03/10/2025
سوشل میڈیا کے دوستوں کی نظر ، بالخصوص پنجاب،سندھ، بلوچستان، خیبر پختون خواہ وغیرہ سے تعلق رکھنے والے دوستوں کے نام ایک پیغام۔
✍️آزاد کشمیر اس وقت شدید کمیونیکیشن بلیک آؤٹ کا شکار ہے۔ وہاں سے خبریں عوام تک پہنچنا تقریباً ناممکن ہے۔ چند لوگ بڑی مشکل سے پہاڑوں یا دور دراز مقامات پر جا کر انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کر کے حقائق سامنے لا رہے ہیں۔
✍️اس کمیونیکیشن گیپ کا سب سے خطرناک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پاکستان کے مین اسٹریم میڈیا نے آزاد کشمیر کے عوام کے پُرامن احتجاج کو مسخ کر کے پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ میڈیا پروپیگنڈے کے ذریعے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ جیسے یہ تحریک پاکستان، فوج یا ریاست کے خلاف ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
✍️یہ احتجاج کسی فوج یا ادارے کے خلاف نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے عوام کے اپنی حکومت کے خلاف ہے۔ عوام اپنے بنیادی اور جائز حقوق کے لیے سڑکوں پر ہیں۔ ان کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ حکمرانوں کو دی جانے والی غیر ضروری مراعات ختم کی جائیں۔ 35 سے 50 لاکھ کی آبادی کے لیے ایک بھاری بھرکم کابینہ اور عیاشیوں پر مبنی بجٹ کسی طرح بھی قابلِ برداشت نہیں۔ یہی اصل مسئلہ ہے، لیکن حکمران اپنی مراعات بچانے کے لیے عوامی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
✍️مین اسٹریم میڈیا خاص طور پر جیو اور اے آر وائی نیوز اس تحریک کو توڑ مروڑ کر ایسے پیش کر رہے ہیں جیسے یہ پاکستان مخالف ہو۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہڑتال ناکام ہے، حالانکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ ہڑتال ہر لحاظ سے کامیاب اور مؤثر ہے۔
✍️یہ وقت ہے کہ پاکستان کے عوام حقیقت کو سمجھیں۔ یہ آزاد کشمیر کے عوام کی اپنی حکومت سے بنیادی حقوق کی جنگ ہے، نہ کہ ریاست یا فوج کے خلاف کوئی تحریک۔ حکمران اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے اس جدوجہد کو پاکستان اور اداروں کے ساتھ جوڑ رہے ہیں، جو سراسر زیادتی ہے
✍️بھائی 38 باتیں چاٹر آف ڈیمانڈ میں لکھی ہوئی ہیں آپ گوگل کر کے دیکھ لیں نہیں تو ہم سے منگوا کر پڑھ لیں کوئی 1 بات بھی آپ کو غلط لگے تو آپ ہم سب کی اصلاح کر سکتے ہیں۔۔ اگر ہمارے مطالبات حق اور سچ سب مبنی ہیں اور آپ سب میں حق کو حق اور سچ کو سچ کہنے کا حوصلہ ہے تو پھر آپ سب کا یہ اخلاقی فرض بنتا ہے کہ اس ظلم جبر اور فرعونیت والے نظام کے خلاف آپ ہماری آواز بنیں۔