22/09/2026
اسلام آباد میں سکول بند ہونے کا معاملہ
اسلام آباد میں احتجاج اور سکیورٹی انتظامات کے باعث 24 تعلیمی اداروں کو عارضی طور پر بند کیا گیا ہے، جبکہ دارالحکومت کے دیگر سکول، کالجز اور جامعات معمول کے مطابق کھلے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان اداروں کو دوسرے شہروں سے آنے والی سکیورٹی اور پولیس فورسز کے قیام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
متاثرہ ادارے G-6، F-6، F-7، G-7، G-8، G-9، G-10، I-9، I-10، H-9، G-13، ترنول، سہالہ، ملپور اور بری امام سمیت مختلف علاقوں میں واقع ہیں۔
سکیورٹی یقیناً ایک اہم ضرورت ہے، لیکن اس کے ساتھ بچوں کی تعلیم کے تسلسل کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب احتجاج یا سکیورٹی انتظامات کے باعث سکول بند ہوتے ہیں تو اس کا براہِ راست اثر طلبہ، والدین اور اساتذہ پر پڑتا ہے۔ چند دن کی چھٹی شاید معمولی محسوس ہو، لیکن اگر تعلیمی سرگرمیاں بار بار متاثر ہوں تو بچوں کی پڑھائی کا نقصان بڑھ سکتا ہے۔
دوسری طرف عام شہری پہلے ہی ٹریفک، کاروبار اور آمدورفت کی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ مریضوں کے لیے ہسپتالوں تک رسائی، ملازمین کے دفاتر پہنچنے اور کاروباری سرگرمیوں کا جاری رہنا بھی اہم ہے۔
سیاسی احتجاج اور پرامن اجتماع ہر معاشرے میں اپنی جگہ رکھتے ہیں، لیکن انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ سکیورٹی کے مؤثر انتظامات کے ساتھ ساتھ **عوام کی روزمرہ زندگی اور بچوں کی تعلیم کو بھی کم سے کم متاثر ہونے دیا جائے۔**
**سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر عوام کی سہولت، بچوں کی تعلیم اور شہریوں کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔**