل کے پاس بھی نہ کوئی انڈسٹری تھی اور نہ ہی کوئی سہولت؛ انہوں نے سڑک پر لکڑی کی ایک چھوٹی سی میز سے آغاز کیا تھا۔
اگر آپ کے اندر کچھ بڑا کرنے کا جنون اور اپنے کام سے سچی محبت ہے، تو آپ کسی بھی پسماندہ گلی سے اٹھ کر پوری دنیا کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے