20/11/2025
پھٹکری کا چہرے پر استعمال:
صدیوں سے پھٹکری کو Aluminium Sulfate کو نہانے کے پانی میں چٹکی بھر شامل کیا جاتا ہے تاکہ جسم کے نقصان دہ بیکٹیریا ختم ہو سکیں اور پسینے سے بدبو نہ ائے لیکن دور حاضر میں اکثر خواتین و حضرات اسے چہرے اور جسم کے مختلف حصوں پر مختلف مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ خواتین کا خیال ہے کہ اس کے استعمال سے ان کے چہرے کی جھریاں ختم ہو جائیں گی، ان کے اوپن پورز بند ہو جائیں گے، ان کی جلد چمکدار ہو جائے گی اور وہ حسین دکھائی دیں گی جبکہ مرد بالعموم اسے شیو کے بعد استعمال کرتے ہیں تاکہ یہantibacterial کا کام کر سکے ۔
آج کل بہت سی خواتین پھٹکری کو دہی میں، پانی میں، عرق گلاب میں یا مختلف طریقوں سے چہرے پر استعمال کا مشورہ دیتی دکھائی دیتی ہیں، اس بات سے قطع نظر کہ پھٹکری کا غیر محتاط استعمال ان کی جلد کو ہمیشہ کے لیے متاثر کر سکتا ہے ۔ پھٹکری کے چہرے پر نقصانات کی فہرست بہت طویل ہے ۔ آئیے اس پر نگاہ دوڑاتے ہیں:
1۔ جلد کے Natural barrier کی تباہی:
پھٹکری بنیادی طور پر ایک بہت ہی مضبوط ہے ۔ بظاہر تو یہ جلد کو contract اور tighten up کرتا ہے ۔ جس سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اوپن پورز ختم ہو گئے ہیں لیکن درحقیقت اس وقت یہ جلد کی حفاظتی تہہ کو شدید نقصان پہنچا رہا ہوتا ہے۔ یہ جلد کے Sebum کو ختم کر دیتا ہے جس سے جلد میں قدرتی طور پر نمی کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کم ہوتے ہوتے ختم ہو جاتی ہے ۔نتیجے کے طور پر کچھ ہی دنوں کے استعمال کے بعد جلد خشک، بے جان اور جھریوں زدہ ہو جاتی ہے ۔جلد پر بڑھتی ہوئی عمر کے آثار وقت سے پہلے نمودار ہونے لگتے ہیں اور چہرے پر جوانی کی چمک اور نمی غائب ہونے لگتی ہے۔ جلد کی حفاظتی تہہ غائب ہو جانے سے جلد کی حساسیت بھی بڑھ جاتی ہے۔
2۔ پھٹکری کی تیزابیت اور جلد کی حساسیت:
پھٹکری کا pH 3 کے قریب ہوتا ہے جبکہ ایک جوان اور صحت مند جلد کا پی - ایچ 5 سے 5.5 کے درمیان ہونا چاہیے ۔ اس لیے جب پھٹکری کو جلد پر استعمال کیا جاتا ہے تو اس کی تیزابی خاصیت
۔ نارمل جلد کو بھی حساس بنا دیتی ہے۔
۔ حساس جلد کو شدید متاثر کرتی ہے اور جارش ، جلن اور لال نشان پیدا کر دیتی ہے جس کی وجہ سے دھوپ میں جانے یا چولہے کے سامنے کھڑے ہونے سے شدید تکلیف محسوس ہونے لگتی ہے۔
۔ جلدی تکالیف جیسے eczema اور rosacea کو بڑھا دیتی ہے ۔
3۔ جلد کے خلیوں اور کولیجن میں توڑ پھوڑ:
تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ پھٹکری جلد کے خلیات کے Oxidative stress میں اضافہ کرتی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ جلد کی لچک ختم ہوتی ہے بلکہ جلد رفتہ رفتہ اپنی نمی کھو کر کھردری ، ڈل اور بے جان ہونے لگتی ہے۔ یوں اینٹی ایجنگ کی بجائے پھٹکری تیزی سے چہرے پر فائن لائنز اور جھریوں میں اضافے کا باعث بننے لگتی ہے، لیکن جب تک اس بات کا احساس ہوتا ہے وقت بہت تیزی سے گزر چکا ہوتا ہے۔
اگرچہ پہلے سے ہی خشک اور حساس ہے تو پھٹکری اور بھی زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔
جس سے اپ وقتی چمک سمجھتے ہیں وہ بڑھتی ہوئی عمر کے اثار کو اور بھی تیز کر دیتا ہے۔
آپ جتنے حکیموں کو پھٹکری کا مشورہ دیتے ہوئے دیکھیں گے ، خود ان کے جھریوں زدہ چہرے ان کے الفاظ کی گواہی کبھی نہیں دیں گے۔
4۔ زہریلا پن :
پھٹکری میں ایلومینیم کے نمکیات موجود ہوتے ہیں۔ اگر اپ کا Skin barrier پہلے سے ہی تباہ ہو چکا ہے یا زخموں کے نہایت معمولی سے نشان بھی موجود ہیں یا جلد inflamed ہے تو یہ ایلومینیم سالٹس جسم کے اندر داخل ہو کر Aluminium accumulation کا باعث بنتے ہیں. جسے صرف گردوں کے راستے ہی خارج کیا جا سکتا ہے اور گردے اس سے شدید متاثر ہوتی ہیں۔
یوں وہ پھٹکری جو بالعموم ایکنی کو دور کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے نہ صرف یہ کہ ایکنی والی سکن کو مزید حساس کر دیتی ہے بلکہ جلد میں جذب ہو کر Neurotoxicity پیدا کر سکتی ہے۔
5۔ ہائپرپگمنٹیشن:
پھٹکری کا مسلسل استعمال چہرے کے داغ دھبوں اور ہائپرپیگمنٹیشن میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب اس کے مسلسل استعمال سے چہرہ سورج کی روشنی سے حساس ہو چکا ہو۔ خاص طور پر سورج کی روشنی میں نکلنے سے پہلے اس کا استعمال جلد کے لیے بے حد نقصان دہ ہے
6۔ بریسٹ کینسر :
2017 میں کی جانے والی تحقیق کے مطابق ایسے ڈی اوڈرنٹ جن میں پھٹکری یا الومینیم کے سالٹ کا استعمال کیا گیا تھا ان کے استعمال اور breast cancer میں بہت گہرا تعلق ہے . اس تحقیق میں 400 خواتین شامل تھیں۔ اس لیے اس کے استعمال میں احتیاط کی تاکید کی گئی۔ سو underarm میں خواتین کو اس کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں جہاں بریسٹ کینسر کا تناسب بہت زیادہ ہے۔
گویا پھٹکری لگانے کے بعد جو وقتی glow نظر آتا ہے، وہ دراصل dehydration اور contraction کی وجہ سے ہوتا ہے یعنی جلد سکڑ کر چند منٹ کے لیے “صاف” اور "چمکدار " لگتی ہے، مگر اندر سے خشک اور مردہ ہو جاتی ہے۔ اور پھٹکری کا low pH جلد کو رفتی رفتہ حساس بنا کر ہائپرپگمنٹیشن اور compromised skin barrier کی راہ ہموار کرتا ہے۔