22/08/2026
ڈاکٹر اسما مشتاق کو 6400 میٹر کی بلندی پر یوں بے یار و مددگار نہیں چھوڑا جا سکتا۔
ڈاکٹر اسما مشتاق صرف ایک نوجوان کوہ پیما نہیں تھیں۔ وہ ایک باصلاحیت ڈاکٹر، گولڈ میڈلسٹ، دنیا گھومنے والی شوقین سیاح اور پاکستان کی حسین وادیوں اور بلند پہاڑوں کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے والی ایک قابلِ فخر پاکستانی تھیں۔ مگر آج اسی باہمت بیٹی کی میت 6400 میٹر کی بلندی پر بے یار و مددگار پڑی ہے۔
خاندان کے مطابق، اسما اسپانٹک پیک سر کرنے کے بعد واپسی پر تھیں کہ طبیعت خراب ہونے پر ان کے ساتھی انہیں ایک پورٹر کے ہمراہ تقریباً 6400 میٹر کی بلندی پر چھوڑ کر نیچے آگئے۔ بعد ازاں پورٹر یہ اطلاع لے کر نیچے پہنچا کہ اسما کی موت واقع ہو چکی ہے اور ان کی میت وہیں کیمپ میں موجود ہے۔
یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ Karakoram Calling Trek جیسی کمپنی، جو لوگوں کو بھاری رقم لے کر ان خطرناک بلندیاں تک لے کر جاتی ہے، کیا اس کی ذمہ داری صرف سمٹ تک پہنچانے تک محدود ہوتی ہے؟ حادثہ پیش آنے کے بعد کیا ایک کلائنٹ کو پہاڑ پر چھوڑ دینا ذمہ داری کے اختتام کے مترادف ہے؟
اسما کی فیملی کے مطابق، اب ان کی میت کو 6400 میٹر کی بلندی سے نیچے لانے کے لیے 30 لاکھ روپے طلب کیے جا رہے ہیں۔
آخر ہم کس انسانی معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں کسی کی مجبوری بھی ایک موقع بن جائے، کسی کی تکلیف بھی ایک قیمت بن جائے، اور یہاں تک کہ کسی کی بے جان میت کو بھی اس کے گھر والوں تک پہنچانے کے لیے لاکھوں روپے کی شرط سامنے آ جائے۔
اگر کوئی کمپنی لوگوں کو خطرناک پہاڑی مہمات پر لے کر جاتی ہے تو مشکل وقت میں اپنے کلائنٹس کی حفاظت، ریسکیو اور واپسی کے لیے اس کی ذمہ داری کیا ہونی چاہیے—اس سوال کا جواب ضرور ملنا چاہیے۔
ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت ان کے خاندان کا حق ہے۔ ریاستی ادارے، ریسکیو ٹیمیں، متعلقہ کمپنی اور تمام ذمہ دار حکام فوری طور پر مشترکہ اقدامات کریں اور اسما کی میت کو بحفاظت نیچے لانے کا انتظام کریں۔
یک بیٹی کو اس کے والدین تک واپس پہنچانا کاروبار نہیں، انسانیت ہے۔ آج اسما ہے، کل کوئی اور ہو سکتا ہے۔
پہاڑ پر انسان کو اکیلا چھوڑ کر واپس آ جانا معمول نہیں بننا چاہیے۔